Deen-e-Insaniayat

اختلافات کی توجیہ

Deen-e-Insaniayat — Maulana Wahiduddin Khan

Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.

Contents (233 chapters)
  1. ابتدائیہ
  2. دینِ انسانیت
  3. بسم اللہ الرحمن الرحیم
  4. ایمان و اسلام کے واقعات
  5. حُریتِ فِکر
  6. اظہار خیال کی آزادی
  7. خدا کا تخلیقی نقشہ
  8. تواصی بالحق
  9. اختلاف میں رحمت
  10. نصیحت ، تعییب
  11. افکار کا ٹکراؤ
  12. فطرت کا نظام
  13. دربار الٰہی میں
  14. پیغمبر کی مثال
  15. ابوبکر صدیقؓ کی مثال
  16. عمر فاروقؓ کی مثال
  17. عثمان غنی ؓ کی مثال
  18. علی مرتضیٰ ؓ کی مثال
  19. ایک واقعہ
  20. ظاہر داری نہیں
  21. سوال و جواب
  22. حد بندی
  23. اختلاف کے باوجود
  24. صحت مند نتائج
  25. حق کا اعتراف
  26. حق کی برتری
  27. اضافۂ ایمان
  28. بے جا غلو
  29. جارحیت نہیں
  30. مشترک ذمہ داری
  31. آزادی کی حد
  32. اختلافات کی توجیہ
  33. روشنی کی طرف
  34. حکیمانہ قول
  35. فرقہ بندی
  36. اختلاف رائے
  37. تمہید
  38. خدا اور انسان
  39. عبادت اور خدمت
  40. والدین کے ساتھ
  41. عمل صالح
  42. صبر کی تعلیم
  43. روحانی ترقی
  44. اعلیٰ اخلاق
  45. اچھا گمان
  46. تواضع
  47. نرمی کا انداز
  48. قناعت
  49. ایثار
  50. مہربانی کا سلوک
  51. عدل و انصاف
  52. قصد و اعتدال
  53. نفع بخشی
  54. سچائی
  55. حق رسانی
  56. غصہ نہیں
  57. امانت اور عہد
  58. پاکی اور صفائی
  59. حق کی ادائیگی
  60. تیسیر پسندی
  61. مشرک کا حکم
  62. مجرم کے ساتھ بھی
  63. دو طریقے
  64. دعوہ کلچر
  65. ایک دُعا
  66. محنت کی کمائی
  67. مالی تعاون
  68. انسانیت عامہ
  69. عالمی اخوت
  70. وسیع تر آدمیت
  71. عمومی عزت
  72. آفاقی انسان
  73. احترام انسانیت
  74. سب پر سلامتی
  75. خدمت عام
  76. رحمت ، سیف
  77. جنگ کا حکم
  78. بین اقوامی رواج
  79. فرشتہ کی مدد
  80. اِذن اللہ
  81. دعا بھی عمل
  82. رحمت کلچر
  83. آفاقیت نہ کہ محدودیت
  84. حقیقتِ اسلام
  85. صبر و توکل
  86. حُسن اخلاق
  87. اسلامی طریقہ
  88. رسول خدا کا اسوہ
  89. عافیت کی زندگی
  90. غیر اثر پذیر
  91. صبر کی اہمیت
  92. ایک آیت
  93. غلط فہمی
  94. مطلوب عمل
  95. کلام کی شرط
  96. بلند کرداری
  97. قرآنی اصول
  98. بے حساب اجر
  99. قلبی عمل
  100. اعتماد و توکل
  101. برتر روش
  102. اعتدال کا طریقہ
  103. بہتر انسان
  104. ایک اسلامی حکم
  105. شکایت کے باوجود
  106. عبادت اور اخلاق
  107. معیار کو بلند کرنا
  108. ترک تعلق
  109. چپ رہنا
  110. صبر ضروری
  111. اجتماعی آداب
  112. درس حدیث
  113. پیغمبر کا طریقہ
  114. اخلاق کا کرشمہ
  115. آگ کا ٹکڑا
  116. والدین کی ذمہ داری
  117. قرآنی طریقہ
