Allahu Akbar

خدا کو پانے والے

Allahu Akbar — Maulana Wahiduddin Khan

Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.

Contents (226 chapters)
  1. ابتدائیہ
  2. فہرست
  3. خدا کا وجود
  4. خدا کو پانے والا
  5. عجیب کرشمہ
  6. خدا کاعقیدہ
  7. خدا سب کچھ
  8. خدا کی موجودگی کا تجربہ
  9. خدا کا ثبوت
  10. کائناتی مشین
  11. کائناتی وحدت
  12. فطرت کی پکار
  13. کائنات مشین نہیں
  14. معبود کی طلب
  15. خدا کی تلاش
  16. توہم پرستی
  17. مشینی تعبیر
  18. خدا کا بندہ
  19. فطرت کی تصدیق
  20. خدا کی نشانیاں
  21. خلائی تہذیب
  22. یہ ماہرین
  23. محبت کا نذرانہ
  24. قیمت جو ادا نہیں کی گئی
  25. قومی ہیرو
  26. فطرت کی تلاش
  27. یہ انسان
  28. خدا کی عظمت
  29. شرک اور کبر
  30. عقیدۂ خدا
  31. عظمت خدا وندی
  32. کارخانۂ کائنات
  33. تقویٰ کیا ہے
  34. خرابی کی جڑ
  35. خدا سے غافل
  36. تضاد ختم ہو گیا
  37. قدرتی مناظر
  38. جب پردہ اٹھے گا
  39. جھوٹی بڑائی
  40. خدا کی نشانی
  41. خدا کا فیضان
  42. دین فطرت
  43. کائنات کی معنویت
  44. انسان کی تلاش
  45. انسان کی کمائی
  46. کچھ سےکچھ
  47. محرومی
  48. یہ بھی ممکن ہے
  49. عجز کی تلافی
  50. کائناتی نمونہ
  51. ضمیر کے خلاف
  52. خدا پرستی
  53. زندگی کا مسئلہ
  54. زلزلہ درکار ہے
  55. خدا کی یافت
  56. معرفت
  57. توحید اور شرک
  58. دریافت
  59. سب کچھ عجیب ہے
  60. خدا سے نسبت
  61. حق کی پہچان
  62. پانے والا
  63. دریافت کی لذت
  64. سچائی کو پانے والا
  65. گروہی اعتراف
  66. حق کو پانا
  67. انکشاف خداوندی
  68. ایمان میں اضافہ
  69. ہر چیز عجیب
  70. نفی ذات
  71. اللہ کا ذکر
  72. کھونے والا پاتا ہے
  73. خدا کا فیصلہ
  74. فیصلہ کے دن
  75. اس دن کیا ہوگا
  76. دولت کا فریب
  77. گھاٹے والا
  78. انسان کا المیہ
  79. موت کا حملہ
  80. پانچ سکنڈ کا فاصلہ
  81. نا تمام کہانی
  82. موت کو یاد کرو
  83. جب موت ذہنی طلسم کو توڑ دے گی
  84. ساٹھ کیلو میٹر
  85. کیسا عجیب
  86. موت کا مرحلہ
  87. موت کے دروازے پر
  88. سب سے بڑا بھونچال
  89. کل کو یاد رکھئے
  90. آہ یہ انسان
  91. جب حقیقت کھلے گی
  92. خدا اور آخرت
  93. چھوڑنے کے لیے
  94. کہاں سے کہاںتک
  95. قریب مگر دور
  96. دنیا کی حقیقت
  97. بے خبر انسان
  98. انسان ذمہ دار وجود ہے
  99. چالیس سال بعد
  100. 31 دن کے لیے
  101. سب سے بڑی خبر
  102. کل کو جانیے
  103. آنے والا طوفان
  104. اس وقت کیا ہوگا
  105. نامعلوم مستقبل
  106. انجینئرنگ کافی نہیں
  107. دنیا اور آخرت
  108. کچھ کام نہ آئے گا
  109. ہر طرف فریب
  110. کامیابی کی فہرست
  111. چھت گر پڑی
  112. خدا کی دنیا
  113. ایک موت
  114. زندگی کا انجام
  115. کہاں سے کہاں
  116. زیادہ نازک
  117. خدا سے ڈرو
  118. سب چلے گئے
  119. 21 واں منٹ
  120. آرزوؤں کی دنیا
  121. ہر چیز میں سبق
  122. خرچ سے اضافہ
  123. جب پردہ کھلے گا
  124. جھوٹی عظمت
  125. خدا اور انسان
  126. آنے والا دن
  127. عجیب یادگار
  128. یہ سونے والے
  129. انسان کی غلطی
  130. دو قسم کی روحیں
  131. مقبول بندے
  132. خوراک
  133. کم سمجھنا
  134. خدا سے بغاوت
  135. اہلیت
  136. پانے کے باوجود محروم
  137. امتحان گاہ
  138. قانون کی حد
  139. دلیل اور شخصیت
  140. کائنات کا دسترخوان
  141. صرف ’’کرنا‘‘ کافی نہیں
  142. الفاظ کم ہو جاتے ہیں
  143. امتحان
  144. کوئی فرق نہیں
  145. پچپن سال کے بعد
  146. خدا کی عبادت
  147. پرستش کیا ہے
  148. اللہ سے ڈرنے والے
  149. دین داری
  150. محسوس پرستی
  151. خدا کی نصرت
  152. دل کا سکون
  153. شکر کی اہمیت
  154. خدا کی یاد
  155. مومن کا ذہن
  156. خدائی کارخانہ
  157. صبر کا بدلہ
  158. جنت والے
  159. اپنا احتساب
  160. ثواب
  161. نمائشی حق پرستی
  162. زندہ قبرستان
  163. اسم اعظم کیا ہے
  164. جھوٹی دھوم
  165. لطیف تجربات
  166. دعا
  167. خدائی اخلاقیات
  168. کائنات کی شاہراہ
  169. حسن سلوک
  170. سرسبز درخت
  171. چڑیا اور انسان
  172. عمل کا فرق
  173. پلاسٹک کے پھل اور پھول
  174. دونوں ایک سطح پر
  175. جانور سے بدتر
  176. امتحان کا کام
  177. عمل کے بغیر
  178. دنیا کی خاطر عمل کرنے والے
  179. شکار کرنے والے
  180. دو قسم کے انسان
  181. آپریشن
  182. یہ جہنمی قافلے
  183. دوسرے درجہ پر
  184. دو قسم کی غذائیں
  185. خدا کی قدرت
  186. خدا کی طرف سفر
  187. جب سفر ختم ہوگا
  188. 25 واں گھنٹہ
  189. آخری منزل
  190. موت کے دوسری طرف
  191. آخرت تک جانا ہے
  192. موت کی طرف
  193. موت سے قریب
  194. قبر نہیں دروازہ
  195. موت کا سبق
  196. زندگی کاسفر
  197. جنازہ کو دیکھ کر
  198. روپیہ سے راکھ تک
  199. زندگی کا اسٹیج
  200. اندھیرا ختم ہوگا
  201. تاریکی میں سفر
  202. حادثات کیوں
  203. حقیقت سے بے خبری
  204. ظاہر فریبی
  205. تضاد فکری
  206. کائنات کو پڑھئے
  207. معیاری دنیا
  208. غلط استعمال
  209. کامیاب زندگی
  210. دو قسم کے بیج
  211. اگلا پیراگراف
  212. خدا کی پکار
  213. خدا کا داعی
  214. کرنے کا کام
  215. مقبولیت کا راز
  216. داعی کون
  217. داعیانہ اخلاق کی ضرورت
  218. رہنما کی ضرورت
  219. غلط فہمی
  220. حق کی دعوت
  221. آخرت کی پکار
  222. نازک سوال
  223. داعی بننے کے لیے
  224. حق کی پکار
  225. خدا کو پانے والے
  226. جنت صبر کے اُس پار ہے

خدا کو پانے والے p. 146

خدا کی زمین پر شاید ایسے لوگ موجود نہیں جنھوں نے خدا کو ان عظمتوں کے ساتھ پایا ہو جس کے اثرات اس ہیجان خیز کیفیت میں ڈھل جاتے ہیں جس کو خدا کی یاد کہا گیا ہے۔ جھوٹی عبادت کی دھوم ہر طرف نظر آتی ہے۔مگر سچی عبادت اتنی نا یاب ہے کہ امکان ہی کے درجہ میں کہا جاسکتا ہے کہ وہ کہیں موجودہوگی۔ p. 146

آج ساری دنیا میں دین اوراسلام کا غلغلہ بلند ہے۔مگر وہ انسان شاید خدا کی زمین پر کہیں پایا نہیں جاتا جس نے خدا کو اس طرح دیکھا ہو کہ اس کی ہیبت سے اس کا دل دہل اٹھے اور اس کے جسم کے رونگٹے کھڑ ے ہوجائیں۔جو قرآن کو پڑھے تو اس کی روح پکار اٹھے کہ خدا یہ تیرا کتنا بڑااحسان ہے تو نے میری ہدایت کا ایساانتظام کیا ،ورنہ میں جہالت کے اندھیروں میں بھٹکتا رہتا۔وہ رسول کی سنت کو دیکھے تو اس کاوجود اس دریافت سے سرشار ہو جائے کہ یہ خدا کا کیسا غیر معمولی انتظام تھا کہ اس نے پیغمبر کی زندگی میںہدایت کا بے داغ نمونہ قائم کیا اورپھر تاریخ میں اس کوروشنی کے ابدی مینار کی طرح محفوظ کردیا۔جب وہ سجدہ کرتے ہوئے اپنا سرزمین پر رکھے تو اس کو یہ احساس ہونے لگے کہ اس کے رب نے اس کو اپنی رحمت کے آغوش میں لے لیا ہے۔جب وہ کوئی غذا اپنی حلق کے نیچے اتارے تو اس کی پوری ہستی میں اس احسان مندی کی لہر دوڑ جائے کہ کیسا عجیب ہے وہ خدا جس نے میرے جسم کی پرورش کے لیے ایسی ممکن غذا کا اہتما م کیا۔جب وہ پانی پئے تو اس کی آنکھوں سے ایک اورجھرنابہہ پڑے اوروہ بے اختیار ہوکر کہے کہ خدا یا اگر تو مجھے سیراب نہ کرے تو میں سیراب ہونے والا نہیں۔اگر تو مجھے پانی نہ دے توکہیں سے مجھ کو پانی ملنے والا نہیں۔ p. 147

آہ ،لوگ اپنے کوخدا سے کتنا قریب سمجھتے ہیں مگر وہ خدا سے کتنا زیادہ دور ہیں۔وہ خدا کانام لیتے ہیں۔مگران کے منہ میں خدائی مٹھاس کی شکر نہیں گھلتی۔وہ خدا کو پانے کا دعویٰ کرتے ہیں۔مگر خدا کے چمنستان کی کوئی خوشبوان کے مشام کو معطر نہیں کرتی۔وہ خدا کے نام پر دھوم مچاتے ہیں مگر خدا کے نورانی سمندر میں نہانے کاکوئی نشان ان کے جسم پر ظاہر نہیں ہوتا۔وہ سمجھتے ہیں کہ خدا کی جنتیں ان کے لیے مخصوص ہوچکی ہیں مگر جنت کے باغ کا کوئی جھونکا ان کے وجود کو نہیں چھوتا۔ p. 147

کیسا عجیب ہوگا وہ خدا جس کی یاد دل ودماغ کی دنیا میں کوئی اہتزاز (Thrill)پیدا نہ کرے۔کیسی عجیب ہوگی وہ جنت جس میں داخلہ کا ٹکٹ آدمی اپنی جیب میں لیے ہوئے ہو مگر جنت کا باسی ہونے کی کوئی جھلک اس کے رفتار وگفتار سے نمایا ں نہ ہو۔کیسے عجیب ہوں گے وہ آخرت والے جن کے لیے آخرت کی ابدی وراثت لکھی جاچکی ہو مگران کی ساری دلچسپیاں بد ستور اسی عارضی دنیا میں اٹکی ہوئی ہوں۔ p. 147

انکشاف خدا وندی p. 147

نکیتا خروشچیوف (1894-1971)نے کہا تھا’’ہمارا راکٹ چاند تک گیامگر اس کو کہیں خدا نہیں ملا ‘‘۔کمیونسٹ روس کے سابق صدر نے یہ بات نعوذ باللہ بطور مذاق کہی تھی۔مگر موجودہ زمانہ کے تمام سیکولر محققین پر وہ پوری طرح صادق آتی ہے۔ p. 147original + quote

موجودہ زمانہ میں بہت بڑے پیمانے پر فطرت کے علوم کا مطالعہ کیا گیا ہے۔زمین سے لے کر آسمان تک کی مختلف چیزوں کی تحقیق میں بے شمار لوگوں نے اپنی عمریں صرف کردیں۔مگر ان لوگوں کی کتابیں پڑھئے تو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ کائنات میں کہیں ان کی خدا سے ملاقات نہیں ہوئی۔وہ زمین سے لے کر آسمان تک سفر کرتے رہے۔مگر خداکی کوئی جھلک انہیںدکھائی نہیں دی۔انھوں نے خاموش لہروں کے ذریعہ سفر کرنیوالی آوازوں کو پکڑ لیا۔مگر ان کے کان خدا کی آواز سے آشنا نہیں ہوئے۔ان کی خورد بینوں اوردور بینوں نے انہیںایسی چیزیں دکھائیں جو اس سے پہلے انسان نے کبھی نہیں دیکھی تھیں مگر خدا کے فرشتوں سے ان کا کبھی مصافحہ نہیں ہوا جو کائنات میں ہر طرف پھیلے ہوئے ہیں۔ p. 148

عجیب بات ہے کہ یہی واقعہ موجودہ زمانہ کے مسلم مفکر ین اورقائدین کے ساتھ بھی کسی قدربدلی ہوئی شکل میں پیش آیا ہے۔جس طرح سیکولر مفکر ین کو کائنات کا صرف ظاہر ملا ،اس کی اندرونی حقیقت انہیںنہیں ملی۔اسی طرح مسلم مفکرین کے حصہ میں اسلام کا صرف ظاہری ڈھانچہ آیا۔وہ اسلام کی اندرونی حقیقت سے آشنا نہ ہوسکے۔ p. 148

آپ ان مفکر ین کی تقریریں سنیے ،ان کی سوانح عمریاں پڑھیے۔ان کی کتابوں کا مطالعہ کیجیے۔آپ کو ان میں ہر چیز ملے گی مگروہی چیز نہیں ملے گی جو اسلام کی اصل روح ہے — ان کے یہاں انسانوں سے ملاقات کا ذکر ہوگا مگر خدا کی کبریائی کا احساس اورخدا سے ملاقات کاکہیں ذکر نہ ہوگا۔وہ انسانی آرٹ کی بلندی اورتاثیر سے مسحور نظر آئیں گے، مگر خدائی آرٹ کی بلندی اورتاثیر سے ان کے اندر کوئی تموج پیدا ہوتا ہو ا دکھائی نہیںدے گا۔ دنیا کے واقعات کے چرچے سے ان کی زبان وقلم گونج رہی ہوں گی مگر آخرت کے چرچے کانشان کہیں دکھائی نہیں دے گا۔وہ قومی مسائل اورملّی مفاخر پرولولہ انگیز تقریر کرتے ہوئے نظر آئیں گے مگر خدا کے جلال وجمال پرولولہ انگیزتقریر کبھی ان کے یہاں سنائی نہ دے گی وہ اپنی حیران کن دریافتوں کا انکشاف کریں گے۔مگر کہیں اس کا نشان نہیں ملے گا کہ ان پر خدا کا انکشاف ہوا اورخدا کی دریافت نے ان کے اندر ہلچل پیدا کردی۔ p. 148

ایمان میں اضافہ p. 148

ایک سائنس داں نے کہا ’’فطرت کا مطالعہ میرا مذہب ہے۔جس دن میں فطرت کی کوئی نئی چیز نہیں دریافت کرتا ،میں سمجھتا ہوں کہ وہ دن میں نے ضائع کردیا ‘‘۔یہ اس انسان کا حال ہے جو مخلوقات میں جیتا ہے۔پھر اس انسان کا حال اس سے مختلف کیسے ہوسکتا ہے جو خالق میں جیتا ہو۔جس طرح سائنس دان ہر روز مخلوقات میں کوئی نئی چیزدریافت کرتا ہے، اسی طرح مومن کو ہرروزخالق کی نسبت سے کوئی ایسی چیز پانا چاہیے جو اس کے ایمان میں اضافہ کرنے والی ہو۔مومن جس روز کوئی نئی چیز نہ پائے ،وہ دن گویا اس نے ضائع کردیا ،اس دن گویا خدا سے اس کا ربط قائم نہیںہوا۔ p. 148original + quote

ایمان خدا کی دریافت کا دوسرا نام ہے۔خداایک مسلسل حقیقت ہے جس کی کوئی حد نہیں ، اس لیے اس کی دریافت بھی ایک مسلسل واقعہ ہے جس کی کوئی انتہانہیں۔جو ایمان اضافہ پذیر نہ ہو وہ غفلت کی ایک قسم ہے ،اس کو حقیقی معنوں میں ایمان نہیں کہا جا سکتا ۔ p. 149

جس کا ذہن خدا کی طرف متوجہ ہو ،جس کا دل خدا کی طرف لگا ہوا ہو،اس کو باربار خداکی نئی تجلیات کا ادراک ہوتا ہے۔وہ بار بار خدا کی نئی جھلک پاتا رہتا ہے۔جس طرح خدا کے کمالات کہیں ختم نہیں ہوتے ،اسی طرح مومن کا سفر ِمعرفت بھی کسی حد پر ختم نہیں ہوتا۔ p. 149

یہ نئی معرفت کبھی ایسی ربانی کیفیات کی صورت میں امنڈتی ہے جس سے وہ اس سے پہلے کبھی آشنا نہیں ہواتھا۔کبھی ایسے دعائیہ الفاظ کے روپ میں بے اختیار اس کی زبان پر آجاتی ہے جو اس سے پہلے کبھی نہیں سوچا تھا۔کبھی وہ خدا کی حکمتوں میں سے کسی ایسی حکمت کا راز پا لیتا ہے جو اس سے پہلے اس پر نہیں کھلے تھے۔ وہ خدا کی قربت کا ایسا تجربہ کرتا ہے جو اِس سے پہلے کبھی اس کے علم میں نہیں آئے تھے۔کبھی اس پر ایسے نئے معانی کا القاء ہوتا ہے۔جس کے اظہار کے لیے اس کے تمام معلوم الفاظ عاجز نظر آنے لگتے ہیں۔ p. 149

ہر چیز عجیب p. 149

موجودہ قسم کی چھتری لند ن میں سب سے پہلے 1749میں بنائی گئی۔اس وقت اس کا تعارف ایک شخص نے ان الفاظ میں کرایاتھا: p. 149original + quote

When opened it was like a small tent, and when shut it was all curiously jointed and would fold up to the length of a man's hand. p. 150

جب اس کو کھولا جائے توہ ایک چھوٹے خیمے کے مانند ہوجاتی ہے اورجب اس کو بند کیا جائے تو حیرت انگیز طورپر وہ پوری سمٹ جاتی ہے اورلمبائی میں ایک آدمی کے ہاتھ کے برابر ہوجاتی ہے(ٹائمس آف انڈیا،26مئی 1984)۔ p. 150other source

موجودہ صدی کی ابتدامیں ہندستان کے ایک دیہات میں ایک زمین دار کے یہاں پہلی بار ہینڈ پمپ(hand pump) لگایا گیا۔جب اس کو چلایاگیا اورزمین سے وہ پانی کھینچ کر نکالنے لگا تو ایک دیہاتی عورت نے اس کو دیکھ کر کہا’’آدمی صرف موت سے ہاراہے ‘‘۔یعنی آدمی سب کچھ کرسکتا ہے۔صرف ایک موت ایسی چیز ہے جس پر قابو پانا اس کے اختیار میں نہیں۔ p. 150

دوسو سال پہلے چھتری اورہینڈپمپ آدمی کوانتہائی عجیب معلوم ہوتے تھے۔مگر آج آدمی چھتری اورہینڈ پمپ کو دیکھتا ہے اوراس کے اندر کوئی استعجاب پیدا نہیں ہوتا۔اس کی وجہ یہ ہے کہ اس کو دیکھتے دیکھتے اب وہ اس کا عادی بن چکا ہے۔کوئی چیز جب باربار آدمی کے سامنے آتی ہے تو وہ اپنا انوکھا پن کھودیتی ہے۔اس کے بعد انتہائی عجیب چیز بھی اس کے لیے غیر عجیب بن کر رہ جاتی ہے۔ p. 150

یہی معاملہ خداکی تخلیقات کا ہے۔موجودہ دنیا میں جو چیز بھی ہے،نہایت عجیب ہے۔ خواہ وہ ایک چھوٹی پتی ہو یا عظیم سمندر ہو،ایک بے نور ذرّہ ہویا روشن آفتاب ہو۔مگر آدمی پیداہوتے ہی ان کودیکھتا ہے اورساری زندگی ہر روز دیکھتا رہتا ہے۔اس طرح برابر دیکھتے رہنے کی وجہ سے ان کا عجوبہ پن اِس کی نظر میں ختم ہوجاتا ہے۔ان کو دیکھ کر آدمی کے اندراستعجاب پیدا نہیں ہوتا۔اگر انہیںچیزوں میں سے کسی چیز کووہ اچانک ایک روز دیکھے تو وہ احساس حیرت میں ڈوب جائے۔ p. 150

یہی موجودہ دنیا میں آدمی کا امتحان ہے۔اس کو ایک درخت کو اس طرح دیکھنا ہے جیسے کہ وہ پہلی باراچانک اس کے سامنے کھڑاہوگیاہو۔اس کو ایک سورج کو اس طرح دیکھنا ہے جیسے کے وہ بالکل پہلی باراس کے سامنے چمک اٹھا ہو۔ایک چڑیا کے نغمہ کو اسے اِس طرح سننا ہے جیسے کہ اس کے کان پہلی بار اس کے چہچہے سے آشنا ہوئے ہوں۔ p. 151

نفی ذات p. 151

حضرت یوسف علیہ السلام کے قصہ کو قرآن میں احسن القصص (بہترین قصہ)کہا گیاہے(یوسف، 12:3)۔اس کی وجہ یہ ہے کہ آپ کی زندگی اس بات کی ایک تاریخی مثال ہے کہ کس طرح خدائی مددواقعات کے دھارے کو پھیر دیتی ہے۔وہ ایک اسوء القصص کو احسن القصص بنا دیتی ہے۔ p. 151original + quote

حضرت یوسف کے دشمنوں نے آپ کو کنویں میںڈال دیا۔مگر خدا نے آپ کو کنویں سے نکال کر مصر کے تخت پر پہنچا دیا۔جہاں آپ کے مخالفین نے آپ کی کہانی ختم کرنی چاہی تھی وہیں سے آپ کی ایک نئی شاندار تر کہانی شروع ہوگئی۔ p. 151original + quote

مذکورہ سورہ میں حضرت یوسف کا قصہ بیان کرنے کے بعد ارشاد ہواہے یہاں تک کہ جب پیغمبر مایوس ہوگئے اورخیال کرنے لگے کہ ان سے جھوٹ کہا گیا تھا تو ان کو ہماری مدد آپہنچی پھر ہم نے جس کو چاہا بچا لیااورہمارا عذاب مجرموں سے ٹالا نہیں جاتا (12:110)۔ p. 151original + quote

اس سے معلوم ہواکہ خدا کی مدد مایوسی کی حد پر پہنچ کر ملتی ہے۔ ’’مایوسی ‘‘سے مراد وہ مقام ہے جہاں بندہ اپنا سب کچھ دے کر خالی ہوچکا ہو۔اس کے پاس مزید کچھ دینے کے لیے باقی نہ رہے۔جب وہ محسوس کرنے لگے کہ بند گی کی حد ختم ہوگئی۔اب وہ درجہ آگیا ہے جہاں سے خدائی کی حد شروع ہوتی ہے۔عین اس وقت خدا کی مدد آجاتی ہے۔ناکامی کی انتہاکامیابی کا آغاز بن جاتا ہے۔ p. 152

بیج کا ختم ہونا ایک درخت کو وجود دیتا ہے۔یہی معاملہ خدا اوربندے کابھی ہے۔ آدمی خدا کی مدد کا مستحق اس وقت بنتا ہے جب کہ وہ اپنے آپ کو خداکے لیے مٹا دے۔ جہاں اعتماد خویش ختم ہو جائے وہاں سے اعتمادعلی اللہ کا آغازہوتا ہے۔ p. 152

خدا بلا شبہ سب سے بڑی طاقت ہے۔مگر خدا کو پانا ہمیشہ اپنی نفی کی قیمت پر ہوتا ہے۔آدمی اپنی نفی نہیں کر پاتااسی لیے وہ خدا کو پانے والا بھی نہیں بنتا۔خدا ہرچیز کا بدل ہے۔خدا کو پانا سب کچھ کو پالینا ہے۔مگر انسان کی یہ نادانی بھی عجیب ہے کہ وہ بے کچھ کے لیے سب کچھ کو کھو دیتا ہے۔وہ اپنے آپ کو بچانے کی کوشش میں خدا سے محروم ہوجاتا ہے۔ p. 152

اللہ کا ذکر p. 152

ذکر کے معنی یاد کے ہیں۔اللہ کے ذکر کا مطلب ہے اللہ کی یاد۔یہ یاد کوئی مصنوعی چیز نہیں ،وہ اللہ کی معرفت کا لازمی اورقدرتی نتیجہ ہے۔ p. 152

جب کوئی آدمی اللہ کواس کی عظمتوں اورقدرتوں کے ساتھ پاتا ہے تو اس کے اندر ایک روحانی ہلچل پیدا ہوجاتی ہے۔اس کے بعد اس کا یہ حال ہوجاتا ہے کہ اس کو ہر وقت اللہ کی یاد آتی رہتی ہے۔یہ یادکبھی دل کے اندر تڑپ بن کر ظاہر ہوتی ہے اورکبھی زبان سے حمداورشکر اورخشیت کے الفاظ کی صورت میں بے ساختہ نکل پڑتی ہے۔اسی کیفیت کو اللہ کی یاد کہا جاتا ہے۔ p. 153

کبھی ایسا ہوتا ہے کہ آدمی اتھاہ خلا میں ستاروں اورکہکشائوں کی حرکت پر غور کرتا ہے۔وہ پکاراٹھتا ہے کہ وہ خدا بھی کیسا عظیم خدا ہوگا جو اتنے بڑے کارخانے کو اتنی صحت کے ساتھ متحرک کیے ہوئے ہے۔کبھی وہ درختوں اورپہاڑوں اوردریائوں کے پرُ کشش مناظر کو دیکھتا ہے۔اوران کے حسن اورمعنویت کا ادراک کرکے حیران رہ جاتا ہے۔آدمی کو اس کے گردوپیش کی چیزیں بار باراللہ کی طرف متوجہ کرتی ہیں۔ اس کے اندر اللہ کی یاد کو جگاتی رہتی ہیں۔ p. 153

اسی طرح کبھی ایسا ہوتا ہے کہ آدمی اپنی حالت پر غور کرتا ہے تو اس کو اپنی غلطیوں اورکوتاہیوں کا احساس ہوتا ہے۔وہ بے تابانہ اپنے رب سے معافی مانگنے لگتا ہے۔وہ خدا سے کہتا ہے کہ وہ اس کو آخرت کے عذاب سے بچائے اوراس دن اپنی رحمتوں کے سایہ میں داخل کرے جب کہ خدا کی رحمت کے سوا کوئی دوسرا سایہ نہ ہوگا جہاں آدمی پناہ لے سکے۔کبھی آدمی اپنے عجز اوربے چارگی کو دریافت کرتا ہے اوربے اختیار پکار اٹھتا ہے کہ خدایا تو قادرمطلق ہے تو اپنی قدرت سے میرے عجز کی تلافی فرما۔ p. 153

انسان کے دل میں انہیںربانی احساسات کا پیدا ہونا اوران احساسات کا الفاظ کی صورت میں ڈھل جانا ،اسی کا نام ذکر ہے۔ذکر اللہ کی یاد ہے ،سب سے بڑی حقیقت کی یاد۔جو چیز سب سے بڑی حقیقت کی یاد ہواس کاتجربہ بھی سب سے بڑا ہوتا ہے۔اس تجربہ کا کسی کے دل پر گزرنا اتنا بڑاواقعہ ہے جس کو لفظوں میں بیان کرنا ممکن نہیں۔ p. 153

کھونے والا پاتا ہے p. 153

اگر آپ بمبئی میں ہیں اورکلکتہ جانا چاہتے ہیںتو پہلے آپ کو بمبئی کوچھوڑنا ہوگا۔اس کے بعد ہی آپ کلکتہ میں موجود ہوسکتے ہیں۔جو آدمی خدا کا طالب ہو وہ بھی گویا ایک قسم کا مسافر ہے۔اگروہ اپنی منزل پر پہنچنا چاہتا ہے تو اس کی ایک ہی لازمی شرط ہے۔یہ کہ وہ اپنی سابقہ جگہ کو چھوڑنے پر راضی ہوجائے۔اس کے بعد ہی وہ اپنی مطلوب خدائی منز ل پر پہنچنے کی خوشی حاصل کرسکتا ہے۔ p. 154

دنیا کا نظا م اس طرح بنا ہے کہ یہاں لینے کے لیے دینا پڑتا ہے۔یہاں کھونے میں پانے کا راز چھپا ہواہے۔ p. 154

آپ اگر ایک نفع بخش تجارت کے مالک بننا چاہتے ہیں تو پہلے اپنا اثاثہ اس میں کھپا نا پڑے گا۔اگر آپ اپنے کھیت میں ہری بھری فصل دیکھ کر اپنی آنکھیں ٹھنڈی کرنا چاہتے ہیں تو پہلے اپنے بیج کے ذخیرے کو مٹی میں ملا دینا ہوگا۔اگر آپ منصوبہ بندی کے تحت دور رس عمل کرنا چاہتے ہیں تو اپنے فوری جذبات کو کچل دینے پر اپنے آپ کو راضی کرناپڑے گا۔اگر آپ دولت مند بننا چاہتے ہیں تو ضروری ہوگا کہ آپ اپنے کو فضول خرچی سے باز رکھیں۔ p. 154

جو ذرّہ نہ پھٹے وہ کبھی ایٹمی طاقت نہیں بنتا۔جو دانہ اپنے آپ کو فنا نہ کرے وہ درخت کی صورت اختیار نہیںکرتا۔جو فرد اپنے ذاتی مفاد کو قربان نہ کرے وہ اجتماعی مفاد کو قائم کرنے کا کریڈٹ نہیں پاتا۔ p. 154

یہی معاملہ خدا کا بھی ہے۔کوئی شخص خد اوالا اس وقت بنتا ہے جب کہ وہ خداکی خاطر اپنے کو حذف کردے۔جو شخص اپنے وجو دکو حذف کرنے کے لیے تیار نہ ہووہ کبھی خدا والا بھی نہیں بنتا۔ p. 154

خدا کو پانے کے لیے اپنے آپ کو کھونا پڑتا ہے — اسی ایک لفظ میں خدا کو پانے کا راز ہے۔جو شخص اپنے آپ کو بھی پانا چاہے اورخدا کوبھی ،وہ صرف اپنے آپ کو پائے گا۔ایسا آدمی کبھی خدا کو پانے والا نہیں بن سکتا۔ p. 155

خدا کا فیصلہ p. 155

فیصلہ کے دن p. 155

انڈین ایکسپریس بنگلور کی اشا عت مورخہ9 ستمبر1983 کی ایک خبر کاعنوان ہے— چمک دار چیز سونا نہیں : p. 155other source

Glitter is not gold p. 155

خبر میں بتایا گیا ہے کہ مس سبل ڈی سلوا(Miss Sybil D'Silva )جو بنگلور میں آرٹیلری روڈ(Artillery Road)پر رہتی ہیں وہ اپنے گھر پر تھیں کہ تقریباً 45سالہ ایک عورت ان کے پاس آئی اس کی گو دمیں چھ مہینہ کا ایک بچہ تھا عورت نے مس ڈی سلوا سے کہا کہ اس کا شوہر بہت زیادہ بیمار ہے اور اس کے علاج کے لیے فوری طور پر 5 ہزار روپیہ کی ضرورت ہے عورت نے سونے کا ایک ہار اپنی جیب سے نکالا اور کہا کہ میں آپ سے بھیک نہیں مانگ رہی ہوں میں صرف اس سونے کے ہار کو بیچنا چاہتی ہوں اگرچہ یہ ہا رمجھے بہت عزیز ہے مگر شوہر کی صحت اس سے زیادہ عزیز ہے اس ہار کی قیمت بازار میں دس ہزار روپے سے کم نہیں ہے میں اپنی ضرورت کی بنا پر آپ کو صرف 5 ہزار روپے میں دے دوں گی۔ p. 156unverified

مس ڈی سلوا نے ہار لینے سے انکار کیا لیکن عورت اپنی مجبوری بیان کرتی رہی یہاں تک کہ اس نے مس ڈی سلوا کو متاثر کر لیا۔ انھوں نے روپیہ دے کر ہار خریدلیا۔ p. 156

اگلے دن مس ڈی سلوا بنگلور کی کمرشل اسٹریٹ پر گئیں اور وہاں ایک سنار کو انھوں نے وہ ہار دکھایا۔ سنارنے وہ ہار لے کر اپنی کسوٹی پر جانچا۔ کسوٹی پر جانچنے کے بعد ہار کی حقیقت کھل گئی۔ مس ڈی سلوا نے بنگلور پولیس کو یہ کہانی سناتے ہوئے کہا کہ سنار نے مجھے بتایا کہ یہ تو پیتل ہے : p. 156

He told me it was brass p. 156

یہی آخرت کا معاملہ بھی ہے۔ موجودہ دنیا میں ہر آدمی اپنے کیے پر مگن ہے ہر آدمی اپنے کام کو سونا سمجھتا ہے۔ مگر کوئی سونا اسی وقت سونا ہے جب کہ وہ سنار کی کسوٹی پر بھی سونا ثابت ہو۔ آخرت میں خدا ہر آدمی کے عمل کو اپنی کسوٹی پر جانچے گا۔ جس کا عمل وہاں کی جانچ میں سونا ثابت ہو اسی کے عمل کی قیمت ہے اور جس کے عمل کے بارے میں یہ کہہ دیا جائے کہ یہ تو پیتل تھا ، اس کا سونااس کے لیے صرف رسوائی اور بربادی کی علامت ہو گا۔ جس چیز کو آدمی آج اتنا قیمتی سمجھے ہوئے ہے کہ وہ اس کو کسی طرح چھوڑنے کے لیے تیار نہیں، اس دن وہ اس سے اتنا بیزار ہو گا کہ وہ چاہے گا کہ کوئی ایسی صورت ہو کہ اس کے اور اس کے عمل کے درمیان جدائی ہو جائے مگر اس دن جدائی نہ ہو سکے گی۔ جس چیز کو وہ فخر کی چیز سمجھے ہوئے تھا اس دن وہ اس کے لیے صر ف ذلت اور رسوائی کی چیز بن جائے گی۔ p. 156

اس دن کیاہو گا p. 157

خداہر چیز کا مالک ہے دنیا میں کسی کو جو کچھ ملتا ہے خدا کے دئے سے ملتا ہے خدا کے سوا کسی کے پاس کوئی چیز ہی نہیں جو وہ کسی کو دے سکے ایسی حالت میں اگر کچھ لوگ ایسا کریں کہ ایک شخص کو جائز طور پر ملی ہوئی چیز کو اس سے چھیننے لگیں تو گویا وہ خداکے دئے کو چھین رہے ہیں وہ خدا کے منصوبہ کو باطل کرنا چاہتے ہیں۔ p. 157

