Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
2 ستمبر 1985 p. 171
ایک صاحب ایک مسلم قائد کی عظمت کے بہت زیادہ قائل تھے۔ انھوں نے قائد موصوف کے بارے میں تقریر کرتے ہوئے پر جوش طور پر کہا وہ سوبار غلطی کرسکتے تھے مگر وہ ایک بار بھی کسی کے ہاتھ بک نہیں سکتے تھے‘‘۔میں نے کہا کہ ’’سو بار“ غلطی کرنا خود بھی بکنے ہی کی ایک صورت ہے۔ یہ خود اپنے ہاتھ بکنا ہے، یہ اپنے نفس کے ہاتھ فروخت ہونا ہے۔ p. 171original + quote
جب بھی آدمی کوئی غلط بات کہتا ہے یا کوئی غلط اقدام کرتا ہے تو بہت جلد مختلف طریقوں سے اس کی غلطی اس پر واضح ہوجاتی ہے۔ اگر آدمی اپنے نفس کے ہاتھ بکا ہوا نہ ہو تو وہ اپنی غلطی کا علی الاعلان اعتراف کرے گا۔ حتی کہ اگروہ قائد ہوتے ہوئے بار بار غلطی کیے چلا جارہا ہے تو وہ اعلان کردے گا کہ میں قیادت کرنے کے قابل نہیںہوں۔ میری فہم وبصیرت اس سے کم ہے کہ میں قوم کی قیادت کرسکوں۔ اس لیے میں قیادت کے کام سے مستعفی ہو رہا ہوں۔ p. 171
کوئی شخص غلطی پر غلطی کرے اور پھر بھی قیادت کے میدان سے واپس نہ ہو تو یہ واضح طورپر اس بات کا ثبوت ہے کہ اس کے اوپر اس کا نفس چھایا ہوا ہے۔ ساکھ اور عزت نفس کا سوال اس کو علی الاعلان اپنی قیادتی نا اہلی کا اعتراف کرنے سے روکے ہوئے ہےاس سے زیادہ بکا ہوا انسان اور کون ہوسکتا ہے— پر جوش الفاظ اور حقیقتِ واقعہ میں فرق نہ کرسکے۔ p. 171