Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
خوش گوار آغاز، ناخوش گوار انجام p. 204
پاکستان کا اسلامک گروپ اور انڈیا کا فنڈمنٹلسٹ گروپ دونوں کے عقیدے بظاہر ایک دوسرے سے الگ ہیں۔ مگر عملی طورپر دونوں کا کیس تقریباً یکساں ہے۔ دونوں کا دعویٰ ہے کہ وہ اپنے اپنے ملکوں کے واحد نجات دہندہ ہیں۔ مگر یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ ان دونوں گروہوں نے اپنے اپنے ملکوں کو جتنا نقصان پہنچایا ہے اتنا نقصان شاید کسی اور گروہ نے نہیں پہنچایا۔ p. 204
اس صورت حال کا مشترک سبب یہ ہے کہ دونوں اگر چہ اپنے اپنے اعتبا ر سے وطن کے خیر خواہ ہیں۔ مگر اسی کے ساتھ دونوں ہی یکساں طورپر انتہا پسند(extremists) ہیں۔اور انتہاپسندی کے ساتھ ایک گھرکو بھی کامیابی کے ساتھ نہیں چلایا جاسکتا۔ پھر پورے ملک کو کس طرح انتہا پسندی کے ذریعہ کامیابی کے ساتھ چلایا جاسکتا ہے۔ p. 204
اب پاکستان کے اسلامسٹ گروپ کو لیجیے۔ یہ لوگ پچھلے تقریباً 55 سال سے پاکستان میں سرگرم ہیں۔ اپنے کئی مطالبات کو منوانے میں بھی بظاہر وہ کامیاب ہوئے ہیں۔ مگر ان کی یہ کامیابی وسیع تر معنوں میں ان کے ملک کے لیے مثبت نتیجہ کا سبب نہ بن سکی۔ p. 205
پاکستان کی سیاست سے اس کی بہت سی مثالیں پیش کی جاسکتی ہیں۔ یہاں ہم صرف کشمیر کے مسئلہ کو لیں گے۔ اس معاملہ میں پاکستان کے اسلامسٹ گروپ نے اپنے مخصوص مزاج کے تحت یہ کیا کہ انہوں نے اپنی کشمیری تحریک کو قومی تحریک نہ بتاتے ہوئے اس کو جہاد کا عنوان دے دیا۔ p. 205
قومی تحریک میں ہمیشہ فیصلہ کن چیز عملی حقائق ہوتے ہیں۔ اس بنا پر قومی تحریک میں ہمیشہ لچک اور ایڈ جسٹ منٹ کی گنجائش رہتی ہـے۔ مگر جہاد ایک مذہبی عقیدہ کی بات ہے۔ جب کسی معاملہ کو جہاد کا معاملہ قرار دے دیا جائے تو اس سے وابستہ لوگوں میں لچک اورایڈجسٹمنٹ کا مزاج ختم ہو جاتا ہے۔ کیوں کہ جہاد کے بارے میں ان کا عقیدہ یہ بتاتا ہے کہ اگر تم اس راہ میں کچھ حاصل نہ کر سکو تب بھی اس میں جان دینا ہی تمہاری کامیابی ہے۔کیونکہ جہاد کے راستہ میں مرکر تم سیدھے جنت میں پہنچ جاؤگے۔ p. 205
واقعات بتاتے ہیں کہ پاکستان کا سیکولر طبقہ کشمیر کے معاملہ میں انڈیا کے ساتھ ایڈجسٹمنٹ کی پالیسی اختیار کرنے پر ذہنی طورپر راضی ہے۔ مگر وہاں کا اسلامسٹ گروپ اس معاملہ میں ان کے خلاف عقب لشکر (rearguard) کا کردار ادا کررہا ہے۔ اس نے پرجوش تقریریں کر کے اس معاملہ کو اتنا زیادہ جذباتی بنا دیا ہے کہ اب پاکستان کے بہت سے لوگ یہ سمجھنے لگے ہیں کہ ہم سرینگر تک پہنچیں یا نہ پہنچیں مگر اس راہ میں لڑ کر ہم جنت تک ضرور پہنچ سکتے ہیں۔ اس طرح پاکستان کا اسلامسٹ گروپ ایڈجسٹمنٹadjustment)) کی پالیسی اختیار کرنے میں ایک مستقل رکاوٹ بن گیا ہے، جب کہ تاریخ کا تجربہ بتاتا ہے کہ ایڈجسٹمنٹ کی پالیسی ہی کسی قوم کے لیے کامیابی کا واحد ذریعہ ہے۔ p. 205