دنیا میں ایک شخص کو مکان ملے مگر کچھ لوگ اس کو بے گھر کر نے کی سازشیں کریں اس کی معاش کا جائز انتظام ہو مگر لوگ اس کی معاشیات کو تباہ کرنے پر اتر آئیں اس کو عزت کی زندگی حاصل ہو مگر لوگ اس کو بے عزت کرنے کی کارروائیاں کریں وہ سکون و عافیت کے ساتھ اپنے ماحول میں رہ رہا ہو مگر لوگ اس کو جھوٹے مقدمات میں الجھا کر اس کے سکون کو غارت کرنے لگیں۔ایسا ہر واقعہ خدا کے انتظام میں مداخلت ہے یہ بے اختیار مخلوق کا ایسے خالق سے لڑنا ہے جو تنہا اور مکمل طور پر ہر قسم کا اختیار رکھتا ہے۔ p. 157unverified

ایسے واقعات کا مطلب یہ ہے کہ —خدا نے چاہا مگر بندوں نے نہ چاہا۔ خدا نے اپنے فیصلہ کے تحت تقسیم رزق کا ایک انتظام کیا مگر بندے اس تقسیم کو ماننے پر راضی نہ ہوئے۔ خدا کے مقابلہ میں بندوں کی یہ سرکشی موجودہ دنیا میں بظاہر کامیاب نظر آتی ہے۔ مگر یہ کامیابی صرف اس لیے ہے کہ موجودہ دنیا میں لوگوں کو امتحان کی آزادی حاصل ہے جیسے ہی امتحان کی مدت ختم ہو گی، آدمی اپنے آپ کو اتنا بے زور پائے گا کہ اس کے پاس الفاظ بھی نہ ہوں گے کہ وہ کسی کے خلا ف بولے، اس کے پاس دل بھی نہ ہو گا کہ کسی کو ملیامیٹ کرنے کا منصوبہ بنائے۔ p. 157

موجودہ دنیا میں انسان کوآزادی حاصل ہے یہاں کسی کے لیے یہ ممکن ہے کہ وہ خدا کے چاہے کو باطل کرے، وہ خدا کے تقسیم رزق کو کھنڈت کرنے کی کوشش کرے مگر ایسے لوگوں کا حال اس وقت کیا ہو گا جب امتحان کی موجودہ آزادی ختم ہو چکی ہو گی جب وہی ہو گا جو خدا چاہے اور وہ نہ ہو سکے گا جو خدا نہ چاہے، اس روز خدا کہے گا — میں دیتا ہوں جس کو چاہوں، اب جس کو کرنا ہے میرے چاہے کوباطل کرے۔ p. 157unverified

دولت کا فریب p. 158

کوالالمپور کے اخبار نیو اسٹریٹس ٹائمس (New Straits Times) کی اشاعت 28 جولائی 1984میں ایک خبر نظر سے گزری۔ ایک اطالوی نژا د امریکی کارپینٹر (carpenter) وینر و پیگانو(Venero Pagano) جس کی عمر 63 سال ہے اور وہ نیو یار ک کے قریب رہتا ہے وہ آٹھ سال سے بے روزگار تھا اور یونین کی پنشن سے اپنا کام چلا رہا تھا۔ اس کے پاس اتنی رقم بھی نہ تھی کہ اپنے مکان سے متصل زمین پر حسب منشا ٹماٹر کی کاشت کرسکے۔ p. 158unverified

مذکورہ کا رپنٹر نے لاٹری کا ایک ٹکٹ خریدا۔ 27جولائی 1984 کو اچانک اسے معلوم ہوا کہ اس کو اول انعام ملا ہے یہ انعام 20 ملین ڈالر تھا۔ یہ اب تک کے لاٹری انعاموں میں دنیا بھر میں سب سے بڑا انعام ہے۔ p. 158

انعام کی خبر سب سے پہلے ٹیلی وژن پر آئی۔ اس کے فوراً بعد اس کے لیے پریس کانفرنس کی گئی۔ اس نے اخبار نویسوں کو بتایا کہ خبر کو سن کر میں ششدر رہ گیا۔ میں بار بار اپنے نمبر کو اعلان شدہ نمبر سے ملا کر چیک کرتا رہا اور ابھی تک مجھے یقین نہیں ہے کہ یہ انعام مجھ کو ملا ہے خبر سن کر وہ بھاگ کر اندر کمرے میں گیا ا ور اپنی بیوی سےکہا کہ’’ میرا خیال ہے کہ ہم لوگ کروڑ پتی ہوگئے ہیں‘‘۔ اس نے اخبار نویسوں سے کہا کہ مجھ کو جو ضرورت تھی وہ میں نے پالیا میں نے اپنا مکان پالیا میں نے اپنے ٹماٹر پالیے: p. 158unverified

I got whatever I need. I got my house. I got my tomatoes. p. 158

دنیا میں آدمی کے پاس دولت ہو تو اس کا ہر کام پور ا ہو جاتا ہے۔ اس لیے آدمی سمجھتا ہے کہ دولت سب کچھ ہے دولت مل جائے تو آدمی سمجھتا ہے کہ اس نے سب کچھ پا لیا۔ حالاں کہ سب کچھ پانایہ ہے کہ آدمی آخرت میں خدا کی رحمتوں کو پالے۔ p. 159

موت سے پہلے کی زندگی میں آدمی جن مسائل سے دو چار ہے ان سے بالکل مختلف وہ مسائل ہوں گے جن سے آدمی موت کے بعد کی زندگی میں دوچار ہو گا۔ آج دولت کی اہمیت ہے، اس وقت ایمان اور عمل صالح کی اہمیت ہو گی۔ آج چیزیں بازار سے حاصل ہوتی ہیں اس وقت تمام چیزیں خدا کی رحمت کے خزانے سے ملیں گی۔ آج مادی قوانین کے تحت آدمی کو مقام ملتا ہے اس وقت اخلاقی قوانین یہ فیصلہ کریں گے کہ آدمی کو کیا ملے اور کیا نہ ملے۔ p. 159

گھاٹے والا p. 159

قرآن میں ارشاد ہوا ہے— کہو،کیا میں بتائوں کہ اعمال کے اعتبار سے سب سے زیادہ گھاٹے میں کون لوگ ہیں وہ لوگ جن کی کوششیں دنیا کی زندگی میں کھوئی گئیں اور وہ اسی خیال میں رہے کہ وہ اچھا کام کر رہے ہیں یہ وہ لوگ ہیں جنھوںنے اپنے رب کی نشانیوں کا اور اس سے ملاقات کا انکار کیا۔ پس ان کے اعمال ضائع ہو گیے ہم قیامت کے دن ان کے اعمال کا کچھ وزن قائم نہ کریں گے (18:103-105)۔ p. 159unverified

تمام محرومیوں میں سب سے زیادہ عجیب محرومی وہ ہے جب کہ آدمی کمائی کرے مگر اس کو اس کا حاصل نہ ملے وہ مہینہ بھر محنت کرے مگر وہ کوئی تنخواہ نہ پائے وہ تجارت میں اپنی ساری پونجی لگائے مگر اسے کچھ نفع حاصل نہ ہو وہ ارمانوں کے ساتھ اپنا گھر بنائے مگر اس میں اس کو چین کے ساتھ رہنا نصیب نہ ہو۔ p. 159

اگر کسی آدمی کے ساتھ ایسا حادثہ گزرے تو وہ بالکل بجھ کر رہ جاتا ہے۔ اس کے اعضاء شل ہو جاتے ہیں۔ اپنی محنت کے آخری نتیجے کو اپنی آنکھوں کے سامنے برباد ہوتے دیکھنا اتنا بڑا حادثہ ہے جس کو کوئی بھی شخص برداشت نہیں کر سکتا۔ p. 160

یہ دنیا میں اعمال کی بربادی کا حال ہے۔ پھر آخرت میں جب آدمی اپنے اعمال کو ابدی طور پر برباد ہوتے ہوئے دیکھے گا تو اس کا کیا حال ہو گا۔ p. 160

جب وہ دیکھے گا کہ عمر بھر کی محنت سے بنایا ہوا اِس کا ڈ ھانچہ اچانک ڈھ پڑا۔ اِس کی خوش گمانیوں کا قلعہ ایک ہی جھٹکے میں ہمیشہ کے لیے مسمار ہو گیا۔ p. 160

جب وہ دیکھے گا کہ دنیا میں محنت کے ساتھ حاصل کی ہوئی کمائی آخرت میں اپنا کوئی وجود نہیں رکھتی۔ دنیا میں کھڑا کیا جانے والا عظمتوں کا گنبد آخرت میں گرا ہوا پڑا ہے۔ دنیا میں جمع کی ہوئی نیک نامی آخرت میں بالکل بے قیمت ہو چکی ہے۔ p. 160

جس آدمی نے اپنی دوڑ دھوپ کو صرف دنیا میں لگایا ہو اس کا آخرت میں یہی حال ہو گا کہ وہاں وہ بالکل مفلس بن کر کھڑا ہو گا۔ وہاں اس کی حیثیت صرف ایک لٹے پٹے انسان کی ہو گی یہ منظر آدمی کیلیے نا قابل برداشت حد تک سخت ہو گا۔ کا میابیوں پر فخر کرنے والے ناکامی کے گڑھے میں گرے ہوئے ہوں گے۔ ترقیات پر ناز کرنے والے ایسے بد حال دکھائی دیں گے جیسے انھوں نے کبھی ترقی کا نام بھی نہیں سنا تھا۔ p. 160

انسان کاالمیہ p. 161

ڈاکٹر اتم پر کاش (1928-1982)ہندستان کے ایک نامور سرجن تھے۔ وہ آل انڈیا انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز میں شعبہ سرجری کے ہیڈ تھے۔ ڈاکٹر پر کاش کو پدم بھوشن کا انعام ملا تھا۔ شعبہ سرجری کی عالمی کانفرنس 17 فروری کو دہلی میں ہونے والی تھی جس کی صدارت کی کرسی ان کا انتظار کر رہی تھی۔ مگر 14 فروری کو ان پر دل کا دورہ پڑا ور اسپتال پہنچتے پہنچتے ان کا انتقال ہو گیا۔اس وقت ان کی عمر صرف 54 سال تھی۔ p. 161

سرجری پر ہونے والی ورلڈ کانفرنس کی کامیابی ان کے ذاتی وقار کو بہت زیادہ بڑھا دیتی۔ اسی بنا پر وہ اس کے معاملا ت میں غیر معمولی دلچسپی لے رہے تھے۔ انھوں نے راشٹرپتی سنجیواریڈی(1913-1996) کو آمادہ کر لیا تھا کہ وہ کانفرنس کا افتتاح کریں مگر جب سارے انتظامات مکمل ہو چکے تو راشٹرپتی بھون سکریٹریٹ سے بتایا گیا کہ راشٹرپتی ان کے اجلاس میں صرف اس وقت شرکت کر سکیں گے جب کہ مرکزی وزیر صحت بھی وہاں موجود ہوں۔ پروٹوکول (آداب شاہی ) کے مطابق ایسا ہونا ضروری ہے۔ p. 161

اس سے پہلے ڈاکٹر پرکاش کے منصوبہ میں وزیر صحت کو بلانا شامل نہ تھا مگر اب ضروری ہو گیا کہ وزیر صحت کو بھی شرکت اجلاس کی دعوت دی جائے۔ ڈاکٹر پرکاش نے وزیر صحت کے دفتر کا طواف شروع کیا مگر اب یہاں دوسری رکاوٹ حائل تھی وزیر صحت اجلاس میں شرکت پر راضی نہ ہو سکے۔ ایک ایسے اجلاس میں شرکت کرنا ان کی عزت نفس کے خلاف تھا جس کے اولین پروگرام میں ان کو شامل نہ کیا گیا ہو۔ یہ صدمات ڈاکٹر اتم پرکاش کے لیے اتنے سخت ثابت ہوئے کہ اجلاس کے تین دن پہلے ان پر دل کا سخت دورہ پڑا ور اسی میں ان کا انتقال ہو گیا۔ کوئی شخص اپنے وقت سے پہلے نہیں مرتا مگر ایک اخباری مبصر (ہندستان ٹائمس، 16فروری 1982)کے یہ الفاظ بالکل درست ہیںکہ موت کے طویل سفر پر روانہ ہونے سے پہلے وہ دہلی کے سب سے زیادہ پریشان آدمی تھے۔ p. 161original + quote

He was the most worried man in town before he took the long road p. 161

آج آدمی وقار کے کھونے کو بھی برداشت نہیں کر پاتا۔ پھر آنے والی دنیا میں آدمی کا کیا حال ہو گا جب اس کو بھوک اور پیاس لگے گی مگر وہاں کھانا نہ ہو گا جس کو وہ کھائے اور پانی نہ ہو گا جس سے وہ اپنی پیاس بجھائے۔ وہ تیز دھوپ میں جل رہا ہو گا مگر اس کے لیے کوئی سایہ نہ ہو گا جس کے نیچے وہ پناہ لے۔ عذاب اس کو چاروں طرف سے گھیرے ہوئے ہو گا مگر وہاں کوئی مددگار نہ ہو گا جو اس کی مدد کو پہنچے آہ وہ انسان جو کنکری کی چوٹ کو برداشت نہیں کر پاتا حالانکہ اس کے اوپر مصیبتوں کا پہاڑ ٹوٹ کر گرنے والا ہے۔ p. 162

موت کا حملہ p. 162

سکندر اعظم (356-323ق م)یونانی بادشاہ فلپ کالڑکا تھا۔اس نے تخت ملنے کے بعد دس سال کی مدت میںاس زمانہ کی معلوم دنیا کا بیشتر حصہ فتح کر ڈالا۔مصر کا شہر اسکندر یہ اس کے فتح مصر کی یاد گار کے طور پر اب بھی موجود ہے۔مگر بالآخر اس کا انجام کیا ہوا۔ وہ عراق کے قدیم شہر بابل کے ایک محل میں اس طرح بے بسی کے ساتھ مرگیا جس طرح ایک غریب اورکمزور آدمی اپنی جھونپڑی میں مرتا ہے۔اس نے اپنی زندگی میں جو چا ہا وہ پایا اورپھرسب کچھ پا کر خالی ہاتھ اس دنیا سے چلا گیا۔اس کی وسیع سلطنت اس کے مرنے کے بعد ا س کے تین فوجی سرداروں میں تقسیم ہوگئی۔کیونکہ اس کا واحدبیٹا اس کی زندگی ہی میں قتل کیاجا چکا تھا۔ p. 162

سکندر کی عظمت کا یہ حال تھا کہ جو لیس سیزرایک بار اسپین میں سکند ر کے مجسمہ کے سامنے سے گزراتو اس کو دیکھ کر وہ بے اختیار رونے لگا۔اس نے کہا سکندر نے جو فاتحانہ کارنامے دس برس کی مدت میں انجام دیے، اس کا دسواں حصہ بھی میں اب تک انجام نہ دے سکا۔ p. 162

سکند ر مخالفت کو بالکل برداشت نہیں کرتاتھا۔اس کا نظریہ تھا کہ مخالفت شروع ہوتے ہی اس کو فوراً کچل دینا چاہیے۔کہا جاتا ہے کہ سکندر کی غیر معمولی فتوحات کا باعث اس کی برق رفتاری تھی۔اچانک پہنچ کر دشمن کو دبوچ لینے کی صلاحیت اس کے اندر دنیا کے تمام جنرلوں سے زیادہ تھی ،مگر موت اس سے بھی زیادہ تیز رفتار ثابت ہوئی۔13جون323ق م کو جب موت اس کے اوپر حملہ آور ہوئی تواس کے لیے اس کے سوا کوئی چارہ نہ تھا کہ وہ اپنے آپ کو بالکل بے بسی کے ساتھ موت کے حوالے کردے۔ p. 162

موت اس لیے آتی ہے کہ وہ انسان کو بتائے کہ وہ خداکے آگے کس قدر بے بس ہے۔آدمی ہر روز اپنے چاروں طرف موت کے واقعات کو دیکھتا ہے مگر وہ اس سے کوئی سبق نہیں لیتا۔وہ زندگی کی اس سب سے بڑی حقیقت کو بھو لارہتا ہے ،یہاں تک کہ موت آکر اس سے خود مہلت کو چھین لیتی ہے کہ وہ سوچے اوراس سے سبق لے۔موت آدمی کے لیے سب سے بڑاسبق ہے۔مگر موت سے آدمی سب سے کم جو چیز لے رہا ہے وہ یہی ہے۔ p. 163

پانچ سکنڈ کا فاصلہ p. 163

3جون 1979 کو راقم الحروف میر ٹھ میں تھا۔ شام کا وقت تھا۔ میں اور مولانا شکیل احمد قاسمی صدر بازار کی سڑک پر ایک ساتھ جا رہے تھے۔ p. 163

اس کے بعد اچانک ایک واقعہ ہوا۔ ہمارے سامنے ایک مکان کے آگے کا حصہ دھماکہ کے ساتھ گر پڑا۔اینٹ اور پتھر سڑک پر ڈھیر ہو گئے۔ اس وقت ہم دونوں جائے حادثہ سے بمشکل پانچ سکنڈ کی مسافت پر تھے۔ اگر ہم پانچ سکنڈ آگے ہوتے یا مکان پانچ سکنڈ بعد گرتا تو یقیناً ہم دونوں اس کی زد میں آجاتے۔ ہمارا سفر شاید درمیان ہی میں ختم ہو جاتا جس کی منزل ہم نے بہت آگے سمجھ رکھی تھی۔ p. 163

میں نے سوچا آدمی اور اس کی موت کے درمیان صرف پانچ سکنڈ کا فاصلہ ہے۔ کسی بھی آدمی کے لیے ہر آن یہ اندیشہ ہے کہ اس کا پانچ سکنڈ کا سفر پورا ہو جائے اور اچانک وہ اپنے آپ کو دوسری دنیا میں پائے۔ p. 163

آدمی اگر اچھی طرح اس با ت کو جان لے کہ اس کے اور موت کے درمیان صرف پانچ سکنڈ کا فاصلہ ہے تو اس کی دنیا بالکل بدل جائے۔ وہ ایک اور ہی قسم کا انسان بن جائے وہ دنیا میں رہتے ہوئے آخرت میں جینے لگے۔ p. 164

زندگی کا راز یہ ہے کہ آدمی اس بات کو جان لے کہ وہ ہر وقت موت کے کنارے کھڑا ہوا ہے ایسی موت جس کے معاً بعد آدمی ،حدیث کے الفاظ میں، یا تو جنت کے باغوں میں سے ایک باغ میں داخل ہو جاتا ہے یا دو زخ کے گڑھوں میں سے ایک گڑھے میں جا گرتا ہے۔ آدمی کا ہر قدم اس کو دو انتہائی انجام میں سے کسی ایک انجام کے قریب پہنچا رہا ہے۔ مگر انسان اتنا بے حس بنا ہوا ہے کہ اس کو اس کی خبر نہیں۔ p. 164original + quote

لوگ جھوٹی خدا پرستی پر بھروسہ کیے ہوئے ہیں حالانکہ آخرت میں صرف حقیقی خدا پرستی کسی شخص کے کام آئے گی۔ حقیقی خدا پرستی یہ ہے کہ آدمی اس طرح اللہ سے ڈرنے لگے کہ وہ اس کے ذہن پر چھا جائے وہ اس کے صبح و شام کانگراں بن جائے وہ جو کچھ کرے یہ سمجھ کر کرے کہ وہ خدا کے سامنے ایسا کر رہا ہے اس کو دنیا سے زیادہ آخرت کی فکر ستانے لگے۔ p. 164

ناتما م کہانی p. 164

مسٹر پی این پاٹھک ایک بے حد محنتی آدمی تھے وہ انگریز ی اخبار ہندستان ٹائمس (نئی دہلی ) میں ایک معمولی ملازم کے طور پر1958 میں داخل ہوئے اور آخر میں اس کے کمپوزنگ شعبہ کے ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ بن گئے۔ و ہ غالباً مزید ترقی کرتے مگر 27 دسمبر 1984ء کو حرکت قلب بند ہونے سے ان کا انتقال ہو گیا مرنے کے وقت ان کی عمر صرف50 سال تھی۔ p. 164

ہندستان ٹائمس (28 دسمبر 1984 )میں ان کی اچانک موت کی خبر دیتے ہوئے یہ الفاظ درج ہیں کہ وہ اپنے عہدہ پر محض سخت محنت کے ذریعے پہنچے تھے: p. 165other source

He rose to the present position by sheer hard work p. 165

مسٹر پاٹھک نے الٰہ آباد میں تعلیم حاصل کی اس کے بعد پندرہ سال تک وہ ٹائمس آف انڈیا اور انڈین ایکسپریس میں رہے۔ اس کے بعد1958 میں وہ ہندستان ٹائمس کے عملہ میں داخل ہوئے۔ یہاں انہیںجم کر کام کرنے اور محنت کرنے کا موقع ملا 25 سال محنت کے بعد وہ اخبار میں ایک بڑے عہدہ پر پہنچ گئے مگر ابھی وہ اس عہدہ سے متمتع بھی نہیں ہو سکے تھے کہ اچانک موت کا وقت آگیا۔ p. 165

یہ ایک مثال ہے جو بتاتی ہے کہ موجودہ دنیا میں انسان کیسے عجیب المیہ سے دو چار ہے۔ انسان بے پناہ محنت کرتا ہے وہ اپنی پوری طاقت خرچ کر کے ترقی کے اعلیٰ مقام پر پہنچتا ہے۔ مگر اپنی کوششوں کے آخری انجام سے فائدہ اٹھانے کا ابھی آغاز بھی نہیں ہوتا کہ اس کی موت آجاتی ہے۔ p. 165

زندگی کا یہ خاتمہ کیسا درد ناک ہے مگر کوئی شخص اس پر غور نہیں کرتا ہر آدمی دوبا رہ اسی درد ناک کہانی کو لکھنا چاہتا ہے جس کو اس کے پیش رو نے لکھنا چاہا تھا اوروہ اس کو لکھنے میں کامیاب نہ ہوا۔ تمام انسانوںکی کہانی نا مکمل کہانی ہے۔ مگر کوئی نہیں جس کو یہ سوال بے چین کرے کہ اس کا راز کیا ہے اور وہ کون سا طریقہ ہے جس کو اختیار کرکے انسان کی کہانی مکمل کہانی بن سکے۔ p. 165

ہر انسان اس دنیا میں ایک نا تمام کہانی ہے۔ ہر انسان اپنی منزل پر پہنچ کر اچانک بے منزل ہو جاتا ہے۔ زندگی کی یہ بے انجامی کیسی عجیب ہے اور اس سے زیادہ عجیب یہ ہے کہ کسی کو اپنی بے انجامی کی فکر نہیں۔ p. 166

موت کو یاد کرو p. 166

کچھواپانچ سو سال تک زندہ رہتا ہے۔درخت ایک ہزار سال تک زمین پر کھڑارہتا ہے۔پہاڑ اوردریاکروروں سال تک اپنی شان کو باقی رکھتے ہیں۔مگر انسان کی عمر پچا س یا سوسال سے زیادہ نہیں۔انسان جوبظاہر تمام مخلوقات میں سب سے زیادہ اشرف اورافضل ہے وہ سب سے کم زندگی پاتا ہے۔ p. 166

اس سے بھی زیادہ عجیب بات یہ ہے کہ مختصر زندگی بھی ناکامیوں کی ایک مسلسل داستان کے سوا اورکچھ نہیں۔آدمی کی زندگی غم اوردکھ سے اتنا زیادہ بھری ہوئی ہے کہ خوشی کے لمحات غفلت کی چند جھلکیوں سے زیادہ حقیقت نہیں رکھتے۔بیماری ،حادثہ ،بڑھاپا ، امیدوں کی مسلسل پامالی کا نام زندگی ہے اوربالآخر اس قسم کے درد ناک ایام گزارتے ہوئے ایک دن موت کے آگے شکست کھاجانا۔ p. 166

ایک غریب کو یہ حسرت ہوتی ہے کہ اس کے پاس بڑامکان نہیں۔اس کے پاس ضروریات زندگی کے لیے کافی پیسہ نہیں۔مگر دوسری طرف ان لوگوں کا حال بھی بہت مختلف نہیں جن کو ایک غریب آدمی رشک کی نظر سے دیکھتا ہے ،دولت مند آدمی کے لیے پیسہ ہونا اس سے زیادہ بڑے مسائل پیدا کرتاہے جو غریب کو پیسہ نہ ہونے کی صورت میں نظر آتے ہیں۔ایک مشہور آدمی جس کے گرد انسانو ں کی بھیڑ لگی ہوئی ہو اندر سے اس قدر بے چین ہوتا ہے کہ رات کو گولی کھائے بغیر اسے نیند نہیں آتی۔غرض اس دنیا میں ہر آدمی دکھی ہے ،کوئی ایک صورت میں اورکوئی دوسری صورت میں۔ p. 166original + quote

بالفرض کوئی شخص ناموافق حالات سے بچ جائے اوراس خوش قسمتی کو حاصل کرلے جس کو سکھ اورچین کہتے ہیں ،تب بھی کتنے دن تک۔اگر کوئی شخص اتفاقی اسباب کے تحت خوشیوں کا خزانہ اپنے گرد جمع کرلے تو وہ بھی بس صبح سے شام تک کے لیے ہوگا۔اس کے بعد اچانک موت کا بے رحم فرشتہ آئے گا اوراس کو اس طرح پکڑے گا کہ نہ اس کی دولت اس کو بچا سکے گی اور نہ اِس کی فوج۔ ہوائی جہاز کے مسافر پر بھی موت اسی طرح قابو پالیتی ہے جس طرح ایک پیدل چلنے والے آدمی پر۔وہ عالی شان محلوں میں بھی اسی طرح فاتحانہ داخل ہوجاتی ہے جس طرح ایک ٹوٹے پھوٹے مکان میں۔ موت آدمی کی سب سے بڑی مجبوری ہے۔ p. 167

موت آدمی کویاد دلاتی ہے کہ وہ آج سے اوپر اٹھ کر سوچے۔وہ کامیابی کوزندگی کے اُس پار تلاش کرے۔کامیاب وہ ہے جو موت سے یہ سبق لے لے۔جو شخص یہ سبق لینے سے محروم رہے اس کی خوشیوں کے چراغ بہت جلد بجھ جائیں گے۔وہ اپنے کو ایک ایسے بھیانک اندھیرے میں پائے گاجہاں وہ ابدالآ بادتک ٹھوکر یں کھاتا رہے اورکبھی اس سے نکل نہ سکے۔ p. 167

جب موت ذہنی طلسم کو توڑدے گی p. 167

ایران میں فروری 1979میں شاہ مخالفت عناصر غالب آگئے۔اس کے بعد خفیہ انقلابی عدالتیں قائم ہوئیں۔ سرسری سماعت کے بعد ان افسروں کو گولی مارکر ہلاک کیا جانے لگا جنھوںنے شاہ کے حکم کی تعمیل میں شاہ مخالف عناصر کوکچلنے کی کوشش کی تھی۔اس سلسلہ میں جو خبریں آرہی ہیں ان میں بڑی عبرت کاسامان ہے۔ p. 167

جنرل ربیع شاہ کی خفیہ پولس ساواک (Savak)میں اعلیٰ افسر تھے۔9اپریل 1979کو تہران میں ان لوگوں کو گولی مارکر ہلاک کردیاگیا۔ایران کی نئی انقلابی حکومت میں ان پر مقدمہ چلایا گیاتھا۔رائٹر کے مطابق انھوں نے اپنے بیان میں عدالت سے کہا: p. 167original + quote

I am sorry I served somebody until it was too late to discover he was nothing. p. 168

مجھے افسوس ہے کہ میں شاہ ایران کے احکام کی تعمیل کرتا رہا۔میں اس کے بے حقیقت ہونے کو صرف اس وقت جان سکا جب کہ اس کوجاننے کا وقت نکل چکا تھا — یہی صورت زیادہ بڑے پیمانہ پر موت کے وقت پیش آتی ہے۔آدمی اپنی خواہشوں کے پیچھے دوڑتارہتا ہے۔یہاں تک کہ موت کا وقت آجاتا ہے۔اس وقت اس کی آنکھ کھلتی ہے۔اب اس کومعلوم ہوتا ہے کہ جن خوش نماخیالات اورخوب صورت الفاظ کے سہاے وہ جی رہاتھا ان کی کوئی حقیقت نہ تھی۔موت کے جھٹکے کے بعد اچانک وہ ہوش میں آجاتا ہے۔مگر اب اس کا ہوش میں آنا بے کار ہوتا ہے۔کیونکہ یہ بدلہ پانے کا وقت ہوتاہے نہ کہ عمل کرنے کا۔ p. 168

اسی طرح،رائٹر کے مطابق ،ایک اورملزم جنرل خواجہ نوری نے عدالت کے سامنے صفائی پیش کرتے ہوئے کہا: p. 168other source

Because of the heavy censorship. I was unaware of the real situation. p. 168

’’خبروں پر بھاری سنسر قائم ہونے کی وجہ سے میں حقیقی صورت حال سے بالکل بے خبر رہا‘‘۔ آخرت کے اعتبار سے بھی انسان کا حال یہی ہے۔آدمی اپنے خیالات میں اس طرح گم رہتا ہے کہ اس کو باہر کے حقائق دکھائی نہیں دیتے۔وہ اپنی خواہشات کے خول میں بند رہتاہے۔وہ لفظی توجیہات وضع کرتاہے اوران کے سہارے جیتا رہتا ہے۔وہ اپنے مطابق حق اور ناحق کا ایک خود ساختہ ڈھانچہ گھڑتا ہے اوراپنے آپ کو اس کے حسب حال پاکر خوش ہوتا رہتا ہے۔وہ اپنی خوش خیالیوں اوردنیو ی کامیابیوں کے مطابق اپنے گرد ایک فرضی ہالہ بنالیتا ہے اوراس کے اندر اس طرح صبح وشام کرتا رہتا ہے جیسے وہ ابدی حصار میں آگیا ہے ، آدمی اسی طرح اپنی زندگی کے دن گزارتا رہتا ہے ،یہاں تک کہ موت آکر اس کے ذہنی فریب کا پردہ پھاڑ دیتی ہے۔اب اس کو معلوم ہوتا ہے کہ وہ جس فکری گھروندے میں جی رہا تھا وہ فرضی طلسمات کے سوا اورکچھ نہ تھا۔وہ جن الفاظ کولکھ اوربول رہاتھا وہ معانی سے بالکل خالی تھے۔وہ جن کاموں میں مشغول تھا وہ عالم آخرت کے اعتبار سے کوئی قیمت نہ رکھتے تھے۔جن مشاغل پر اس نے خدا اوراسلام کا بورڈ لگا رکھاتھا وہ محض اس کی ایک ذاتی تجارت تھی۔وہ صرف اپنی انا کی تسکین کے لیے متحرک تھا نہ کہ حقیقہً خد اکی رضا کے لیے۔ p. 168original + quote

ساٹھ کیلومیٹر p. 169

جابر حسین ایک ریلوے گارڈ تھے۔ان کی ملازمت کی مدت پوری ہوچکی تھی۔ 17جولائی 1981کو وہ اندور۔بلا سپور ایکسپر س لے کر روانہ ہوئے۔یہ گارڈ کی حیثیت سے ان کا آخری سفر تھا۔کیونکہ اگلے دن 18 جولائی سے وہ ریٹائر ہونے والے تھے۔ ریٹائر منٹ کے بعد انھوں نے اپنی زندگی کا پورانقشہ بنا رکھا تھا۔ان کا خیال تھا کہ اب وہ اپنے اس نقشہ کو زیر عمل لانے کے کنارے پہنچ چکے ہیں۔ریلوے گارڈ کی حیثیت سے اپنی ڈیوٹی کے آخری سفر پر روانہ ہوتے ہوئے انھوں نے اپنے دوستوں سے کہا ’’کل سے میری دوسری زندگی شروع ہوگی‘‘۔ p. 169original + quote

یہ سفر جابر حسین کے لیے واقعی آخری سفر تھا اوراس کے بعد ہی ان کی دوسری زندگی شروع ہوگئی۔مگر اس معنی میں نہیں جس میں کہ انھوں نے سمجھا تھاکہ بلکہ کسی اورمعنی میں۔ ان کی ایکسپرس ٹرین اپنی منزل سے ساٹھ کیلومیٹر کے فاصلہ پر تھی کہ پیچھے سے آنے والی مال گاڑی ان کی ٹرین سے ٹکراگئی۔گارڈ کا ڈبہ چکنا چور ہوگیا۔جابر حسین فوراً ہلاک ہوگئے۔ ایک ریلوے افسر نے اس حادثہ پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا: p. 169original + quote

Sixty kilometres more and it would have been the end of his official journey. p. 169

جابر حسین نے اگر60 کیلومیٹر اورطے کرلیا ہوتا تو ریلوے ملازم کی حیثیت سے ان کا سفر پوراہوجاتا(انڈین ایکسپرس 18جولائی 1981)۔ p. 169other source

یہی اس دنیا میں ہر آدمی کا حال ہے۔ہر آدمی اپنی زندگی کولمبی تصو رکیے ہوئے ہے۔وہ سمجھتا ہے کہ اس کا سفر ’’60 کیلومیٹر ‘‘کے بعد پوراہوگا۔مگر موت کا فرشتہ اس کو60کیلومیٹر سے پہلے ہی پکڑ لیتا ہے۔ہر آدمی موجودہ دنیا میں ’’اپنی کل ‘‘کی تعمیر کا ایک نقشہ لیے ہوئے ہےمگر اچانک موت آکر اس کو بتاتی ہے کہ اس کی ’’کل ‘‘اس دنیامیں شروع نہیں ہوتی جہاں 17جولائی کے بعد 18جولائی اور18جولائی کے بعد 19جولائی کی تاریخیں آتی ہیں۔بلکہ اس کی کل اس ابدی دنیامیں شروع ہوتی ہے جہاں دنیا کے کیلنڈر لپیٹ کررکھ دئے جاتے ہیں۔آدمی جہاں اپنے سفر کو ختم سمجھ رہا ہے وہیں سے اس کے حقیقی سفر کا آغاز ہوتاہے۔ p. 170

کیساعجیب p. 170

کرنا ٹک کے گورنر مسٹر گووند نرائن (1916-2012)کی لڑکی نندنی کی عمرابھی صرف 38سال تھی کہ16ستمبر 1981کو نئی دہلی میںاس کا انتقال ہوگیا۔ایک ہنستی ہوئی زندگی اچانک خاموش ہوگئی۔ p. 170

نندنی بہت ذہین اور تندرست تھی۔ اس کی تعلیم خالص انگریزی طرزپر ہوئی۔ اس کے بعد اس نے امریکاسے جرنلزم (صحافت ) کی ڈگری حاصل کی۔ وہ ہندستان ٹائمس میں سینئر رپورٹر تھی۔ اپنی مختلف خصوصیات کی وجہ سے نندنی اپنے اخباری ساتھیوں کے درمیان بہت مقبول تھی۔ اس کے ایک ساتھی کے الفاظ میں نندنی کی زندگی کا نظریہ یہ تھا : p. 170original + quote

She loved life to the full and wanted to live it to the full p. 170

وہ زندگی سے آخری حد تک پیار کرتی تھی اور زندگی کے ساتھ آخری حد تک رہنا چاہتی تھی۔ p. 171

نندنی کی وفات پر اس کے ساتھی رپورٹروں نے ایک یادداشت (ہندستان ٹائمس، 17 ستمبر 1918) شائع کی ہے۔اس یادداشت کے خاتمہ پروہ لکھتے ہیں— نندنی کی موت اس حقیقت کی ایک بے رحم یاد دہانی ہے کہ ہر آدمی کا ایک بے حد مقرر وقت ہے: p. 171

It is a cruel reminder of the fact that there is a deadline for everyone. p. 171

کیسی عجیب بات ہے ایک جیتی جاگتی زندگی اچانک بجھ جاتی ہے۔ ایک ہنستا ہوا چہرہ ایک لمحہ میں اس طرح ختم ہو جاتا ہے جیسے کہ وہ مٹی سے بھی زیادہ بے قیمت تھا۔ حوصلوں اور تمنائوں سے بھری ہوئی ایک روح دفعتا اس طرح منظر سے ہٹا دی جاتی ہے جیسے اس کے حوصلوں اور تمنائوں کی کوئی حقیقت ہی نہ تھی۔ p. 171