  118. چپ رہیے
  119. قیامت میں ادائیگی
  120. دعا اور اعتراف
  121. خیر کثیر
  122. صبرکی عبادت
  123. برا گمان
  124. دفع احسن
  125. تکبیر، تواضع
  126. جنت میں مکان
  127. سکون کا راز
  128. ان شاء اللہ
  129. تنگی میں آسانی
  130. حیاتِ مومن
  131. صفت مومن
  132. مثبت طریقہ
  133. قول سدید
  134. قابل پیشین گوئی کردار
  135. خیر پسند
  136. اچھا مسلمان
  137. جامع اصول
  138. بے مسئلہ
  139. پڑوسی کے ساتھ
  140. حدیث کا مطالعہ
  141. اعتراف
  142. ناشکری نہیں
  143. جنت کے کنارے
  144. ذکر و فکر
  145. ایک انسانی کردار
  146. زاویہ نظر کا فرق
  147. نصرت کا قانون
  148. اثر قبول نہ کرنا
  149. مخلص، منافق
  150. پاکیزہ روش
  151. مومن کا طریقہ
  152. پہچان کا فرق
  153. فکری انقلاب
  154. کھجور کی چپل پہننے والے
  155. عزت کیسے ملتی ہے
  156. خاموش تدبیر
  157. زبان کی طاقت
  158. حاضر جوابی
  159. اعلیٰ کردار کی ایک مثال
  160. حوصلہ مندی
  161. کامیاب مقابلہ
  162. مثبت اثر
  163. صرف الفاظ سے
  164. اِس پل پریا اُس پل پر
  165. کتے سے بھی زیادہ برا
  166. غریبی کا مطلب بے وقوفی نہیں
  167. غم آدمی کو گہرا بنا دیتا ہے
  168. تنقید کو سن کر
  169. نقطۂ انقلاب
  170. برائی کی قسمیں
  171. صبر و ہمدردی
  172. سچی ہوشیاری
  173. اعلیٰ ظرفی
  174. مومنانہ طریقہ
  175. چھوٹا واقعہ بڑا سبق
  176. دو انسان
  177. دو گواہ
  178. کرنے کا کام
  179. مسافر کی زندگی
  180. حدیث دعا
  181. بعضکم من بعض
  182. خاتون جنت
  183. عورت، مرد
  184. تقسیم کار
  185. بہترین خزانہ
  186. اخلاق نسواں
  187. روزمرہ کی زندگی
  188. حسن معاشرت
  189. مومن کا گھر
  190. تربیت اولاد
  191. صلح بہتر ہے
  192. انتظار کیجئے
  193. پیغمبرانہ نصیحت
  194. جنت کا استحقاق
  195. سب سے زیادہ
  196. غیبت نہیں
  197. حضرت خدیجہؓ
  198. حضرت عائشہؓ
  199. ایمان کی طاقت
  200. ایک گواہی
  201. تین مرحلے
  202. نکاح و طلاق
  203. نکاح سے پہلے
  204. نکاح کے بعد
  205. رحمۃ للعالمینؐ
  206. مطالعہ سیرت
  207. دلیل نبوت
  208. سیرت کی رہنمائی
  209. ممکن سے آغاز
  210. عسر میں یسر
  211. ہجرت مقام عمل کی تبدیلی
  212. فطرت پر اعتماد
  213. دشمن کو استعمال کرنا
  214. امن کی طاقت
  215. تھرڈ آپشن
  216. میدان عمل کی تبدیلی
  217. تدریج کا اصول
  218. آئیڈیلزم کے بجائے پریگمیٹزم
  219. بصیرت کی ضرورت
  220. حدیبیہ منہاج
  221. جنگ پر بیعت نہیں
  222. تکمیل دین
  223. آخری بات
  224. پیغمبر اسلام کا اسوہ
  225. پیغمبرانہ طریقہ
  226. پیغمبرانہ اسلوب
  227. اسوۂ حسنہ
  228. ہجرت رسولؐ
  229. قائد اتحاد
  230. سنجیدگی شرط ہے
  231. ایک شہادت
  232. مذہب امن
  233. اسلام مذہبِ امن

