Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
3 اگست 1985 p. 152
فرنچ رائٹر اور فلاسفر ژاں پال سارترے (Jean-Paul Sartre) 1905 میں پیدا ہوا اور 1980 میں اس کا انتقال ہوا۔ اس کا ایک قول ہےکہ تشدد صرف ان لوگوں کے لیے موزوں ہے، جو کھونے کے لیے کچھ نہ رکھتے ہوں p. 153
Violence suits those who have nothing to lose. p. 153
یہ ایک نہایت حکیمانہ بات ہے۔ جب بھی ایک شخص تشدد کرتا ہے تو لازماً اس کونقصان اٹھانا پڑتا ہے۔ حتی کہ اس وقت بھی جب کہ اس نے اپنے حریف کے مقابلہ میں لڑائی جیت لی ہو۔ p. 153
اس کی وجہ یہ ہے کہ جس شخص پر تشدد کیاگیا ہے ،وہ کوئی پتھر نہیں ہے، بلکہ انسان ہے، اور انسان ہمیشہ ردِّ عمل(reaction) ظاہر کرتا ہے۔ زیر ِتشدد آدمی تشدد کے جواب میں وہ سب کچھ کرتا ہے، جو اس کے بس میںہو۔ اگر وہ طاقت ور ہے تو وہ اپنے حریف کے مقابلہ میں براہ راست وار کرتاہے، اور اگر وہ طاقت ور نہیں ہے تب بھی کمینہ پن کا راستہ ہر ایک کے لیے کھلا ہوا ہے۔ طاقت ور آدمی جو کچھ کھلے طورپر کرسکتاہے وہی کمزور آدمی بھی کرسکتا ہے، اس فرق کے ساتھ کہ وہ جو کچھ کرتا ہے چھپے طور پر کرتا ہے۔ p. 153
ایسی حالت میںتشدد صرف اس شخص کے لیے مفید ہے، جس کے پاس پھوس کا چھپر بھی نہ ہو، جس میںاس کا حریف رات کے وقت آکر آگ لگاسکے۔ اس کی جیب میں چند روپیے بھی نہ ہوں، جس کو کوئی اس سے چھین سکے۔زندگی کا اصل راز یہ ہے کہ آدمی فریق ثانی سے ٹکراؤ نہ کرتے ہوئے اپنی تعمیر کرے۔ حتی کہ فریق ثانی شرارت کرے تب بھی وہ اس کو نظر انداز کرے۔ تشدد کے نقصانات سے وہی شخص بچ سکتا ہے، جو اعراض کی حکمت کو جانتا ہو۔ p. 153