زندگی کس قدر بامعنی ہے۔ مگر اس کانجام اس کو کس قدر بے معنی بنا دیتا ہے۔ آدمی بظاہر کتنا آزاد ہے مگر موت کے سامنے وہ کتنا مجبور نظر آتاہے۔ انسان اپنی خواہشوں اور تمنائوں کو کتنا زیادہ عزیز رکھتا ہے، مگر قدرت کا فیصلہ اس کی خواہشوں اور تمنائوں کو کتنی بے رحمی سے کچل دیتاہے۔ p. 171

آدمی اگر صرف اپنی موت کو یاد رکھے تو وہ کبھی سرکشی نہ کرے کامیاب اجتماعی زندگی کا واحد راز یہ ہے کہ آدمی اپنی حد کے اندر رہنے پر راضی ہو جائے اور موت بلاشبہ اس حقیقت کی سب سے بہتر اور سب سے بڑی معلم ہے۔ p. 172

موت کا مرحلہ p. 172

موت کا لمحہ تمام قابل قیاس اور نا قابل قیاس لمحات سے زیادہ شدید ہے۔ ہر دوسری مصیبت جس کے لیے آدمی پریشان ہو تا ہے اس مصیبت کے مقابلہ میں ہیچ ہے جو موت کی صورت میں اس کے سامنے آنے والی ہے۔ p. 172

موت زندگی کے سخت ترین مرحلہ کی طرف سفر ہے یہ کامل بے اختیاری کامل بے سروسامانی اور کامل بے مددگاری کے مرحلہ میں داخل ہونا ہے دنیا کی ہر تکلیف کی ایک حد ہوتی ہے موت ہم کو ایک ایسی دنیا میں داخل کر دیتی ہے جس کی تکلیفوں اور مصیبتوں کی کوئی حد نہیں۔ p. 172

موجودہ دنیا میں بھی آدمی با اعتبار حقیقت اسی حال میں ہے۔ انسان اپنی ذات کے اعتبار سے اتنا کمزور ہے کہ وہ معمولی نا خوشگواری کو بھی برداشت نہیں کر سکتا۔ ایک سوئی کا چبھنا، ایک دن کی بھوک پیاس، چند دن کے لیے نیند نہ آنا بھی اس کے پورے وجود کو تڑ پا دیتا ہے۔ تاہم موجودہ دنیا میں اس کو اس کی ضرورت کے مطابق تمام چیزیں حاصل ہیں ، اس لیے وہ اپنی بے چار گی کو بھولا رہتا ہے وہ اپنی حقیقت سے نا آشنا رہتا ہے۔ p. 172

اگر آدمی سے موجودہ دنیا چھین لی جائے جہاں پانی اور غذا ہے، جہاں ہوا اور روشنی ہے، جہاںفطرت کی قوتوں کو مسخر کر کے تمدن بنانے کے امکانات ہیں۔ اگر موجودہ دنیا آدمی سے چھین لی جائے تو خلا کے کسی دوسرے مقام پر وہ اپنے لیے اس قسم کی ایک اور دنیا کی تخلیق نہیں کر سکتا۔ اس کے بعد اس کا انجام اس کے سواکچھ نہ ہو گا کہ وہ اندھیرے میں بھٹکتا رہے۔ p. 173

دنیا میں آدمی پر مصیبت پڑتی ہے تو وہ آہ واویلا کرتا ہے۔لیکن اگر وہ آنے والے دن کو جانے تو وہ کہے گاکہ خدایا جو کچھ بیت رہا ہے اس سے کہیں زیادہ سخت ہے وہ جو بیتنے والا ہے۔ دنیا میں آدمی کو عزت اور آرام حاصل ہو تو وہ فخر اور گھمنڈ میں مبتلا ہو جاتا ہے۔ لیکن اگر وہ آنے والے لمحات کو جانے تو وہ کہہ اٹھے گا کہ خدایا اس عزت اور آرام کی کوئی حیثیت نہیں اگر آنے والے طویل تر مرحلہ میں وہ باقی نہ رہے۔ p. 173

موت ہماری زندگی کا خاتمہ نہیں ، وہ ایک نئے مرحلۂ حیات کا آغاز ہے۔ یہ نیا مرحلہ کسی کے لیے تمام مصیبتوں سے زیادہ بڑی مصیبت کا آغار ہو گا اور کسی کے لیے تمام راحتوں سے زیادہ بڑی راحت کا دروازہ۔ p. 173

موت کے دروازے پر p. 173

موت کا مرحلہ سب سے زیادہ یقینی مرحلہ ہے جس سے آدمی کو لازماً گزرنا ہے۔ یہ تو ممکن ہے کہ کسی کو زندگی نہ ملے مگر جس کو زندگی ملی اس کے لیے موت کا آنا لازمی ہے۔ ہر آدمی جو زندہ ہے وہ ایک روز مرے گا۔ ہر آدمی جو دیکھتا اور بولتا ہے، یقیناً ایک روزاس کی آنکھ بے نور ہو گی اور اس کا بولنا بند ہو جائے گا۔ ہر آدمی پر وہ وقت آتا ہے جب کہ وہ موت کے دروازہ پر کھڑا کر دیا جائے۔ اس وقت اس کے پیچھے دنیا ہو گی اور اس کے آگے آخرت وہ ایک ایسی دنیا کو چھوڑ رہا ہو گا جہاں وہ دوبارہ کبھی نہیں آئے گا اور ایک ایسی دنیا میں داخل ہو رہا ہو گا جس سے اس کو کبھی نکلنا نصیب نہ ہو گا وہ اپنے عمل کے میدان سے ہٹا کر وہاں ڈال دیا جائے گا جہاں وہ اپنے عمل کا ابدی انجام بھگتتا رہے۔ p. 173

زندگی ایک بے اعتبار چیز ہے جب کہ موت بالکل یقینی ہے۔ ہم زندہ صرف اس لیے ہیں کہ ابھی ہم مرے نہیں ہیں اور موت وہ چیز ہے جس کا کوئی وقت مقرر نہیں۔ ہم ہر لمحہ موت کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ ہم زندگی کے مقابلہ میں موت سے زیادہ قریب ہیں لوگ سمجھتے ہیں کہ وہ زندہ ہیں حالاں کہ زیادہ صحیح با ت یہ ہے کہ وہ مرے ہوئے ہیں وہ موت جس کا وقت مقرر نہ ہو جو ابھی اگلے لمحہ آسکتی ہو وہ گویا ہر وقت آرہی ہے۔ اس کے متعلق یہ کہنا زیادہ صحیح ہو گا کہ وہ آچکی ہے، بجائے اس کے کہ یہ کہا جائے کہ وہ آنے والی ہے۔ اس لیے حدیث میں ارشاد ہوا ہے کہ— اپنے آپ کو قبر والوں میں شمار کرووعُدَّ نفسَك في أَهلِ القبورِ(سنن الترمذی، حدیث نمبر2333 )۔ p. 174original + quote

موت ہر چیز کو باطل کر دیتی ہے، وہ ہماری زندگی کا سب سے زیادہ بھیانک واقعہ ہے تا ہم موت اگر صرف زندگی کا خاتمہ ہوتی تو وہ زیادہ بھیانک نہیں تھی۔ موت کا مطلب اگر صرف یہ ہوتا کہ اب آئندہ کے لیے اس انسان کا وجود نہ رہے گا جو چلتا تھا اور جو دیکھتا اور سنتا تھا تو اپنی ساری ہولنا کیوں کے باوجود یہ صرف ایک وقتی حادثہ تھا نہ کہ کوئی مستقل مسئلہ۔ مگر اصل مشکل یہ ہے کہ موت ہماری زندگی کا خاتمہ نہیں وہ ایک نئی اور ابدی زندگی کا آغاز ہے۔موت کا مطلب اپنے ابدی انجام کی دنیا میں داخل ہونا ہے۔ p. 174

ہر آدمی زندگی سے موت کی طرف سفر کررہا ہے۔کسی کا سفر دنیا کی خاطر ہے اورکسی کا آخرت کی خاطر۔ کوئی سامنے کی چیزوں میں جی رہا ہے،کوئی اپنی خواہش اورانا کی تسکین کے لیے دوڑ دھوپ کررہا ہے اورکسی کو خدا کے خوف اورخدا کی محبت نے بے چین کررکھا ہے۔دونوں قسم کے لوگ شام کرتے ہیں تاکہ وہ اپنی تھکان کو مٹائیں اوراگلے دن دوبارہ صبح کرتے ہیں تاکہ پسندکی دنیا میں دوبارہ سرگرم ہوجائیں۔موجودہ دنیا میں دونوں بظاہر یکساں نظر آتے ہیں۔مگر موت کے بعد آنے والی منزل کے اعتبار سے دونوں کا حال یکساں نہیں۔جو شخص خد ااورآخرت میں جی رہا ہے وہ اپنے کو بچا رہا ہے اورجو شخص دنیا کی دلچسپیوں اوراپنے نفس کی خواہشوں میں جی رہا ہے وہ اپنے کو ہلاک کررہا ہے۔ p. 174

سب سے بڑا بھونچال p. 174

آج لوگو ں کے پاس الفاظ ہیں جن کو وہ بے تکان دہرارہے ہیں مگر ایک وقت آنے والا ہے جب کہ ان کے الفاظ چھن چکے ہوں گے۔ ان کو اپنا ہر بول بالکل بے قیمت نظر آئے گا۔ وہاں کوئی سننے والا نہ ہو گا۔ جو اِن کے الفاظ کو سنے۔ کوئی پریس نہ ہو گا جو ان کے الفاظ کو چھاپے۔ کوئی لائوڈ اسپیکر نہ ہو گا جو ان کے الفاظ کو فضا میں بکھیرے۔ ان کی خوش خیالیوں کا محل گر چکا ہو گا۔ وہ حسرت و یاس کی تصویر بنے ہوئے اپنے چاروں طرف دیکھیں گے اور کچھ نہ کر سکیں گے۔ اس وقت ان کو نظر آجائے گا کہ دنیا میں حق کا انکار کرنے کے لیے وہ جن الفاظ کا سہارا لیے ہوئے تھے وہ کس قدر بے قیمت تھے یہ دنیا چونکہ امتحان کی دنیا ہے اس لیے یہاں الفاظ ہر معنی کوقبول کر لیتے ہیں۔ ایک نا حق بات کو بھی یہاں شان دار الفاظ میں بیان کیا جا سکتا ہے مگر موت کے بعد جو دنیا آئے گی وہاں صرف سچی بات بولنا ممکن ہو گا وہاں الفاظ کسی غلط بات کو قبول کرنے سے انکار کر دیں گے۔ p. 174

حدیث میں ارشاد ہوا ہے کہ— موت کو بہت زیادہ یاد کرو جو لذتوں کو ڈھا دینے والی ہےأَكْثِرُوا ذِكْرَ هَادِمِ اللَّذَّاتِيَعْنِي الْمَوْتَ(سنن ابن ماجہ، حدیث نمبر4258 )۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ آدمی اگر موت کو یاد کرتا رہے تو اس کے لیے دنیا کی وہ تمام چیزیں بالکل بے حقیقت ہوجائیں جن کی خاطر وہ ظلم اور بے انصافی کرتا ہے اور اپنے لیے جہنم کی آگ میں جلنے کا خطرہ مول لیتا ہے جس مال کو آدمی اپنا سب کچھ سمجھتا ہے اور اس کے سمیٹنے میں اپنی ساری طاقت لگا دیتا ہے وہ اس کو برت نہیں پاتا کہ موت آجاتی ہے اور اس کو اس کمائے ہوئے مال سے جدا کر دیتی ہے اگر آدمی کے سامنے یہ حقیقت واضح ہوتو وہ مال کے پیچھے اپنے کو دیوانہ نہ بنائے آدمی کو کسی سے شکایت ہو جاتی ہے اور وہ اس کو مٹانے اور اس کو برباد کرنے میں لگ جاتا ہے مگر ابھی وہ اپنے تخریبی منصوبہ کو پورا نہیں کر پاتا کہ موت اس کے اور اس کے دشمن کے درمیان حائل ہوجاتی ہے وہ اپنے دشمن کو اس کے حال میں چھوڑ کر اس دنیا سے چلا جاتا ہے۔ اگر یہ حقیقت آدمی کے ذہن میں تازہ ہوتو وہ کبھی کسی کے خلاف کوئی کارروائی نہ کرے۔ آدمی کے سامنے ایک سچائی آتی ہے، مگر وہ اس کااعتراف نہیں کرتا کیوں کہ وہ سمجھتا ہے کہ اگر اس نے اس کا اعتراف کر لیا تو وہ بڑائی کے مقام سے نیچے آجائے گا۔ اس کا بنا بنایا ڈھانچہ ٹوٹ کر منتشر ہو جائے گا، مگر سچائی کے انکار کے بعد اس پر چند دن بھی نہیں گزرتے کہ موت اس کی بڑائی کو ختم کر دیتی ہے اور اس کا سارا نقشہ درہم برہم ہو کر رہ جاتا ہے۔اگر وہ موت سے پہلے اس ہونے والے واقعہ کو یاد کرلے تو کبھی ایسی سچائی کے انکار کی جرأت نہ کرے جس کو چند لمحہ بعد اس کو بہر حال تسلیم کرنا ہے۔ p. 175original + quote

ایک ایسا گھر جو کل جل کر تباہ ہو جانے والا ہو اس کو کوئی نہیں خریدتا ایک ایسا شہر جو اگلے لمحہ بھونچال کی زد میں آنے والا ہو اس میں کوئی داخل نہیں ہوتا مگر کیسی عجیب بات ہے کہ موت کے عظیم تر بھونچال کے معاملہ میں ہر آدمی یہی غلطی کر رہا ہے۔ p. 175

موت ہر چیز کو باطل کر دے گی p. 175

وہ وقت کیسا عجیب ہو گا جب لوگوں کو معلوم ہو گا کہ عمل کے نام پر دنیا میں وہ جو کچھ کرتے رہے وہ بے عملی کی بد ترین شکل تھی لوگ دنیا میں ا پنے آپ کو اوپر اٹھا کر فخر کرتے رہے حالاں کہ ان کے لیے قابل فخر بات یہ تھی کہ وہ اپنے آپ کو اللہ کے حکم کے آگے جھکا دیں۔ وہ اپنی غلطیوں کی توجیہ وتا ویل کو کامیابی سمجھتے رہے حالاں کہ ان کی کامیابی یہ تھی کہ وہ اپنی غلطیوں کا کھلے دل سے اعتراف کر لیں۔ ان کو الفاظ اس لیے دئے گئے تھے کہ ان کو اللہ کی تعریف میں استعمال کریں مگر وہ اپنے الفاظ کے ذخیرہ کو انسان کی تعریف میں خرچ کرتے رہے۔ ان کے اندر خوف و محبت کے نازک جذبات اس لیے رکھے گئے تھے کہ وہ ان کو خدا کے لیے وقف کردیں مگر وہ دوسری چیزوں کو اپنے خو ف ومحبت کے جذبات کا مرکز بناتے رہے۔ انھوں نے مال جمع کرنے کو سب سے بڑی چیز سمجھا حالاں کہ ان کے لیے سب سے بڑی چیز یہ تھی کہ وہ اپنے مال کو اللہ کی راہ میں دے کر بے مال ہو جائیں۔ ان کا اصلی کمال یہ تھا کہ وہ کمزوروں کا لحاظ کریں مگر وہ کمزوروں کو نظر انداز کر کے طاقت وروں کا استقبال کرتے رہے۔ ان کے لیے زیادہ بہتر یہ تھا کہ معافی کے خاموش سمندر میں غوطہ لگائیں مگر وہ شوروغل کے ہنگامے کھڑے کرنے میں مشغول رہے ان کی ترقی کا راز یہ تھا کہ وہ اپنی ذات کا احتساب کرنے والے بنیں مگر وہ دوسروں کا احتساب کرنے میں مصروف رہے۔ ان سے یہ مطلوب تھا کہ دنیا کا مال یا دنیا کی عزت پائیں تو اس کو بے حقیقت سمجھیں اور اس سے بے رغبتی کا ثبوت دیں مگر اسی کو وہ سب سے بڑی چیز سمجھ بیٹھے۔ p. 175

آج کی دنیا میں لوگ دوسروں کے ظلم کا اعلان کرنے کے بہادر بنے ہوئے ہیں ، اس وقت لوگوں کا کیا حال ہو گا جب ان کو معلوم ہو گا کہ اصل بہادری یہ تھی کہ وہ خود اپنے ظلم کو جاننے کے بہادر بنیں۔ لوگ کسی نہ کسی غیر خدا کا دامن تھام کر سمجھ رہے ہیں کہ انھوں نے اپنے لیے مضبوط پناہ حاصل کر لی، اس وقت لوگوں کا کیا حال ہو گا جب ان کو معلوم ہو گا کہ خدا کے سوا کوئی نہ تھاجو کسی کے لیے پناہ بن سکے۔ لوگ الفاظ بول کر اپنے کو بری الذمہ سمجھ رہے ہیں۔ اس وقت لوگوں کا کیا حال ہو گا جب ان کو معلوم ہو گا کہ یہ صر ف حقائق تھے جو کسی کو بری الذمہ کر سکتے تھے لوگ دنیا کے اسباب کو اکٹھا کر کے مطمئن ہیں کہ جو کچھ ان کو پانا تھا وہ انھوں نے پا لیا، اس وقت لوگوں کا کیا حال ہو گا جب موت ان کی ہر چیز کو باطل کر دے گی اور ان کو معلوم ہو گا کہ انھوں نے کچھ بھی نہیں پایا تھا۔ لوگ دوسروں کی غلطیوں کی فہرست مرتب کر رہے ہیں اس وقت لوگوں کا کیا حال ہو گا جب فرشتے خود ان کی غلطیوں کی فہرست ان کے سامنے پیش کریں گے۔ لوگ زندگی کو اصل مسئلہ سمجھے ہوئے ہیں اس وقت لوگوں کا کیا حال ہو گا جب ان کو معلوم ہوگا کہ ان کا اصل مسئلہ موت تھا نہ کہ دنیا کی چند روزہ زندگی۔ لوگ اپنے خود ساختہ معیار کے مطابق پا کر اپنے کو برحق سمجھ رہے ہیں۔ اس وقت لوگوں کا کیا حال ہو گا جب ان کو معلوم ہو گا کہ حق پر صرف وہ تھا جو اللہ کے مقرر کیے ہوئے معیار کے مطابق تھا لوگ استقبال کرنے والوں کی بھیڑ پا کر اپنے کو خوش قسمت سمجھ رہے ہیں۔اس وقت لوگوں کا کیا حال ہو گا جب ان کو معلوم ہو گا کہ خوش قسمت صرف وہ تھا جس کے استقبال کے لیے اللہ اور اس کے فرشتے اس کا انتظار کر رہے تھے— ہر آدمی نے اپنی خوش خیالیوں کی ایک دنیا بنا رکھی ہے اور اپنے آپ کو اس کے اندر پا کر مطمئن ہے مگر قیامت ایسے تمام گھروندوں کو توڑدے گی اس وقت صرف وہ شخص محفوظ ہو گا جو خدا کے ’’گھر‘‘میں پناہ پکڑے ہوئے تھا جس نے اپنے لیے خدا کا سایہ حاصل کر لیا تھا۔ p. 175unverified

کل کو یاد رکھیے p. 176

لارڈ کرزن(1859-1925) 1898 میں ہندستان کے وائسرائے(Viceroy) ہو کر انگلستان سے یہاں آئے ان کی دولڑکیاں تھیں تیسری پیدائش کے وقت لارڈ کرزن اور لیڈی کرزن کی بہت خواہش تھی کہ ان کے یہاں لڑکا پیدا ہو ۔دونوں بڑی امیدوں کے ساتھ آنے والے وقت کا انتظارکر رہے تھے، مگر تیسری بار بھی مارچ 1904 میں ان کے یہاں لڑکی پیدا ہوئی اس وقت ان کا قیام نالدرا میں تھا۔ اس مناسبت سے انھوں نے اپنی لڑکی کا نام الکزنڈر نالدرا کرزن رکھا۔ لارڈ کرزن نے اس زمانہ میں اپنی بیوی کے نام جو خطوط لکھے ان میں سے ایک خط وہ ہے جو انھوں نے شملہ سے لندن بھیجا تھا۔ اس خط میں انھوں نے اپنی بیوی کو تسکین دلانے کی کوشش کی۔ ان کے خط کا ایک جملہ یہ تھا— لڑکا یا لڑکی کا کیا فائدہ جب کہ ہم دونوں اس دنیا سے جا چکے ہوں گے۔ p. 176unverified

After all what does sex matter after we are both of us gone. p. 176

لارڈکرزن کا یہ جملہ محض اپنی مایوس نفسیات کو چھپانے کی ایک کوشش تھی لیکن یہی بات اگر آدمی کے اندر شعوری طور پر پیدا ہو جائے تو دنیا کا آدھا مسئلہ حل ہو جائے دولت، اولاد، اقتدار یہی وہ چیزیں ہیں جن کو آدمی سب سے زیادہ چاہتا ہے اور ان کو حاصل کرنے لے لیے سب کچھ کر ڈالتا ہے۔ اگر آدمی یہ سوچ لے کہ کسی چیز کو پانے کا کیا فائدہ جب کہ چند ہی روز بعد اس کو چھوڑ کر چلا جانا ہے تو لوگوں کے اندر قناعت آجائے اور دنیا کا تمام ظلم و فساد ختم ہو جائے یہ ایک حقیقت ہے کہ یہاں پانے اور نہ پانے میں بہت زیادہ فرق نہیں جو پانا اگلے روز کھونا بننے والا ہو اس پانے کی کیا قیمت ہے۔ آدمی اپنی ساری کوشش خرچ کر کے جو چیز حاصل کر تا ہے وہ صرف اس لیے ہوتی ہے کہ اگلے لمحہ وہ اس کو کھو دے۔ ہر زندگی بالآخر موت سے دوچار ہونے والی ہے۔ ہر وہ محبوب چیز جس کو آدمی اپنے گردو پیش جمع کرتا ہے اس کو چھوڑ کر وہ اس دنیا سے ہمیشہ کے لیے چلا جانے والا ہے۔ p. 176

آدمی ’’آج‘‘ میں جیتا ہے وہ کل کو بالکل بھولا رہتا ہے آدمی دوسرے کا گھر اجاڑ کر اپنا گھر بناتا ہے حالاں کہ اگلے دن وہ قبر میں جانے والا ہے۔ آدمی دوسرے کے اوپر جھوٹے مقدمے چلا کر اس کو انسانی عدالت میں لے جاتا ہے حالانکہ فرشتے خود اس کو خدا کی عدالت میں لے جانے کے لیے کھڑے ہوئے ہیں۔ آدمی دوسرے کو نظر انداز کر کے اپنی عظمت کے گنبد میںخوش ہوتا ہے حالاں کہ بہت جلد اس کا گنبد اس طرح ڈھ جانے والا ہے کہ اس کی ایک اینٹ بھی باقی نہ رہے۔ p. 176unverified

آہ یہ انسان p. 176

تقریباً ایک در جن انڈے سامنے رکھے ہوئے تھے۔ بظاہر سب انڈے اوپر سے دیکھنے میں اچھے لگتے تھے۔ مگر جب توڑا گیا تو ایک کے بعد ایک سب خراب نکلتے چلے گئے۔ آخر میں یہ معلوم ہوا کہ ان میں کوئی ایک بھی اچھا نہ تھا۔ سارے انڈے اندر سے خراب انڈے تھے۔ اگرچہ بظاہر اوپر سے اچھے نظر آتے تھے۔ p. 177

ایسا ہی کچھ حال آج کل انسانوں کا ہورہا ہے۔بظاہر دیکھنے میں ہر آدمی آدمی ہے۔وہ عمدہ کپڑے پہنے ہوئے ہے۔وہ خوبصورت باتیں کرتا ہے۔اوپر سے ہر آدمی اچھا آدمی معلوم ہوتا ہے۔ ہر آدمی کے پاس اپنے کارناموں کی نہ ختم ہونے والی داستانیں ہیں۔مگر جب تجربہ کیجئے تو معلوم ہوتا ہے کہ وہ اندر سے کچھ اورتھا۔اوپر کے خوبصورت خول کے اندر ایک انتہائی بد ہیئت اوربالکل مختلف قسم کا انسان چھپا ہواتھا۔ p. 177

جب کسی سے لین دین ہوتا ہے،جب کوئی شکایت اورتلخی کا کوئی موقع سامنے آتا ہے، جب کسی کے مفاد اور مصلحت پر ضرب پڑتی ہے تو اس وقت معلوم ہوتا ہے کہ اندر کا اصلی انسان وہ نہ تھا جو اوپر سے دکھائی دے رہا تھا۔خوبصورت کپڑوں کے اندر جو چیز چھپی ہوئی ہے وہ گندگی کے سوا اورکچھ نہیں۔ خود غرضی ،سطحیت ،ظاہر داری ،فخر ،حسد ،غرور ،موقع پرستی ، تعصب ،استحصال ،یہی وہ چیزیں ہیں جو لوگ اپنے خوبصورت جسموں کے اند ر چھپائے ہوئے ہیں۔ہر آدمی بظاہر اچھا انڈا ہے۔مگر توڑنے کے بعد ہر آدمی خراب انڈاہے۔ p. 177

یہی آج کی انسانی دنیا ہے۔گہرائی کے ساتھ دیکھیے تو آج کی دنیا میں صرف دوچیزیں نظر آتی ہیں۔دکھ کی آہیں،یاظلم کے قہقہے ،کچھ لوگ بے انصافیوں کا شکار ہوکر آہیں بھر رہے ہیں۔کچھ لوگ اپنے حیوانی ارادوں کی تکمیل کرکے فتح کے قہقہے لگا رہے ہیں۔کچھ لوگ بے شعوری کے گڑھے میں پڑئے ہوئے ہیں۔اور کچھ لوگ بے حسی کے گڑھے میں۔مگر یہ صورت باقی رہنے والی نہیں۔بہت جلد وہ وقت آنے والا ہے جب کہ انسان اپنے آپ کو ایک اوردنیا میں پائے گا۔ایک ایسی دنیا جہاں فیصلہ کا سارا اختیار خدا کو ہوگا نہ کہ انسان کو۔ p. 177

زبان والے بے زبان ہو جائیں گے p. 177

قدیم عرب میں ایک شخص جمیل بن معمرجمحی تھا۔وہ بہت ذہین آدمی تھا۔اس کے اندر یہ عجیب صلا حیت تھی کہ وہ دو متضاد نقطۂ نظر پر یکساں قدرت کے ساتھ تقریر کرسکتا تھا۔چنانچہ اس کا نام ذوالقلبین (دودل والا) پڑگیا۔ p. 178

اس قسم کے کردار مختلف شکلوں میں ہرزمانہ میں پائے گئے ہیں، مگر ذوالقلبین ہو نا خدا کے مقرر کیے ہوئے فطر ی نقشہ سے انحراف کر نا ہے۔ یہ خدا کی دنیا میں ایک نا پسندیدہ چیز ہے نہ کہ کوئی پسندیدہ چیز۔ اس لیے قرآن میں فرمایاگیا کہ — اللہ نے کسی انسان کے دودل نہیں بنائے (33:4)۔ یعنی جب عضویاتی تخلیق میں انسان کو دو دل والا نہیں بنایا گیا ہے تو سوچ اور جذبات کے اعتبار سے بھی دو دل والا ہونا اس کے لیے صحیح نہیں ہو سکتا۔ p. 178original + quote

موجودہ دنیا میں چونکہ انسان کو آزادی حاصل ہے اس لیے یہاں کوئی شخص ایسا کر سکتا ہے کہ وہ ایک معاملہ میں ایک طرز پر سوچے اور دوسرے معاملہ میں دوسرے طرز پر سوچے، وہ ایک مجمع میں ایک ڈھنگ پر بولے اور دوسرے مجمع میں دوسرے ڈھنگ پر تقریر کر ے۔ وہ جسم کے اعتبار سے ایک دل والا انسان ہونے کے باوجود ذہن اور زبان کے اعتبار سے دو دل والا انسان بن کر رہے۔ بلکہ کئی دل والا انسان بن جائے۔ مگر ایسی ہر صورت خدا کے تخلیقی نقشہ کی خلاف ورزی ہے۔ وہ فطرت کے مقررہ راستہ سے انحراف کرتا ہے۔ موجودہ دار الامتحان میں کوئی شخص ایسا متضاد رویہ اختیار کر کے کامیاب ہو سکتا ہے مگر آخرت کی حقیقی اور معیاری دنیا میں اس قسم کا خلاف فطرت رویہ بالکل بے قیمت ہو کر رہ جائے گا۔ p. 178

اس قسم کا انداز اختیار کرنے والا آدمی موجودہ دنیا میں خوب کامیاب رہتا ہے وہ ہر طبقہ کے لوگوں سے ان کے حسب حال بات کرتا ہے۔ وہ جس سے ملتا ہے یا جہاں جاتا ہے ہر جگہ وہی بات کہتا ہے جو وہاں کے لوگوں کی پسند کے مطابق ہو۔ مگر ایسی ہوشیاری صرف موجودہ دنیا میں کسی کے کام آسکتی ہے کیونکہ یہ دنیا سچائی کے ظہور کی دنیا نہیں۔ آخرت سچائی کے ظہور کی دنیا ہو گی وہاں حق حق کی صورت میں اور باطل باطل کی صورت میں ظاہر ہو جائے گا۔ وہاں جمیل بن معمرجمحی جیسے ماہرین بالکل بے قیمت ہو جائیں گے۔ وہ ساری مہارت کے باوجود ایسا محسوس کریں گے جیسے ان کے پاس زبان ہی نہیں جس سے وہ بولیں اور ان کے پاس قلم ہی نہیں جس سے وہ کچھ لکھ سکیں۔ p. 178

کیسا عجیب p. 178

میں شہر کی ایک پررونق سڑک کے کنارے کھڑاتھا۔تیز رفتار سواریاں مسلسل میرے سامنے سے گزررہی تھیں۔وہ انسانوں کو لیے ہوئے اِدھر ے اُدھر جارہی تھیں۔جیسے وہ کسی منزل کی طرف رواں ہوں۔جیسے وہ کسی پہنچنے کی جگہ پر پہنچنا چاہتی ہوں۔ p. 179

یہ دیکھ کر مجھے ایسا معلوم ہواجیسے یہ سواریاں نہیں ہیں بلکہ خدا کے فرشتے ہیں جوانسانوں کولیے ہوئے تیزی سے بھاگ رہے ہیں تاکہ جلد ازجلد تمام انسانوں کو اس کے خالق ومالک کے دربار میں پہنچادیں۔لوگ سمجھتے ہیں کہ وہ اپنی منزل کی طرف جارہے ہیں۔حالاں کہ وہ خدا کی منزل کی طرف لے جائے جارہے ہیں نہ کہ اپنی کسی منزل کی طرف۔ p. 179original + quote

زندگی کیاہے،موجودہ دنیا میں امتحان کی مہلت۔موت کیا ہے ،آخرت کی دنیا میں بجبر داخلہ۔موجودہ دنیا میں ہم ٹھیک ویسے ہی ہیں جیسے طالب علم امتحان ہال میںہوتا ہے۔کوئی طالب علم صرف گھنٹہ بجنے تک امتحان ہال میں رہ سکتا ہے۔گھنٹہ بجتے ہی وہ اس میں قیام کا حق کھودیتا ہے۔اسی طرح موجودہ دنیا میں انسان صرف اس وقت تک ہے جب تک موت یاقیامت کا گھنٹہ نہ بجے۔گھنٹہ بجنے کے بعد نہ دنیا اس کی رہ جاتی ہے اورنہ وہ دنیاکا۔ p. 179

انسان سمجھتا ہے کہ میں اپنی دنیا میں ہوں۔حالاں کہ وہ صرف خداکی دنیا میں ہے۔انسان کوجوکچھ ملا ہے وہ خدا کے دئے سے ملاہے۔وہ عین اسی لمحہ چھن جائے گا جب کہ خداان کو چھننے کا فیصلہ کرے۔اس کے بعد انسان اپنے آپ کو اس حال میں پائے گاکہ اس کے پاس ان چیزوں میں سے کچھ نہ ہوگاجن کو آج وہ اپنا سمجھ رہاہے۔ p. 179

انسان پروہ دن آنے والا ہے جب کہ وہ بھوکا ہوگا مگر اس کے پاس کھانے کو نہ ہوگا جس سے وہ اپنی بھوک مٹائے۔وہ پیاسا ہوگا مگر اس کے پاس پانی نہ ہوگاجس سے وہ اپنے سینہ کی آگ ٹھنڈی کرے۔اس پر سخت سردی کا موسم آئے گامگر اس کے پاس گرم کپڑے نہ ہوں گے جن سے وہ اپنے بدن کو گرم کرے۔اس کو سخت گرمی کاسامنا ہوگامگر اس کو کوئی سایہ نہ ملے گاجس کے نیچے جاکر وہ ٹھنڈک حاصل کرے۔ p. 179

آہ ،کیسا عجیب دن انسان پر آنے والاہے مگر وہ اس سے کتنا زیادہ غافل بنا ہواہے۔ p. 180

جب حقیقت کھلے گی p. 180

دنیا میں کچھ لوگ وہ ہیں جن کے دل خداکے آگے جھکے ہوئے نہیں ہیں۔وہ دکھاوے کے لیے خدا کو سجد ہ کرتے ہیں۔ایسے لوگوں کا حال آخرت میں یہ بتایا گیا ہے کہ وہاں جب کہا جائے گاکہ اپنے رب کو سجدہ کروتو وہاں سجدہ نہ کرسکیں گے(القلم،68:42)۔ p. 180original + quote

سجدہ محض ایک وقتی اوررسمی نوعیت کا جسمانی فعل نہیں۔وہ اپنے آپ کو حقیقت اعلیٰ کے آگے جھکانا ہے ،وہ اپنی پوری زندگی کو حق وصداقت کے تابع بنا دینا ہے۔اس اعتبار سے دیکھیے تومعلوم ہوگا کہ اس آیت میں محدود معنوں میں صرف ’’سجدہ‘‘کا ذکر نہیں ہے بلکہ یہ آیت پوری زندگی کے بارے میں ایک اہم حقیقت کو بتا رہی ہے۔ p. 180

موجودہ دنیا میں ہر شخص اورہر قوم کا یہ حال ہے کہ ان کے دل سچائی کے آگے جھکے ہوئے نہیں ہیں۔ انھوں نے اپنے آپ کو حق کے تابع نہیں بنایا ہے۔مگر ظاہر ی رویہ میں ہر ایک یہ دکھارہا ہے کہ وہ حق پر قائم ہے۔ہر ایک اپنی زبان سے ایسے الفاظ بول رہا ہے گویا کہ اس کا کیس انصاف کا کیس ہے نہ کہ ظلم اوراستغلا ل کا کیس۔ p. 180

مگر اس قسم کی دھاندلی صرف موجودہ امتحانی دنیا میں ممکن ہے۔آخرت کے آتے ہی پوری صورت حال بالکل بد ل جائے گی۔بازار میں کھوٹے سکے چل سکتے ہیں مگر بینک میں کھوٹے سکے نہیں چلتے۔اسی طرح آخرت میں اس کا امکان ختم ہوجائے گاکہ کوئی جھوٹی بات کو سچے الفاظ میں بیان کرے۔کوئی بے انصافی کے عمل کو انصاف کا عمل ثابت کرے۔ p. 181

آخرت میں ہوگاکہ الفاظ جھوٹے معانی کو قبول کرنے سے انکار کردیں گے۔کسی کے لیے یہ ممکن نہ ہوگا وہ ظلم کو انصاف بتائے اورباطل کو حق کے لباس میں پیش کرے۔اس وقت ظاہر اورباطن کا فرق ختم ہوجائے گا۔آدمی کی زبان وہی بول سکے گی جو اس کے دل میں ہے۔اس دن ہر آدمی عین اس روپ میں دکھائی دے گا جو باعتبار حقیقت تھا نہ کہ اس روپ میں جو وہ مصنوعی طور پر دوسروں کے سامنے ظاہر کررہاتھا۔ p. 181

لوگ انسان کے سامنے اپنے آپ کو حق بجانب دکھاکرمطمئن ہیں کہ وہ حق بجانب ثابت ہوگئے۔حالانکہ حق بجانب وہ ہے جو خدا کے سامنے حق بجانب ثابت ہو۔ اور وہاں کا حال یہ ہے کہ وہاں صرف حق حق ثابت ہوگا اورجو باطل ہے وہ وہاں صرف باطل ہوکر رہ جائے گا۔ p. 181