اختلافات کی توجیہ p. 53

قرآن میں ارشاد ہوا ہے___ کیا یہ لوگ قرآن پر غور نہیں کرتے۔ اگر یہ اللہ کے سوا کسی اور کی طرف سے ہوتا تو وہ اس کے اندر بہت اختلاف پاتے (4:82) ۔ p. 54original + quote

اس سے واضح ہوتا ہے کہ اللہ نے جو دین اسلام بھیجا ہے وہ ایک ایسا د ین ہے جس میں کوئی اختلاف نہیں۔ یہی بات حدیث میں اس طرح کہی گئی ہے کہ میں نے تم کو ایک روشن دین پر چھوڑا ہے، اس کی راتیں بھی اس کے دنوں کی طرح ہیں (لَقَدْ ‌تَرَكْتُكُمْ عَلَى مِثْلِ ‌الْبَيْضَاءِ، لَيْلُهَا وَنَهَارُهَا سَوَاءٌ) سنن ابن ماجہ، حدیث نمبر 5۔ p. 54original + quote

مگر ایک شخص جب قرآن کی تفسیروں اور حدیث کی شرحوں کو پڑھتا ہے۔ جب وہ فقہ اور عقائد کی کتابوں کو دیکھتا ہے تو بظاہر بالکل برعکس تصویر دکھائی دیتی ہے۔ یہاں وہ اتنے زیادہ اختلافات دیکھتا ہے کہ شاید اسلام کی کوئی ا یک تعلیم بھی نہیں جس میں علماء کے درمیان کثرت سے اختلاف نہ پایا جاتا ہو۔ یہاں دین اسلام بظاہر دین اختلاف معلوم ہونے لگتا ہے۔ p. 54

ایک دارالعلوم کے شیخ الحدیث نے کہا کہ شوال کے مہینہ میں حدیث کے اسباق کی بسم اللہ ہوتی ہے اور رجب میں اس کی تمت ہوتی ہے۔ ان دس مہینوں میں اسباق کا کوئی دن بھی ایسا نہیں گزرتا جس میں کم از کم بیس مرتبہ یہ نہ کہنا پڑتا ہو کہ اس مسئلہ میں فلاں امام کا یہ مذہب ہے اور فلاں کا یہ مختلف مذہب ہے۔ صحابہ کا یہ مذہب تھا، تابعین میں یہ اختلاف ہے اور یہ کہ رَأْيُنا صَوَابٌ وَرَأْيُ غَيْرِنا خَطَأٌ(ہماری رائے درست ہے اور دوسروں کی رائے خطا ہے)۔ p. 54unverified

ایک بے اختلاف دین بااختلاف دین کیوں بن گیا۔ اور اس معاملہ کی اطمینان بخش توجیہہ کیا ہے۔ اس پر پچھلے ہزار برس کے دوران بہت لکھا گیا ہے اور بہت کچھ کہا گیا ہے۔ آج بھی اس کے بارے میں کثرت سے مضامین اور کتابیں شائع کی جا رہی ہیں۔ p. 55

یہ سوال ابتدائی طور پر صحابہ کے زمانہ ہی میں موجود تھا۔ تاہم باقاعدہ صورت میں وہ تابعین اور تبع تابعین کے زمانہ میں نمایاں ہوا۔ جب حدیثیں اکٹھا کی گئیں تو معلوم ہوا کہ خود روایات میں کثرت سے اختلافات پائے جاتے ہیں۔ اب لوگوں نے یہ سوال کرنا شروع کیا کہ کس روایت کی پیروی کریں اور کس روایت کی پیروی نہ کریں۔ p. 55

اس وقت ابتدائً یہ نقطۂ نظر اختیار کیا گیا کہ یہ مختلف روایتیں تو خود صحابہ سے مل رہی ہیں۔ اور صحابہ سب کے سب قابل تقلید ہیں۔ پھر ہم کیوں کر ایسا کہہ سکتے ہیں کہ اِس صحابی کی روایت کو مانو اور اُس صحابی کی روایت کو نہ مانو۔ p. 55

محمد بن عبدالرحمن الصیرفی کہتے ہیں کہ میں نے احمد بن حنبل سے پوچھا کہ کسی مسئلہ میں اصحاب رسول مختلف ہوں تو کیا ہمارے لیے جائز ہے کہ ہم غور کر کے یہ فیصلہ کریں کہ ان میں سے درست قول کون سا ہے۔ انھوں نے جواب دیا کہ رسول اللہ کے اصحاب کے درمیان ایسا غور و فکر کرنا جائز نہیں (لَا يَجُوزُ النَّظَرُ بَيْنَ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم) p. 55unverified

الصیرنی کہتے ہیں کہ میں نے پوچھا کہ پھر کس کے قول پر عمل کیا جائے۔ احمد بن حنبل نے کہا کہ ان میں سے جس کی بھی چاہو اتباع کر لو (تُقَلِّدْ ‌أَيَّهُمْ ‌أَحْبَبْتَ) جامع بیان العلم و فضلہ لابن عبدالبر:1705۔ p. 56unverified

