Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
آفاقیت نہ کہ محدودیت p. 134
قرآن میں رب العالمین ہے، رب القوم نہیں ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اسلام آفاقیت کو پسند کرتا ہے نہ کہ محدودیت کو۔ قرآن میں پیغمبر ؐ کو رحمت عالم کہا گیا ہے، آپ کو زحمت عالم نہیں کہا گیا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اسلام محبت کا مذہب ہے، وہ نفرت کا مذہب نہیں۔ قرآن میں الصلح خیر ہے، قرآن میں الحرب خیر نہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اسلام صلح کا ماحول لانا چاہتا ہے نہ کہ جنگ اور ٹکراؤ کا ماحول۔ p. 134original + quote
قرآن میں حکم دیا گیا ہے کہ پڑھو (اقْرَأْ) 96:1۔ یہ نہیں فرمایا کہ گولی مارو۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اسلام علم کلچر کا نام ہے نہ کہ گن کلچر کا۔ قرآن میں صبر پر زور دیا گیا ہے، قرآن میں بے صبری کی تعلیم نہیں دی گئی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اسلام یہ چاہتا ہے کہ لوگوں کی ایذاؤں پر تحمل سے کام لیا جائے، نہ یہ کہ کسی سے ایذا پہنچے تو مشتعل ہو کر اس سے لڑائی شروع کر دی جائے۔ قرآن میں بلند اخلاقی (خلق عظيم) کی تعریف کی گئی ہے نہ کہ برابری کے اخلاق کی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اسلام کے نزدیک صحیح طریقہ یہ ہے کہ دوسروں کے سلوک کو نظرانداز کر کے ان کے ساتھ اعلیٰ اخلاق کا معاملہ کیا جائے۔ p. 135original + quote
ان چند حوالوں سے اندازہ ہوتا ہے کہ اسلام کیا ہے۔ اور اسلامی کلچر حقیقتہً کسے کہتے ہیں۔ اسلام خداوند عالم کی حیثیت خداوندی کا ظہور ہے۔ اسلام ساری کائنات کا دین ہے۔ اسلام وسیع تر انسانیت کا نمائندہ ہے۔ ایسی حالت میں اسلام کی وہی تشریح درست ہو گی جو اس کی ان حیثیتوں سے مطابقت رکھتی ہو۔ جو تشریح اسلام کے ان اعلیٰ تقاضوں کے مطابق نہ ہو وہ صحیح اسلامی تشریح بھی نہیں۔ p. 135
سچا اسلام وہ ہے جو لوگوں کے اندر خدا کا خوف پیدا کرے۔ جو لوگوں میں دنیا پرستی کے مقابلہ میں آخرت پسندی کا ذہن بنائے۔ جو لوگوں کے دلوں میں انسان کی محبت پیدا کرے۔ جو لوگوں کو اپنے اور غیر کا فرق کئے بغیر سب کا خیرخواہ بنائے۔ جس کا نتیجہ یہ ہو کہ آدمی اپنے حقوق سے زیادہ اپنی ذمہ داریوں پر نظر رکھنے لگے۔ p. 135
اسلام جن لوگوں کے دلوں میں اترتا ہے وہ انھیں رحمت اور سلامتی کا پیکر بنا دیتا ہے۔ اسلام اور نفرت و عداوت دونوں ایک ساتھ جمع نہیں ہو سکتے۔ p. 135