اب انڈیا کو لیجیے ۔ انڈیا کا فنڈمنٹلسٹ طبقہ بھی اپنے حالات کے اعتبارسے وہی منفی کردار ادا کر رہا ہے جو پاکستان کا اسلامسٹ طبقہ اپنے حالات کے لحاظ سے ادا کررہا ہے۔ مذہبی فنڈمنٹلزم عین اپنی فطرت کی بنا پر اپنے آپ کو برحق سمجھنے (self righteousness) کا مزاج پیدا کرتا ہے۔ اس مزاج کا مزید نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ آدمی کے اندر انتہا پسندی اور کٹر پن کی نفسیات پیدا ہو جاتی ہے۔ ایسے لوگوں کاحال یہ ہوتا ہے کہ وہ اپنے آپ کو جانتے ہیں مگر وہ دوسروں کو نہیں جانتے۔ وہ اپنے آپ کو ہر حال میں درست اور دوسروں کو ہر حال میں نادرست سمجھتے ہیں۔ وہ صرف اپنے آپ کو رعایت کا مستحق سمجھتے ہیں، دوسروں کی رعایت کرنا ان کی فہرست اخلاق میں شامل نہیں ہوتا۔ p. 205
آزادی کے بعد ہندستان کی تاریخ میںاس فنڈمنٹلسٹ کردار کی مثالیں کثرت سے پائی جاتی ہیں۔ یہاں ہم کشمیر کے تعلق سے اس معاملہ کی ایک تازہ مثال نقل کریں گے۔ p. 206
حکومت ہند کی دعوت پر پاکستان کے صدر جنرل پرو یز مشرف نے انڈیا کا دورہ کیا۔ وہ 14جولائی 2001 کی صبح کو یہاں آئے اور 16 جولائی 2001 کی رات کو واپس گئے۔ اس دوران دہلی اور آگرہ میں ان کی ملاقاتیں انڈیا کے لیڈروں سے ہوئیں۔ ابتداء میں بظاہر ملاقات کا یہ پروگرام بہت امید افزا تھا۔ مگر بعد کوایسی تلخی پیدا ہوئی کہ کوئی مشترک اعلان جاری کیے بغیر یہ چوٹی کانفرنس ختم ہوگئی۔ دورہ ناکام ہوکر رہ گیا۔ p. 206
اس ناکامی کا سبب کیا تھا۔ میرے نزدیک اس کا سبب ہمارے یہاں کے کچھ فنڈمنٹلسٹ لیڈروں کا بے لچک رویہ ہے۔ وہ اپنے مذکورہ ذہن کی بنا پرمعتدل انداز میں پاکستانی صدر سے معاملہ نہ کرسکے اور چوٹی کانفرنس ناکام ہوکر رہ گئی۔ p. 206
میں ذاتی طورپر پچھلے تقریباً چالیس سال سے یہ رائے رکھتا ہوں کہ کشمیر کے مسئلہ کا واحد ممکن حل یہ ہے کہ موجودہ جنگ بندی لائن یا لائن آف ایکچول کنٹرول کو انڈیا اور پاکستان کے درمیان مستقل سرحد کے طورپر مان لیاجائے۔ لیکن ظاہر ہے کہ پاکستان کے لیے یہ ایک نہایت کڑوا گھونٹ ہے۔ اس لیے اس تجویز کو واقعہ بنانے کے لیے ہمیں حد درجہ حکمت اور دانش مندی سے کام لینا ہوگا۔اس کے بغیر اس معاملہ میں کامیابی ممکن نہیں۔ اپنے حریف کو بے عزت کرکے آپ اسے جیت نہیں سکتے، البتہ رعایت اور محبت کا معاملہ کرکے یقینی طورپر آپ اس کو جیت سکتے ہیں۔ p. 206