خدااورآخرت p. 181

چھوڑنے کے لیے p. 181

برطانوی دورحکومت میں ہندستان کادارالسلطنت کلکتہ تھا۔1911میں برطانیہ نے یہ فیصلہ کیاکہ دار السلطنت کوکلکتہ سے دہلی منتقل کردیا جائے۔انگریز ماہر تعمیرات سرایڈون لیوٹنس (1869-1944)نے نئے دارالسلطنت کا نقشہ بنایا۔1913میں پرانی دہلی کے جنوب میں رائے سینا پہاڑیوں کے علاقہ میں تعمیرات شروع ہوئیں۔بالآخروہ عالی شان آبادی وجود میں آئی جس کو نئی دہلی کہاجاتا ہے۔ p. 182

یہ زمانہ وہ تھا جب کہ ساری دنیا میں ایک نئی سیاسی لہر آچکی تھی۔یہ قومی تحریکوں کی لہر تھی۔سیاسی افکار کی دنیامیں نئے انقلابات نے نو آبادیاتی نظام کا جو از ختم کردیا تھا۔ ہندستان میںآزادی کی تحریک تیزی سے جڑپکڑرہی تھی۔بظاہر یہ بات کھل چکی تھی کہ ہندستان میں برطانیہ کی حکومت اَب زیادہ دیر تک باقی رہنے والی نہیں۔ p. 182

نئی دہلی کی تعمیر کے بعد اسی زمانہ میں فرانس کے ایک لیڈر نے ہندستان کا دورہ کیا۔جب وہ نئی دہلی آئے اوریہاں نیا تعمیر شدہ عظیم دار السلطنت دیکھا تو انھوں نے اس پر اظہار رائے کرتے ہوئے کہا —’’انھوں نے کیسی شاندار دنیا بنائی ہے ،صرف اس لیے کہ وہ اسے چھوڑدیں: p. 182original + quote

What a magnificent world they built to leave p. 182

یہ کہانی صرف برطانیہ کی کہانی نہیں ہے بلکہ تمام انسانوں کی کہانی ہے۔یہاں ہر آدمی کا یہ حال ہے کہ وہ آرزئووں اورتمنائوں کو لیے ہوئے دنیا میں داخل ہوتا ہے۔ اپنی تمام قوتوں کا استعمال کرکے وہ اپنا ایک ’’شاندار گھر‘‘بناتا ہے۔مگر عین اس وقت جب کہ اس کی آرزئووں کاگھر بن کر مکمل ہوتا ہے،اچانک موت کا فرشتہ آجاتا ہے اور اس کو اس کی محنتوں سے بنائی ہوئی دنیا سے جدا کر کے وہاں پہنچا دیتا ہے جس کو آرتھر کوئسلر(1905-1983) نے نامعلوم ملک (Unknown Country)کا نام دیاہے۔ p. 182original + quote

زندگی کی کہانی اگر اتنی ہی ہو تو وہ کیسی عجیب دردناک کہانی ہے۔مگر جس طرح دنیا کی ہر چیز اپنے جوڑے کے ساتھ مکمل ہوتی ہے۔اسی طرح موجودہ دنیا کابھی ایک تکمیلی جوڑا ہے،اوروہ جوڑاآخرت ہے۔جو شخص آخرت کو بھولا ہواہے اس کی زندگی یقیناً صرف ایک المیہ ہے۔مگر جو شخص امکان آخرت سے فائدہ اٹھائے اورموجودہ دنیا کے مواقع کو اگلی دنیا کی تعمیر میں صرف کرے اِس کے لیے موجودہ دنیا ایک نئی زیادہ کامیاب زندگی کا قیمتی زینہ بن جائے گی۔ p. 183

آخرت کے بغیر انسا ن کی زندگی صرف ایک المیہ ہے۔مگر آخرت کو ملانے کے بعد وہ ایک طربیہ میں بدل جاتی ہے۔ p. 183

کہاں سے کہاںتک p. 183

5رمضان1404 ھ کو میںدہلی کے ایک جنازہ میں شریک ہوا موت کے بعد مرنے والے شخص کو نہلایا گیا اس کو نئے کپڑے کا کفن پہنایا گیا لوگوں نے کھڑے ہو کر اس کی نماز جنازہ پڑھی اور پھر میت کو اپنے کا ندھوں پر لے کر چلے یہاں تک کہ قبر میں احترام کیساتھ لٹا کر اس کو ڈھک دیا گیا p. 183

میں نے سوچاکہ ایک مردہ جسم کے ساتھ اتنے زیادہ اہتمام کا حکم اسلام نے کیوں دیا۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ مرنے کے بعد انسان کا جسم مٹی کے سوا اور کچھ نہیں ہوتا، مگر اس کو عام مٹی کی طرح اِدھر اُدھر پھینک نہیں دیا جاتا بلکہ اس کے ساتھ باقاعدہ انسان کا سا سلوک کیا جاتاہے ’’مٹی ‘‘کے ساتھ’’ انسان ‘‘جیسا معاملہ کرنے کا حکم مرنے والے کے اعتبار سے نہیں ہے بلکہ زندہ رہنے والے کے اعتبار سے ہے۔ مردہ انسان کے ذریعہ زندہ انسانوں کو سبق دیا جاتا ہے کہ بالاآخر ان کا انجام کیاہونے والا ہے۔ اسلام یہ چاہتا ہے کہ زندہ لوگ مرنے والے کے روپ میں خود اپنے آپ کو دیکھیں وہ موت سے پہلے موت کا تجربہ کریں۔ p. 183

یہ تجربہ اس طرح بھی ممکن تھا کہ ایک مقررہ دن کو کاغذ کا انسانی پتلا بنایا جائے اور اس کے ساتھ تمام رسوم ادا کرکے اس کو مٹی کے گڑھے میں ڈال دیا جائے اسلام نے اس تجربہ کو حقیقی بنانے کے لیے حقیقی انسان کے مردہ جسم کو استعمال کیا۔ p. 184

ایک انسان ہماری طرح ایک زندہ انسان تھا۔ چلتے چلتے اس کے قدم جواب دے گئے بولتے بولتے اس کی زبان بند ہو گئی۔ دیکھتے دیکھتے اس کی آنکھیں بے نور ہو گئیں لوگوں کے نزدیک اس کی جو قیمت تھی وہ سب اچانک ختم ہو گئی۔ اب خدا اس واقعہ کو استعما ل کرتا ہے تا کہ اپنے جیسے ایک انسان کے ذریعہ لوگوں کو زندگی کا سبق یاد دلادے۔ p. 184

لوگ اس کو اہتمام کے ساتھ تیار کرتے ہیں اور پھر لے کر چلتے ہیں۔ یہاں تک کہ آخری مرحلہ میں پہنچ کر جب اس کو قبر کے گڑھے میں لٹا دیا جاتا ہے توہر آدمی یہ کرتا ہے کہ تین بار اپنے ہاتھ میں مٹی لے کر قبر میںڈالتا ہے۔ پہلی بار مٹی ڈالتے ہوئے کہتا ہے:مِنْهَا خَلَقْنَاكُمْ (اسی سے ہم نے تم کو پیدا کیا)جب وہ دوسری بارمٹی ڈالتاہے تو کہتا ہےوَفِيهَا نُعِيدُكُمْ (اسی میں ہم تم کو دوبارہ ڈالیں گے ) اور پھر تیسری بار مٹی ڈالتے ہوئے وہ کہتا ہے:وَمِنْهَا نُخْرِجُكُمْ تَارَةً أُخْرَى(20:55) ، اور اسی سے ہم تم کو دوبارہ نکالیں گے۔ p. 184original + quote

یہ تین بار مٹی ڈالنا اس پورے قصہ کا کلائمکس(climax) ہے۔ اس طرح ایک زندہ واقعہ کے ذریعے بتایا جاتا ہے کہ انسان کیا ہے اور اس کا آخری انجام کیا۔ p. 184

قریب مگر دور p. 184

ایر انڈیا کا ایک جہاز (Boeing 747) 23 جون 1985 کو مانٹریل سے اڑا ۔اس پر جہاز کے عملہ سمیت 329 آدمی سوار تھے وہ مانٹریل سے لندن ہوتا ہوا دہلی آنے والا تھا۔ دہلی کے پالم ایر پورٹ پر حسب معمول بہت سے لوگ اپنے آنے والے عزیزوں اور مہمانوں کا انتظار کر رہے تھے۔ آنے والے مسافروں میں کچھ وہ لوگ تھے جو کمائی کر کے اپنے گھروں کو لوٹ رہے تھے ۔کچھ وہ لڑکے اورلڑکیاں تھیں جو ہندستان میں شادی کرنے کے لیے آرہی تھیں۔ کچھ لوگ اپنے متعلقین سے ملنے کے لیے اپنے وطن پہنچنے والے تھے۔ p. 185

اچانک خوشیاں غم میں تبدیل ہو گئیں۔ معلوم ہوا کہ جہاز اٹلانٹک کے اوپر پرواز کر رہا تھا کہ آئر لینڈ کے قریب اس کو حادثہ پیش آگیا اور وہ برباد ہو کر سمندر میں گرپڑا ۔ہوائی اڈہ پر مرنے والے مسافروں کی فہرست آویزاں کر دی گئی۔ تمام لوگ جو ہوائی اڈہ پر انتظار کر رہے تھے وہ فہرست دیکھنے کے لیے متعلقہ بورڈ کی طرف دوڑے۔ اس موقع پر ایک انگریزی اخبار کے رپورٹر نے اپنا مشاہدہ بیان کرتے ہوئے یہ الفاظ لکھے ہیں: p. 185

In their moment of stunned disbelief, each one thought "this could not be happening to me " But, with merciless equality the death list shattered all their hopes. p. 185

ہوش اڑا دینے والی بے یقینی کے اس لمحہ میں ہر ایک یہ سوچ رہا تھا کہ ایسا حادثہ میرے ساتھ پیش نہیں آسکتا، مگر بے رحم مساوات کے ساتھ موت کی فہرست نے ان کی تمام امیدوں کو بکھیر دیا(ہندستان ٹائمس، 24جون 1985)۔فہرست نے بتایا کہ ہوائی جہاز کے329مسافر سب کے سب اچانک حادثہ کا شکار ہوکر ختم ہوچکے ہیں۔ان میں سے کوئی بھی نہیں جو اپنے انتظار کرنے والوں تک پہنچنے والا ہو۔ p. 185original + quote

ہر روز اس دنیا میں بے شمار آدمی مر رہے ہیں۔یہ واقعہ لوگوں کو ہلا دینے کے لیے کافی ہے۔مگر آدمی کا حال یہ ہے کہ جب وہ کسی کو مرتے ہوئے دیکھتا ہے تو وہ سمجھ لیتا ہے کہ موت صرف دوسروں کے لیے ہے ، اس کے اپنے لیے موت نہیں۔اپنے کو الگ کرنے کی اس نفسیات کا نتیجہ ہے کہ آدمی سبق نہیں لیتا۔وہ موت کے عین قریب ہوکر بھی موت کے پیغام کو نہیں سنتا۔ p. 185

دنیا کی حقیقت p. 186

مسٹر آر این پانڈے (35سال) ہندستانی فوج میں سکنڈ لیفٹیننٹ تھے۔وہ 12نومبر 1983کو جموں توی ایکسپریس پر سوار ہوئے۔ٹرین آگے بڑھی تو انہیںاحساس ہواکہ وہ غلط ٹرین پر سوار ہوگئے ہیں۔انہیںدراصل اتکل ایکسپر یس پر سوار ہونا چاہیے تھا۔جب اوکھلا کا اسٹیشن آیا تو وہ فرسٹ کلاس کا دروازہ کھول کر باہر کو د پڑے۔ٹرین اس وقت پوری رفتا رمیں تھی۔وہ پہیہ کے نیچے آگئے اور اسی وقت کٹ کرمرگئے (ہند ستان ٹائمس، 13نومبر 1983)۔ p. 186

یہ واقعہ موجودہ دنیا میں انسان کی بے بسی کی ایک تصویر ہے انسان ٹرین بناتا ہے جب وہ اس پر بیٹھتا ہے تو وہ اس کو لے کر دوڑتی ہے اورمنزل پر پہنچا دیتی ہے۔مگر اسی ٹرین کے مقابلہ میں انسان اتنا کمزور ہے کہ اس کے پہیہ کے نیچے آنے کے بعد وہ اس کی زد سے اپنے آپ کو نہیں بچا سکتا۔ p. 186

ایک کامیاب انسان ہے۔وہ ایک بہت بڑے مکان میں رہتا ہے جو اس کی خوش حال زندگی کی علامت ہے۔اس کے گھر کے سامنے موٹر کا ر کھڑی ہوئی ہے جو اس کی شان میں اضافہ کرتی ہے۔وہ ایک کارخانہ کامالک ہے جو اس کی دولت اور ترقی کا سرچشمہ ہے۔اس کے بے شمار ساتھی ہیں جو اس کی قوت وشوکت کا زندہ ثبوت ہیں۔ p. 186

یہ وہ چیزیں ہیں جن سے آدمی کی دنیوی ترقی کا اندازہ کیاجاتا ہے۔لیکن اگر یہ تمام چیزیں سمیٹ کر اوپر سے آدمی کے سر پر گرائی جائیں تو وہ اس کی بربادی کا ذریعہ بن جائیں گی۔یہ گویا ایک بہت بڑا ملبہ ہوگا جو آدمی کے اوپر پٹک دیا گیا اوراس کے نیچے دب کر اس کا وجود فنا ہوگیا۔ p. 186

اس مثال سے سمجھا جاسکتا ہے کہ دنیوی ترقی کی حقیقت کیا ہے۔دنیا کی تما م ترقیاں اسی وقت تک ترقیاں نظر آتی ہیں جب تک وہ فریب کے روپ میں ہوں۔جیسے ہی وہ اپنے اصلی روپ میں آئیں وہ صرف بربادی کا ڈھیر بن جاتی ہیں۔یہ ترقیاں اپنے آخری انجام کے اعتبار سے کسی کے لیے قبرستان تو بن سکتی ہیں مگر وہ کسی کے لیے کامیابی کا شاندار محل نہیں بن سکتیں۔ p. 187

لذتیں جنت میں لذت ہیں اوردنیا میں صرف فریب لذت۔انسان کی غلطی یہ ہے کہ جو چیز جنت میں ملنے والی ہے اس کو وہ موجودہ دنیا میں پانا چاہتا ہے۔نتیجہ یہ ہے کہ آدمی یہاں بھی محروم رہتاہے اوروہاں بھی۔ p. 187

بے خبر انسان p. 187

آئیوری کوسٹ(Ivory Coast) مغربی افریقہ کا ایک ساحلی ملک ہے۔یہاں بجلی افراط کے ساتھ پائی جاتی ہے۔گھروں اوردکانوں کی جگمگاہٹ کی وجہ سے اس کو افریقہ کا شوکیس کہا جاتا تھا (ٹائمس آف انڈیا 4جنوری1984)۔ p. 187original + quote

دسمبر 1983میں اچانک وہ ایسا ملک بن گیاجہاں لوگ عالی شان ہوٹلوں میں موم بتی کی روشنی میں کھانا کھائیں اورگھروں اوردفتروں کو بھی موم بتی سے روشن کریں۔آئیوری کوسٹ میں 92 فیصد پن بجلی کا رواج تھا مگر بارش رک جانے کی بنا پر ڈیم سوکھ گئے اور اکثر ٹربائن کا چلنا بند ہو گیا ۔چنانچہ بجلی کی کٹوتی کا یہ عالم ہوا کہ بعض اوقات مسلسل 18گھنٹے تک بجلی غائب رہی اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ صنعتی پیداوارگھٹ کر 35 فیصد رہ گئی کمپیوٹر الکٹرک ٹائپ رائٹر(electric typewriter)ریفریجریٹر اور اکثر بجلی سے چلنے والی چیزیں بند رہنے لگیں۔ p. 187

بہت سے بڑے بڑے تاجروں نے اس اندیشہ سے دفتر جاناچھوڑ دیا کہ کہیں وہ لفٹ میں اٹک کر نہ رہ جائیں ایک تاجر نے اپنا حال بتاتے ہوئے نیو یارک ٹائمز کے نمائندہ سے کہا کہ سالہا سال سے میرا یہ حال تھا کہ میں اپنے ائیرکنڈیشنڈ مکان سے ائیر کنڈیشنڈ کار میں اور پھر ائیر کنڈیشنڈ دفتر میں جاتا تھا میں نے کبھی یہ جانا ہی نہیں کہ حقیقۃً آئیوری کوسٹ کتنا زیادہ گرم ہے : p. 188

For years, I had gone from my air-conditioned villa to my air-conditioned car to my air-conditioned office. I never realised just how hot it really is here. p. 188

افریقہ جیسے گرم ملک میں ائیر کنڈیشنڈ ماحول میں رہنے والا تاجر گویا ایک مصنوعی دنیا میں رہ رہا تھا جب بجلی نے اس کا ساتھ چھوڑدیا اس وقت اس کو معلوم ہوا کہ اصل صورت حال اس کے برعکس تھی جس کو وہ اپنے ذہن میں بطور خود فرض کیے ہوئے تھا۔ p. 188

یہی حال زیادہ بڑے پیمانے پر تمام انسانوں کا ہے انسان موجودہ دنیا میں اپنے آپ کو آزاد پاتا ہے وہ سمجھتا ہے کہ جو کچھ اس کے پاس ہے وہ اس کی ملکیت ہے جب انسان کی موت آئے گی اس وقت اچانک اس کو معلوم ہوگا کہ یہ محض فریب تھا۔ اس نے امتحان کی آزادی کو استحقاق کی آزادی سمجھ لیا تھا اس نے خدا کے اثاثہ کو اپنا اثاثہ فرض کر لیا تھا وہ اپنے اعمال کے لیے خدا کے یہاں جواب دہ تھا مگر وہ اس غلط فہمی میں مبتلا ہو گیا کہ وہ خواہ کچھ بھی کرے کوئی اس سے پوچھ گچھ کرنے والا نہیں۔ p. 188

انسان ذمہ دار وجود ہے p. 188

دوستو وسکی (1821-1881) مشہور روسی ناول نگار ہے۔ اس کاایک کامیاب ناول ’’جرم و سزا ‘‘ ہے۔ اس ناول کا ہیرو ایک بد مزاج، کریہہ المنظر اور لاولد بوڑھی عورت کو اس لیے قتل کر دیتا ہے کہ اس کی بڑھتی ہوئی بے کار دولت کو اپنی اعلیٰ تعلیم کے حصول کا ذریعہ بنا سکے۔ جب یہ واقعہ ہوتا ہے تو ناول کے تمام کردار اور خود ناول کا قاری اس کو مجرم قرار دیتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ بڑھیا کی دولت اس کے قاتل کے لیے اتنی ہی مفید تھی جتنا کسی شیر کے لیے ہرن کا گوشت ہوتا ہے، مگر شیر ہرن کو مار کر اس کا خون پی جائے تو کسی کو یہ بات عجیب نہیں معلوم ہوتی اور نہ اس کے لیے کوئی تعزیری قانون بنانے کی ضرورت محسوس ہوتی۔ مگر اسی قسم کا فعل ایک انسان کرتا ہے تو ساری انسانیت چیخ اٹھتی ہے اور چاہتی ہے کہ قاتل کو اس کے فعل کی پوری سزا دی جائے۔ p. 189

اس کی وجہ کیا ہے اس کی وجہ صرف ایک ہے۔ اور وہ یہ کہ انسان کے متعلق یہ سمجھا جاتا ہے کہ وہ ایک ذمہ دار وجود ہے۔ اس کے ہر فعل کو صحیح اور غلط کی ترازو پر تولا جاتا ہے۔ جب کہ جانور اپنے اندر اس قسم کا کوئی اخلاقی شعور نہیں رکھتے۔ ان کے یہاں صرف مفید اور غیر مفید کی تقسیم ہے نہ کہ صحیح اور غیر صحیح کی۔ انسان ایک اخلاقی حیوان ہے جب کہ حیوان صرف حیوان۔ p. 189

انسان اور حیوان کا یہ فرق بتاتا ہے کہ انسان اور حیوان کا معاملہ یکساں نہیں۔ حیوان کو اس کے اعمال کے لیے کسی اخلاقی عدالت میں کھڑا نہیں کیا جاسکتا۔ جب حیوان کو اعمال کے اخلاقی پہلوئوں کا شعور ہی نہیں تو اس کو اخلاق کی عدالت میں مجرم کیسے ٹھہرایا جا سکتا ہے۔ مگر انسان کا معاملہ سرا سر مختلف ہے۔ انسان کے اندر معاملات کے بارے میں اچھے اور برے کا احساس ہونا ہی یہ ثابت کرنے کے لیے کافی ہے کہ انسان اپنے اعمال کے لیے اخلاق کے سامنے جواب دہ ہے۔ جس فعل پر آدمی کا اپنا اندرونی ضمیر اس کو مجرم ٹھہرارہا ہو اس کے لیے باہر کی عدالت میں مجرم ٹھہرانا عین فطری ہے۔ p. 189

تا ہم موجودہ دنیا میں ہم دیکھتے ہیں کہ یہاں کوئی ایسی عدالت نہیں جو آدمی کا اخلاقی احتساب کر سکے یہاں آدمی اپنی مجرمانہ کا رروائی کو خوبصورت الفاظ میں چھپا سکتا ہے وہ قانونی نکتے نکال کر اپنے کو عدالت کی گرفت سے بچا لیتا ہے وہ زور قوت کے ذریعہ اپنے خلاف تمام زبانوں کو بند کر دیتا ہے یہ صورت حال بتا تی ہے کہ انسان کا اخلاقی احتساب کرنے والی عدالت دنیا کے موجودہ حالات میں قائم نہیں کی جا سکتی اس کے لیے ایک اور دنیا درکار ہے جہاں وہ تمام مواقع کا مل صورت میں جمع ہوں جو اس پیچیدہ کا م کے لیے ضروری ہیں۔ p. 189

انسان کا المیہ p. 189

خدا نے ایک دنیا بنائی ۔بے حد حسین اور انتہائی لذیزدنیا۔ خدا نے اس دنیا میں آدمی کے لیے وہ سب کچھ جمع کر دیا جس کو وہ چاہتا ہے۔ اس کے بعد خدا نے اس پر کیف دنیا میں انسان کو بسایا اور لکھ دیا کہ — انسان اس دنیا کو صرف دیکھے گا وہ اس کو پا نہ سکے گا۔ p. 190original + quote

دنیا کا سکھ اور اس کی لذتیں آدمی کو اپنی طرف کھینچتی ہیں، مگر یہ ایک حقیقت ہے کہ اس دنیا کے سکھ اور اس کی لذتیں آدمی کے لیے نا قابل حصول ہیں۔ ایک شخص جس کو دنیا ابھی حاصل نہ ہوئی ہو وہ اپنے کو جتنا محروم سمجھتا ہے اتنا ہی وہ شخص بھی اپنے کو محروم پاتا ہے جس کو دنیا اپنی تمام رعنائیوں کے ساتھ حاصل ہو گئی ہو۔ p. 190

بمبئی کا ایک فلم پروڈیوسر ہے گل آنند۔ اس کی شادی ایک خوبصورت عورت سے ہوئی جس کا نام شوبھا تھا۔ بظاہر اس جوڑے کے پاس وہ سب کچھ تھا جس کی کوئی شحص تمنا کر سکتا ہے۔ بمبئی میں ان کے پاس کئی شاندار مکانات تھے، جہاں وہ خوشیوں کی جنت میں رہنے لگے۔مگر کچھ دنوں کے بعد انہیںایک کمی کا احساس ہونے لگا۔ وہ دو ہونے کے باوجود ابھی تک اولاد سے محروم ہیں۔ اس احساس نے دونوں کے درمیان ایک خاموش دوری پیدا کرنی شروع کی۔ p. 190

بالآخر انھوں نے ایک مقامی یتیم خانہ سے ایک چھوٹا بچہ اور ایک چھوٹی بچی حاصل کی۔ وہ بیٹے اور بیٹی کے طور پر ان کی پرورش کر نے لگے۔ تا ہم یہ مصنوعی تدبیر ان کی محرومی کے احساس کو ختم نہ کر سکی۔ دوری یہاں تک بڑھی کہ دونوں الگ مکانوں میں رہنے لگے۔ p. 190

شوبھا کے ڈاکٹروں نے تجویز کیا کہ اس کو ذہنی اختلال ہے۔ دس سال تک وہ اس مفروضہ کے تحت اس کا علاج کرتے رہے، مگر بے سود۔ بالآخر8فروری1983 کو یہ المناک کہانی ختم ہوگئی۔ شوبھا بمبئی میں پیڈار وڈ کے ’’نیلم بار ‘‘میں سولہویں منزل پر ایک اپارٹمنٹ میں رہتی تھی۔ اس نے 8 فروری کو اندر سے دروازہ بند کر لیا۔ پہلے اپنے بچوں کو کھڑکی سے باہر پھینکا اور اس کے بعد خود بھی چھلانگ لگا دی۔ تینو ں نیچے گرتے ہی مر گئے۔ انگریزی اخبار کی رپورٹنگ کے مطابق شوبھا کے شوہر (گل آنند ) نے اپنے تاثرات بیان کرتے ہوئے کہا : p. 190unverified

I don't know the exact medical terms for my wife's mental disorders. p. 191

اپنی بیوی کے ذہنی اختلال کو بیان کرنے کے لیے متعین طبی اصطلاح مجھے معلوم نہیں (ٹائمس انڈیا، بمبئی، 9فروری1983)۔ p. 191

چالیس سال بعد p. 191

31 جولائی 1984 کو دہلی فیض روڈ کے پاس ایک لاش ملی۔ اس کی عمر تقریباً ساٹھ سال تھی اور اس کو بری طرح قتل کر کے ایک پارک میں ڈال دیا گیا تھا۔ پولیس نے کافی کوشش کی اور اشتہارات دیے، مگر مقتول کی شناخت ممکن نہ ہو سکی۔ مقتول کے جسم پر جو قمیض تھی اس پر ’’آزاد ٹیلرس ‘‘ کا لیبل لگا ہوا تھا ۔مزید تحقیق سے معلوم ہواکہ اس پر کوڈ نمبر52بھی درج ہے۔ کافی تلاش و جستجو کے بعد آخر کا رپولیس ساون پارک کی ایک چھوٹی سی دکان تک پہنچی۔ اس دکان کے مالک صلاح الدین نے بڑی مشکل سے ’’پانڈے ‘‘نام کے ایک شخص کی نشاندہی کی۔ اس کے بعد پولیس قریب کے ’’کمال کلاتھ ہائو س‘‘ تک پہنچی جس نے بتایا کہ مذکورہ شخص کا پورا نام دیو نرائن پانڈے تھا۔ اس کا وطن فیض آباد تھا اور کام کے لیے وہ دہلی میں رہتا تھا۔ p. 191

دیونرائن پانڈے موزا ئک فرش کی پالش(mosaic floor polish) کا کام کرتا تھا۔ پولس کی یہ تحقیق جاری رہی ۔بالاآخر معلوم ہواکہ مذکورہ شخص نے چالیس سال پہلے ایک شخص کو کسی ذاتی رنجش کی بنا پر مار ڈالا تھا۔ اس مقتول کا بھتیجا مہندر کمار چودھری( 23 سال) بچپن سے اپنے گھر میں سنتا آیا تھا کہ پانڈے نے اس کے چچا کو قتل کیا ہے۔ اس کے دل میں انتقام کی آگ بھڑکی ہوئی تھی۔ چنانچہ اس نے دیو نرائن پانڈے سے دوستی کی اور ایک دن موقع پا کر اس کا قتل کر دیا۔ قاتل اب پولیس کی حراست میں ہے اور اس نے جرم کا اقبال کر لیا ہے (ہندستان ٹائمس، 14ستمبر 1984 ء) ۔ p. 191unverified

مہند ر کمار چودھری کا خاندان چالیس سال بعد بھی اپنے قاتل کو نہ بھلا سکا۔ اس کے انتقام کی آگ اس وقت تک ٹھنڈی نہ ہوئی جب تک اس نے مارنے والے کو مار نہ ڈالا۔ p. 192

ہر ماحول میں ایسا ہوتا ہے کہ ایک آدمی کو دوسرے آدمی سے شکایت پیدا ہو جاتی ہے۔ اس کا حل بدلہ لینا نہیں بلکہ بھلا دینا ہے۔ شکایت کو بھلا نا مسئلہ کو گھٹاتا ہے اور شکایت کا بدلہ لینا مسئلہ کو اور زیادہ بڑھا دیتا ہے۔ p. 192

مگر یہ کوئی آسان معاملہ نہیں۔ آدمی ایک کھوئی ہوئی چیز کو اسی وقت بھلا سکتا ہے جب کہ وہ اس سے بڑی چیز اپنے لیے پا لے۔ محرومی کو بھلانے کے لیے ہمیشہ کوئی بڑی چیز درکار ہوتی ہے اوریہ ’’بڑی چیز ‘‘ صرف آخرت ہے۔ آخرت کا عقیدہ آدمی کو وہ سب سے بڑی چیز دے دیتا ہے جس کے مقابلہ میں ہر چیز کم ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آخرت کو پانے والا ہر دوسری چیز کا کھونا گوارا کر لیتا ہے ۔ p. 192

31دن کے لیے p. 192

جنوری 1983 میں آندھرا پر دیش میں تلگو دیسم پارٹی بر سر اقتدار آئی تاہم16 اگست 1984کو گورنر مسٹر رام لال نے تلگو دیسم وزارت کو بر خاست کر دیا اور مسٹر نریندر بھاسکر رائو سے کہا کہ وہ کانگریس سے مل کر وزارت بنائیں۔ گورنر نے از روئے دستور یہ ہدایت کی کہ وہ 30دن کے اندر یہ ثابت کریں کہ 293 رکنی اسمبلی میں ان کی اکثریت ہے۔ p. 192

اس کے بعدممبروں کو توڑنے کی کوشش شروع ہوئی۔ کہا جاتا ہے کہ ایک ایک ممبر کی قیمت 20 لاکھ روپے تک لگا دی گئی (ہندستان ٹائمس، 13 ستمبر 1984 )۔ مگر معزول وزیر اعلیٰ مسٹر این ٹی رامارائو نے وزارت کی برخاستگی کے بعد اپنی پارٹی کے ممبران اسمبلی کو اپنے راما کرشنا اسٹو ڈیوز میں بند کر دیا۔ 30دن گزر گئے اور مسٹر بھا سکر رائو اسمبلی میں اپنی اکثریت ثابت کرنے کے قابل نہ ہو سکے۔ ان کی وزارت غیر قانونی ہو گئی۔ چنانچہ نئے گورنر شنکر دیال شرما نے 16 ستمبر 1984 کو نیا حکم جاری کیا جس کے مطابق مسٹر بھا سکررائو کو وزارت چھوڑ دینی پڑی اور مسٹر این ٹی راما رائو دوبارہ حکومت کے ایوان میں داخل ہو گئے ۔ p. 193

اس سلسلے میں ٹائمس آف انڈیا (19 ستمبر 1984 ) نے ایک خصوصی رپورٹ میں دکھایا ہے کہ مسٹر بھا سکر رائو نے اپنی مختصر وزارت کے دوران کیا کیا۔ انھوں نے حکومت کا ایک سو کرور روپیہ سے زیادہ کا فنڈ ریلیز کر دیا انھوں نے اسمبلی کے ممبروں کو کھلی پیشکش کردی کہ پارٹی چھوڑ کر آئو اور وزیر بن جاو۔ p. 193other source

Defect and be a minister p. 193

اس قسم کی تفصیلات پیش کرتے ہوئے اخبار مذکورہ کا نامہ نگار لکھتاہے کہ مسٹر بھاسکر رائو 31 دن تک وزیر اعلیٰ رہے۔ اس غیر یقینی مدت میں انھوں نے اس طرح عمل کیا گویا کہ وہ اس عہدہ پر ایک سو سال تک رہنے کے لیے آئے تھے p. 193original + quote

During his 31-day uncertain career as chief minister, Mr. Bhaskara Rao behaved and acted as if he had come to stay for a hundred year. p. 193

یہی ہر آدمی کا حال ہے موجودہ دنیا میں ہر آدمی صرف ’’30 دن ‘‘ کے لیے آیا ہے مگر وہ اس طرح رہتا ہے جیسے کہ وہ ’’ سو سال ‘‘ سے پہلے یہاں سے جانے والا نہیں۔ کیسا عجیب ہے موجودہ دنیا میں انسان کا آنا اور کیسا عجیب ہے اس کا یہاں سے جانا۔ p. 194

سب سے بڑی خبر p. 194

ایک نوجوان دہلی میں سرکاری ملازم ہیں۔ان سے میری پرانی ملاقات ہے۔ایک روز میں کسی کام سے باہر گیا ہواتھا ،رات کوواپس آیا تو گھر والوں نے بتایا کہ آج مذکورہ نوجوان کئی بارآپ سے ملنے کے لیے آچکے ہیں۔ابھی باتیں ہورہی تھیں کہ گھنٹی بجی۔دروازہ کھولا گیا تو مذکورہ نوجوان تیسری بار مجھ سے ملنے کے لیے دروازے پر موجود تھے۔مجھ کو دیکھتے ہی وہ مسکرا کر بولے ’’آج میںآپ کو ایک خوش خبری دینے آیا ہوں‘‘۔ اس کے بعد انھوں نے بتایا کہ میرا پروموشن ہوگیا ہے اوراب میری تنخواہ میں سوروپیہ ماہوار کا اضافہ ہوجائے گا۔ p. 194

میں نے سوچا کہ آدمی کے پاس اگر کوئی اہم خبر ہوتو وہ اس کو چھپانے پر قادر نہیں ہوسکتا۔اہم خبر کو آدمی بتا کر رہتا ہے۔بلکہ وہ ڈھونڈتا ہے کہ کوئی ملے تاکہ وہ اس کو بتا سکے۔کسی نے نئی کار خریدی ہویا نیا مکان بنایا ہو تو اس کا چر چاکیے بغیر وہ رہ نہیں سکتا۔کسی مجلس میں اگر اس کی کاریااس کا مکان موضو ع گفتگو نہ ہو تو وہ کسی نہ کسی طرح موضوع کو بدل کر ایسے رخ پر لاتا ہے کہ وہ اپنی نئی کار اورنئے مکان کی خبر لوگوں کو دے سکے۔یہ انسانی فطرت ہے۔کوئی بھی انسان ایسا نہیں ہوسکتا کہ وہ اپنی اہم خبر کو دوسروں کو سنانے کے لیے بے قرار نہ رہتا ہو۔ p. 194

آج بے شمار آوازیں فضا میں پھیلی ہوئی ہیں۔ہر ایک کے پاس کوئی نہ کوئی پیغام ہے جس کو وہ دوسروں تک پہنچانا چاہتا ہے۔مگر سنانے والوں کی بھیڑ میں کوئی آخرت کی خبر سنانے والا نہیں۔کوئی جنت اورجہنم سے آگاہ کرنے والا نہیں۔اس کا مطلب یہ ہے کہ بولنے اورلکھنے والوں کے پاس آخرت کی خبرہی نہیں۔ہر ایک کے پاس دنیا کی کوئی نہ کوئی خبرہے۔آخرت کی خبر کسی کے پاس موجو د ہی نہیں۔اگرکسی کے پاس آخرت کی خبر ہوتی تو وہ اس کو سنائے بغیر نہیں رہ سکتا تھا۔بلکہ آخرت کی غیر معمولی اہمیت کی بنا پر اس کا یہ حال ہوتا ہے کہ اس کے لیے کوئی دوسری خبر ،خبر نہ ہوتی جس کو سنانے کے لیے وہ لوگوں کے سامنے کھڑا ہو۔وہ اپنی ساری طاقت اورسارا وقت بس آخرت کی خبر سنانے میں لگا دیتا، جہنم سے ڈرانے اورجنت کی خوش خبری دینے کے سواکوئی کام اس کو کام نظر نہ آتا۔ p. 194

