Aqliyat E Islam

اسلام اور سائنس

Aqliyat E Islam — Maulana Wahiduddin Khan

Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.

Contents (79 chapters)
  1. ابتدائیہ
  2. تمہید
  3. حقیقت کی تلاش
  4. خارجی ہدایت کی ضرورت
  5. حقیقت کی دریافت میں ناکامی
  6. الہامی ہدایت
  7. روحانی کثافت
  8. وحی والہام
  9. علم نبوت
  10. خدائی تمثیل
  11. دماغ ایک نشانی
  12. زبان والے بے زبان ہو جائیں گے
  13. سننے والا سن رہا ہے
  14. ریموٹ کنٹرول
  15. کن فیکون
  16. کھال بولے گی
  17. اسپیچ ٹیکنالوجی
  18. غیبی نگرانی
  19. ایک لمحہ میں
  20. پردہ پھٹے گا
  21. پل صراط کا منظر
  22. آسمانی معائنہ
  23. خدائی نشان
  24. خفیہ تصویر کشی
  25. فطرت انسانی
  26. بے چین روح
  27. جدید انسان
  28. علم کی واپسی
  29. سماجی مظہر نہیں
  30. انکار سے اقرار تک
  31. تبصرہ
  32. تلاش کا صحیح جواب نہ پانے کی وجہ سے
  33. مذہب پر علمی استدلال
  34. مذہب انسانی تخلیق نہیں
  35. بالواسطہ اعتراف
  36. مذہب کے دروازہ پر
  37. مذہب کی طرف واپسی
  38. تبصرہ
  39. سائنس توحید کی طرف
  40. طبیعیات سے مابعد الطبیعیات کی تصدیق
  41. کائنات اتنی یکساں کیوں
  42. کیا کوئی زڈ ذرہ ہے
  43. ڈی این اے سے پہلے کیا تھا
  44. ہمارے اندر محفوظ نظام کیوں
  45. ارتقاء کی پیمائش ہم کیسے کریں
  46. نظام عصبی کس طرح بنتا ہے
  47. کوانٹم نظریہ کیا کشش کے نظریہ پر بھی چسپاں ہوتا ہے
  48. دماغ کے مختلف حصے کس طرح رابطہ قائم کرتے ہیں
  49. انسان کب سے زمین پر ہے
  50. تبصرہ
  51. قرآن اور سائنس
  52. ایک مثال
  53. خدا، رسالت، آخرت
  54. خدا کی تمثیل
  55. پیغمبر کی تمثیل
  56. عالم آخری کی تمثیل
  57. کائناتی نشانیاں
  58. ریاضیاتی دنیا
  59. کائنات اور انسان
  60. توازن فطرت
  61. نیم کا معجزہ
  62. تخلیق میں ذہانت
  63. ذرہ بھی غائب نہیں
  64. سائنس مذہب کے راستہ پر
  65. خلاصہ
  66. موت کے اس پار
  67. ایک واقعہ دو انجام
  68. اسلام اور سائنس
  69. سائنس اسلامی انقلاب سے پیدا ہوئی
  70. سائنس کی مسلم دنیا سے علیحدگی
  71. سائنس کے معاملہ میں موجودہ مسلمانوں کی غفلت
  72. اسلام میں سائنس کی اہمیت
  73. آخری بات
  74. قرآن کا فلسفہ
  75. سائنس کی گواہی
  76. وضعی قانون اور الٰہی قانون
  77. الٰہی قانون
  78. چند سوالات
  79. خاتمہ کا آغاز

اسلام اور سائنس p. 187

ایک بار میری ملاقات ایک ایسے شخص سے ہوئی جنھوں نے سائنس میں ڈگری لی تھی اور اسی کے ساتھ انھوں نے مذہب اور تاریخ کا بھی مطالعہ کیا تھا۔ وہ خدا اور مذہب کونہیں مانتے تھے۔ بات چیت کے دوران انھوں نے کہا اسلام کو اگر تاریخ سے نکال لیا جائے تو انسانی تاریخ میں کیا کمی رہ جائے گی۔ میں نے کہا وہی کمی جو اسلام سے پہلے انسانی تاریخ میں تھی۔ p. 187

زمین پر انسان ہزارہا سال سے آباد ہے۔ مگر معلوم تاریخ کے مطابق اسلام سے پہلے کسی بھی دور میں انسان کی رسائی اس شعبہ فن تک نہ ہو سکی جس کو آج سائنس کہا جاتا ہے۔ اس کی وجہ کیا ہے۔ اس کی وجہ بہت سادہ ہے۔ اسلام سے پہلے ہر دور میں انسان کے اوپر شرک کا غلبہ تھا۔ یہی شرک عالم فطرت پر تحقیق کرنے میں مانع تھا۔ کیوں کہ شرک کے عقیدہ کے تحت فطرت کے مظاہر پوجنے کی چیز بنے ہوئے تھے، جب کہ سائنس کا آغاز اس وقت ہوتا ہے جب کہ ان مظاہر کو تحقیق و تسخیر کی چیز سمجھا جائے۔ مشرک انسان چاند کو دیوتا سمجھتا تھا، اس لیے اس کا ذہن اس رخ پر چل ہی نہیں سکتا تھا کہ وہ چاند پر اپنے قدم رکھے۔ وہ سیلاب کو خدا کا جزء سمجھتا تھا، اس لیے اس کے لیے یہ سوچنا ممکن نہ تھا کہ سیلاب کو قابو میں لا کر اس سے بجلی پیدا کرے۔ اسلام نے معلوم تاریخ میں پہلی بار شرک کو مغلوب کرکے توحید کو غالب کیا۔ بالفاظ دیگر، اس ذہن کو فروغ دیا کہ خدا صرف ایک ہے، باقی تمام چیزیں مخلوق ہیں۔ اس طرح اسلام نے عالم فطرت کی تحقیق کا راستہ کھولا۔ اور بالآخر وہ تمام ترقیاں وجود میں آئیں جو قدرت پر فتح کے نتیجہ میں انسان کو حاصل ہوتی ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ قدیم سائنسی پسماندگی شرک کا بالواسطہ نتیجہ تھی اور جدید سائنس توحید کا بالواسطہ نتیجہ ہے۔ اس میں شک نہیں کہ اسلام اس لیے نہیں آیا کہ وہ دنیا کو سائن دے۔ مگر اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ اگر اسلام نہ آتا تو سائنسی ترقیوں کا دروازہ انسان کے اوپر بند رہتا، جیسا کہ اس سے پہلے وہ انسان کے اوپر بند پڑا ہوا تھا۔ سائنسی تحقیق اور ترقی کے سلسلے میں توحید کی اس اہمیت کو آرنلڈ ٹائن بی (1889-1975ء) نے کھلے لفظوں میں تسلیم کیا ہے(ظہور اسلام، صفحہ146)۔ p. 188original + quote