میں نے صدر پرویز مشرف کے سفر سے پہلے انہیں ایک خط (9جولائی 2001)بھیجا تھا۔ یہ خط زیر نظر مجموعہ میں شامل ہے۔ صدر پرویز مشرف جب ہندستان آئے تو انہوں نے کئی ایسے اشارے دئے جن سے اندازہ ہوتا تھا کہ وہ مفاہمت اور مصالحت پر تیار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میں کھلے ذہن (open mind) کے ساتھ یہاں آیا ہوں۔ دہلی میں اپنے آبائی مکان کی خصوصی زیارت کرکے انہوں نے یہ تاثر دیا کہ میں اپنی پیدائش کے اعتبار سے ایک ہندستانی ہوں، اس لیے فطری طورپر میرے دل میں ہندستان کے لیے ایک نرم گوشہ (soft corner) موجودہے۔ راشٹرپتی بھون نئی دہلی کی پارٹی میں انہوںنے تقریر کرتے ہوئے کہا کہ کشمیر کی نزاع کا کوئی فوجی حل موجود نہیں p. 206
There is no military solution to the Kashmir dispute. p. 207
انہوں نے آگرہ کی پریس کانفرنس میں اعتراف حقیقت (acceptance of reality) کی بات کہی۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں زینہ بہ زینہ (step by step)آگے بڑھنا ہوگا، وغیرہ۔ p. 207
پاکستانی صدر کے اس قسم کے اشارے واضح طورپر یہ بتار ہے تھے کہ وہ مصالحانہ انداز اختیار کرنے کے لیے تیار ہیں۔ وہ کشمیر کے نزاعی مسئلہ کو ختم کرنے کا ارادہ لے کر آئے ہیں۔ مگر ہماری لیڈر شپ اپنے مذکورہ فنڈمنٹلسٹ مزاج کی بنا پر پاکستانی صدر کے ان اشاروں (gestures) کو کیش (cash) نہ کر سکی۔ ایک تاریخ بنتے بنتے رہ گئی۔ p. 207
مثال کے طورپر ہمارے فنڈمنٹلسٹ لیڈروں کو جاننا چاہیے تھا کہ جنرل پرویز مشرف جو بھی معاہدہ کریں، اس کے بعد انہیں اپنے ملک پاکستان واپس جانا ہے۔ اس لیے ہر بات ایسے حکیمانہ انداز سے کہی جائے کہ پرویز مشرف جب واپس ہو کر اسلام آباد پہنچیں تو وہاں ان کا استقبال کالے جھنڈوں سے نہ کیا جائے۔ مگر ہمارے لیڈروں کے بے لچک رویہ اور غیر دانش مندانہ کلام کا نتیجہ یہ ہوا کہ مصالحت کی گفتگو راہ پر آنے کے بعد اچانک اس انجام سے دوچار ہوئی جس کو ایک ہندستانی صحافی نے ڈرامائی موڑ(dramatic turn) کے لفظ سے تعبیر کیا تھا۔ خوش گوار آغاز کا یہ ناخوش گوار انجام کیوںہوا، اس کی کافی تفصیل میڈیا میںآچکی ہے۔ یہاں اس کو دہرانے کی ضرورت نہیں۔ p. 207
نزاعی امور کا تصفیہ گہری دانش مندی کے ساتھ فریق ثانی کی مکمل رعایت کا طالب ہوتا ہے۔ ذاتی انٹرسٹ کے معاملہ میں ہر آدمی کو معلوم ہے کہ مسئلہ کے حل کے لیے ان دونوں پہلوؤں کا لحاظ انتہائی ضروری ہے۔ مگر جب معاملہ قومی انٹرسٹ کا ہو تو لوگ اس حقیقت کو اس طرح بھول جاتے ہیں جیسے کہ وہ اس کو جانتے ہی نہ ہوں۔ p. 207