اگر یہ معلوم ہوکہ اگلے چند لمحہ کے بعد بھونچال آنے والا ہے یا آتش فشاں پھٹنے والا ہے تو ہر آدمی اسی کا تذکرہ کرنے میں مشغول ہوگا۔ہردوسری بات کو بھول کر لوگ آنے والے ہولناک لمحہ پر بات کرتے ہوئے نظر آئیں گے۔مگر تقریر کرنے والے تقریریں کر رہے ہیں اورمضامین لکھ رہے ہیں مگر یہ سب چیزیں قیامت کے تذکرہ سے اس طرح خالی ہوتی ہیں جیسے کہ لوگوں کو آنے والے ہولناک دن کی خبر ہی نہیں۔ p. 195

آدمی اکثر اپنے گردوپیش کے مسائل میں الجھا رہتا ہے ،ذاتی یا قومی قسم کے معاشی اورسیاسی اورسماجی واقعات جن کا وہ اپنے آس پاس تجربہ کرتا ہے وہ انہیںکو واقعہ سمجھتا ہے اورانہیںکے چرچے میں مشغول رہتا ہے۔مگر سب سے بڑا مسئلہ قیامت کامسئلہ ہے۔ قیامت ہماری نگاہوں سے اوجھل ہے، مگر وہ ہونے والے تمام واقعات میں سب سے بڑا واقعہ ہے ،وہ تمام واقعات سے زیادہ اس قابل ہے کہ اس کاچرچا کیا جائے۔ p. 195

کل کو جانیے p. 195

ضیاء الرحمٰن (1936-1981)سابق صدر بنگلہ دیش ڈھاکہ سے چاٹگام گئے۔وہاں وہ 30مئی 1981کو سرکاری ریسٹ ہائوس میں آرام کررہے تھے کہ رات کے وقت ان پر حملہ کر کے انہیںہلاک کردیا گیا۔ان کو ہلاک کرنے والا بنگلہ دیش کا ایک فوجی افسر میجر جنرل منظور تھا۔میجر جنرل منظورنے یہ گمان کیاتھا کہ صدر ضیاء الرحمٰن کو اقتدار سے ہٹانے کے بعد بنگلہ دیش کی حکومت پر قبضہ کرلیں گے۔مگر ان کا اندازہ غلط نکلا فوج کے ایک دستہ کے سوا عام فوجیوں نے ان کا ساتھ نہیں دیا۔صرف دو دن بعد2جون 1981کو مخالف فوجیوں نے انہیںگولی مارکر ہلاک کردیا۔ p. 195

جنرل منظور کا جو انجام ہواوہی اس دنیا میں ہر آدمی کا انجام ہورہا ہے۔کسی کابظاہر فوج کی گولی کے ذریعہ ہوتا ہے اورکوئی فرشتوں کے ذریعہ موت کے انجام تک پہنچا دیا جاتا ہے۔مگر کوئی اس سے سبق نہیں لیتا کوئی ’’جنرل منظور ‘‘یہ نہیں سوچتا کہ اپنے حریف کو قتل کرنے کے اگلے ہی دن وہ بھی قتل کردیا جائے گا۔دوسرے کو موت کے گڑھے میں گرانے کے بعد وہ خود بھی لازمی طور پر موت کے گڑھے میں دھکیل دیا جائے گا۔ p. 195

یہ دنیا امتحان کی جگہ ہے۔اس دنیا میں ہر آدمی کو کسی نہ کسی دائرہ میں اقتدار دیا جاتا ہے۔کسی کے اختیار کا دائرہ بڑاہے اورکسی کا دائرہ چھوٹا۔مگر عجیب بات ہے کہ ہر آدمی اپنے دائرہ میں وہی بن جاتا ہے جو دوسرا اپنے دائرہ میں بنا ہوا ہے۔یہاں ہر شخص ’’جنرل منظور‘‘ ہے۔ہر شخص دوسرے کی کاٹ میں لگا ہوا ہے۔ہر شخص دوسرے کی نفی پر اپنا اثبات کرنا چاہتا ہے۔ہرشخص اپنی حیثیت کا غلط اندازہ کرکے سمجھتا ہے کہ اگر اس نے دوسرے کو اس کے مقام سے ہٹا دیا تو اس کا خالی مقام اسے مل جائے گا۔وہ بھول جاتا ہے کہ جو چیز اس کاانتظار کررہی ہے وہ کسی کا خالی مقام نہیں بلکہ خود اس کی اپنی قبر ہے۔ p. 196

ہر شخص جو آج اپنے کو کامیاب سمجھتا ہے وہ کل اپنے کو ناکام دیکھنے پر مجبور ہوتا ہے۔یہ واقعہ ہر روز ہورہا ہے۔مگر کوئی بھی شخص آج کے بعد آنے والے کل کو نہیں دیکھتا۔ہر شخص اپنے ’’آج ‘‘کو جاننے کاماہر ہے ،کسی کو اپنے ’’کل ‘‘کی خبر نہیں۔ p. 196

اپنے آج کو جاننے والو،اپنے کل کو جانو۔کیونکہ بالآخر تم جس سے دو چار ہونے والے ہووہ تمھارا کل ہے نہ کہ تمھارا آج۔ p. 196

آنے والا طوفان p. 196

11اگست 1979کو موروی (گجرات)میں اچانک ایک سیلاب آیا جس نے پوری بستی کو تہس نہس کردیا۔بستی کے کنارے ایک بڑا بند تھا۔غیر معمولی بارش سے اس کا پانی بہت اونچا ہوگیا۔یہاں تک کہ اس نے بند کو توڑ ڈالا۔ایک مشاہدکے الفاظ میں ’’تقریباً 20فٹ اونچی پانی کی دیوار ‘‘اتنی تیزی کے ساتھ بستی کے اندر داخل ہوئی کہ کوئی اس سے بچ نہ سکتا تھا۔چند گھنٹوںکے اندرپانی کا یہ طوفان بستی کی تمام چیزوں کو برباد کرکے نکل گیا۔اندازہ ہے کہ تقریباً 25ہزار آدمی اس اچانک سیلاب میں مرگئے۔جب کی بستی کی کل آبادی تقریباً 40ہزار تھی بربادی کااندازہ اس سے کیا جاسکتا ہے کہ دیگر چندوں کے علاوہ صرف مرکزی حکومت نے فوری امداد کے طور پر پانچ کروڑروپے حکومت گجرات کودیے ہیں۔ p. 196original + quote

ایک انگریزی اخبار کے نامہ نگار ارن کمار نے جو چشم دیدرپورٹ (ہندستان ٹائمس 19اگست 1979)شائع کی ہے اس میں کہا گیا ہے کہ جو لوگ بچے ہیں ان میں سے ہرشخص کے پاس بتانے کے لیے ایک پُر درد کہانی ہے۔ان کو جو صدمہ اورتکلیف پہنچی ہے اس کے احساس سے وہ ابھی تک نکل نہیں سکے ہیں ،کچھ کا حال یہ ہے کہ انھوں نے اپنی گویائی کھودی ہے۔وہ بالکل سراسیمہ اورہکا بکا دکھائی دیتے ہیں : p. 197other source

Some have lost their speech and look absolutely dazed and blank. p. 197

ایک اور خبر میں بتایا گیا ہے ایک تباہ حال زمین دارکو اس وقت حیرت ناک خوشی ہوئی جب سرکاری ذمے داروں نے اس کو 18ہزار روپے نقد 225گرام سونے کے زیورات یہ کہہ کر دئیے کہ یہ تمھارے گھر کے اندر سے دستیاب ہوئے ہیں (ہندستان ٹائمس 20اگست 1979)۔ p. 197other source

اس طرح کے واقعات جو زمین پر روزانہ ہوتے رہتے ہیں ،وہ اس لیے ہوتے ہیں تاکہ آدمی آخرت کے دن کو یاد کرے۔آخرت کا عظیم تر سیلاب بھی بالکل اچانک آئے گا۔بہت سے لوگ اس دن اس طرح بربادہوں گے کہ ان کے الفاظ کے ذخیرے تک ختم ہوجائیں گے جو دنیا میں ہر آدمی کو نہایت وافر مقدار میں حاصل ہیں۔ان کی چلتی ہوئی زبانیں بند ہوجائیں گی۔وہ سراسیمہ نظروں سے اپنی ہولناک بربادی کو دیکھیں گے اور کچھ بول نہ سکیں گے۔دوسری طرف کچھ ایسے لوگ بھی ہوں گے جن کو یہ خوش خبری دی جائے گی کہ ہلاکت اوربربادی کے عمومی طوفان نے تم کو کچھ نقصان نہیں پہنچایا۔تمھارا بہترین اثاثہ اللہ کے مزید انعام کے ساتھ آج تمھارے حوالے کیا جائے گا۔ایک ہی سیلاب کچھ لوگوں کو جہنم میں دھکیل دے گااور کچھ لوگوں کے لیے وہ جنت کی ابدی خوشیوں میں داخلہ کا دن بن جائے گا۔’’سیلاب ‘‘سے پہلے آدمی کا حال یہ ہے کہ وہ اپنی ہر ظالمانہ روش کو درست ثابت کرنے کے لیے شاندارالفاظ پالیتا ہے۔مگر ’’سیلاب‘‘ کی ہولناکی کو دیکھتے ہی اس کا سارا زورختم ہوجائے گا اورایسا معلوم ہوگا گویا اس کے پاس الفاظ ہی نہیں ہیں جن سے وہ اپنی روش کی صفائی پیش کرسکے۔ p. 197

اس وقت کیا ہو گا p. 197

بخاری نے حضرت عبداللہ بن مسعود سے روایت کیا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے کہاکہ مجھے قرآن کا کوئی حصہ پڑھ کر سنائو۔ میں نے کہا، اے خدا کے رسول میں آپ کو قرآن سنائوں اور وہ آپ کے اوپر اتر ا ہے۔ آپ نے فرمایا مجھے پسند ہے کہ میں قرآن کو اپنے سوا دوسرے سے سنوں۔ میں نے سورہ نساء پڑھنی شروع کی، یہاں تک کہ میں اس آیت پر پہنچا:فَكَيْفَ إِذَا جِئْنَا مِنْ كُلِّ أُمَّةٍ بِشَهِيدٍ وَجِئْنَا بِكَ عَلَى هَؤُلَاءِ شَهِيدًا (4:41)۔ یعنی،پھرکیا ہو گا جب ہم ہر قوم سے ایک گواہ کھڑا کریں گے اور ان لوگوں پر تم کو گواہ بنا کر لائیں گے ۔آپ نے فرمایا بس کرو۔ میں نے دیکھا تو آپ کی دونوں آنکھوں سے آنسو جاری تھےفَإِذَا عَيْنَاهُ تَذْرِفَانِ (صحیح البخاری، حدیث نمبر4582)۔ p. 198unverified

وہ وقت کیسا عجیب ہو گا جب خدا کی عدالت قائم ہو گی۔ کسی کے لیے ڈھٹائی اور انکار کا موقع نہ ہو گا۔ وہی شخص جس کو دنیا میں لوگوں نے بے قیمت سمجھ کر نظر انداز کر دیا تھا اسی کو خدا کی طرف سے اس خاص بندہ کی حیثیت سے سامنے لایا جائے گا جس کو خدا نے اپنی طرف سے لوگوں کو آنے والے دن سے باخبر کرنے کے لیے چنا تھا۔ جس کو لوگوں نے اپنے درمیان سب سے کمزور آدمی سمجھ لیا تھا وہی اس وقت خدا کے حکم سے وہ شخص ہو گا جس کی گواہی پر لوگوں کے لیے جنت اور جہنم کا فیصلہ کیا جائے۔ p. 198

ان لوگوں کا اس وقت کیا حال ہو گا جو دنیا میں بہت بولنے والے تھے مگر وہاں اپنے آپ کو گونگا پائیں گے۔ جو دنیا میں عزت اور طاقت والے سمجھے جاتے تھے وہاں اپنے آپ کو بالکل بے زور دیکھنے پر مجبور ہو ں گے۔ جب ان کا ظاہری پردہ اتارا جائے گا اور لوگ دیکھیں گے کہ دین کا لبادہ پہننے والے دین سے بالکل خالی تھے۔ جب کتنی سفیدیاں کالی نظر آئیں گی اور کتنی رونقیں اتنی قبیح ہو جائیں گی کہ لوگ اس کی طرف نظر کرنے سے بھی گھبرائیں گے۔ p. 198

موجودہ دنیا میں لوگ مصنوعی غلافوں میں چھپے ہوئے ہیں کسی کے لیے خوبصورت الفاظ اس کی اندرونی حالت کا پردہ بنے ہوئے ہیں اور کسی کے لیے اس کی مادی رونقیں۔ مگر آخر ت میں لوگوں کے الفاظ بھی ان سے چھن جائیں گے اور ان کی مادی رونقیں بھی۔ اس وقت ہر آمی اپنی اصلی صورت میں سامنے آجائے گا کیسا سخت ہو گا وہ دن۔ اگر آج لوگوں کو اس کا اندازہ ہو جائے تو ان کے الفاظ کی شدت ختم ہو جائے ، کسی چیز میں ان کے لیے لذت باقی نہ رہے دنیا کی عزت بھی ان کو اتنی ہی بے معنی معلوم ہو جتنا دنیا کی بے عزتی۔ p. 198

نامعلوم مستقبل p. 198

آدمی اس دنیا میں معصوم کلی کی طرح پیدا ہو تاہے۔ اس کے والدین امنگوں اور حوصلوں کے ساتھ اس کو پالتے ہیں۔ وہ بڑا ہوتا ہے۔ اس کے بعد وہ ایک ایسی دنیا میں اپنی زندگی کی جدوجہد شروع کرتا ہے جہاں اس کے لیے تلخ تجربات اور نا خوشگوار یادوں کے سوا اور کوئی چیز موجودہ نہیں۔ p. 199

انسان آرزئوں کے محل بناتا ہے، صرف اس لیے کہ سنگین حقائق اس کی نفی کر کے اس کو ہمیشہ کے لیے مٹا دیں وہ حوصلوں کی دنیا آباد کرتا ہے۔ مگر اس کے حوصلے صرف اس کے دماغ میں رہ جاتے ہیں۔ وہ خارجی دنیا میں واقعہ نہیں بنتے۔ وہ امیدیں قائم کرتا ہے، مگر بہت جلد اس کو معلوم ہوتا ہے کہ اس کی امیدیں فرضی سپنے کے سوا اور کچھ نہ تھیں۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ زندگی ایک نازک شیشہ ہے جو صرف اس لیے دنیا میںآتی ہے کہ حالات کی چٹان سے ٹکرا کر چور چور ہو جائے۔ p. 199

آدمی موجودہ دنیا میں اپنی زندگی کا آغاز سنہری آرزئوں کے ساتھ کرتا ہے۔ مگر بالآخر جو چیز اس کے حصہ میں آتی ہے وہ صرف آرزئوں کا ایک قبرستان ہے جو اس کے سینے میں دفن ہو کر رہ جاتا ہے۔ کیسی کیسی امیدیں ،کیسی کیسی تمنائیں اور کیسے کیسے خواب ہو تے ہیں جن کی وہ اپنی روح کے سب سے نازک گوشہ میں پرورش کرتا ہے،مگر سب کا سب نا تمام رہتاہے ۔وہ حسرتوں کا قبرستان بنا ہوا زندگی کے دن پورے کرتا ہے۔یہاں تک کہ وہ وقت آجاتا ہے جب کہ وہ ایک نامعلوم مستقبل کی طرف دھکیل دیا جائے۔ p. 199

انسان کا ماضی امیدوں اور تمنائوں کا ماضی ہے اس کا حال نا کامیوں اور حسرتوں کا بہت بڑا مزار ہے اور اس کا مستقبل ایک نا معلوم دنیا کی طرف چھلانگ لگانا ہے۔ کیسا عجیب ہے یہ آغاز اور کیسا عجیب ہے اس کا انجام۔ p. 199

خدا نے ایسا کیوں کیا۔ اس کی کم از کم ایک وجہ یہ ہے کہ آدمی زندگی کے بارے میں سنجیدہ ہو ۔وہ زندگی میں کھو جانے کے بجائے زندگی کے آغاز و انجام کے بارے میں سوچے۔ جو شخص سنجیدگی کے ساتھ اس معاملہ میں سوچے گا وہ اس کامل حکمت کو پالے گا جس کی طرف یہ ناقص دنیا ہر آن اشارہ کر رہی ہے۔ p. 199

الٹا رُخ p. 200

ایک مولوی صورت آدمی ایکسپریس ٹرین کے فرسٹ کلاس میں داخل ہوا ۔اس کے سوا کیبن میں تین اور مسافر تھے اور تینوں پورے معنوں میں ’’ مسٹر ‘‘ تھے۔ مذکورہ مسافر کے سادہ لباس اور اس کے چہرے کی شرعی داڑھی نے اس کو اس ماحول میں اجنبی بنا دیا۔ p. 200

کئی اسٹیشن گزر گئے۔ تینوں مسٹر آپس میں باتیں کرتے رہے مگر کسی نے مولوی کی طرف رخ نہیں کیا۔ مولوی شاید ان کے نزدیک اس قابل نہ تھا کہ اس سے بات کی جائے۔ آخر مولوی نے یہ کیا کہ اگلے اسٹیشن پر ایک انگریزی اخبار خریدا اور اس کو ہاتھ میں لے کر الٹی طرف سے دیکھنے لگا۔ مسٹر صاحبان یہ منظر دیکھ کر ہنس پڑے۔ ایک شخص نے دوسرے سے انگریزی میں کہا۔ اس مولوی کو دیکھو الٹی طرف سے اخبار پڑھ رہا ہے۔ دوسرا بولا یہ شخص جب انگریزی نہیں جانتا تو اس کو خواہ مخواہ انگریزی اخبار خریدنے کی کیا ضرورت تھی۔ p. 200

مسٹر صاحبان کو یقین تھا کہ مولوی ان کی گفتگو کو سمجھ نہیں رہا ہے۔ ان کو معلوم نہ تھا کہ مولوی ان سے زیادہ انگریزی جانتا ہے۔ اس کے بعد مولوی ان کی طرف مخاطب ہوا اور انگریزی زبان میں مسلسل بولنا شروع کیا۔ اس نے انگریزی میں کہا کیا یہ کوئی قانونی جرم ہے کہ اخبار کو الٹی طرف سے پکڑا جائے۔ آخر آپ نے کیسے سمجھ لیا کہ میں انگریزی زبان نہیں جانتا۔ اس کے بعد اس نے گفتگو کو دوسری طرف موڑ دیا۔ اس نے کہا:ایک اخبار کو الٹی طرف سے پکڑنا آپ کو اتنا عجیب معلوم ہوا مگر معاف کیجیے آپ اور آپ جیسے بے شمار لوگ پوری زندگی کو الٹی طرف سے پکڑے ہوئے ہیں۔ p. 200

زندگی کو غیر مادی مقصد کی طرف سے پکڑنا چاہیے اور لوگ اس کو مادی مقاصد کی طرف سے پکڑے ہوئے ہیں۔ اس کو روح کی طرف سے پکڑنا چاہیے اور لوگ اس کو جسم کی طرف سے پکڑے ہوئے ہیں۔ زندگی کو دیکھنے کا صحیح رخ یہ ہے کہ اس کو آخرت کی طرف سے دیکھا جائے۔ مگر لوگ اس کو دنیاکی طرف سے دیکھ رہے ہیں۔ ہمارا سب سے اہم مسئلہ موت ہے، مگر تمام لوگ زندگی کو سب سے اہم مسئلہ بنائے ہوئے ہیں۔ صحیح بات یہ ہے کہ خدا کی نظر سے انسان کو دیکھا جائے، مگر آج سارے لوگوں کا یہ حال ہے کہ وہ انسان کی نظر سے خدا کو دیکھ رہے ہیں۔ p. 200

اخبار کا الٹا رخ ہر ایک کو دکھائی دے رہا ہے اور زندگی کا الٹا رخ کسی کو نظر نہیں آتا۔ کیسے عجیب ہیں وہ لوگ جو اپنے کو دیکھنے والا سمجھتے ہیں، مگر ان کو وہی چیز دکھائی نہیں دیتی جس کو انہیںسب سے زیادہ دیکھنا چاہیے۔ p. 201

انجینئرنگ کافی نہیں p. 201

ڈاکٹر فضل الرحمٰن خاں دنیا کے مشہور ترین تعمیراتی انجینئر تھے۔ وہ ڈھاکہ میں پیدا ہوئے کلکتہ میں تعمیراتی انجینئرنگ کی تعلیم حاصل کی۔ اس کے بعد اس فن میں امریکاسے ڈاکٹر کی ڈگری لی۔ 1963 میں انھوں نے شکاگو میں 43 منزلہ عمارت کا ٹھیکہ لے کر اپنی زندگی کا آغاز کیا۔اپنی غیر معمولی ذہانت کی وجہ سے انھوں نے اس میدان میں مجتہدا نہ کارنامے انجام دئے۔ شکاگو میں 110 منزلہ عمارت سیئرز ٹاور(Sears Tower) بنانے کے بعد انھوں نے جدید تعمیرات میں عالمی شہرت حاصل کی۔دنیا کی یہ سب سے اونچی عمارت ان کے اپنے وضع کردہ غیر روایتی اصولوں پر بنائی گئی ہے جس کو Tubular Designکہا جاتا ہے(ہندستان ٹائمس، 9 مئی 1982)۔ p. 201original + quote

ڈاکٹر فضل الرحمٰن خاں کو اپنی غیر معمولی کامیابی کے باوجود قلبی سکون حاصل نہ تھا۔ مسٹر کے ایم املادی 1976 میں فضل الرحمٰن خاں کے شکاگو کے دفتر میں ملے تھے۔ مسٹر املادی نے انہیںان کی کامیابیوں پر مبارک باد دی مگر ڈاکٹر فضل الرحمٰن نے اس کو سادہ چہرے کے ساتھ سنا۔ انھوں نے گفتگو کے دوران مسٹر املادی سے کہا کہ زندگی انجینئرنگ سے زیادہ ہے۔ p. 201

Life is more than engineering. p. 201

27مارچ 1982 کو ڈاکٹر فضل الرحمٰن خاں کا اچانک اس وقت انتقال ہو گیا جب کہ ان کی عمر صرف 52 سال تھی۔ فضل الرحمٰن خاں نے تعمیراتی انجینئرنگ میں جو اجتہادی اصول وضع کیے۔ ان کو مزید آگے بڑھاتے ہوئے جرمن انجینئر رابرٹ گیبریل(Robert Gabriel) نے 365 منزلہ عمارت کا منصوبہ بنایا ہے جو زمین سے ایک میل اونچی ہو گی۔مسٹر املادی نے اپنی ملاقات میں ڈاکٹر فضل الرحمٰن خاں سے پوچھا کہ کیا وہ ایسی عمارت کی تعمیر کو ممکن سمجھتے ہیں۔ فضل الرحمٰن خاں نے اثبات میں جواب دیا۔ اس واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے املادی اپنے مضمون کو اس جملہ پر ختم کرتے ہیں کہ آئندہ یورپ اور امریکامیں ایسی اونچی عمارتیں کھڑی ہو چکی ہوں گی، مگر افسوس کہ وہی آدمی ان کو دیکھنے کے لیے موجودہ نہ ہو گا جس نے ایسی عمارتوں کی تعمیر کو ابتدائی طور پر ممکن بنایا تھا۔ p. 202

The man who laid the foundation for making them possible, alas, will no longer be there to witness them. p. 202

دنیا اورآخرت p. 202

انسان کی سب سے بڑی طلب کیا ہے۔یہ کہ اس کو خوشیوں سے بھری ہوئی ایک زندگی حاصل ہو۔یہی ہر زمانہ میں آدمی کا سب بڑا خواب رہا ہے۔ہر آدمی اسی تمنا کو لے کر جیتا ہے۔مگر ہر آدمی اس تمنا کی تکمیل کے بغیر مرجاتا ہے۔سارے فلسفے اورنظریات ،تمام انسانی کوششیں اسی ایک چیز کے گرد گھوم رہی ہیں۔مگر آج تک انسان نہ فکری طورپر اس کو دریافت کرسکا اورنہ عملی طور پر اس منزل تک پہنچنے میں کامیاب ہوسکا۔ p. 202

اس ناکامی کی وجہ صرف ایک ہے۔تمام لوگ اپنے خواب کی تعبیر اسی موجودہ دنیا میں پانا چاہتے ہیں۔مگر ہزاروں برس کے تجربہ نے صرف ایک چیز ثابت کی ہے۔یہ کہ موجودہ دنیا اس آرزو کی تکمیل کے لیے ناکافی ہے۔موجودہ دنیا کی محدودیت ،موجودہ دنیا میں انسانی آزادی کا غلط استعمال انتہائی فیصلہ کن طورپر اس میں مانع ہے کہ موجودہ دنیا انسانی خوابوں کی تعبیر بن سکے۔ p. 202

ہم زندگی کو کامیاب بنانے کی طرف ابھی سفر کررہے ہوتے ہیں کہ ہم کو موت آجاتی ہے۔ہم مشینی ترقیاں وجود میں لاتے ہیں مگرصنعتی مسائل پیداہوکر ساری ترقی کو بے معنی بنا دیتے ہیں۔ہم بے پناہ قربانیاں کرکے ایک سیاسی نظام کو وجود میں لاتے ہیں مگر اقتدار کی کرسی پر بیٹھنے والوں کا بگاڑاس کو عملاً بے نیتجہ بنا دیتا ہے۔ہم اپنی پسند کے مطابق ایک زندگی بنانے کی کوشش کرتے ہیں مگر دوسرے انسانوں کا بغض ،حسد ،گھمنڈ،ظلم اورانتقام ظاہر ہوکر ہم کو الجھا لیتا ہے اورہم اپنے آشیانہ کو خود اپنی آنکھوں سے بکھرتا ہوا دیکھ کر اس دنیا سے چلے جاتے ہیں۔ p. 203

یہ مسلسل تجربات ثابت کرتے ہیں کہ ہمارے خوابوں کی دنیا موجودہ زمینی حالات میں نہیں بن سکتی۔اس کے لیے دوسری دنیا اوردوسرے حالات درکار ہیں۔آدمی کی تمنائیں بجائے خود ایک حقیقی انسانی طلب ہیں۔مگر اس طلب کی تکمیل کی جگہ موت کے بعد آنے والی اگلی دنیا ہے نہ کہ موت سے پہلے کی موجودہ دنیا۔ p. 203

یہی واحد چیز ہے جو ہماری دنیا کی زندگی کو بامعنی بناتی ہے۔اس کے بعد موجودہ دنیا جدوجہد کی دنیا بن جاتی ہے اوراگلی دنیا جدوجہد کا انجام پانے کی دنیا۔اس کے بعد آدمی اپنی وہ منزل پالیتا ہے جس کی طرف وہ مطمئن ہوکر بڑھ سکے۔موجودہ دنیا کو منزل سمجھنے کی صورت میں آدمی بالآخر مایوسی اورانتشار ذہنی کے سوا اورکہیں نہیں پہنچتا۔جب کہ آخرت کی دنیا کو منزل سمجھنے کا عقیدہ اس کے سامنے ابدی سکون کا دروازہ کھول دیتا ہے۔ایک ایسی دنیا جہاں کھونے کے سوا اورکچھ نہ ہو۔ وہاں وہی نظریہ صحیح ہوسکتا ہے جوکھونے میں پانے کا راز بتارہاہو۔ p. 203

کچھ کام نہ آئے گا p. 203

ایک صاحب سے بات ہورہی تھی۔20سال پہلے وہ معمولی مکینک تھے۔اب وہ تقریباً دودرجن مشینوں کے مالک ہیں۔ان کے کئی کارخانے چل رہے ہیں۔میں نے ایک ملاقات میں کہا:آپ نے ماشاءاللہ اپنے کاروبار میں ترقی کی ہے۔انھوں نے خوشی اوراعتماد کے لہجہ میں جواب دیا:اتنی کمائی کرلی ہے کہ بچے کچھ نہ کریں تب بھی وہ سو سال تک آرام سے کھاتے رہیں گے۔ p. 203

یہ ایک انتہائی مثال ہے۔تاہم موجودہ زمانہ میں ہر آدمی کا یہی حال ہورہا ہے۔ہر آدمی اپنے اپنے دائرہ میں یہی یقین لیے ہوئے ہے کہ اس نے اپنے معاملات کو درست کرلیا ہے۔اسے اب کسی خطرہ کی ضرورت نہیں۔کم از کم ’’سو سال ‘‘تک تو بالکل نہیں۔ p. 204

کوئی اپنے بڑوںکوخوش کرکے مطمئن ہے۔کسی کو یہ فخرہے کہ اس نے اپنے قانونی کاغذات کو پکا کرلیا ہے۔کسی کو اپنے قابل اعتماد ذریعہ معاش اوراپنے بینک بیلنس پر نازہے۔کوئی اپنے بازؤوں کی قوت اوراپنی دادا گیری پر بھروسہ کیے ہوئے ہے۔کسی کے پاس کچھ نہیں تو جس کے پاس ہے وہ اس سے خوشامد اورمصالحت کا تعلق قائم کرکے سمجھتا ہے کہ اس نے بھی ایک چھتری حاصل کرلی ہے ،اب اس کا کچھ بگڑنے والا نہیں۔ p. 204

مگر بھونچال جب آتا ہے تو اس قسم کے تمام بھروسوں کو باطل ثابت کردیتا ہے۔ بھونچال کے لیے پکے محل اورکچی جھونپڑیوں میں کوئی فرق نہیں۔طاقت ور اورکمزور دونوں اس کے نزدیک یکساں ہیں۔وہ بے سہارالوگوں کو بھی اسی طرح تہس نہس کر دیتا ہے جس طرح ان لوگوں کو جومضبوط سہارا پکڑے ہوئے ہیں۔بھونچال یہ یاد دلاتا ہے کہ اس دنیا میں آدمی کس قدر بے بس ہے۔ p. 204

یہ بھونچال خدا کی ایک پیشگی نشانی ہے جو بتاتی ہے کہ ہر ایک کے لیے بالآخر کیا ہونے والا ہے۔بھونچال ایک قسم کی چھوٹی قیامت ہے جو بڑی قیامت کا پتہ دیتی ہے۔جب ہولناک گڑگڑاہٹ لوگوں کے اوسان خطا کردیتی ہے۔جب مکانات تاش کے پتوں کی طرح گرنے لگتے ہیں۔جب زمین کا نچلا حصہ اوپر آجاتا ہے اورجو اوپرتھا وہ نیچے دفن ہوجاتا ہے۔اس وقت انسان جان لیتا ہے کہ وہ قدرت کی طاقتوں کے آگے بالکل عاجز ہے۔ اس کے لیے صرف یہ مقدر ہے کہ بے بسی کے ساتھ اپنی بربادی کا تماشہ دیکھے اوراس کے مقابلہ میں کچھ نہ کرسکے۔ p. 204

قیامت کا بھونچال موجودہ بھونچال سے اربوں اور کھربوں گنازیادہ سخت ہوگا۔اس وقت سارے سہارے ٹوٹ جائیں گے۔ہر آدمی اپنی ہوشیاری بھول جائے گا۔عظمت کے تمام منارے اس طرح گرچکے ہوں گے کہ ان کا کہیں وجودہ نہ ہوگا۔اس دن وہی سہارے والا ہوگا جس نے موجود ہ چیزوں کو بے سہاراسمجھاتھا۔اس دن وہی کامیاب ہوگاجس نے اس وقت خدا کو اپنا یاتھا جب سارے لوگ خدا کو بھول کر دوسری دوسری چھتریوں کی پناہ لیے ہوئے تھے۔ p. 204

ہرطرف فریب p. 205

آج کی دنیا فریب کی دنیا ہے۔آج کے انسان کو ایسے نعرے مل گئے ہیں جن سے وہ اپنی شخصی لوٹ کی سیاست کو قومی خدمت کی سیاست ظاہر کرسکے۔ہر آدمی ایسے الفاظ کا ماہر بنا ہوا ہے جو اس کے ظلم وفسادکو عین حق وانصاف کا روپ دے سکیں۔ہر آدمی کو ایسے قانونی نکتے ہاتھ آگئے ہیں جو اس کے جرم کو بے گنا ہی کا سرٹیفکیٹ عطا کردیں۔ p. 205

یہ دنیا پرستوں کا حال ہے۔مگر خدا پرستوں کا معاملہ بھی اس سے کچھ مختلف نہیں۔یہاں بھی لوگوں نے ایسے فضائل ومسائل کا خزانہ جمع کررکھا ہے جو ان کی بے دینی کو دینی کمال کے خانہ میں ڈال دیں۔جو ان کی بے عملی کوعمل کا شان دار کریڈٹ دے دیں۔ p. 205

لوگوں نے ایسا خدا دریافت کررکھا ہے جس سے ڈرنے کی کوئی ضرورت نہیں۔ لوگوں کو ایسا رسول ہاتھ آگیا ہے جو صرف اس لیے آیا تھا کہ ان کی ساری بد اعمالیوں کے باوجود خدا کے یہاں ان کا یقینی سفارشی بن جائے۔لوگوں کو ایسی آخرت مل گئی ہے جہاں جنت صرف اپنے لیے ہے اورجہنم صرف دوسروں کے لیے۔ لوگوں کو ایسی نمازیں حاصل ہوگئی ہیں جن کے ساتھ کبر اور حسد جمع ہوسکتا ہے۔ لوگوں کو ایسے روزے معلوم ہوگئے ہیں جو جھوٹ اورظلم سے فاسد نہیںہوتے۔ لوگوں کو ایسا دن ہاتھ آگیا ہے جو صرف بحث ومباحثہ کرنے کے لیے ہے نہ کہ عمل کرنے کے لیے۔ لوگوں کو اسلامی دعوت کے ایسے نسخے معلوم ہوگئے ہیں جو ان کی شخصی قیادت اورقومی سیاست کو اسلام کا لباس اوڑھادیں۔ p. 205

مگر جھوٹا سونا اسی وقت تک سونا ہے جب تک وہ کسوٹی پر کسانہ گیاہو۔اسی طرح فریب کا یہ کاروبار بھی صرف اس وقت تک ہے جب تک کہ خدا ظاہر ہوکر اپنے انصاف کی ترازو کھڑا نہ کر دے۔آج امتحان کی آزادی ہے۔آج آدمی کو موقع ہے کہ جو چاہے کرے۔مگرجب امتحان کی مدت ختم ہوگی توآدمی اپنے آپ کو بالکل بے بس پائے گا۔وہ بولنا چاہے گامگر اس کے پاس الفاظ نہ ہوگے کہ وہ بولے۔وہ چلنا چاہے گا مگر اس کے پاس پائوں نہ ہوںگے کہ ان کے ذریعہ وہ بھاگ کر کہیں جاسکے۔ p. 205

یہ سچائی کا دن ہوگا۔اس دن ہرآدمی کے اوپر سے فریب کا وہ لباس اتر چکا ہوگا جس کو آج وہ پہنے ہوئے ہے۔ہر آدمی اپنی اصل صورت میں نمایا ں ہوجائے گاجوفی الواقع اس کی ہے مگر امتحان کی آزادی سے فائدہ اٹھا کر آج وہ اس کو چھپائے ہوئے ہے۔آدمی کی یہ اصل صورت خدا کے سامنے آج بھی عریاں ہے۔مگرآخرت کی دنیا میں وہ تمام لوگوں کے سامنے نمایاں ہوجائے گی۔ p. 206

کامیابی کی فہرست p. 206

سید محمد کیرلا میں پیدا ہوئے۔ ان کی تعلیم لندن میں ہوئی۔ان کی غیر معمولی صلاحیتوں کو دیکھ کر ان کے 80سالہ انگریز استاد پروفیسر سٹیونس(Dr. Cleveland Stevans) نے 1957میں کہا تھاکہ اے نوجوان شخص ،ایک دن تم یہاں اپنے ملک کے نمائندہ بن کر آئو گے۔مگر میں اس وقت تم کو دیکھنے کے لیے موجود نہ ہوں گا: p. 206original + quote

Young man, one of these days you will come here to represent your country. But I would not be there to see you. p. 206

یہ پیشین گوئی 23سال بعد پوری ہوئی اورسید محمد ہندستان کے ہائی کمشنر بن کر لندن گئے۔ p. 206