امام احمد بن حنبل کی یہ بات بجائے خود نہایت درست ہے۔ کیوں کہ ہم کسی صحابی کو صحیح اور کسی صحابی کو غلط نہیں کہہ سکتے۔ ہمارے لیے ہر صحابی قابل اتباع ہے۔ تاہم اس جواب میں اس بات کی علمی توجیہ موجود نہیں ہے کہ ایسا مسلک کیوں درست ہے۔ p. 56

اس کے بعد دوسرا مسلک وہ ہے جس کو فقہاء کی ایک تعداد نے اختیار کیا۔ مثلاً امام مالک سے پوچھا گیا کہ صحابہ کے اختلافات میں کیا کرنا چاہیے۔ انھوں نے جواب دیا کہ ان میں کچھ نادرست ہیں اور کچھ درست ہیں، تو ان پر غور کر کے کسی کو اختیار کرو (خَطَأٌ ‌وَصَوَابٌ فَانْظُرْ فِي ذَلِكَ) جامع بیان العلم و فضلہ لابن عبد البر: 1694 p. 56original + quote

امام ابو حنیفہ ؒنے اور زیادہ واضح طور پر یہی بات کہی۔ انھوں نے کہا کہ دونوں میں سے ایک قول خطا ہے۔ اور اس خطا کا گناہ معاف کر دیا گیا ہے (أَحَدُ ‌الْقَوْلَيْنِ ‌خَطَأٌ وَالْمَأْثَمُ فِيهِ مَوْضُوعٌ)جامع بیان العلم و فضلہ لابن عبد البر: 1706 p. 56original + quote

یہ جواب بلاشبہہ درست نہیں ہے۔ کیوں کہ مختلف اقوال میں سے ہر قول جب کسی صحابی کی طرف سے ملا ہو تو ہم کو یہ حق نہیں کہ بطور خود ایک کو خطا اور دوسرے کو صواب کہیں۔ صحابہ کے مختلف اقوال کے سلسلے میں ہم مجبور ہیں کہ ہم ایک کو صواب سمجھیں۔ ان کے درمیان امتیاز قائم کرنا ہمارے لیے اپنی حد سے تجاوز کرنے کے ہم معنی ہو گا۔ p. 56

اس معاملہ میں زیادہ گہرائی کے ساتھ غور کیجئے تو معلوم ہو گا کہ دین کے دو حصے ہیں۔ ایک اصول کا حصہ، اور دوسرے فروع اور جزئیات کا حصہ۔ مذکورہ تمام اختلافات فروع اور جزئیات سے تعلق رکھتے ہیں۔ جہاں تک اصول کا تعلق ہے، ان میں کوئی اختلاف نہیں۔ مثلاً پنج وقتہ نماز یا نمازوں میں رکعات کی مختلف تعداد کے بارے میں تمام اہل اسلام متفق ہیں۔ البتہ آمین بالجہر اور آمین بالسر جیسے کثیر مسائل ہیں جن میں ان کے یہاں اختلافات پائے جاتے ہیں۔ p. 57

اس تقسیم کو قرآن کی روشنی میں دیکھا جائے تو فیصلہ بہت آسان ہو جاتا ہے۔ قرآن میں ہے کہ تمام انبیاء کو ایک ہی الدین (42:13) دیا گیا ہے۔ الدین سے مراد دین کے اصولی اور اساسی احکام ہیں۔ یہ اصولی اور اساسی احکام ابدی ہیں اور یکساں طور پر ہر پیغمبر کو دیے جاتے رہے ہیں۔ ان کے معاملہ میں ایک نبی اور دوسرے نبی کے درمیان کوئی فرق نہیں۔ p. 57original + quote

قرآن کے مطابق، دین کا دوسرا حصہ وہ ہے جس کو شِرعۃ اور منہاج (5:48) کہا گیا ہے۔ یہ دوسرا حصہ مختلف پیغمبروں کے یہاں مختلف رہا ہے۔ p. 57original + quote

یہی فرق اسلام میں داخلی طور پر بھی پایا جاتا ہے۔ گویا قرآن اور اسی طرح حدیث کے اتفاقی اجزاء کی حیثیت الدین کی ہے۔ اور اس کے بعد جو اختلافی اجزاء ہیں وہ اس حصۂ د ین سے متعلق ہیں جن کو قرآن میں شِرعۃ اور منھاج کہا گیا ہے۔ p. 57original + quote

