Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
آفاقی انسان p. 116
قرآن ایک عالمی کتاب ہے۔ اس کی تمام تعلیمات آفاقیت پر مبنی ہیں، قرآن میں جس خدا کا تصور دیا گیا ہے وہ رب العالمین ہے (الفاتحہ1:1,) قرآن کا پیغمبر نذیر للعالمین ہے (الفرقان،25:1) قرآن کے ذریعہ جو دین بھیجا گیا ہے وہ ایک کائناتی دین ہے (آل عمران ،3:83 ) p. 116original + quote
قرآن کا پیغام پوری انسانیت کے لیے ہے نہ کہ کسی مخصوص گروہ کے لیے۔ قرآن عالمی قدروں کو زندہ کرنا چاہتا ہے۔ ایک حدیث میں ہے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قَالَ: لَنْ تُؤْمِنُوا حَتَّى تَرْحَمُوا، قَالُوا: كُلُّنَا رَحِيمٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: إِنَّهُ لَيْسَ بِرَحْمَةِ أَحَدِكُمْ صَاحِبَهُ، وَلَكِنَّهَا رَحْمَةُ النَّاسِ، رَحْمَةُ الْعَامَّةِ (فتح الباری،) p. 116original + quote
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم ہرگز مومن نہیں ہو سکتے جب تک تم رحم نہ کرو۔ لوگوں نے کہا کہ اے خدا کے رسول، ہم میں سے ہر شخص رحم کرنے والا ہے۔ آپ نے فرمایا کہ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ تم اپنے ساتھی پر مہربانی کرو۔ بلکہ اس سے مراد تمام لوگوں اور تمام انسانوں کے ساتھ رحم کرنا ہے۔ p. 117original + quote
حقیقت یہ ہے کہ جب ایک شخص خدائے رب العالمین پر ایمان لاتا ہے تو عین اس کا ایمان ہی اس کے اندر آفاقی ذہن پیدا کر دیتا ہے۔ وہ فطرت سے جڑ جاتا ہے جو عین اپنی نوعیت کے اعتبار سے کائناتی ہے۔ وہ دریافت کرتا ہے کہ وہ وسیع تر ا نسانی برادری کا ایک جزء ہے کیونکہ ساری انسانی برادری ایک ہی خدا کی مخلوق اور اس کی عیال ہے۔ p. 117
یہ آفاقی ذہن اس کے اندر آفاقی محبت کی پرورش کرتا ہے۔ سارے انسان اس کو اپنے دکھائی دینے لگتے ہیں۔ اس کے سینہ میں سارے انسانوں کی محبت کا چشمہ ابل پڑتا ہے۔ وہ سب کو اپنا سمجھنے لگتا ہے اور اپنے آپ کو سب کا۔ p. 117
اسلام کی بنیاد پر بننے والے انسان کا مزاج اپنے آپ اس کو تمام انسانوں کا خیرخواہ بنا دیتا ہے۔ وہ تمام انسانوں سے محبت کرنے والا ہو جاتا ہے۔ تمام انسانوں کی خدمت کرنے کا جذبہ اس کے اندر امنڈ پڑتا ہے۔ وہ ہر اعتبار سے ایک آفاقی انسان بن جاتا ہے۔ p. 117