سید محمد نے بیرسٹری سے اپنی زندگی کا آغاز کیا۔اس کے بعد انہیںبہت سے اعلیٰ عہدے ملے۔وہ اقوام متحدہ میں ہندستان کے مندوب تھے۔کیرلاکا بینہ میں وزیر ہوئے۔ مائناریٹیز کمیشن کے چیئرمین مقرر ہوئے۔وغیرہ وغیرہ۔سید محمد کے خاص دوستوں میں ایک مسٹر خوشونت سنگھ بھی تھے۔انھوں نے سید محمد کے بارے میں ایک مضمون لکھتے ہوئے اس کو اس پیرا گراف پر ختم کیاہے : p. 207original + quote

Seyyed’s passions were politics and law. He had applied for the Congress-I ticket to fight the last Parliamentary elections. Going by his records he would have undoubtedly won it. Kerala State Congress bosses denied him the ticket. It broke Seyyed’s heart and a month later the setback took his life. p. 207

سید محمد کا شوق سیاست اورقانون تھا۔انھوں نے کانگرس آئی کے ٹکٹ کے لیے درخواست دی تھی تاکہ حالیہ پارلیمنٹری الیکشن میں لڑ سکیں۔ اپنے حالات کے لحاظ سے وہ ضرور کامیاب ہوتے۔ کیرلا ریاستی کانگرس کے ذمہ داروں نے انہیںٹکٹ دینے سے انکار کیا۔اس واقعہ نے سید محمد کا دل توڑ دیا اورایک ماہ بعد اس حادثہ نے ان کی زندگی لے لی (ہندستان ٹائمس،23مارچ1985)۔ p. 207original + quote

آج انسان کامیابیوں کی فہرست میں صرف ایک کمی کو برداشت نہیں کرپاتا۔حالانکہ انسان پر وہ دن آنے والا ہے جب کامیابیوں کی پوری فہرست اس سے چھن جائے گی۔کیسا عجیب ہوگا وہ دن اورکیسا عجیب ہوگا اس دن انسان کاحال۔ p. 207

چھت گرپڑی p. 207

1968کا واقعہ ہے۔میں اعظم گڑھ کی ایک دوکان میں داخل ہوا۔وہاں میرے ایک جانے پہچانے بزرگ بیٹھے ہوئے تھے۔میں نے ان کو سلام کیا۔مگرانھوں نے کوئی جواب نہیں دیا۔میں نے دوبارہ سلام کیا۔مگر میں نے دیکھا کہ اب بھی وہ خاموش ہیں۔وہ میری طرف دیکھ رہے تھے مگر کچھ بول نہیں رہے تھے۔’’کیا یہ کوئی دوسرے صاحب ہیں‘‘ میں نے سوچا۔مگر میری آنکھیں اس شبہ کی تردید کررہی تھیں۔جو شخص میرے سامنے بیٹھا ہوا تھا وہ یقینی طور پر وہی شخص تھا جس کو میںپندرہ سال سے جانتا ہوں۔بظاہر یہ بھی ناممکن تھا کہ وہ مجھ کو بھو ل گئے ہوں۔ p. 208

دکان کے مالک کو جلد ہی حیرانگی کا احساس ہوگیا۔اس نے بتایا کہ اصل قصہ یہ ہے کہ ان کے ساتھ ایک سخت حادثہ پیش آگیا ہے جس کی وجہ سے وہ اپنے ہوش وحواس کھو بیٹھے ہیں۔ وہ اپنا نیا مکان بنا رہے تھے۔دیواریں کھڑی ہوگئیں تو حسب قاعدہ ان کے اوپر سانچہ بنا کر چھت ڈلوائی مگر ایک ماہ بعد جب سانچہ کھولا گیا تو ساری چھت دھڑام سے گر پڑی۔اس حادثہ کا ان کے دماغ پر اتنا اثر ہو اکہ وہ نیم پاگل ہوگئے۔اب وہ نہ کوئی کام کرتے ہیں نہ کھانا کھاتے ہیں اورنہ بولتے ہیں۔بس بت کی طرح اِدھر اُدھر پڑے رہتے ہیں جیسا کہ اس وقت آپ ان کو دیکھ رہے ہیں۔ مزید تحقیق کے بعد مجھے معلوم ہوا کہ یہاں کچھ لوگوں نے یہ کاروبار کیا ہے کہ سیمنٹ کے رنگ کی مٹی (پنڈول )کو باریک پیس کر بوریوں میں بھر دیتے ہیں۔یہ مٹی دیکھنے میں بالکل سیمنٹ جیسی ہوتی ہے۔اس لیے لوگ اس کو سیمنٹ سمجھ کر خرید لیتے ہیں۔مذکورہ بزرگ کو بھی اتفاق سے اسی قسم کی سیمنٹ مل گئی۔اوراسی سیمنٹ سے انھوں نے اپنی چھت بنوا دی۔ ظاہر ہے کہ ایسی سیمنٹ سے بنی ہوئی چھت کا وہی انجام ہونا تھاجو ہوا۔ p. 208

اسی طرح کوئی دولت کو اپنی چھت بنائے ہوئے ہے۔کسی کو اپنے الفاظ پر بھروسہ ہے۔کوئی سمجھتا ہے کہ اس کے ساتھیوں کی مدد اس کے لیے کافی ہے۔کوئی بڑوں کا سہارا پکڑے ہوئے ہے۔مگریہ سب جھوٹے سہارے ہیں۔قیامت جب ظاہری سانچہ کو ہٹائے گی تو اچانک لوگوں کی چھت ان کے اُوپر اس طرح گرپڑے گی کہ وہاں کوئی تنکا نہ ہوگا جو آدمی کا سہارا بن سکے۔ p. 208

خدا کی دنیا p. 208

خدا کی دنیا p. 208

جب آپ اپنے کمرہ میں ہوں تو آپ اس کی چھت کو ناپ کر معلوم کرسکتے ہیں کہ اس کی لمبائی کتنی ہے اورچوڑائی کتنی۔مگر جب آپ کھلے میدان میں آسمان کے نیچے ہوتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ آسمان کی چھت کی لمبائی اورچوڑائی کو ناپنے کے لیے آپ کے تمام پیمانے ناکافی ہیں۔یہی حال خدا کی پوری کائنات کا ہے۔ ایک بیج جس طرح بڑھ کر درخت کی ایک دنیا بناتا ہے اس کو کون بیان کرسکتا ہے۔سورج کی روشنی ،ہوائوں کا نظام ، چڑیوں کے نغمے ،پانی کے بہتے ہوئے چشمے اوراسی طرح کی بے شمار چیزیں جن کو ہم اپنی آنکھوں سے دیکھتے ہیں ان کو لفظوں میں بیان کرنا ممکن نہیں۔ p. 209

سچائی اس سے زیادہ لطیف ہے کہ اس کو انسانی لفظوں میں بیان کیا جاسکے۔حقیقت یہ ہے کہ جہاں زبان گنگ ہوجاتی ہے وہاںسے حقائق شروع ہوتے ہیں۔جہاں الفاظ ساتھ نہیں دیتے وہاں سے معانی کا آغاز ہوتا ہے۔خداچپ کی زبان میں بول رہاہے اورہم اس کو شور کی زبان میں سننا چاہتے ہیں۔ ایسی حالت میں کیسے ممکن ہے کہ ہم خدا کی آوازوں کو سن سکیں۔اس دنیاکی سب سے قیمتی باتیں وہ ہیں جو چپ کے بول میں نشر ہورہی ہیں مگر جو لوگ صرف شوروغل کی بولیاں سننا جانتے ہوں وہ ان قیمتی باتوں سے اسی طرح ناآشنا رہتے ہیں جس طرح ایک بہرا شخص کسی عمدہ موسیقی سے۔ p. 209

خدا کی دنیا بے حدحسین ہے۔اس کے حسن کو لفظوں میں بیان نہیں کیا جاسکتا۔آدمی جب اس دنیا کو دیکھتا ہے تو بے اختیار اس کا جی چاہتا ہے کہ وہ خدا کی اس ابدی دنیا کا باشندہ بن جائے۔وہ ہوائوں میں شامل ہوجائے وہ درختوں کی سرسبزیوں میں جا بسے۔وہ آسمان کی بلندیوں میں کھوجائے۔مگر انسان کی محدود یتیں اس کی اس خواہش کی راہ میں حائل ہیں۔وہ اپنی محبوب دنیا کو دیکھتا ہے مگر اس میں شامل نہیں ہوپاتا۔شاید جنت اسی کانام ہے کہ آدمی کو اس کی محدود یتوں سے آزاد کردیا جائے تاکہ وہ خدا کی حسین دنیا میں ابدی طورپر داخل ہوجائے۔ p. 209

انسان نے جو تمدنی دنیا بنائی ہے وہ خدا کی دنیا سے کس قدر مختلف ہے۔انسان کی بنائی ہوئی سواریاں شور اوردھواں پیدا کرتی ہیں مگر خدا کی دنیا میں روشنی ایک لاکھ چھیاسی ہزار میل فی سیکنڈ کی رفتار سے چلتی ہے اورنہ کہیں شور ہوتا ہے اورنہ دھواں۔انسان انسان کے درمیان اس طرح رہتا ہے کہ ایک کو دوسرے سے طرح طرح کی تکلیفیں پہنچتی رہتی ہیں ،مگر خدا کی دنیا میں ہوا اس طرح گزرتی ہے کہ وہ کسی سے نہیں ٹکراتی۔انسان اپنی غلاظت کو کاربن اورپسینہ اوربول وبراز کی صورت میں خارج کرتا ہے مگر خدا نے اپنی دنیا میں جو درخت اُگائے ہیں وہ اس کے برعکس اپنی کثافت کو آکسیجن کی صورت میں خارج کرتے ہیں اورپھول اپنی کثافت کو خوش بو کی صورت میں۔انسان کے بنائے ہوئے تمام شہروں میںکوڑے کو ٹھکانے لگانا ایک ناقابل حل مسئلہ بناہوا ہے۔مگر خدا کی بنائی ہوئی وسیع تر دنیا میں ہر روز بڑے پیمانہ پر ’’کوڑا‘‘نکلتا ہے مگرکسی کو پتہ نہیںچلتا۔کیوںکہ اس کو (Recycle)کرکے دوبارہ کائنات کے مفید اجزاء میں تبدیل کردیا جاتا ہے۔جو شخص حقیقت کی جھلک دیکھ لے تو وہ اس کے بیان سے اپنے کو عاجز محسوس کرنے لگتا ہے۔اس پر چپ طاری ہوجاتی ہے نہ یہ کہ وہ لفظوں کا سیلاب بہانے لگے۔ p. 209

ہم خدا کے ملک میں ہیں p. 209

ایک امریکی خاتون سیاحت کی غرض سے روس گئیں۔وہاں انھوں نے دیکھا کہ ہر جگہ کمیونسٹ پارٹی کے چیف کی تصویریں لگی ہوئی ہیں۔یہ بات انہیںپسند نہیں آئی۔ایک موقع پر وہ کچھ روسیوں سے اس پر تنقید کرنے لگیں خاتون کے ساتھی نے ان کے کان میں چپکے سے کہا ’’میڈیم آپ اس وقت روس میں ہیں ،امریکامیں نہیں ہیں ‘‘۔ p. 210

آدمی اپنے ملک میں اپنی مرضی کے مطابق رہ سکتا ہے۔لیکن اگروہ کسی غیر ملک میں جائے تو وہاں اس کو دوسرے ملک کے نظام کی پابندی کرنی پڑے گی۔اگر وہ وہاں کے نظام کی خلاف ورزی کرے تووہ مجرم قرار پائے گا۔ p. 210

ایسا ہی کچھ معاملہ وسیع تر معنوں میں دنیا کا ہے۔انسان ایک ایسی دنیا میں پیداہوتا ہے۔جس کو اس نے خود نہیں بنایا ہے۔یہ مکمل طور پر بنائی ہوئی دنیا ہے۔گویا انسان یہاں اپنے ملک میں نہیں ہے بلکہ خدا کے ملک میں ہے۔ p. 210

ایسی حالت میں انسان کی کامیابی کا واحد راستہ یہ ہے کہ وہ خدا کی سیکم کو جانے اوراس اسیکم کے مطابق اس دنیا میں رہے۔اگر وہ یہاں خدا کی اسکیم کے خلاف رہے گا وہ باغی قرار پائے گا اور اس قابل ٹھہرے گا کہ خدا اس کو سخت سزا دے کر ہمیشہ کے لیے اپنی تمام نعمتوں سے محروم کردے۔ p. 210

دنیامیں خدا کی مرضی کے مطابق رہنے کا طریقہ کیا ہے ،یہی وہ سوال ہے جس کا جواب دینے کے لیے خدا نے اپنے پیغمبر کھڑے کیے۔ پیغمبر وں نے انسان کی قابل فہم زبان میں کھول کھول کر بتایا کہ انسان سے خدا کو کیا مطلوب ہے۔اورخدا کی وہ اسکیم کیا ہے جس کی انسان کو پابندی کرنی چاہیے۔ p. 210

قرآن اسی پیغمبر انہ ہدایت کا مستند مجموعہ ہے۔جو شخص یہ چاہتا ہو کہ خد ااس کو اپنے وفادار بندوں میں شمار کرے اوراس کو اپنی ابدی نعمتوں میں حصہ دار بنائے اس کے لیے لازم ہے کہ وہ قرآن کو پڑھے اوراس کو اپنی زندگی کار ہنما بنالے۔ p. 211

جو شخص ایسا نہیں کرے گا اس کا انجام شدید ترشکل میں وہی ہوگا جوروس میں امریکا نوازوں کا ہوتا ہے یا امریکامیں روس نوازوںکا۔ p. 211

ایک موت p. 211

23فروری1983کی صبح الرسالہ کے لیے بڑی درد ناک خبر لے کر آئی۔اس دن الرسالہ کے کاتب حافظ امجد علی شاہجہانپوری کا انتقال ہوگیا۔وفات کے وقت ان کی عمر تقریبا ً ستر سال تھی۔ حافظ امجد علی صاحب نے الرسالہ کی کتابت کا کام اتنی دلچسپی اورلگن کے ساتھ کیاکہ ’’الرسالہ ‘‘اور’’امجد علی صاحب‘‘دونوں ایک دوسرے کے ہم معنی بن گئے۔وہ دہلی کے اعلیٰ درجہ کے کاتب تھے۔الرسالہ کے صفحات نے ان کی خوش نویسی کے جو نمونے محفوظ کیے ہیںوہ ابھی نامعلوم مدت تک باقی رہیں گے۔مگر لکھنے والے کا فن لکھنے والے کے ساتھ ہمیشہ کے لیے چلا گیا۔ p. 211

اگر یہ کہا جائے کہ الرسالہ کی ہر اشاعت سب سے پہلے امجد علی صاحب کی نظر سے گذرتی تھی تو یہ بات بالکل صحیح ہوگی۔کیونکہ وہ الرسالہ کو صرف ’’لکھتے ‘‘نہیں تھے بلکہ وہ اس کو ’’پڑھتے ‘‘بھی تھے۔الرسالہ کے مضامین جب انہیںکتابت کے لیے دیے جاتے تو پہلے وہ ان کا مطالعہ کرتے۔اس کے بعد ان کو لکھنا شروع کرتے۔وہ الرسالہ کے صرف کاتب نہیں تھے،بلکہ وہ اس کے سب سے پہلے قاری بھی تھے۔ p. 211

موت کی خبر ملنے کے بعد 23 فروری کی دوپہر کو جب میں ان کے گھر پہنچا تو ان کا مردہ جسم ایک چارپائی پر لٹایا ہواتھا۔میں دیر تک تاثرات کے طوفان میں انہیںدیکھتا رہا۔ وہی معصوم چہرہ تھا، مگر اب وہ خاموش ہوچکا تھا۔بظاہر وہی آنکھیں تھیں۔مگر اب وہ ہمیشہ کے لیے بند ہوچکی تھیں۔ہاتھ وہی تھا مگر اب وہ قلم پکڑنے کی طاقت سے محروم تھا۔ p. 212

23فروری کو نماز ظہر کے بعد جنازہ اٹھا۔لوگ حافظ امجد علی کاجسم کاندھوں پر اٹھائے قبرستان کی طرف جا رہے تھے اورمیرے ذہن میں ایک پوری تصویر جاگ رہی تھی۔جس میں انسان اپنے آغاز سے انجام کی طرف جاتا ہوا نظر آرہا تھا۔انسان کی کہانی کیسے عجیب طورپر اس دنیا میں شروع ہوتی ہے۔اورکیسے عجیب طورپر ختم ہوجاتی ہے۔ p. 212

23فروری سے پہلے امجد علی صاحب سے میرا ہر روز ساتھ تھا۔23فروری کو وہ اچانک دوسری دنیا میں چلے گئے۔جب مجھے اس کا خیال آتا ہے تو میں سوچنے لگتا ہوں کہ ہماری آج کی دنیا اورہماری کل کی دنیا میں کتنا کم فاصلہ ہے۔ایسا ہوتا ہے کہ آدمی کا ایک قدم اگر اِس دنیا میں ہے تو اس کا دوسرا قدم اُس دنیا میں۔ p. 212

زندگی کا انجام p. 212

ماستی وینکا ٹیساآئنگر(1891-1986)کنڑازبان کے مشہور مصنف ہیں۔تعلیم کی تکمیل کے بعد وہ میسورسول سروس میں شامل ہوئے۔ اپنی اعلیٰ خدمات کی بنا پر انہیںریاست میسور کا وزیر ہونا چاہیے تھا۔مگر ان کے ساتھ ناانصافی کی گئی۔چنانچہ وہ بددل ہوکر وقت سے پہلے ریٹائر ہوگئے۔ p. 212

ملازمت سے الگ ہوکر انھوں نے کہانیاں اورناول لکھنا شروع کیا۔اس میدان میں انھیںغیر معمولی شہرت حاصل ہوئی۔آج وہ تقریباً ڈیڑھ سو کتابوں کے مصنف ہیں۔ ان کی کتاب چکاویراراجندر (Chikka Veera Rajendra)پر حکومت ہندنے ان کو گیان پیٹھ کا خطاب اورڈیڑھ لاکھ روپیہ بطور انعام دیا ہے۔ p. 213

مسٹروی سری دھر موصوف سے ملے اوران سے ایک انٹر ویو(ٹائمس آف انڈیا 12اگست 1984)لیا۔مسٹر ماستی اگرچہ اپنی تمام کتابوں کوادبی شاہکا رسمجھتے ہیں۔مگر حکومت کے اعلیٰ انعام پروہ خوش نہ ہوسکے۔انھوں نے کہا : p. 213original + quote

I am too old to be happy p. 213

یعنی 94سال کی عمر کو پہنچ کر میں اتنا زیادہ بوڑھا ہوچکا ہوں کہ کوئی خوشی میرے لیے خوشی نہیں۔مسٹر ماستی کی پہلی کہانی 1912میں شائع ہوئی تھی۔اس لحاظ سے انہیںاپنے ادبی کمالات کے اعتراف کے لیے 70سال انتظار کرنا پڑا۔مگر لمبی مدت کے بعد جب انہیںعزت اورانعام ملا تووہ وقت تھا جب کہ بڑھاپے نے ان کے چہرے پر جھریوں کی مالا پہنا دی تھی۔ p. 213

مسٹر ماستی کی کہانی موجودہ دنیا میں ہرشخص کی کہانی ہے۔اس دنیامیں ہر آدمی کایہ قصہ ہے کہ وہ محنت کرتا ہے۔اپنی ساری طاقت لگا دیتا ہے۔بالآخر’’ستر سال ‘‘کی محنت کے بعد وہ اس قابل ہوتا ہے کہ اس کو دنیا میں عزت اورانعام ملے۔مگر ا س وقت وہ بوڑھا ہوچکا ہوتا ہے۔مزید یہ کہ کسی بھی صبح یا شام موت آجاتی ہے اوراس کو مجبور کرتی ہے کہ اپنی عمر بھر کی کمائی کو چھوڑ کر ایسی دنیا کی طرف چلا جائے جس کے لیے اس نے کچھ نہیں کیا تھا۔ p. 213

کہاں سے کہا ں p. 214

31اکتوبر 1984کو صبح سوا نو بجے کا وقت تھا۔نئی دہلی میں وزیراعظم ہند کی سرکاری رہائش گاہ میں حسب معمولی پولیس اوراسٹاف کی سرگرمیاں اپنے شباب پر تھیں۔پیشگی اپائنٹمنٹ کے مطابق وسیع اورشاندار لان میں پیڑاسٹینوف (1921-2004) اپنی پارٹی کے ساتھ آچکے تھے۔ وہ وزیر اعظم اندر اگاندھی (1917-1984)پر ایک فلم تیار کررہے تھے۔ وزیر اعظم اپنے وقت پر اپنے کمرہ سے برآمد ہوئیں۔وہ لان میں داخل ہونے ہی والی تھیں کہ گولیوں کی آواز سنائی دینے لگی۔مسزاندراگاندھی کی حفاظتی پولیس کے دو مسلح جوانوں نے اچانک ان پر حملہ کردیا۔ایک پستول سے فائر کیے ،دوسرے نے اپنے اسٹن گن کی 20 گولیاں ان کے اوپر خالی کردیں۔ خون میں لت پت اندراگاندھی کوئی آخر ی کلمہ نہ بول سکیں۔وہ ’’بے ہوش ‘‘حالت میں اسپتا ل لے جائی گئیں۔صرف اس لیے کہ ڈاکٹر ان کی طبی موت کا آخری اعلان کرسکیں۔اس سلسلہ میں اخبارات میں جورپورٹیں شائع ہوئی ہیں ،ان میں سب سے زیادہ عبرت انگیز مسٹر پیٹر اسٹینوف کا واقعہ تھا: p. 214

Peter Ustinov, world renowned actor, director, and writer, was sitting in the lawn at Mrs Indira Gandhi's residence, waiting, to interview her ("I wanted to ask her how as a single child she came to terms with her loneliness") when he heard the 'sound of death'. p. 214

مسٹر اسٹینوف جو عالمی شہرت رکھنے والے ایکٹر ،ڈائرکٹر اوررائٹر ہیں ،وہ مسزاندرا گاندھی کی رہائش گاہ کے لان میں بیٹھے ہوئے تھے۔وہ ان سے انٹرویو کے منتظر تھے۔ انھوں نے کہا کہ میں ان سے یہ پوچھنا چاہتا تھا کہ واحد اولاد ہونے کے اعتبار سے انھوں نے کس طرح اپنے اکیلے پن کے ساتھ نباہ کیا۔عین اسی وقت اسٹینوف نے موت کی آواز سنی (ہندستان ٹائمس،1نومبر1984)۔ p. 214original + quote

راقم الحروف نے جب یہ رپورٹ پڑھی تو معاًمجھ کو یہ خیال آیا کہ اگر الفاظ کے اندر تھوڑی سی تبدیلی کردی جائے تو غالباً یہ اہم ترین سوال تھا جو اس نازک لمحہ میں مسز اندرا گاندھی سے پوچھا جاسکتا تھا۔الفاظ میںمعمولی تبدیلی کے بعد وہ سوال یہ تھااب تک آپ700ملین انسانوں کے ملک کی محبوب وزیراعظم تھیں۔اگلے لمحہ آپ کا کیا حال ہوگا جب کہ آپ اپنے کو ایک ایسی دنیا میں پائیں گی جہاں آپ بالکل تنہا اور بے یارومددگار ہوں گی۔ p. 214

کیسا عجیب ہے وہ پانا جس کا انجام کھونے کے سوا اورکچھ نہ ہو۔ p. 215

یہ گونگے شاہکاروں کاعجائب خانہ نہیں p. 215

تمام سفروں میں ٹرین کا سفر سب سے زیادہ تجربات سے بھر اہواہوتا ہے۔انسانی قافلوں کو لیے ہوئے تیز رفتار ایکسپریس دوڑی چلی جارہی ہے۔گاڑی کے دونوں طرف قدرت کے مناظر مسلسل ہماراساتھ دے رہے ہیں۔اس طرح ٹرین گویا زندگی کے بڑے سفر کی علامت بن گئی ہے جو نشانیوں سے بھری ہوئی ایک دنیا میں انسان طے کررہا ہے۔مگر جس طرح ٹرین کے مسافراطراف کے مناظر سے بے خبر ہوکر اپنی ذاتی دلچسپیوں میں گم رہتے ہیں۔اسی طرح انسان موجودہ دنیا میں اپنی زندگی کے دن پورے کررہا ہے۔بہت کم ایسا ہوتا ہے کہ وہ خدا کی بکھری ہوئی نشانیوں پر غور کرے۔ p. 215

سورج اپنے روشن چہرہ کے ساتھ طلوع ہوتا ہے اورانسان کے اوپر اس طرح چمکتا ہے جیسے وہ کوئی پیغام سنانا چاہتا ہو۔مگر وہ کچھ کہنے سے پہلے غروب ہوجاتا ہے۔درخت اپنی ہری بھر ی شاخیں نکالتے ہیں ،دریا اپنی موجوں کے ساتھ رواں ہوتا ہے۔یہ سب بھی کچھ کہنا چاہتے ہیں۔مگر انسان اِن کے پاس سے گزرجاتا ہے۔بغیر اس کے کہ ان کا کوئی بول اس کے کان میں پڑاہو۔آسمان کی بلندیاں ،زمین کی رعنائیاں سب ایک عظیم ’’اجتماع ‘‘کے شرکاء معلوم ہوتے ہیں۔مگر ان میں سے ہر ایک خاموش کھڑا ہواہے۔وہ انسان سے ہم کلام نہیں ہوتا۔ p. 215

یہ عظیم کائنات کیاگونگے شاہکاروں کا عجائب خانہ ہے۔نہیں۔حقیقت یہ ہے کہ ان میں سے ہر ایک کے پاس خدا کا ایک پیغام ہے اوراس کو وہ ابدی زبان میں نشر کررہا ہے۔مگر انسان دوسری آوازوں میں اتنا کھویا ہواہے کہ اس کو کائنات کاخاموش کلام سنائی نہیں دیتا۔ایک سفر میں ہم ایک درمیانی اسٹیشن پر نماز پڑھنے کے لیے اترے۔اسٹیشن کے آدمیوں سے پوچھا کہ’’پچھم کس طرف ہے ‘‘۔مگر کسی کے پاس اس سادہ سے سوال کا جواب نہ تھا۔میں نے سوچا ’’سورج ایک روشن ترین حقیقت کی حیثیت سے روزانہ ان کے اوپر نکلتا ہے اورڈوبتا ہے۔مگر لوگ اپنے آپ میں اتنا گم ہیں کہ ان کو مشرق ومغرب کا پتہ نہیں۔پھر وہ لطیف پیغام جو سورج اوراس کے کائناتی ساتھی اپنی خاموش زبان میں نشر کررہے ہیں ان سے کیسے کوئی باخبر ہوسکتا ہے‘‘۔ p. 215

ہماری ٹرین ایک اسٹیشن پر رکی۔میں باہر آکر پلیٹ فارم پر کھڑا ہوگیا۔سورج ابھی ابھی غروب ہواتھا۔ہرے بھر ے درخت ،ان کے پیچھے سرخی ملی ہوئی روشنی اوراس کے اوپر پھیلے ہوئے بادل ،عجیب آفاقی حسن کا منظر پیدا کررہے تھے۔’’ان میں یہ حسن ان کی بلندی نے پیدا کیا ہے ‘‘میں نے سوچا۔’’مگر انسان اس بلندی تک جانے کے لیے تیار نہیں ہوتا۔وہ اس سطح پر نہیں جیتا جس سطح پر درخت جی رہے ہیں۔وہ وہاں بسیرانہیں لیتا جہاں روشنی اوربادل بسیرالیے ہوئے ہیں۔اس کے برعکس وہ سطحی مفادات میں جیتا ہے۔وہ جھوٹی دوستی اورجھوٹی دشمنی میں سانس لیتا ہے۔کائنات کا ہم سفر بننے کے بجائے اپنے آپ کو وہ اپنی ذات کے خول میں بند کرلیتا ہے۔ایک ایسی دنیا جہاں جنتی فضائیں اس کا انتظار کررہی ہیں۔وہاں وہ اپنے آپ کو دوزخ کے ماحول میں ڈال دیتا ہے۔انسانی دنیا کے بگاڑ کی ساری وجہ یہی ہے۔اگر وہ بلند سطح پر جینے لگے تو اس کی زندگی میں بھی وہی حسن آجائے جو قدرت کے حسین مناظر میں دکھائی دیتاہے(16مارچ 1979)۔ p. 216

زیادہ نازک p. 216

ایک مسلم نوجوان نے جدیدتعلیم حاصل کی۔اس کے بعد اس کو باہر کے ایک ملک میں کام ملا وہ اوراس کے لیے روانہ ہوگیا۔اس کے ماں باپ اس کو رخصت کرنے کے لیے ہوائی اڈہ پر آئے۔نوجوان کے مشرقی باپ نے آخری وقت میں نصیحت کرتے ہوئے کہادیکھو بیٹے ،جب ہوائی جہاز کے اندر بیٹھنا تو اپنے چاروں طرف آیتہ الکرسی کاگھیرا بنا لینا۔اوردرودشریف پڑھتے رہنا۔ p. 216unverified

یہ سن کر ایک شخص نے کہا آپ بیٹے کو اس قسم کی نصیحت کیوں کررہے ہیں۔ بزرگ بولے اس لیے یہ ہوائی سواری ہے۔راستہ میں ذراسی بھی کوئی بات پیش آئے توکیا سے کیا ہوجائے۔ p. 216other source

’’آپ کو شاید معلوم نہیں کہ ہم میں سے ہر شخص اس سے زیادہ خطر ناک ہوائی سواری پر بیٹھا ہواہے ‘‘۔آدمی نے دوبارہ کہا’’یہ زمین جس پرہم آپ ہیں یہ ہوائی جہاز سے بھی زیادہ نازک سواری ہے۔ہماری زمین کسی ٹھوس چیز پر رکھی ہوئی نہیں ہے بلکہ اتھاہ خلامیں معلق ہے۔وہ ہوائی جہاز سے کہیں زیادہ تیز رفتاری کے ساتھ دہراحرکت کررہی ہے۔ایک طرف وہ اپنے محور پر20میل فی سکنڈ کی رفتار سے گھوم رہی ہے۔دوسری طرف وہ اپنے مدار پر15سکنڈ فی میل کی رفتار سے دوڑرہی ہے۔ہوائی جہاز تو درمیانی مقامات پر اترتے ہیں۔مگر زمین کا تیز رفتار سفر بغیر رکے ہوئے مسلسل جاری ہے ‘‘۔ p. 216original + quote

اس قسم کی تفصیلات بیان کرنے کے بعد مذکورہ شخص نے کہا۔’’اگر آپ کو اپنے اس زمینی سفر کاواقعی احساس ہوتو آپ ہر وقت آیتہ الکرسی اوردرودشریف پڑھتے رہیں۔آپ کے اوپر لرزہ طاری ہوجائے۔ہوائی سفر سے کہیں زیادہ آپ کو اپنے زمینی سفر کا فکر لاحق رہنے لگے‘‘۔ p. 217original + quote

لوگ انسانی واقعات سے متاثر ہوتے ہیں،وہ خدائی واقعات سے متاثر ہونا نہیں جانتے۔کوئی شخص کرتب کے زورسے اپنے آپ کو اس طرح دکھائے کہ اس کا پائوں چھت پر ہو اوراس کا سرنیچے کی طرف لٹکا ہواہوتو بے شمار لوگ اس عجیب واقعہ کو دیکھنے کے لیے جمع ہوجائیںگے۔مگر لوگوں کی یاد نہیں کہ وہ خود اسی قسم کے عجیب تر واقعہ کی مثال ہیں۔کیونکہ ہم میں سے ہرشخص کا یہ حال ہے کہ وہ زمین کی سطح پر لٹکا ہواہے۔زمین گول ہے۔زمین پر فی الواقع یہ صورت پائی جاتی ہے کہ آدمی اس کے اوپر مذکورہ کرتب باز آدمی کی طرف لٹکے ہوئے ہیں۔ہندستان والوں کے لیے امریکاکے لوگ اس طرح ہیں کہ زمین کی سطح پر ان کا پائوں ہے اور ان کا سر زمین کے نیچے لٹک رہا ہے اسی طرح امریکاوالوں کے لیے ہندستان کے لوگ سرنیچے اورپائوں اوپر کیے ہوئے زمین پر چل پھر رہے ہیں۔ p. 217

خد ا سے ڈرو p. 217

آج کوئی بستی ایسی نہیںہے جہاں ایک آدمی دوسرے آدمی کو ستا نہ رہا ہو۔جہاں ایک آدمی دوسرے آدمی کو اپنے ظلم کا نشا نہ نہ بنائے ہوئے ہو۔مگر لوگ کس آدمی کو ستاتے ہیں۔اس آدمی کو جو ان کی نظر میں کمزور ہو۔جو دادا گیری کرنا نہ جانتا ہو،جس نے اپنے آگے پیچھے ساتھیوں کی فوج نہ جمع کر رکھی ہو،جو پولیس اورکچہری سے دور رہنا چاہتا ہو،لو گ بے زوروں کے لیے بہادر ہیں اورجو شخص لوگوں کو زورآور دکھائی دیتا ہواس کے لیے کوئی بہادر نہیں۔ p. 217

مگریہ اندھے پن کی آنکھ سے دیکھنا ہے۔اگر ان کے پاس دیکھنے والی آنکھ ہوتو وہ سب سے زیادہ اس سے ڈریں جس کو وہ بے زورسمجھتے ہیں۔کیونکہ جو شخص بے زورہے اس کے پیچھے خدا کھڑا ہواہے۔ p. 217

دنیا میں جو کچھ ہورہا ہے وہ آزمائش کے منصوبہ کے تحت ہورہا ہے۔خدا کو جانچ کر ہرشخص کے بارے میں جاننا ہے کہ ان میں سے کون ہے جو اللہ سے ڈرنے والا ہے اوروہ کون ہے جو اللہ سے بے خوف ہے۔اس کی جانچ کیسے ہو۔اس کی جانچ ان شخاص کی سطح پرنہیں ہوسکتی جو اپنی زورآوری کی وجہ سے لوگوں کو مرعوب کیے رہتے ہیں،جن کی طاقت دیکھ کر لوگوں کو ان پر ہاتھ ڈالنے کی ہمت نہیں ہوتی۔ان کے خلاف اگر لوگ برائی نہ کریں تو یہ ان کی اپنی طاقت سے ڈرنے کی وجہ سے ہوگا نہ کہ خدا کے ڈرکی وجہ سے۔ p. 218

مگر ایک شخص ہے جس کے پاس ان چیزوں میں سے کوئی چیز نہیں جو لوگوں کو مرعوب اورخوف زدہ کرتی ہے۔اس کو ستانے سے اگر کوئی شخص بچتا ہے تو اس کی وجہ یقیناً اخلاقی ہوگی نہ کہ مادی۔خدا کچھ افراد کو بے زور اوربے حیثیت بنا کر لوگوں کے درمیان رکھتا ہے اورپھر ان کو دیکھتا ہے کہ وہ اس کے ساتھ کیا سلوک کرتے ہیں۔جو شخص کمزور آدمی کے ساتھ بے انصافی کرنے سے ڈراوہ گویا خدا سے ڈرا،اس کا ٹھکانا جنت ہوگا۔جو شخص کمزور آدمی کے ساتھ بے انصافی کرنے سے نہیں ڈراوہ گویا خدا سے نہیں ڈرا،ایسا شخص جہنم کی بھڑکتی ہوئی آگ ڈال دیا جائے گا۔ p. 218original + quote

ہر آدمی بری زندگی گزار کر مرجاتا ہے تاکہ موت کے بعد اورزیادہ بری زندگی کی طرف دھکیل دیا جائے۔ p. 218

کائنات بیان دے گی p. 218

مجھے ایک بار لکھنؤ کے ایک علاقہ میں جانا ہوا جہاں آم کے باغات تھے۔ میں نے دیکھا کہ درختوں پر پھل لگے ہوئے ہیں مگر سب کے سب کالے ہورہے ہیں۔دریافت کرنے پر معلوم ہواکہ یہ دھوئیں کی وجہ سے کالے ہوگئے ہیں۔ان باغات کے پا س اینٹ کے بھٹے تھے جن کی چمنیوں سے ہر وقت کوئلہ کا دھواں نکلتا رہتا تھا۔اس دھوئیں کی وجہ سے تمام پھل کالے ہوکر خراب ہوگئے۔ان کی بڑھوتری رک گئی۔وہ منڈی میں بھیجنے کا قابل نہ رہے۔ p. 218