اس سے معلوم ہوا کہ خود شارع کی اپنی اسکیم کے مطابق ، دین کے ایک حصہ میں تو حُّد مطلوب ہے اور دین کے دوسرے حصہ میں تنوع اور توسّع۔ ایسا ہونا بالکل فطری ہے۔ اس کو اس طرح سمجھ سکتے ہیں کہ اساسات دین (مثلاً اخلاص لِلّٰہ) کی حیثیت اسپرٹ کی ہے اور فقہی احکام کی حیثیت فارم کی۔ اور یہ فطرت کا قانون ہے کہ اسپرٹ میں ہمیشہ یکسانیت پائی جاتی ہے۔ مگر فارم میں کبھی یکسانیت نہیں ہوتی اور نہ ہو سکتی۔ مثلاً مکان کی اصل حیثیت یہ ہے کہ وہ شِلٹر کا کام دے۔ اس اعتبار سے ہر مکان یکساں ہو گا۔ مگر فارم کے اعتبار سے ہر مکان یکساں نہیں ہو سکتا۔ اسی طرح دین اپنی اسپرٹ کے اعتبار سے ہمیشہ ایک رہتا ہے۔ مگر فارم کے اعتبار سے اس میں تنوع ہوتا ہے اور یہ تنوع کبھی ختم ہونے والا نہیں۔ صحابہ کے اختلاف کی اصل حقیقت یہی ہے۔ p. 58

مگر بات صرف اتنی ہی نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ اختلاف کی ایک عظیم مثبت افادیت بھی ہے۔ اور وہ یہ کہ کسی معاملہ میں جب اختلاف کا امکان ہو، اسی وقت اس میں ذہنی سرگرمیاں جاری ہوتی ہیں اور اس طرح انسانی فکر کا مسلسل ارتقاء ہوتا رہتا ہے۔ اگر اختلاف کی گنجائش نہ ہو تو ذہنی سرگرمیاں بھی جاری نہ ہوں گی، اور پھر انسانی فکر کے ارتقاء کا عمل بھی رک جائے گا جس کا آخری نتیجہ ذہنی جمود ہو گا، اور ذہنی جمود اس دنیا میں ذہنی موت کے ہم معنی ہے۔ p. 58

اس عمل کے دوران لازماً اختلاف واقع ہو گا۔ کوئی عالم ایک رائے پر پہنچے گا، اور کوئی عالم دوسری رائے پر، اور کوئی عالم تیسری رائے پر۔ مگر رایوں کا اختلاف کوئی برائی نہیں۔ اصل قابل لحاظ چیز یہ ہے کہ یہی واحد صورت ہے جس سے کسی گروہ کے اندر فکری سرگرمیاں جاری ہوتی ہیں۔ اور پھر فکری سرگرمیوں کے ذریعہ تخلیقیت (creativity) جنم لیتی ہے اور ذہنی ارتقاء کے راستے کھلتے ہیں۔ اس معاملہ میں ’’اختلاف‘‘ کی حیثیت فطری کورس کی ہے، اور فکری سرگرمیوں کی حیثیت نتیجہ کی، اور اصل قابل لحاظ چیز نتیجہ ہے نہ کہ کورس۔ p. 58

اس معاملہ کی ایک مثال لیجئے۔ قرآن میں ایک طرف یہ حکم دیا گیا ہے کہ : فَأَعْرِضْ عَنْهُمْ وَتَوَكَّلْ عَلَى اللَّهِ (4:81)۔ یعنی، ان سے اعراض کرو اور اللہ پر بھروسہ رکھو۔ دوسری طرف قرآن میں یہ حکم ہے کہ: يا أَيُّهَا النَّبِيُّ جاهِدِ الْكُفَّارَ وَالْمُنافِقِينَ (9:73 )۔ یعنی، اے نبی، کافروں اور منافقوں سے جنگ کرو۔ p. 58original + quote

یہ دونوں آیتیں بظاہر ایک دوسرے سے مختلف معلوم ہوتی ہے۔ ایک آیت جن لوگوں سے اعراض کی تعلیم دیتی ہے، دوسری آیت انھیں لوگوں سے ٹکراؤ کا حکم دے رہی ہے۔ اس فرق و اختلاف نے ذہنوں کو جھنجوڑا اور لوگوں نے اس پر غور کرنا شروع کیا۔ p. 58

