Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
30 ستمبر 1985 p. 184
اینڈریوکارنیگی (1835-1919)نے اسٹیل کی صنعت میں کافی ترقی کی۔ 1889 میں اس نے ایک مقالہ شائع کیا جس کا نام تھا دولت کی بائبل (The Gospel of Wealth)۔ اس مقالہ میں اس نے بتایا کہ دولت مند آدمی جب دولت حاصل کرے تو اس کو چاہیے کہ وہ اپنی دولت کو رفاہ عام کے کام میں لگائے p. 184
A rich man should, after acquiring his wealth, distribute the surplus for the general welfare. (Andrew Carnegie) p. 184other source
یہ ایک نہایت اہم اصول ہے۔ اینڈریو کارنیگی نے جو بات سماجی اصطلاح میں کہی وہی بات پیغمبر اسلام نے مذہبی اصطلاح میں اس طرح کہی ہے کہ خدا تمھیں دولت دے تو تم دائیں بائیں اور آگے پیچھے خرچ کرو (صحیح مسلم، حدیث نمبر 990)۔ p. 184original + quote
یہ اصول نہ صرف آخرت کی فلاح کا ضامن ہے بلکہ دنیا کی ترقی بھی اسی سے ملتی ہے۔ موجودہ زمانے میں کئی ملکوں میں بیرونی افراد کے خلاف سخت ناراضگی پیداہوئی۔ مثلاً افریقن ملک یوگنڈا میںایشیائی لوگوں کے خلاف، سری لنکا میں تامل والوں کے خلاف، پاکستان میں مہاجرین کے خلاف، وغیرہ۔ اس کی وجہ یہی تھی کہ ان لوگوں نے اپنی کمائی ہوئی دولت کو صرف اپنی ذات پر خرچ کیا، مقامی آبادی پر خرچ نہیں کیا۔ p. 184
جو تجارتی قومیں اس راز سے واقف ہیں وہ اپنی آمدنی کا ایک حصہ مستقل طور پر مقامی آبادی کی فلاح پرخرچ کرتی ہیں۔ چنانچہ وہ نہایت کامیاب ہیں۔ مثال کے طورپر ہندستان میں جینی فرقہ اور پارسی فرقہ۔ یہ لوگ بہت چھوٹی اقلیت ہیں۔ اس کے باوجود ملک کی دولت کا بڑا حصہ ان کے قبضہ میں ہے۔ مگر آج تک ان کے خلاف کوئی رد عمل نہیں ہوا۔ اس کی خاص وجہ یہ ہے کہ وہ اپنی کمائی کاایک حصہ ہر سال دوسروں کے اوپر خرچ کرتے ہیں۔ مثلاً اسکول، اسپتال، تعلیمی وظائف وغیرہ وغیرہ۔ p. 184