یہی اس دنیا کی تمام چیزوں کا حال ہے۔دنیا کے بنانے والے نے اس کو نہایت حکمت کے ساتھ بنایا ہے۔اس کی ہر چیز بے حد نازک اورلطیف ہے۔حقیقت یہ ہے کہ کائنات ایک انتہائی بامعنی کارخانہ ہے۔وہ کسی ایسی چیز کو قبول نہیں کرتی جو اس کے مزاج کے خلاف ہو،جو اس کی تخلیقی اسکیم کے مطابق نہ ہو۔مگر کائنات کے سب سے زیادہ سرسبزاورقیمتی حصہ پر انسان ہر وقت ظلم فساد جاری کیے ہوئے ہے۔حق کے نام پر حق کو قتل کیا جارہاہے اورکائنات اپنی تمام معنویت کے باوجود خاموش کھڑی ہوئی ہے۔وہ زمین پر سب کچھ ہوتے دیکھتی ہے مگر اس کے بارے میں اپنا کوئی بیان نہیں دیتی۔ا س کی وجہ یہ ہے اس کے خدا نے ایک مقررمدت تک کے لیے اس کو روک رکھا ہے۔جب یہ مدت ختم ہوگی تو اچانک وہ بول پڑے گی۔اس وقت وہ سب کچھ کہہ ڈالے گی جس کو آج وہ دیکھتی ہے مگر نہیں کہتی۔ p. 219

آدمی اپنے اقتدار کی سیاست چلاتا ہے اوراس کو خدا کی سیاست کانام دیتا ہے۔وہ مکمل اصلاح کے نفاذ کانعرہ لگاتا ہے اورجب آزمایا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ وہ جزئی اصلاح پر بھی قائم نہیں۔وہ اپنے پڑوسی کو ستاتا ہے اوردورکے ظالم کے خلاف جھنڈالے کر کھڑا ہوتا ہے۔وہ اپنی انا کی پر ستش میں لگا ہوتا ہے اور دوسرے کی انانیت اورتعصب کا اعلان کرنے کے لیے اسٹیج سجاتا ہے۔وہ مفاد پرستی اوراستحصال میں غرق ہوتا ہے اورانصاف اورانسانیت کے عنوان پر تقریریں کرتا ہے۔وہ ضد اورنفرت اورانتقام کے تحت کارروائی کرتا ہے اورزبان سے یہ ظاہر کرتا ہے وہ صرف حق کے لیے ایسا کررہا ہے۔ وہ اپنے بدترین شیطانی کاموں کو بیان کرنے کے لیے بھی نہایت خوب صورت الفاظ پالیتا ہے۔یہ سب کچھ انسانی دنیا میں ہورہا ہے اورکائنات اپنی تمام نفاست اورلطافت کے باجود چپ رہتی ہے۔وہ سچ کوسچ نہیں کہتی اورجھوٹ ہونے کا اعلان نہیں کرتی۔ p. 219

کیا کائنات کے اندر تضاد ہے ،کیا یہ ایک گونگی کائنات ہے۔جس کائنات کے پاس سریلے نغمے بکھیرنے والی چڑیاں ہوں ،کیا اس کے پاس حق کا اعلان کرنے کے لیے زبان نہیں۔قرآن اس سوال کا جواب دیتا ہے۔قرآن بتاتا ہے کہ کائنات کی یہ خاموشی اس لیے ہے کہ خدا نے اس کو قیامت کے آنے تک خاموش رہنے کا حکم دے رکھا ہے ، جیسے ہی صورپھونکا جائے گا۔تمام زبانوں کی مہریں ٹوٹ جائیں گی۔اس وقت ساری کائنات ایک عظیم الشان ٹیپ ریکارڈربن جائے گی اور پھر خدا کے گواہ کی حیثیت سے وہ سب کچھ بتائے گی جوحق اورعدل کے مطابق اسے بتانا چاہیے۔اس وقت لوگوں کو معلوم ہوگا کہ جس کائنات کے پاس رات کو دن بنا دینے والا سورج تھااس کے پاس یہ بھی انتظام تھا کہ تاریکی میں چھپے ہوئے اعمال کو اجالے میں لاسکے۔ p. 219original + quote

کیسی عجیب محرومی p. 219

آپ کسی شخص کو ایک ڈالر دیں اوراس سے کہیں کہ آگے اسی قسم کے ایک کرورسکے پڑے ہوئے ہیں۔اگر تم تیزی سے جائو تو اس پورے ذخیرہ کو حاصل کرسکتے ہو۔ایسا آدمی ڈالر دیکھ کر کیا کرے گا۔وہ ایک کو بھول کر ایک کرورکی طرف دوڑپڑے گا۔ p. 219

ایسا ہی کچھ معاملہ دنیا اورآخرت کا ہے۔موجودہ دنیا آخرت کا تعارف ہے۔یہاں آدمی ان نعمتوں اورلذتوں کی ابتدائی پہچان حاصل کرتا ہے جس کو خدا نے کامل طور پر آخرت میں مہیا کررکھا ہے۔یہ اس لیے ہے تاکہ آدمی جزءسے کل کو سمجھے۔وہ قطرہ کو دیکھ کر سمندر کا اندازہ کرے۔ p. 220

اگر آدمی کو دنیاکی صحیح معرفت حاصل ہوتو اس کے لیے دنیا مذکورہ ایک ڈالر کی مانند ہوجائے گی۔وہ چھوٹی لذت کو چھوڑ کر بڑی لذت کی طرف بھاگے گا۔وہ دنیا کو بھول کر آخرت کی طرف دوڑ پڑے گا۔اس کے برعکس جو شخص دنیا کی صحیح نوعیت کو نہ سمجھے وہ موجودہ دنیا ہی کو سب کچھ سمجھ بیٹھے گا۔وہ آخرت کو بھول کر اسی دنیا کی چیزوں میں ہمہ تن مشغول ہوجائے گا۔ p. 220

سورج اس لیے ہے کہ وہ آخرت کی روشنیوں سے بھری زندگی سے انسان کو متعارف کرے۔مگر انسان سورج کو دیکھ کر یہ کرتا ہے کہ وہ خود سورج ہی کو اپنا معبود بنالیتا ہے۔ پھولوں اوردرختوں کا حسن اس لیے ہے کہ وہ آدمی کو آخرت کے حسن کی یاد دلائے۔ مگر انسان پھولوں اوردرختوں کو آخری چیز سمجھ کر انہیںکے درمیان اپنی مستقل جنت بنانے لگتا ہے۔دنیا کی لذتیں اس لیے ہیں کہ انسان کو ہمہ تن آخرت کا مشتاق بنادیں مگر انسان انہیںلذتوں میں ایسا کھوتا ہے کہ اس کو آخرت کی یاد بھی نہیں آتی۔ p. 220

جو شخص موجودہ دنیا کی دلفریبیوں میں گم ہوجائے اس نے اپنی آخرت کو کھو دیا۔ایسا شخص آخرت میں پہنچے گا تو وہاں کی ابدی نعمتوں کو دیکھ کر اس کا یہ حال ہوگا گویا اس کا سینہ حسرت ویاس کا قبرستان بن چکا ہے۔وہ کہے گا کہ میں بھی کیسا نادان تھا۔میں نے جھوٹے عیش کی خاطر حقیقی عیش کو کھو دیا۔میں نے جھو ٹی لذت کے پچھے حقیقی لذت گنوا دی۔ میں نے جھوٹی آزادی سے فریب کھا کر اپنے آپ کو حقیقی آزادی سے محروم کرلیا۔ p. 220

سب چلے گئے p. 220

فیبین سو شلزم(Fabian Socialism)ایک سو سال پہلے انگلینڈ میںوجود میں آئی۔ برناڈشا(1856-1950)اوردوسرے بہت سے دانشوراس سے وابستہ تھے۔فیبین کا لفظ ایک رومی جنرل (Fabius Maximus)کے نام سے لیا گیا تھا۔ یہ لوگ غریبی اور جہالت کے خاتمہ پر زور دیتے تھے اور جبر کے بغیر سوشلزم لانے کے علمبردار تھے۔ یہ گروہ فیبین سوسائٹی(Fabian Society) کے نام سے مشہور ہوا۔ p. 221

اس نظریے کو ماننے والوں میں ایک خاتون بیٹرس ویب(Beatrice Webb) بھی تھیں۔وہ اپنی ڈائری لکھتی رہتی تھیں جو ان کے بعد شائع ہو کر کافی مقبول ہوئی۔ اس ڈائری کے آخری اندراجات میں سے ایک وہ ہے جو انھوں نے 1943 کی کسی تاریخ کو لکھا تھا۔ اس میں مذکور ہ خاتون نے تحریر کیا تھا  p. 221original + quote

Everything and everyone is disappearing Churchill Roosevelt, Stalin. What an amazing happening, and well worth recording in my diary. But that also will suddenly disappear (1943). p. 221

ہر چیز اور ہر شخص غائب ہوتے جا رہے ہیں۔ چرچل ،روزولٹ، اسٹالن، سب چلے گئے۔کیسے عجیب ہیں یہ واقعات، اور کس قدر زیادہ میری ڈائری میں لکھے جانے کے قابل، مگر وہ بھی اچانک ایک روز غائب ہوجائے گی(ہندستان ٹائمس، 25دسمبر1984) ۔ p. 221original + quote

کیسے کیسے انسان اس دنیا میں آتے ہیں۔ وہ کیسے کیسے کمالات دکھاتے ہیں۔اور پھر اچانک ایک روز اس دنیا سے چلے جاتے ہیں، جیسے کہ ان کا یہاں آنا اور یہاں سے جانا ان کی اپنی مرضی سے نہ ہو۔ بلکہ کوئی اور ہو جوان کو یہاں لاتا ہواور پھر اپنے یک طرفہ فیصلہ کے تحت انہیںیہاں سے اٹھا لے جاتا ہو۔ p. 221

اس واقعہ کی کوئی بھی با معنی توجیہ اس کے سوا نہیں ہے کہ پیغمبروں کی اطلاع کے مطابق آخرت کو مانا جائے۔ آخرت کو شامل کرنے کے بعد موجودہ دنیا کی ہر چیز با معنی ہو جاتی ہے اور آخرت کو شامل کیے بغیر موجودہ دنیا کی ہر چیز بے معنی۔ p. 222

21واں منٹ p. 222

موجودہ دنیا میں انسان بظاہر آزادہے۔ایسا معلوم ہوتا ہے کہ وہ جوچاہے کرے، کوئی اس کا ہاتھ پکڑنے والا نہیں۔اس صورت حال نے انسان کو غفلت میں ڈال دیا ہے۔ہر آدمی بے خوف بنا ہوا ہے۔ہر آدمی وہ سب کر ڈالنا چاہتا ہے جس کو کرنے کے لیے اس کا دل کہے۔ p. 222

مگر یہ صورت حال سراسر وقتی ہے۔آدمی کے پاس صرف ایک محدود مدت ہے۔اس خاص مدت کے اندر ہی وہ سر کشی کر سکتا ہے۔ اس مدت کے ختم ہوتے ہی اس کا مالک اسے پکڑلے گا۔اس کے بعد وہ مجبور ہو گا کہ اپنی سرکشی کا انجام ابدی طور پر بھگتتارہے۔ p. 222

ہوائی جہاز کو اڑانے کے لیے دو پائلٹ ہوتے ہیں۔21جولائی 1983 کو یہ واقعہ ہوا کہ ایک ہوائی جہاز اٹلانٹک سمندر کے اوپر اڑرہا تھا۔ عین پرواز کی حالت میں اس کے دونوں پائلٹ(ہوا باز) سو گئے اور مسلسل 20 منٹ تک سوتے رہے۔وہ صرف اس وقت بیدار ہوئے جب کہ پائلٹ کیبن میں ایک خاص طرح کا الارم بجنا شروع ہو گیا (ہندوستان ٹائمس، 22جولائی 1983) ۔ p. 222original + quote

یہ ہوائی جہاز کسی اتفاقی سبب سے اپنے روانگی کے مقام پر 12 گھنٹے لیٹ ہو گیا تھا۔اس غیر معمولی حادثہ کی وجہ سے پائلٹ بے حد تھکے ہوئے تھے۔ جب انھوں نے ہوائی جہاز کو اڑایا تو اس کے انجن کو انھوں نے ایک خاص رفتار پر سٹ کر دیا۔اب ہوائی جہاز ایک بندھی ہوئی رفتار پر اڑنے لگا۔ اس دوران میں تھکے ہوئے ہوا بازوں کی آنکھ بند ہو گئی۔ اوروہ مسلسل 20 منٹ تک سوتے رہے۔ یہاں تک کہ کنٹرول کا نظام بگڑ گیا اور ہوائی جہاز کی رفتار غیرمعمولی تیز ہوگئی۔اس کے بعد مشینی نظام کے تحت جہاز کا مخصوص الارم بجنے لگا۔الارم کی وجہ سے پائلٹ جاگ اٹھے اور فوراًانجن کو سنبھال لیا۔ p. 223

فارن بورو(انگلینڈ) کے ہوائی جرنل(Feedback) میں ایک ہوا باز نے اس واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے لکھا ہے کہ میں یہ سوچ کر کانپ اٹھتا ہوں کہ کیا کچھ ہو سکتا تھا : p. 223other source

I Shudder to think what could have happened. p. 223

موجودہ زندگی کو اگر’’ 20‘‘ منٹ کا لمحہ فرض کریں اور اس کے بعد 21 ویںمنٹ کو آخرت میں داخلہ کے ہم معنی قرار دیں توہم کہہ سکتے ہیں کہ قدرت نے انسان کو صر ف 20 منٹ تک غلطی کرنے کی اجازت دی ہے، اگر وہ آخر وقت تک ہوشیار نہ ہو تو قدرت اس کو 21 ویں منٹ میں غلطی کرنے کی اجازت نہ دے گی۔ 20 منٹ کے بعد اس کے لیے یاتو اپنی اصلاح کرلینا ہے یا موت کی گرفتاری۔ p. 223

آرزوؤں کی دنیا p. 223

جنت کا انکاراپنے آپ کا انکار ہے۔جو شخص جنت کو نہیں مانتا وہ خود اپنی نفی کر رہا ہے۔ جو شخص جنت کو مانتا ہے مگر ٍاس کے لیے عمل نہیں کرتا وہ ایسا خریدار ہے جو ایک چیز خریدنا چاہتا ہے۔ مگر اس کی قیمت دینے کے لیے تیا ر نہیں۔ p. 224

ہر انسان سب سے زیادہ کیا چاہتا ہے۔ہر انسان کی سب سے بڑی خواہش یہ ہے کہ وہ اپنے خوابوں کی دنیا کو پاسکے۔ وہ ابدی طور پر جیتا رہے۔ وہ اپنی تمام آرزئوں کی تکمیل کر سکے وہ ایسی زندگی کا مالک بنے جو ہر قسم کی محدودیت(Limitations) اور ناخوشگواری (Disadvantage) سے خالی ہو۔ p. 224

یہ آدمی کی سب سے بڑی تمنا ہے۔ہرآدمی اپنی اس تمنا کی تکمیل کے لیے دوڑ رہا ہے۔ مگر کوئی بھی آدمی اپنی اس تمنا کو پورا نہیں کر پاتا۔آدمی اپنی صحت بناتاہے مگر بہت جلد اس کی صحت کسی حادثہ یا بڑھاپے کا شکار ہو جاتی ہے۔آدمی دولت جمع کرتاہے مگر دولت اس کے قلب و دماغ کو سکون نہیں دیتی۔وہ اقتدار پر قبضہ کرتا ہے مگر اقتدار صرف اس کے مسائل میں اضافہ کا سبب بنتا ہے۔ وہ عیش و عشرت کے سامان اکٹھا کرتا ہے مگر جلد ہی وہ اکتا ہٹ (Boredom)کا شکار ہو جاتا ہے۔ p. 224

ہر آدمی اپنے لیے ایک جنت کی تعمیر میں لگا ہوا ہے۔مگر وہ اپنی جنت بنا نہیں پاتا کہ اس کی موت آجاتی ہے۔وہ اپنی تمام آرزئوں اور تمنائوں کو لیے ہوئے دنیا سے چلا جاتا ہے۔ p. 224

آدمی موت کے بعد کہاں جاتا ہے۔وہ وہاں جاتا ہے جہاں اس کے خوابوں کی جنت بنی ہوئی ہے۔ مگر یہ جنت اس شخص کو ملتی ہے جس نے موت سے پہلے والی زندگی میں اس کی قیمت ادا کی ہو۔ جو شخص موجودہ دنیا میں جنت کی قیمت ادا نہیں کر تا وہ گویا اسی چیز کی محرومی کا خطرہ مول لے رہا ہے جس کو وہ سب سے زیادہ پانا چاہتا ہے۔ p. 224

جنت ہماری آرزئوں کا محل ہے۔ مگر جنت صرف اس شخص کے حصہ میں آتی ہے جس نے اس کو آخرت میں تعمیر کیا ہو۔ جو شخص اپنی جنت موجودہ دنیا میں تعمیر کرے اس کے لیے ابدی محرومی کے سوا کچھ اور نہیں۔ p. 225

کیسی عجیب ہے وہ محرومی جب کہ آدمی عین اِسی چیز سے ابدی طور پر محروم ہو جائے۔ جس کے لیے وہ ساری عمر سب سے زیادہ آرزومند بنا ہوا تھا۔ p. 225

ہر چیز میں سبق p. 225

خواجہ حسن نظامی (1878-1955) کا ایک مضمون ہے’’ مچھر کی کہانی‘‘ خواجہ صاحب نے مچھر سے شکایت کی کہ تم اتنا کیوں پریشان کر رہے ہو۔ ہم کو سونے کیوں نہیں دیتے۔ مچھر نے جواب دیا’’ سونے اور ہمیشہ سونے کا موقع ابھی نہیں آیا ہے۔جب آئے گا تو بے فکر ہو کر سونا۔ابھی تو ہوشیار رہنے اور کچھ کام کرنے کا وقت ہے‘‘ —اگر نصیحت لینے کا ذہن ہو تو مچھر کی بھنبھنا ہٹ میں بھی آدمی کو زندگی کا پیغام مل جاتا ہے۔ اور اگر نصیحت لینے کا ذہن نہ ہو تو بم دھماکے اور ٹینکوں کی گڑ گڑاہٹ بھی جمود کو توڑنے کے لیے ناکافی ہیں۔ ایسے لوگوں کو قیامت کا طوفان ہی بیدار کر سکتا ہے۔ مگر افسوس کہ قیامت کے طوفان سے بیدار ہونے کا کوئی فائدہ نہیں۔کیونکہ وہ بدلہ پانے کا وقت ہو گا نہ کہ عمل کرنے کا۔ p. 225

قرآن میں کہا گیا ہے کہ— جنتی وہ ہے جو اللہ کے پاس قلب سلیم لے کر آئے (26:89) ۔حدیث میں ارشاد ہوا ہے کہ— اللہ جس کے ساتھ بھلائی کا ارادہ کرتا ہے اس کو دین کی سمجھ دے دیتا ہے:مَنْ يُرِدِ اللَهُ بِهِ خَيْرًا يُفَقِّهْهُ فِي الدِّينِ (صحیح البخاری، حدیث نمبر 71 )۔ اس سے معلوم ہواکہ اللہ کی سب بڑی نعمت یہ ہے کہ آدمی کا ذہن کھلاہوا ہو۔وہ حق کو اس کی اصل شکل میں دیکھ سکے۔وہ نفسیاتی پیچیدگیوں سے آزادہوکر رائے قائم کرنے کی صلاحیت رکھتا ہو۔ایسے آدمی کے سامنے جب کوئی سچائی یا کوئی سبق کی بات آتی ہے تو اس کو سمجھنے میں اسے دیر نہیں لگتی۔وہ اس کو فوراً پالیتا ہے اوراپنی زندگی میں اس کو شامل کرلیتا ہے۔ p. 225original + quote

دنیا میں ہر طرف اللہ کی نشانیاں بکھری ہوئی ہیں ،کہیں جمادات خاموش زبان میں کسی حقیقت کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔کہیں ’’مچھر ‘‘اپنی زبان میں کوئی پیغام دیتا ہے۔کہیں انسانوں کے درمیان کوئی واقعہ ہوتا ہے اوراس میں ایک چھپا ہوا سبق موجودہوتا ہے۔کبھی کوئی اللہ کا بندہ کھلی ہوئی نصیحت کی زبان میں کسی امر حق کی طرف متوجہ کرتا ہے۔ان تمام مواقع پر وہی شخص سچائی کو پائے گا جس نے اپنا سینہ سچائی کے لیے کھلا رکھا ہو۔اگر آدمی کے اندر سبق لینے اوربات کوپکڑنے کا مزاج نہ ہو تو کوئی بھی چیزاسے فائدہ نہیں دے سکتی۔کھلے ذہن کا آدمی ’’مچھر ‘‘سے سبق لے سکتا ہے۔اور جس نے اپنے ذہن کی کھڑکیاں بند کرلی ہوں اس کے لیے خداکی کتاب اوررسول کا کلا م بھی ہدایت کوپانے کے لیے ناکافی ہے — سب سے بڑی چیز سبق لینے کامزاج ہے۔جس شخص کے اندر یہ مزاج پیدا ہوجائے اس کے لیے خدا کی ساری دنیا ایک زندہ کتاب بن جائے گئی۔اور جو اس مزاج سے محروم ہووہ ایک قسم کا جانور ہے جو سب کچھ دیکھنے اورسننے کے بعد بھی نہیں جانتا کہ کیا دیکھا اورکیا سنا۔ p. 226

خرچ سے اضافہ p. 226

مسٹر رام رتن کپلا (پیدائش1918)نے 1937میں پندرہ روپیہ ماہوارکی ایک ملازمت سے اپنی زندگی کا آغاز کیا۔اب دہلی میں نرائناانڈسٹریل ایریا میں ان کی فیکٹری ہے اور آصف علی روڈ پر بہت بڑاشوروم ہے۔انھوں نے اپنے ابتدائی دورکا ایک واقعہ اس طرح بتایا۔ p. 226

یہ 1945ء کی بات ہے جب کہ میں ایک میکینک کی حیثیت سے کام کرتا تھا۔میں نے کافی محنت سے کام کیا اوردھیرے دھیرے 25ہزار روپئے بینک میں جمع کرلیے۔ میں بہت خوش تھاکہ میں نے کارنامہ انجام دیاہے۔اس کے بعد ایسا ہواکہ راولپنڈی کے ایک بزرگ ’’خواجہ صاحب ‘‘انہیںدنوں میرے پاس آئے۔ہمارے ان کے درمیان بہت پرانے مراسم تھے۔میں ان کی بہت عزت کرتا تھا۔انھوں نے مجھ سے میرے کام کے بارے میں پوچھا۔میں نے فخر کے ساتھ انہیںبتایا کہ میں نے 25ہزار روپیہ بچا لیا ہے جو بنک میں جمع ہے۔ مجھے امید تھی کہ وہ مجھ کو شاباش دیں گے اِس کے برعکس انھوں نے مجھ کو لعنت ملامت کی اور کہا کہ تم نے اپنا وقت خراب کیا۔ تم کو شرم آنی چاہیے کہ تمہارے پاس 25 ہزار روپیہ بے کار پڑا ہواہے ،صرف اس لیے کہ بنک کا سود ملتا رہے۔اگر تم یہ بتاتے کہ میرے اوپر بنک کا قرض ہے تو البتہ مجھے خوشی ہوتی۔تم فوراً بمبئی جائو۔ کلکتہ جائو۔وہاں جاکر کاروبار دیکھو،ایجنسی لو،روپیہ کو کام میں لاو۔ p. 226

شری رام رتن کپلا نے بتایا کہ اس کے بعد میں1945-1946میں بمبئی گیا۔ وہاں ریفریجریٹر بنانے والی بڑی کمپنیوں کی ایجنسیاں لیں۔ اس کے بعد ہمارا کاروبار خوب بڑھا۔ کافی پیسہ ہاتھ آیا۔اس کے بعد میں نے بارہ روپیہ ماہوار کا گیرج(garage) چھوڑ دیا اور ایک ہزار روپیہ ماہوار کرایہ پر موجودہ شو روم لیا۔ p. 226other source

خدا نے اپنی دنیا کا نظام کچھ اس طرح بنایا ہے کہ یہاں خرچ کرنے سے اضافہ ہوتاہے۔ آپ چند دانے ’’خرچ ‘‘کرتے ہیں تو کھیت اس کے بدلے میں آپ کو ہزاروں دانے لوٹا تا ہے۔ کاروبار میں آدمی روپیہ لگاتا ہے تو وہ کئی گنا زیادہ ہو کر اس کی طرف واپس آتا ہے۔معاشرہ میں صدقات و خیرات کی صورت میں جو خرچ کیا جاتا ہے وہ بھی اس طرح اضافہ ہو کر آدمی کی طرف لوٹتا ہے کہ اس سے سماج میں باہمی اعتماد، ایک دوسرے کا لحاظ ، حقوق کی ادائیگی، دوسرے کے معاملے کو اپنا معاملہ سمجھنا جیسے احساسات پرورش پاتے ہیں اور وہ بے شمار صورتوں میں خود دینے والے کو نفع پہنچاتے ہیں۔ p. 227

آخرت کے لیے خرچ کا معاملہ بھی یہی ہے۔ اگر آخرت کی راہ میں خرچ کریں تو وہ دس گنا سے سات سو گنا تک بلکہ اس سے بھی زیادہ بڑھی ہوئی صورت میں آپ کی طرف لوٹا دیا جائے گا۔ آخرت کی راہ میں خرچ سے جو اضافہ ہوتا ہے وہ سب سے بڑا اضافہ ہے، کیونکہ وہ نہ صرف مقدار میں زیادہ ہے بلکہ وہ دائمی بھی ہے۔ آخرت کے سوا کوئی دوسرا اضافہ دائمی نہیں۔ p. 227original + quote

جب پردہ کھلے گا p. 227

خدا کی طرف سے جتنے پیغمبر آئے ان سب کے ساتھ ایک ہی مشترک حادثہ پیش آیا۔وقت کے اکابر نے ان کو نظر انداز کر دیا۔جو لوگ ماحول کے اندر بڑائی کا مقام حاصل کیے ہوئے تھے انھوں نے ان کو قابل التفات نہیں سمجھا۔ p. 227

وقت کے یہ اکابر سب کے سب وہ لوگ تھے جو خدا کو مانتے تھے۔وہ اس کو بھی مانتے تھے کہ خدا کی طرف سے خدا کا پیغام دینے والا آتا ہے۔ حتی کہ ان میں ایسے لوگ بھی تھے جو آنے والے پیغمبر خدا کا پہلے سے انتظار کر رہے تھے۔وہ اس کی یاد میں پُر جوش تقریریں کرتے تھے مگر جب وہ آنے والا آیا تو انھوں نے اس کو نہیں پہچانا۔ انھوں نے حقارت کے ساتھ اس کو رو کر دیا۔ p. 227

چونکہ وہ تقلید آباء کی سطح پر جی رہے تھے، وہ صرف ان پچھلے پیغمبروں کو پہچان سکے جن کا نام ان کے آبائی مذہب میں شامل تھا۔ جو ان کی قومی تقلید کا حصہ بن چکا تھا۔ جو انہیںتاریخی روایات کے تسلسل میں مل رہا تھا۔ وقت کا پیغمبر ابھی ان اضافی خصوصیات سے خالی تھا اس لیے وہ ان کو دکھائی بھی نہیں دیا۔ وقت کے نمائندہ خدا کو پہچاننے کے لیے جو ہرشنا سی کی صلاحیت درکار تھی اور یہ لوگ اس سے محروم تھے ،پھر وہ وقت کے پیغمبر کو کس طرح پہچانتے۔ p. 227

یہ سب کرتے ہوئے وہ مذہب کا جھنڈا بھی اٹھائے ہوئے تھے۔وہ پچھلے پیغمبروں کا مومن ہونے پر فخر کرتے تھے۔ عوام کے درمیان وہ خدا کے دین کے سب سے بڑے حامی بنے ہوئے تھے۔مگر خدا کے یہاں وہ بالکل بے قیمت قرار پائے۔کیوں کہ ان کا مذہب آباء کی تقلید کی سطح پر پیدا ہوا تھا نہ کہ حقیقت کے اعتراف کی سطح پر۔ p. 228

آخرت میں جب ان پر کھلے گا کہ انھوں نے جس کو نظر انداز کیا وہی وہ تھاجس کی زبان سے خدا نے اپنا کلام جاری کیا تھا۔ جو دنیا میں خد ا کا نمائندہ بنا کر کھڑا کیا گیا تھا تو یہی واقعہ ان کی ابدی روسیا ہی کے لیے کافی ہو گا۔وہ کہیں گے کہ ہائے ہمارا ندھا پن ،ہم نے اسی کو نہ دیکھا جس کو ہمیں سب سے زیادہ دیکھنا چاہیے تھا۔ ہم نے اسی کو نہ پہچانا جس کو ہمیں سب سے زیادہ پہچاننا چاہیے تھا۔ p. 228

جھوٹی عظمت p. 228

نپولین بونا پارٹ (1769-1821)ایک فوجی افسر تھا۔ حالات سے فائدہ اٹھا کر وہ فرانس کی حکومت پر قابض ہو گیا۔1804میں اس نے فرانس کے تاعمر شہنشاہ ہونے کا اعلان کر دیا۔ نپولین نے فتوحات کا سلسلہ شروع کیا۔ یہاں تک کہ انگلینڈ کو چھوڑ کر وہ پورے یورپ کا فاتح بن گیا۔ اس نے فرانس کی ایک دلکش خاتون جوزفین (Josephine)سے شادی کی۔مگر1810 میں اس نے جوزفین سے علیحدگی اختیار کر لی۔ کیونکہ وہ شہنشاہ یو رپ کا جانشین پیدا کرنے میں نا کام رہی تھی۔ p. 228

اس کے بعد نپولین نے آسٹریا کے بادشاہ کی لڑکی میری لوئی (1791-1847) سے شادی کی۔ 1811 میں اس کے یہاں ایک لڑکا پیدا ہوا جس کا نام اس نے فرانسس جوزف چارلس رکھا۔نپولین خوش تھا کہ اس نے اپنی بادشاہت کا تسلسل قائم رکھنے کے لیے اپنا ایک ولی عہد پا لیا ہے۔ مگر اس کے جلد ہی بعد یہ واقعہ ہوا کہ نپولین کی سیاسی حرص نے اس کو روس سے ٹکرا دیا۔ روس کی فوجیں اگرچہ نپولین کی فوجوں کا مقابلہ نہ کر سکیں۔ تاہم روس کا جغرافیہ اس کی مدد پر آگیا۔ نپولین کی فوجیں روس کی شدید برفباری کی تاب نہ لاسکیں۔نپولین اس حال میں روس سے واپس آیا کہ اس کی فوج کا بڑا حصہ راستہ میں برباد ہو چکا تھا۔ یہ واقعہ1812 میں ہوا۔ بعد کے حالات اس کے لیے اور بھی نا موافق ثابت ہوئے۔یہاں تک کہ 1815 میں نپولین کو برطانوی فوجوں کے مقابلہ میں شکست ہوئی۔اس کو گرفتار کر کے جزیرہ سینٹ ہیلینا بھیج دیا گیا۔ یہاں 1821 میں وہ قید کی حالت میں مر گیا۔ p. 228

انسان اپنی اولاد تک کے لیے عظمت کا خواب دیکھتا ہے، حالانکہ وہ خود بہت جلد بے عظمت ہو جانے والا ہے۔اس دنیا میں ہر روز کوئی نپولین بے عظمت ہو کر مر رہا ہے۔ مگر کوئی نہیں جو اس سے سبق لے۔کوئی نہیں جو اس کو اپنی زندگی کے لیے رہنما بنائے۔ p. 229

موجودہ دنیا میں ہر انسان کو صر ف محدود موقع دیا گیا ہے۔ مگر ہر انسان اپنے لیے لامحدود منصوبہ بناتا ہے۔ ہر شخص کی عظمت آخر کا ر یہاں خاک میں مل جاتی ہے۔ ہر دیکھنے والا اس کو دیکھتا ہے مگر کوئی اس سے سبق نہیں لیتا۔ہر آدمی اس کہانی کو دوبارہ لکھنا چاہتا ہے جس کو اس کے پیش رونے لکھنا چاہاتھا مگر وہ اس کو لکھنے میں ناکام رہا۔ p. 229

خدا اورانسان p. 229

آنے والا دن p. 229

موجودہ دنیامیں جب کوئی آدمی خدا کو مانتا ہے تو وہ دلیل کی بنیاد پر خدا کو مانتا ہے۔ آخرت میں جو لوگ خدا کومانیں گے وہ خدا کے زوروقوت کی بنیاد پر خداکو مانیں گے۔گویا موجودہ دنیا میں دلیل خدا کی نمائندہ ہے۔اس کے برعکس آخرت میں یہ ہوگا کہ خداخود اپنی ذات کمال کے ساتھ اپنے آپ کو منوانے کے لیے انسان کے سامنے ظاہر ہوجائے گا۔ p. 229

اس سے یہ معلوم ہواکہ حقیقت میں خدا کو ماننے والا کون ہے اوراس کو نہ ماننے والا کون۔خدا کو ماننے والا وہ ہے جو معقولیت کے وزن کومانے۔جو حق کے آگے اس وقت جھک جائے جب کہ اس کے ساتھ لفظی دلیل کے سوا کوئی اورزورشامل نہ ہو۔اس کے برعکس جس کا یہ حال ہوکہ کوئی بات محض اپنی سچائی کی بنا پر اس کو متاثر نہ کرسکے ،وہ کسی سچائی کو صرف اس وقت مانے جب کہ وہ کسی وجہ سے اس کو ماننے کے لیے مجبور ہوگیا ہو۔جس سچائی کے ساتھ ایسا کوئی دباو موجودہ نہ ہو وہ اس کو ماننے کے لیے بھی تیار نہ ہوتا ہو،ایسا آدمی خدا کو ماننے والا نہیں ہے۔اس کا معبود ظاہری طاقت ہے نہ کہ غیبی خدا۔ p. 230

خدا اپنے ماننے کا ثبوت غیب کی سطح پر لے رہا ہے اورلوگ اس کو ماننے کا ثبوت شہود کی سطح پر دینا چاہتے ہیں۔خدا چاہتا ہے کہ آدمی حق کے آگے جھک جائے مگر آدمی صرف طاقت کے آگے جھکنے کے لیے تیار ہوتا ہے۔خدا چاہتا ہے کہ آدی محض خدا کے خوف کی بنا پر انصاف کے طریقہ کو اپنا لے۔مگر انسان صرف اس وقت انصاف کرنے پر راضی ہوتا ہے جب کہ وہ اس کے لیے مجبور ہوگیا ہو۔جہاں مجبوری نہ ہو وہاں وہ فوراً سرکشی کرنے لگتا ہے۔ p. 230

موجودہ دنیا امتحان کی دنیا ہے۔یہاں آدمی کو موقع ہے کہ وہ اپنی حقیقت کو چھپا لے۔ مگر قیامت ہر آدمی کو برہنہ کردے گی۔اس وقت بہت سے خدا پرست غیر خدا پرستوں کی صف میں نظر آئیں گے ،بہت سے حق کو ماننے والے حق کو نہ ماننے کے مجرم قرار دیے جائیں گے۔بہت سے لوگ جو جنت کا الاٹمنٹ لیے ہوئے ہیں وہ اپنے کو جہنم کے دروازے پر کھڑاہو اپائیں گے۔انسان کتنا زیادہ بے ڈربنا ہواہے ،حالانکہ کتنا زیادہ ڈرکا لمحہ اس کے لیے آنے والا ہے p. 230

