Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
حقیقت پسند بنئے p. 180
اپریل 1986ء کے آخری ہفتہ میں امرتسر میںکچھ سکھوں نے بطور خود آزاد خالصتان کے قیام کا اعلان کر دیا۔ عین اسی زمانہ میں میںنے دہلی کے انگریزی اخبار ہندستان ٹائمس میں ایک مضمون شائع کیا جس کا عنوان یہ تھا—حقیقت کا اعتراف p. 180
Acceptance of Reality. p. 180
میرا یہ مضمون پنجاب اور کشمیر دونوں کے بارے میں تھا۔ میںنے پنجابیوں اور کشمیریوں دونوں کو مخاطب کرتے ہوئے یہ کہا تھا کہ علیٰحدہ پنجاب اور علیٰحدہ کشمیر کی تحریکیں کبھی کامیاب نہیں ہوسکتیں۔ وہ حقیقت کی چٹان سے ٹکرانے کے ہم معنی ہے۔ اس قسم کی کوشش سے کچھ لوگ اپنا سر تو توڑ سکتے ہیں مگر وہ صورت حال کو بدل نہیں سکتے۔ میں نے دونوں جگہ کے لوگوں کو یہ مشورہ دیا تھا کہ وہ حقیقت پسندی سے کام لیں اور صورت موجودہ (status quo) کو مان کر مثبت انداز میں اپنی زندگی کی تعمیر کریں۔ p. 180
سکھ لوگ جلد ہی معاملہ کو سمجھ گئے۔اور انہوں نے اس مسئلہ پراپنی متشددانہ تحریک ختم کردی۔ کشمیر کے لوگ بھی یقینی طورپر آخر کار یہی راستہ اختیار کریں گے مگر اس وقت جب کہ ان پر فارسی کا یہ شعر صادق آچکا ہوگا کہ جو کام ایک عقلمند انسان کرتا ہے وہی کام ایک نادان انسان بھی کرتا ہے ، لیکن کافی نقصان اٹھانے کے بعد p. 181original + quote
آں چہ دانا کند کند ناداں لیک بعد از خرابی ٔ بسیار p. 181
اس فرق کا سبب غالباً یہ ہے کہ سکھ لوگوں کے پاس اپنی تباہی کو جائز ثابت (justify) کرنے کے لیے کوئی شاندار نظریہ موجود نہ تھا۔جب کہ دوسرے گروہ کے پاس ایسے شاندار نظریات موجود ہیں جن کے ذریعہ وہ خود کشی کے عمل کو اسلامی شہادت جیسا خوبصورت عنوان دے سکے۔ p. 181
اس سلسلہ کا ایک تجربہ یہاں قابل ذکر ہے۔ 27 جنوری 1992 کا واقعہ ہے۔ کشمیر کے دو تعلیم یافتہ مسلمان دہلی آئے اور مجھ سے ملاقات کی۔ یہ لوگ خود تو کسی جنگجو تنظیم کے باضابطہ ممبر نہیں تھے مگر وہ کشمیر کی جنگجو تحریک کے پوری طرح حامی تھے۔ وہ عملی جنگجو نہ ہوتے ہوئے بھی پورے معنیٰ میں فکر ی جنگجو تھے۔ p. 181
گفتگو کے دوران میں نے کہا کہ آپ لوگوں کی نام نہاد تحریک ِکشمیر کسی بھی اعتبار سے درست نہیں۔ وہ نہ جہاد ہے اور نہ اس سے اسلامی نظام قائم ہونے والا ہے۔ اور نہ علیٰحدگی کی کوئی معنویت ہے۔ اس کا نتیجہ بربادی کے سوا اور کچھ نہیں۔ انہوں نے پرجوش طورپر اپنی موجودہ تحریک کی حمایت کی اور دعویٰ کیا کہ ہم جلد ہی ایک عظیم کامیابی حاصل کرنے والے ہیں۔ پھر انہوں نے میرے کہنے پر اپنے دستخط کے ساتھ حسب ذیل الفاظ میری ڈائری میں لکھے p. 181
ہندستان سے علیٰحدگی کے بعد جو کشمیر بنے گا ،انشاء اللہ وہ کشمیر اسلامی کشمیر ہوگا۔ p. 182
اس کے بعد میں نے کہا کہ آپ لوگوں کی یہ بات بے بنیاد خوش فہمی کے سوا اور کچھ نہیں۔ آپ لوگوں کو بہت جلد معلوم ہوجائے گا کہ آپ کے اندازے کتنے زیادہ بے حقیقت تھے۔ پھر میںنے اپنی ڈائری میں ان کے سامنے یہ الفاظ لکھے p. 182
بالفرض اگر کشمیر ہندستان سے علیٰحدہ ہو تو اس کے بعد جو آزاد کشمیر یا پاکستانی کشمیر بنے گا وہ ایک برباد کشمیر ہوگا۔ کشمیریوں کے لیے چوائس (choice) ہندستانی کشمیر یا پاکستانی کشمیر میں نہیں ہے۔ بلکہ ہندستانی کشمیر یا برباد کشمیر میں ہے۔ p. 182
اس واقعہ پر اب دس سال پورے ہورہے ہیں۔ اس دس سالہ تجربہ نے آخری طور پر یہ ثابت کیا ہے کہ مذکورہ کشمیری مجاہد کے الفاظ فرضی خوش فہمی کے سوا اور کچھ نہ تھے۔ اس کے برعکس، میں نے جو کچھ اللہ کی توفیق سے کہا وہ آج ایک ناقابل انکار حقیقت بن چکا ہے۔ واقعات نے یہ ثابت کیا ہے کہ موجودہ حالات میںکشمیر کا فائدہ نہ آزاد کشمیر بننے میںہے اور نہ پاکستانی کشمیر بننے میں۔ کشمیر کا فائدہ ہر اعتبار سے یہ ہے کہ وہ ہندستان کا حصہ بن جائے اور ٹکراؤ کی پالیسی کو چھوڑ کر پر امن تعمیر کا طریقہ اختیار کرلے۔ p. 182
کشمیر میں جو لوگ اپنے خیال کے مطابق، جہاد کی تحریک چلارہے ہیں، وہ اپنے آپ کو اسلام پسند کہتے ہیں۔مگر صحیح یہ ہے کہ وہ اسلام پسند بننے سے پہلے حقیقت پسند بنیں۔ اسلام کا قلعہ حقیقت کی زمین پر کھڑا ہوتاہے۔ خوش فہمی کی زمین پر کوئی بھی قلعہ نہیں بن سکتا، نہ اسلام کا اور نہ غیر اسلام کا۔ p. 182