Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
نشستند وگفتند و برخاستند p. 202
پاکستان کے صدر جنر ل پرویز مشرف 14 جولائی 2001 کو اسلام آباد سے دہلی آئے۔ یہاں ہندستان کے وزیر اعظم اٹل بہاری واجپئی سے ان کی پانچ بار ملاقات ہوئی۔ اس ملاقات کا خاص مقصد کشمیر کے مسئلہ کا حل تلاش کرنا تھا۔ مگر بات چیت ناکام رہی اور 16جولائی 2001 کی رات کو واپس ہو کر وہ اسلام آباد چلے گئے۔ p. 202
اس اعلیٰ سطحی بات چیت کی ناکامی کا سبب کیا تھا۔ اطلاعات کے مطابق، اس کا سبب یہ تھا کہ ہندستانی وزیر اعظم چاہتے تھے کہ جموں و کشمیر میں انڈیا اور پاکستان کے درمیان سیاسی اور جغرافی اعتبار سے جو واقعی حالت(status quo) قائم ہوگئی ہے، اس کو علی حالہٖ باقی رکھتے ہوئے دوسرے تمام امور میں دونوں ملکوں کے درمیان معتدل تعلقات بحال کر لیے جائیں تاکہ دونوں ملکوں کے درمیان ترقی کا رکا ہوا سفر جاری ہوسکے۔ مگر پاکستانی صدر کو غالباً یہ اصرار تھا کہ پہلے جموں و کشمیر کی موجودہ حالت (status quo) کو توڑ کر ان کے دعویٰ کے مطابق پوری ریاست پر پاکستان کا حق تسلیم کیا جائے۔ اس کے بعد ہی وہ دونوں ملکوں کے درمیان معتدل تعلقات کے قیام پر راضی ہوں گے۔ ہندستانی وزیر اعظم پاکستانی صدر کی بات نہ مان سکے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ دونوں ملکوں کے درمیان بات چیت ناکام ہوکر رہ گئی۔ p. 203
جنرل پرویز مشرف جب ہندستان آئے تو شروع میںانہوں نے ایسی بات کہی جس سے اندازہ ہوتا تھا کہ وہ مصالحت کا ارادہ لے کر ہندستان آئے ہیں۔ مثلاً انہوں نے راشٹرپتی بھون (نئی دہلی) میں تقریر کرتے ہوئے کہا تھاکہ کشمیر کے نزاع کا کوئی فوجی حل (military solution) ممکن نہیں۔ اسی طرح آگرہ کی پریس کانفرنس میںانہوں نے حقیقت کے اعتراف (acceptance of reality) کی بات کہی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ میں کھلے ذہن کے ساتھ انڈیا آیا ہوں۔ مگر بعد کو وہ حقیقت پسندانہ مصالحت کیے بغیر پاکستان واپس چلے گئے۔ p. 203
جہاں تک میرا اندازہ ہے، ان کو غالباً پاکستانی عوام کی طرف سے سخت جذباتی ردّ عمل کا اندیشہ تھا، اس بنا پر وہ مصالحت کا طریقہ اختیار نہ کرسکے اور ناکام واپس چلے گئے۔ ایک مبصر کے الفاظ میں، جنرل پرویز مشرف کو معلوم تھا کہ پاکستان کے جذباتی عوام جو کرکٹ کے میدان میں انڈیا کے مقابلہ میں اپنی ہار کو برداشت نہیں کر پاتے، وہ کشمیر میں انڈیا کے مقابلہ میں اپنی سیاسی ہار کو کیسے برداشت کر سکیں گے۔ p. 203original + quote
مگر یہ کوئی سادہ معاملہ نہیں۔ پاکستان کے صدر کو جاننا چاہیے کہ ان کا سامنا صرف ایک مسئلہ سے نہیں ہے بلکہ وہ بیک وقت دو مسئلے کے درمیان ہیں—اگر وہ کشمیر کے معاملہ میں انڈیا سے مصالحت (compromise) کا طریقہ اختیار کریں تو پاکستان کے عوام اس کو اپنی سیاسی ہار سمجھ کر جنرل پرویز مشرف سے غصہ ہو جائیں گے۔ لیکن دوسری طرف یہ سخت تر مسئلہ ہے کہ اگر وہ کشمیر کے سوال پر مصالحت نہ کریں تو پاکستان کی اقتصادی تباہی میں مزید اضافہ ہوگا۔ اس کے نتیجہ میں پاکستان میں مایوسی پھیلے گی اور پاکستانی عوام کی نظر میں وہ غیر مطلوب حکمراں بن جائیں گے۔ اور پھر وہ بھی اسی طرح سیاسی زوال کا شکار ہوں گے جس طرح ان کے پیش رو ٹھیک اسی سبب سے سیاسی زوال کا شکار ہوئے۔ p. 203unverified
ایسی حالت میں پاکستان کے فوجی صدر کے سامنے بیک وقت دو برائیوں میں سے ایک کے انتخاب کا مسئلہ ہے، نہ کہ صرف ایک برائی کا مسئلہ ۔ وہ کسی حال میں بھی اپنے سیاسی کیریر کو برائی کے مسئلہ سے بچا نہیں سکتے۔ اب انہیں یہ فیصلہ کرنا ہے کہ مذکورہ دونوں برائیوں میں سے کون سی چھوٹی برائی (lesser evil) ہے اور کون سی بڑی برائی (greater evil) ۔ p. 203
اس معاملہ میں اگر مجھے رائے دینا ہو تو میں کہوں گا کہ کشمیر کے بارے میں ہندستانی موقف کو تسلیم کرلینا پاکستانی صدر کے لیے چھوٹی بُرائی ہے۔ کیوں کہ ایسی حالت میں جو کچھ ہوگا وہ صرف یہ کہ ایک چیز جس کو پاکستان بالفعل کھوچکا ہے، اس کے کھوئے جانے کا اعتراف کر لیا جائے۔ پاکستان کو اس کی یہ نقد قیمت ملے گی کہ اس کی تعمیر و ترقی کے تمام دروازے اچانک کھل جائیں گے جو اب تک گویا اس کے اوپر بند پڑے ہوئے تھے۔ p. 204
اس کے برعکس اگر پاکستان کی حکومت کشمیر کے بارے میں ہندستانی موقف کو تسلیم نہ کرے اور ہندستان سے اپنی بلا اعلان لڑائی جاری رکھے تو اس کا تباہ کن نقصان یہ ہوگا کہ جس چیز سے پاکستان محروم ہوچکا ہے، اس سے اس کی محرومی تو بدستور قائم رہے گی ۔ مزید یہ نقصان ہوگا کہ پاکستان کی اقتصادی تباہی میں اور زیادہ اضافہ ہوگا، جو پہلے ہی ناقابل برداشت حد کو پہنچ چکی ہے۔ p. 204