اب ایک خیال یہ قائم کیا گیا کہ قتال کی آیت نے اعراض کی آیت کو منسوخ کر دیا ہے(‌فَأَعْرِضْ ‌عَنْهُمْ) ای لَا تُعَاقِبْهُمْ ۔ وَيُقَالُ: إِنَّ هَذَا مَنْسُوخٌ بِقَوْلِهِ تَعَالَى: (يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ جاهِدِ الْكُفَّارَ وَالْمُنافِقِينَ )تفسیر القرطبی،جلد 5،صفحہ 290۔ p. 59quoted source

مگر ذہنی عمل یہیں ختم نہیں ہو جاتا۔ چنانچہ اس نے مزید کچھ لوگوں کے ذہن کو متحرک کیا۔ انھوں نے غور کیا تو وہ اس نتیجہ پر پہنچے کہ اعراض کی آیت منسوخ نہیں ہے۔ چنانچہ انھوں نے اس کو محکمات میں شمار کیا (تفسیر القرطبی 10/202) p. 59original + quote

اب غور کیجئے تو یہی دوسری رائے قرآن کی روح کے زیادہ مطابق نظر آئے گی۔ اصل یہ ہے کہ اعراض ایک مستقل حکم ہے اور اس کا تعلق مومن کی عام اخلاقیات سے ہے۔ دعوت دیتے ہوئے، لوگوں سے معاملہ کرتے ہوئے، یا سفر کرتے ہوئے بار بار ایسا ہوتا ہے کہ دوسروں کی طرف سے ناخوش گوار تجربات پیش آتے ہیں۔ ایسے تمام مواقع پر اعراض کا طریقہ اختیار کرنا ایک مستقل حکم ہے۔ مومن جاہلوں سے اعراض کر کے خلق عظیم کا ثبوت دیتا ہے جو دنیا و آخرت کی تمام سعادتوں کے لیے اساس کی حیثیت رکھتی ہے۔ p. 59

جہاں تک جہاد (بمعنی قتال) کا تعلق ہے، وہ دفاع کی مصلحت کے تحت ہے۔ جب کسی گروہ کی طرف سے عملاً جارحیت کا فعل کیا جائے تو اس وقت اس کی جارحیت کو فرو کرنے کے لیے اس سے مقابلہ کیا جائے گا۔ قتال ایک وقتی حکم ہے اور اعراض ایک مستقل حکم۔ p. 59

معلوم ہوا کہ ’’الدین‘‘ میں کوئی اختلاف نہیں۔ جو کچھ اختلاف ہے وہ صرف شریعت میں ہے۔ یہ اختلاف دو قسم کا ہے۔ ایک ، وہ جو عبادات سے متعلق ہے، اور دوسرا ، وہ جو معاملات سے تعلق رکھتا ہے۔ p. 60

عبادات میں جو اختلاف ہے وہ تمام تر اس کی ظاہری جزئیات میں ہے۔ اور اس نوعیت کا اختلاف یا فرق بالکل فطری ہے۔ کیوں کہ عبادت ایک ایسا عمل ہے جو ہمیشہ یکساں کیفیت کے ساتھ انجام نہیں دیا جا سکتا۔ کبھی آدمی کے اندر کیفیات زیادہ ہوں گی اور کبھی کم۔ یہی کیفی فرق عبادت کے ظاہری آداب میں فرق پیدا کر دیتا ہے۔ گویا عبادت کے اساسی اجزاء میں وحدت ہے اور عبادت کے ظاہری آداب میں تنوع اور توسع۔ اس معاملہ میں روایات میں جو اختلاف پایا جاتا ہے وہ دراصل اسی تنوع کا ایک ریکارڈ ہے۔ p. 60

ایک اور اعتبار سے یہی معاملات کی صورت بھی ہے۔ معاملات میں بنیادی احکام اگرچہ نہایت واضح ہیں۔ مگر وہ حالات ہمیشہ بدلتے رہتے ہیں جن میں کسی حکم کاانطباق مطلوب ہے۔ اس لیے انطباق کے اعتبار سے احکام کی جزئیات و فروع میں اکثر فرق کرنا پڑتا ہے۔ معاملات کے بارے میں حدیث اور فقہ میں جو اختلاف ہے وہ اسی فرق باعتبار انطباق کی مختلف مثالیں ہیں۔ p. 60