Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
اجتماعی آداب p. 176
قرآن کی سورہ نمبر 58 میں مجلس کے آداب بتاتے ہوئے کہا گیا ہے کہ :اے ایمان والو، جب تم سے کہا جائے کہ مجلسوں میں کھل کر بیٹھو تو تم کھل کر بیٹھو، اللہ تم کو کشادگی دے گا۔ اور جب کہا جائے کہ اٹھ جاؤ تو تم اٹھ جاؤ۔ اللہ درجے بلند کرے گا ان لوگوں کے جو تم میں سے ایمان والے ہیں اور جن کو علم دیا گیا ہے۔ اور جو کچھ تم کرتے ہو اللہ اس سے باخبر ہے (58:11)۔ p. 177original + quote
مجلس میں آدمی اکیلا نہیں ہوتا بلکہ دوسرے بہت سے لوگ ہوتے ہیں۔ اگر ہر آدمی صرف اپنی فکر کرے تو دوسروں کو تکلیف ہو گی۔ اس لیے حکم دیا گیا کہ مجلس میں دوسروں کی رعایت کرو۔ مثلاً جگہ کم ہو تو سمٹ کر بیٹھیں یا ایک کرسی پر دو آدمی بیٹھ جائیں۔ آنے والوں میں کوئی شخص زیادہ قابل لحاظ ہے تو اس کے لیے جگہ خالی کر دیں۔ اسی طرح جب اٹھنے کو کہا جائے تو فوراً اٹھ جائیں ۔ کسی خودساختہ عذر کی بنا پر مزید بیٹھے نہ رہیں۔ p. 177
ابتدائی مفہوم کے اعتبار سے اس آیت میں مجلس کے آداب ہیں۔ مگر جامع مفہوم کے اعتبار سے اس میں پوری زندگی کے لیے اجتماعی آداب بتا دیے گئے ہیں۔ p. 177
اجتماعی زندگی کو خوش اسلوبی کے ساتھ چلانے کے لیے دو چیزیں بہت ضروری ہیں۔ ایک، توسع، اور دوسرے یہ کہ باتوں کو سادہ طور پر لیا جائے۔ کسی بات کو عزت کا سوال نہ بنایا جائے۔ p. 177
جس طرح ایک مجلس میں توسع کا انداز اختیار کرنے سے مجلس کامیاب ہوتی ہے اور ہر ایک کو حسن و خوبی کے ساتھ استفادہ کا موقع ملتا ہے۔ اسی طرح عام زندگی میں توسع کا طریقہ زندگی کے نظام کو خوش اسلوبی کے ساتھ چلانے کا ضامن ہے۔ p. 178
مجلس میں کبھی اس کی ضرورت پیش آتی ہے کہ ایک آدمی کے بیٹھنے کے لیے دوسرا آدمی اپنی جگہ خالی کر دے۔ اسی طرح زندگی کے وسیع تر معاملات میں بھی بار بار اس کی ضرورت پیش آتی ہے کہ ایک لائق آدمی کو کام کا موقع دینے کے لیے دوسرا آدمی اپنے کو پیچھے کر لے۔ ادارہ کا ایک آدمی ادارہ کے مفاد میں ایک فیصلہ دے دے تو دوسرے لوگ اس کو مان لیں۔ وہ ایسا نہ کریں کہ اس کو ذاتی عزت کا سوال بنا کر داخلی انتشار پیدا کرنے میں لگ جائیں۔ p. 178