عجیب یادگار p. 230

مسز اندرا گاندھی (1917-1984)پہلی بار1966میں ہندستان کی وزیراعظم بنیں۔ اس وقت ان کی سرکاری رہائش گاہ کے لیے یہ انتظام کیا گیا کہ صفدر جنگ روڈ(نئی دہلی ) کے دو مکانات کوملاکر ایک بڑا مکان بنایا گیا۔یہ وزیراعظم اندراگاندھی کی سرکاری رہائش گاہ تھی۔اس رہائش گاہ میں اوراس کے آس پاس بہت دور تک وزیراعظم کی حفاظت کے لیے انتہائی غیر معمولی حفاظتی انتظامات کیے گئے تھے۔مگر 31اکتوبر 1984کو مسزگاندھی کا خاتمہ سادہ طورپر اس طرح ہواکہ مسزگاندھی کے حفاظتی دستہ کے دو آدمیوں (بینت سنگھ اورستونت سنگھ) نے انہیںاسی ہتھیار کا نشانہ بنا کر ختم کردیاجو وزیراعظم کی جان کی حفاظت کے لیے انہیںخصوصی طور پر مہیا کیے گئے تھے۔ p. 230

صفدر جنگ روڈ کے اس مکان کو اب مسز اندراگاندھی کی یاد گارمیں تبدیل کیا جارہا ہے۔اس سلسلہ میں حکومت کے منصوبہ کو بتاتے ہوئے اخباری رپورٹ (ٹائمس آف انڈیا،10نومبر1984)میں یہ الفاظ درج تھے: p. 231

.... that the house should be maintained as a place where people could come and pay their tributes to the memory of the most powerful woman in the world who died a martyr. p. 231

حکومت کا خیال ہے کہ اس گھر کو ایک ایسے مقام کی حیثیت سے باقی رکھا جانا چاہیے جہاں لوگ آئیں اوراس خاتون کو خراج عقیدت پیش کریں جو دنیا کی سب سے زیادہ طاقت ورخاتون تھیں اوریہاں ایک شہید کی حیثیت سے مریں۔ p. 231

مسز اندراگاندھی کی زندگی کے دورخ ہیں۔ایک ان کا ہندستان کا وزیراعظم ہونا۔ دوسرا ان کا بے یارومددگار انسان کی حیثیت سے مارا جانا۔دونوں کو ملا کر دیکھیے تو مسز اندرا گاندھی کی زندگی انسان کے کمال عجز کی داستان سنارہی ہے۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس دنیا میں ایک وزیر اعظم بھی اتنا ہی کمزورہے۔جتنا ایک معمولی انسان۔مگر جن لوگوں نے مسزگاندھی کے پہلے رخ کو ان کے دوسرے رخ سے الگ کرکے دیکھا ان کے لیے یہ واقعہ بالکل الٹے مفہوم کا حامل بن گیا۔ p. 231

کیسی عجیب بات ہے۔جو واقعہ انسانی عجز کا سبق دے رہا ہے ،اس سے نادان لوگ انسانی کبریائی کا سبق لے رہے ہیں۔جو واقعہ انسان کے لیے بے طاقت ہونے کا ثبوت ہے اس کو اس بات کی یادگاربنا یا جایا رہا ہے کہ انسان کس قدر طاقت ور ہے۔ p. 231

یہ سونے والے p. 232

حدیث میں آیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایامیں نے نہیں دیکھا کہ جہنم جیسی چیز سے بھاگنے والا سوگیا ہو اورمیں نے نہیں دیکھا کہ جنت جیسی چیز کو چاہنے والا سوگیا ہو:مَا رَأَيْتُ مِثْلَ النَّارِ نَامَ هَارِبُهَا، وَلاَ مِثْلَ الجَنَّةِ نَامَ طَالِبُهَا (سنن الترمذی، حدیث نمبر 2601)۔ p. 232original + quote

جہنم کا عذاب کتنا ہولناک ہے۔مگر آدمی اس سے غافل ہے۔جنت کی نعمتیں کتنی لذیز ہیں مگر آدمی کواس کا کوئی شوق نہیںیقینا یہ زمین پر ہونے والے تمام واقعات میں سب سے زیادہ عجیب ہے۔ p. 232

لوگ سورہے ہیں تاکہ اس وقت جاگیں جب کہ جہنمی آگ کے شعلے ان کے لیے سونے کو ناممکن بنا دیں۔لوگ غافل ہیں تاکہ اس وقت ہوشیار ہوں جب کہ محرومی اور رسوائی ان کے اوپر اس طرح ٹوٹ پڑے کہ ان کے لیے اس سے بھاگنے کا کوئی راستہ نہ ہو۔ p. 232

آج ہر آدمی بے ہوش نظر آتا ہے۔ہر آدمی اپنے آپ میں اس طرح گم ہے جیسے اس کے اوپر کوئی اورطاقت نہیں۔حالاں کہ موت ہر روز بتارہی ہے کہ آدمی ایک ایسی حقیقت سے دوچار رہے جس کے مقابلہ میں کسی کا کچھ بس نہیں چلتا۔انسان کتنا زیادہ مجبور ہے مگر وہ اپنے آپ کو کتنا زیادہ بااختیار سمجھتا ہے۔ p. 232

آدمی وعدہ کرتا ہے مگر اس کے بعد اس کو نظر انداز کردیتا ہے۔اس کے اوپر کسی کا ایک حق آتا ہے مگر وہ اس کو ادا نہیں کرتا ہے۔آدمی کے سامنے ایک سچائی آتی ہے مگر وہ اس کا اعتراف نہیںکرتا۔وہ دوسرے کے اوپر یک طرفہ الزام لگاتا ہے اوراپنی غلطی ماننے کے لیے تیار نہیں ہوتا۔وہ چھوٹوں کو نظر انداز کرکے بڑوں کا استقبال کرتا ہے۔وہ اپنی زندگی کو اصول کے تابع کرنے کے بجائے خواہشات کے تابع کرتا ہے۔وہ زور آور سے دبتا ہے اوربے زور کو ستاتا ہے۔وہ خدا کو مرکز توجہ بنانے کے بجائے خود اپنی ذات کو اپنا مرکز توجہ بناتا ہے۔وہ جنت کے اشتیاق اورجہنم کے اندیشوں میں جینے کے بجا ئے دنیا کے اشتیاق اور دنیا کے اندیشوں میں جیتاہے۔ p. 233

آدمی یہ سب کچھ کرتا ہے اوربھول جاتا ہے کہ اپنی اس روش سے اپنے آپ کو جہنم کے قریب لے جارہا ہے اوراپنے آپ کو جنت کے لیے نااہل ثابت کررہا ہے۔ p. 233

آہ! وہ انسان جس کو اسی چیز کا شوق نہیں جس کا اسے سب سے زیادہ شوق ہونا چاہیے۔ آہ ! وہ انسان جو اسی چیز سے سب سے زیادہ بے خوف ہے جس سے اس کو سب سے زیادہ خوف کرناچاہیے۔ p. 233

خدا اورانسان p. 233

کائنات خدا کا آئینہ ہے۔یہاں خدا اپنی مخلوقات کے روپ میں نمایاں ہے۔آدمی کی حساسیت اگر زندہ ہو تو اپنے گردوپیش وہ خداکو پائے گا۔اپنے چاروں طرف وہ خدا کا مشاہدہ کرے گا۔خدا کی کائنات اس کے لیے خدا کا زندہ ثبوت بن جائے گی۔ p. 233

دنیا میں زندگی کی سرگرمیاں اس بات کا کھلا ہوااعلان ہیں کہ اس دنیا کا خالق ایک زندہ ہستی ہے۔نہ کہ کوئی ایسی ہستی جو زندگی اورحیات سے محروم ہو۔جب سورج نکلتا ہے اور چھپی ہوئی چیزیں اس کی روشنی میں دکھائی دینے لگتی ہیں تو ایسا معلوم ہوتا ہے۔جیسے خدا نے اپنی آنکھیں کھولی ہوں ،جیسے خدا ایک دیکھنے والی ہستی ہو اوراپنی آنکھوں سے سارے عالم کو دیکھ رہا ہو۔دریائوں میںجب پانی کا سیلاب رواں ہوتا ہے تو وہ پُرشور اعلان کرتا ہے کہ اس دنیا کا خالق ایک ایسا خالق ہے جو چلتا ہے اوراقدام کرکے آگے بڑھتا ہے۔جنگل کا شیر جب اپنا پنجہ نکال کر کسی جانور کو اپنی پکڑمیں لیتا ہے تو گویا وہ کہہ رہا ہوتا ہے کہ اس کو پیدا کرنے والا خدا ایک ایسا خدا ہے جو پکڑنے کی طاقت رکھتا ہے اور چیزوں کو اپنی گرفت میں لے لیتا ہے۔خلا کی بے پایاں وسعتیں اس حقیقت کا ابدی اظہار ہیں کہ اس کائنات کا خالق ایک لامحدود ہستی ہے ،وہ اپنی ذات میں بھی اتھاہ ہے اوراپنی صفات میں بھی۔ p. 234

خدا کا یہ کائناتی مشاہدہ ایک طرف آدمی کے اندر خدا کا یقین پیدا کرتا ہے دوسری طرف اس کو بہت بڑے سوال سے دوچار کردیتا ہے۔اس دنیا کا اگرخدا ہے تو وہ اپنی دنیا میں ظاہر کیوں نہیں ہوتا۔دنیا میں بے پناہ برائیاں ہیں۔یہاں ایک انسان دوسرے انسان پر ظلم کرتا ہے۔ایک شخص موقع پاکر دوسرے شخص کو ذبح کردیتا ہے۔یہ سب خدا کی دنیا میں ہر روز ہورہا ہے مگر خدا ظالموں کا ہاتھ نہیں پکڑتا،وہ مظلوموں کی جانب کھڑانہیں ہوتا۔ p. 234

اس سوال کو صرف اس وقت سمجھا جاسکتا ہے جب کہ مخلوقات کے بارے میں خالق کی اسکیم کو سمجھ لیاجائے۔موجودہ دنیا خدا کا مستقل بندوبست نہیں ،وہ صرف امتحانی بندوبست ہے۔یہ گویا ایک کھیت ہے جس میں مختلف پودوں کو اگنے کا موقع دے کر یہ دیکھا جارہا ہے کہ کون اچھا درخت ہے اورکون جھاڑ جھنکاڑ۔اس کے بعد اچھے درختوں کو ہر قسم کے بہترین مواقع دے کر تمام برے درختوں کو اکھاڑدیاجائے گااورپھر خداکی دنیا خدا کے معیاری انتظام کے تحت حسن اورلذت کی ابدی بہشت بن جائے گی۔ p. 234

انسان کی غلطی p. 234

انسان نے ہمیشہ خدا کو سمجھنے میں بھی غلطی کی ہے اوراپنے آپ کو سمجھنے میں بھی۔اس نے خدا کو اپنے جیسا سمجھ لیا اوراپنے آپ کو خدا جیسا۔یہی ہر دور کے انسان کی غلطی رہی ہے۔ساری انسانی تاریخ اسی غلطی اوراس کے نتائج کی داستان ہے۔ p. 234

خدا کو اپنے جیسا سمجھنا یہ ہے کہ خدا کو انسانی سطح پر اتارلایا جائے۔الحاد اورشرک کی تمام قسمیں اسی غلطی کی پیداوار ہیں۔الحاد بھی خدا کو انسان پر قیاس کرنے کا دوسرانام ہے اورشرک بھی۔ p. 235

انسان ہمیشہ باپ اورماں کے ذریعہ پیدا ہوتا ہے ،وہ کسی جننے والے کے ذریعہ جنا جاتا ہے۔اس بنا پر گمان کرلیا گیا کہ خدا اگر ہے تو اس کو جننے والا بھی کوئی ہونا چاہیے۔کسی کو خدا سے پہلے ہونا چاہیے جو خدا کو وجود بخشے۔اب چونکہ انسان کوخدا ئے لم یزل پیدا کرنے والا کوئی نظر نہ آیا اس لیے اس نے خدا کے وجود کا انکار کردیا۔انسان اپنی تخلیق کی صورت میں اپنے خالق کو دیکھ رہاتھا۔مگر وہ اپنے ایک غلط مفروضہ کی وجہ سے اس کو ماننے پر تیار نہ ہوا۔ p. 235original + quote

جن لوگوں نے خداکو مانا انھوں نے یہی غلطی دوسرے انداز سے کی۔انھوں نے دیکھا کہ انسان جب کوئی کام انجام دیتا ہے تو بہت سے لوگوں کی مدد سے انجام دیتا ہے۔ اس بنا پر انھوں نے خدا کے بھی شریک اورمددگار فرض کرلیے۔انسان کے یہاں بڑے لوگوں کی سفارشیں چلتی ہیں۔چنانچہ مان لیا گیا کہ خدا کے بھی کچھ مخصوص اورقریبی لوگ ہیں جو خدا کے دربار میں اثر رکھتے ہیں اورخدا ان کی سفارشیں قبول کرتا ہے۔انسان جذبات سے مغلوب ہوتا ہے۔وہ اکثر حق کے تقاضوں کو چھوڑکر جذباتی میلان کے تحت فیصلے کرتا ہے۔اس پر قیاس کرتے ہوئے یہ عقیدہ بنالیا گیا کہ خدا محض گروہی تعلق کی بنیاد پر کچھ لوگوں سے ایسا معاملہ کرتا ہے جو معاملہ وہ دوسرے گروہ سے تعلق رکھنے والوں کے ساتھ نہیں کرتا۔اس قسم کا ہر عقیدہ خدا کی خدائی کی نفی ہے۔مگر انسان اپنی نادانی سے اکثر اپنے ذہن میں ایسے متضاد خیالات کو جمع کرلیتا ہے جن کا بیک وقت درست ہونا ممکن نہیں۔ p. 235unverified

اپنے آپ کو خدا جیسا سمجھنا یہ ہے کہ آدمی یہ گمان کرلے کہ وہ اپنی تقدیر کا مالک آپ ہے۔وہ آزادہے کہ جو چاہے کرے اورجو چاہے نہ کرے۔وہ اپنی زندگی کا اصول آپ وضع کرے اوراپنے حلال وحرام کو خود اپنی عقل سے متعین کرے۔اس قسم کی ہر کوشش گویا اپنے آپ کو خدا کے مقام پر بٹھانا ہے ،جو چیز صرف خدا کا حق ہے اس کا حق دار اپنے آپ کو سمجھنا ہے۔مگر ایسا ہر گمان اس کائنات میں سراسر باطل ہے۔کیونکہ انسان صرف ایک عاجز مخلوق ہے ،وہ کسی بھی اعتبار سے خالق کا درجہ حاصل نہیں کرسکتا۔ p. 235

انسا ن کی تلاش p. 235

انسان کے اندر ایک عجیب خصوصیت ہے جو کسی دوسری مخلوق میں نہیں۔وہ ہے لامتناہی تلاش کا جذبہ۔ہر آدمی اپنے پیدائشی جذبہ کے تحت ایک ایسی نامعلوم چیز کی تلاش میں رہتا ہے جس کو اس نے پایا نہیں۔کوئی بھی کامیابی اس کو اس طلب کے بارے میں مطمئن نہیں کرتی ،کوئی بھی ناکامی اس کے اندر سے اس جذبہ کو فنا نہیں کرپاتی۔فلاسفہ اس کو آئیڈیل کی طلب کہتے ہیں۔ p. 236original + quote

یہ آئیڈیل کی طلب ہی تمام انسانی سرگرمیوں کی حقیقی اورآخری قوت محرکہ ہے۔اگر یہ طلب نہ ہو تو دنیا کی تمام سرگرمیاں اچانک ٹھپ ہوکر رہ جائیں۔انسانی ذہن کی یہی وہ زبردست طلب ہے جس کو فرائڈ(1856-1939)نے غلط طورپر جنسی خواہش سے تعبیر کیا۔ایڈ لر(1870-1937)نے اس کو غلط طورپر حصول طاقت کی خواہش قرار دیا۔میک ڈوگل (1871-1938)نے غلط طورکہا کہ یہ انسان کی تمام حیوانی جبلتوں کے مخلوطہ کا ایک پُراسرار نتیجہ ہے۔ مارکس(1818-1883) نے اس کو غلط طور پر یہ ثابت کرنے کی کوشش کی کہ یہ انسانی زندگی کی معاشی خواہش ہے اوریہی اس کی تمام سرگرمیوں کو کنڑول کرتی ہے۔مگر ان توجیہات کو غلط قرار دینے کے لیے یہی واقعہ کافی ہے کہ یہ چیزیں جن لوگوں کو پوری طرح ملیں وہ بھی مطمئن نہ ہوسکے۔ان کی اندرونی ہستی بھی اسی طرح بے چین رہی جس طرح ان چیزوں سے محروم رہنے والے بے چین نظر آتے ہیں۔ p. 236original + quote

انسان ہزاروں برس سے اپنے اس آئیڈیل کو دنیا کی چیزوں میں تلاش کررہا ہے ،مگر کوئی بھی شخص اس اطمینان سے دوچار نہیں ہواکہ اس نے اپنی تلاش کا مکمل جواب پالیا ہے ۔اس معاملہ میں بادشاہ یاامیر بھی اتنا ہی غیرمطمئن رہتا ہے جتنا کوئی بے زوراورمفلس آدمی۔یہ لمبا تجربہ یہ ثابت کرنے کے لیے کافی ہے کہ ’’نظر آنے والی‘‘دنیا میں آدمی کی تلاش کا جواب موجود نہیں۔اس کا جواب اس ’’نظر نہ آنے والی‘‘دنیا میں ہے جس کو آدمی محسوس تو کرتا ہے مگر دیکھ نہیں پاتا۔ p. 236

حقیقت یہ ہے کہ یہ طلب خدا کی طلب ہے۔آدمی جس آئیڈیل کو پانے کے لیے بے قرار رہتا ہے وہ خود اس کا خالق ہے۔ہر آدمی جس چیز کی تلاش میں ہے وہ دراصل وہ خدا ہے جو اس کی روح میں سمایا ہواہے۔ہر آدمی اپنی فطرت کے تحت مسلسل خداکی جستجو میں رہتا ہے وہ اپنے اس اندرونی جذبہ کے تحت دنیا کی مختلف چیزوں کی طرف دوڑتا ہے اورسمجھتا ہے کہ شاید یہ چیزاس کی تلاش کا جواب ہو۔مگر جب وہ اس کو پالیتا ہے اورقریب سے اس کا تجربہ کرتا ہے تو اس کو معلوم ہوتا ہے کہ یہ چیزوہ نہیں جس کی تلاش میں وہ سرگرداں تھا۔ p. 236

دو قسم کی روحیں p. 236

قرآن کی سورہ الشمس میں ارشاد ہواہے:قَدْ أَفْلَحَ مَنْ زَكَّاهَا ۔ وَقَدْ خَابَ مَنْ دَسَّاهَا (91:9-10)۔یعنی،وہ شخص کامیاب رہا جس نے اپنے آپ کوپاک کیااوروہ شخص برباد ہوگیا جس نے اپنے آپ کو گنداکیا۔موجودہ زندگی آخرت سے پہلے کاایک امتحانی موقع ہے۔جو شخص یہاں سے نیک اورستھری روح لے کر آخرت کی دنیا میں پہنچے گاوہ وہاں جنت کی پر مسرت فضائوں میں بسایا جائے گااورجو شخص یہاں سے برائیوں میں لپٹی ہوئی روح لے کر آخرت کی دنیا میں جائے گااس کو وہاں جہنم کے پُر عذاب ماحول میں دھکیل دیاجائے گا۔ p. 237original + quote

موجودہ دنیا گویا خدا کی نرسری ہے۔نرسری میں مختلف قسم کے پودے اگائے جاتے ہیں۔زمین میں روئیدگی کی قوت بہت زیادہ ہے۔چنانچہ یہاں طرح طرح کے پودے اگ آتے ہیں۔مالی ان سب کی جانچ کرتا ہے۔جو پودے غیر مطلوب پودے ہیں ان کو وہ کاٹ کر پھینک دیتا ہے۔اور جو پودے اس کے مطلوب پودے ہیں ان کو اہتمام سے نکال کرلے جایا جاتا ہے تاکہ کسی باغ میں ان کو پھلنے پھولنے کے لیے نصب کردیاجائے۔ p. 237

موجودہ دنیا میں آدمی کے لیے بیک وقت دونوں مواقع کھلے ہوئے ہیں۔وہ چاہے تو اپنی روح کو پاک کرے اورچاہے تو گندا کرتا رہے۔کوئی وہ شخص ہے جو اللہ کی بڑائی کو مان کراس کے آگے اپنے آپ کو جھکادیتا ہے۔اس کے سامنے جب کوئی حق آتا ہے تو وہ بے جھجھک اس کا اعتراف کرلیتا ہے۔لوگوں سے معاملہ کرتے ہوئے وہ ہمیشہ خیر خواہی اور انصاف کا طریقہ اختیار کرتا ہے۔دوستی ہو یا دشمنی ہر حال میں وہ خدا کی مرضی پر چلتا ہے نہ کہ اپنے نفس کی مرضی پر۔یہ وہ شخص ہے جس نے اپنی روح کو پاک کیا۔اس کو اس کا خدا جنت کی پُربہار دنیا میں بسائے گا۔ p. 237

دوسراآدمی وہ ہے جو خود اپنی لڑائی میں گم رہتا ہے۔اس کے سامنے حق آتا ہے تو وہ اس کو ماننے کے لیے تیار نہیں ہوتا۔معاملات میں وہ سرکشی اور بے انصافی کا طریقہ اختیار کرتا ہے۔وہ اپنی مرضی پر چلتا ہے نہ کہ خدا کی مرضی پر۔یہی وہ آدمی ہے جس نے اپنی روح کو گندا کیا۔کائنات کا مالک اس کو اپنے پڑوس کے لیے قبول نہیں کرے گا۔وہ اس کو جہنم میں دھکیل دے گا تاکہ وہ ابدی طورپر اپنے جرم کی سزابھگتتا رہے۔ p. 237

مقبول بندے p. 237

جسم میں اگر ایسا خون داخل کیا جائے جو آدمی کے بلڈ گروپ کا نہ ہوتو جسم اس کو قبول نہیں کرتا۔اس کے اندر فوراً ضد جسم (antibodies)پیدا ہوجاتے ہیں۔اوروہ خون باہر نکال دیاجاتا ہے۔اسی طر ح جلے یاکٹے ہوئے حصہ جسم پر قلم بندی ہوتی ہے جس کی محفوظ صورت یہ ہے کہ خود اپنے جسم کی کھال لے کر مقام مائوف پر لگا دی جائے جس کو آٹو گریفٹنگ کہتے ہیں۔اب اگر کسی مقام پر کھال کی قلم بندی (Skin Grafting) کرنی ہے اور وہاں کسی غیر متعلق جسم کی کھال لے کر لگا دی گئی تو وہ چند دن ٹھیک رہے گی۔مگر ایک ہفتہ کے اندر جسم اس کی اجنبیت کو پہچان لے گا۔خون کا دوران اس مقام پر رک جائے گااوربالآخر کھال کا مذکورہ ٹکڑاالگ ہوکر گرجائے گا۔اس کا ذکر کرتے ہوئے پروفیسر ولیم بائڈ(1885-1979) نے اپنی پیتھا لوجی(pathology) کی کتا ب (صفحہ177) میں لکھا ہے کہ خود ی غیر خود ی کو قبول نہیں کرتی : p. 238original + quote

Self will not accept not-self. p. 238

یہ چھوٹے سِلف (انسان )کی خود داری کی ایک مثال ہے۔اسی پر بڑے سِلف (خدا)کی غیرت اورخودداری کو قیاس کیا جاسکتا ہے۔حقیقت یہ ہے کہ خدا تمام غیرت مندوںسے زیادہ غیرت مند اورتمام یکتا پسندوں سے زیادہ یکتا پسند ہے۔خدا کسی حال میں بھی کسی قسم کی دوئی کو گوارہ نہیں کرتا۔وہ ہر دوسرے قصور کو معاف کردے گا مگر شرک کو کبھی معاف نہیں کرے گا۔ p. 238original + quote

وہ کون خوش قسمت لوگ ہیں جو آخرت میں خدا کے مقبول بندے ٹھہریں گے۔یہ وہ لوگ ہیں جو اپنے سلف کے خول کو توڑ کر خدا کے سلف میں گم ہونے پر راضی ہوگئے۔جو اپنی یاکسی دوسرے کی یکتا ئی کو بھلا کر خداکی یکتائی کے آگے جھک گئے۔جنھوں نے ہر قسم کے شرک کو چھوڑ کر توحید خالص کو اختیار کرلیا۔انسان کے لیے اگرچہ یہ مشکل ترین کام ہے کہ وہ اپنے سواکسی دوسرے کا اقرار کرے۔جب بھی کوئی شخص کسی دوسرے کومانتا ہوانظر آئے تو وہ یا تو خوف کی بنیاد پر ہوگا یا مصلحت کی بنیاد پر۔تاہم یہی وہ عطیہ ہے جو کوئی انسان کبھی کسی کو نہیں دیتا اوراسی کا مطالبہ انسان کے خالق نے انسان سے کیا ہے۔اور اسی کا نام اسلام ہے۔مسلم وہی ہے جو اپنی خود ی کا اثاثہ اپنے خالق کو دینے پر راضی ہوجائے۔جو اپنے آپ کو پوری طرح خداکی سپردگی میں دے دے۔جو ہر اعتبار سے خداکا تابع فرمان بن جائے۔اس میں شک نہیںکہ یہ انسان کے لیے ناقابل برداشت کو برداشت کرنا ہے۔مگر اسی کو خدانے اپنی جنت کی قیمت بنادیاہے۔جنت کی انوکھی نعمت اسی خوش نصیب کے حصہ میں آئے گی جو اس انوکھے عطیہ کی صورت میں اس کی قیمت پیش کردے۔ p. 238

خوراک p. 238

والڑڈی لامیر(Walter De La ‘Mare)ایک انگریز شاعر ہے۔وہ1873میں پیدا ہوا اور1956 میں اس کی وفات ہوئی۔اس نے انسان کے بارے میں ایک طنزیہ نظم کہی ہے جس کا ایک ٹکڑایہ ہے : p. 239

It is a very odd thing p. 239

As odd as can be p. 239

That whatever Miss T eats p. 239

Turns into Miss T p. 239

یہ ایک نہایت عجیب بات ہے ،اتنی عجیب جتنی کہ کوئی چیز عجیب ہوسکتی ہے۔مس ٹی جو کچھ بھی کھاتی ہے وہ سب مس ٹی بن جاتاہے۔ p. 240

ہر آدمی کی اپنی ایک منفرد شخصیت ہوتی ہے۔اس کا رنگ ،اس کے بدن کی ساخت ، اس کے بولنے کی زبان ،اس کا طرزفکر ،سب اس حد تک دوسروں سے مختلف ہوتا ہے کہ ایک آدمی کو دوسرے آدمی کے مقابلہ میں پہچانا جاسکے۔آدمی روز انہ طرح طرح کی چیزیں کھاتا ہے۔مگر وہ جو کچھ کھاتا ہے وہ اس کے اند رجاکر اس کی اپنی شخصیت میں ڈھل جاتا ہے۔کوئی کھانے کی چیز باہر خواہ کچھ بھی ہومگر وہ آدمی کے اندر داخل ہونے کے بعد وہی بن جاتی ہے جو وہ خود ہوتا ہے۔ہر آدمی جو خوراک کھاتا ہے یا پانی وہ اپنے جسم میں داخل کرتا ہے اس کو وہ تحلیل کرکے اپنے وجود کا حصہ بنالیتا ہے۔ p. 240

یہی معاملہ خیالات ونظر یات کا بھی ہے۔آدمی بہت کم ایساکرتا ہے کہ جو کچھ وہ دیکھے یا سنے اس کو اس طرح دیکھے یاسنے جیسا کہ فی الواقع وہ ہے۔اکثروہ چیزوں کو اس شکل میں دیکھتا ہے جیسا کہ وہ خود دیکھنا چاہتا ہے۔ہر بات جو آدمی کے اندر داخل ہوتی ہے وہ اس کے اپنے ذوق کے مطابق بدل کر اس کی فکر کا جزءبن جاتی ہے۔ p. 240

اسی مثال میں مومن اورغیر مومن کا فرق دیکھا جاسکتا ہے۔دنیاطرح طرح کے واقعات وحقائق سے بھری ہوئی ہے۔یہ واقعات وحقائق مومن کے سامنے بھی آتے ہیں اورغیر مومن کے سامنے بھی مگر دونوں انہیںاپنے اپنے زاویہ نظرسے دیکھتے ہیں۔نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ایک کے لیے وہ اس کے ایمان کی غذابن جاتے ہیں۔مگر دوسرے کو ان سے اس کے سواکچھ اورنہیں ملتا کہ اس کی سرکشی اورگمراہی میں اضافہ ہوجائے۔ p. 240

کم سمجھنا p. 240

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ کے ایک غیر امیر خاندان میںپیداہوئے۔آپ ابھی ماں کے پیٹ میں تھے کہ آپ کے والد کا انتقال ہوگیا۔پیدائش کے جلد ہی بعد آپ کی والدہ بھی اس دنیا سے چلی گئیں۔آپ کو حلیمہ سعدیہ نے دودھ پلایا۔حلیمہ کے شوہر کو ابوکبشہ کہا جاتا تھا۔یہ ایک نہایت غریب خاندان تھاجو محنت مزودری پر گزرکرتاتھا۔ p. 241

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ میں ایک یتیم بچہ کی حیثیت سے پر ورش پائی۔وہ قلیل معاوضہ پر مکہ والوں کی بکریاں چراتے تھے۔آپ کے ساتھ کوئی عظیم ماضی شامل نہ تھا۔ چنانچہ مکہ والوں کی نظر میں آپ کی تصویر ایک حقیر تصویر بن گئی۔آپ کا شمار مکہ کے بڑے لوگوں میں نہ تھا۔بلکہ ان لوگوں میں تھاجو لوگوں کے نزدیک قابل تذکرہ نہیں ہوتے۔ p. 241original + quote

اسی کا یہ نتیجہ تھا کہ چالیس سال کی عمر کو پہنچ کر جب آپ پر وحی آئی اورآپ نے مکہ میں اپنی پیغمبری کا اعلان کیاتو لوگوں کو یہ ایک مذاق کی بات معلوم ہوئی۔مکہ والوں کی سمجھ میں نہ آیا کہ وہ شخص جو کل تک ایک معمولی آدمی تھا وہ آج خداکا رسول کیسے بن گیا۔انھوں نے حقارت کے ساتھ کہا کہ یہ ابوکبشہ کے لڑکے کو دیکھو ،وہ کہتا ہے کہ اس کو آسمان سے وحی آتی ہے:هَذَا ‌ابْنُ ‌أَبِي ‌كَبْشَةَ‌ يُكَلَّمُ ‌مِنَ ‌السَّمَاءِ(نور الیقین ،جلد1، صفحہ 10)۔ p. 241original + quote

یہی چیز ہر دور میں پیغمبروں کے ہم زمانہ لوگوں کے لیے پیغمبروں کے انکار کا سبب بن گئی۔خدا نے کبھی بادشاہوںیاوقت کی عظیم شخصیتوں کوپیغمبر نہیں بنایا۔بلکہ غیر معروف لوگوں میں سے ایک شخص کو پیغمبری کے لیے چن لیا۔اب جن لوگوں نے اس شخص کو پیغمبری سے پہلے کم سمجھاتھا وہ پیغمبر ی کے بعد بھی اس کو کم سمجھتے رہے۔خدانے انہیںبڑاکردیا مگرجو لوگ انہیںپہلے چھوٹا دیکھ چکے تھے ان کے لیے ممکن نہ ہو اکہ وہ ان کی بڑائی کو پہچانیں اوران کو اپنا بڑابنائیں۔ p. 241

یہ سب سے بڑانفسیاتی فتنہ ہے جو ہر دور میں لوگوں کے لیے حق کو ماننے میں رکاوٹ بنا رہا ہے۔موجودہ دنیا میں انسان کا اصل امتحان یہ ہے کہ وہ حقیقت کو ’’غیب ‘‘کی سطح پر پالے۔وہ سچائی کو اس کے مجرد روپ میں پہچان سکے۔لوگ عظمتوں کی سطح پر اعتراف کا ثبوت دے رہے ہیں۔حالاں کہ اعتراف کا ثبوت وہاں دینا پڑتا ہے جہاں بظاہر دیکھنے والوں کو عظمت دکھائی نہیں دیتی۔لوگ رونقوں کے مقام پر خدا پرستی کا مظاہرہ کررہے ہیں حالانکہ خدا اکثر وہاں ہوتا ہے جہاں کسی قسم کی رونق نظر نہیں آتی۔ p. 241

خدا سے بغاوت p. 242

خدا نے اپنی دنیا کا ایک منصوبہ بنایا۔اس منصوبہ کے مطابق وہ اپنی دنیا کو چلا رہا ہے۔جو لوگ اس منصوبہ سے مطابقت کرکے اس دنیا میں رہیں وہ خداکے فرماں بردار بندے ہیں۔خداان کو اپنے ابدی انعامات سے نوازے گا۔اس کے برعکس جو لوگ اس منصوبہ سے مطابقت نہ کریں وہ خدا کی دنیا میں فساد پھیلانے کے مجرم ہیں۔خدا انہیںعنقریب پکڑلے گااوران کو ایسی سزادے گاجس سے ابد تک نکلناان کے لیے ممکن نہ ہو۔ p. 242

خداہر صبح سورج کو روشن کرتا ہے تاکہ اس کے بندے اس کی روشنی میں چلیں۔مگر ایک انسان دوسرے انسان کو اندھیرے میں دھکیل دینا چاہتا ہے۔خدا زمین سے رزق اگاتا ہے تاکہ اس کے بندے اس سے اپنی بھوک مٹائیں۔مگر ایک انسان دوسرے انسان کو بھوک سے تڑپا کر خوش ہوتا ہے۔خدا اپنے پاس سے بارش برساتا ہے تاکہ تمام انسان اورجاندار اس سے سیراب ہوں۔مگر انسان اپنے مفروضہ دشمنوں کو پیاس سے تڑپاکر کامیابی کے قہقہے لگاتا ہے۔ p. 242

خدا لوگوں کے لیے مواقع کھولتا ہے تاکہ وہ ان مواقع کا استعمال کرکے اپنی زندگی کی تعمیر کریں۔مگر انسان یہ منصوبہ بناتا ہے کہ وہ لوگوں سے ان کے ملے ہوئے مواقع کو چھین لے۔خدا ایک انسان کو اپنی نعمتوں سے نوازتا ہے۔مگر دوسراانسان حسد میں مبتلا ہوکر چاہتا ہے کہ اس کو بے عزت کرکے اوراس کوناکام بنا کر چھوڑدے۔ p. 242

یہی وہ چیز ہے جس کو قرآن میں فساد فی الارض کہا گیا ہے۔یعنی خدا نے اپنی دنیا کا نقشہ جس ڈھنگ سے بنایا ہے اس میں بگاڑ پیدا کرنا۔خدا کی دنیا میں خدا کے منصوبہ کے خلاف زندگی گزارنا۔خدا کی زمین میں خدا کی پسند کو چھوڑ کر وہ روش اختیار کرنا جو آدمی کی پسند اورخواہش کے مطابق ہو۔ p. 242original + quote

انسان خداکی اسکیم کی نفی کرتا ہے۔انسان خدا کے فیصلہ کو بدل دینا چاہتا ہے۔یہ خدا کی دنیا میں خدا کے خلاف بغاوت ہے۔یہ سب سے بڑاجرم ہے جو کوئی انسان اس زمین پرکر سکتا ہے۔آج یہ سب سے بڑاجرم خداکی زمین پر سب سے بڑے پیمانہ پر ہورہا ہے اورحیرت انگیز بات یہ ہے کہ اس بغاوت کے مرتکب وہ لوگ بھی ہیں جو خدا کی بغاوت کو خداکی زمین سے ختم کرنے کا جھنڈااٹھائے ہوئے ہیں۔ p. 243

اہلیت p. 243

ایک شخص اچھے خاندان میں پیدا ہوا۔بعد کو اس کے حالات خراب ہوگئے۔معاشی اعتبار سے وہ بالکل مفلس ہوکر رہ گیا۔اس زمانہ میں اس کے تمام دوست اوررشتہ دار اس سے جدا ہوگئے۔کوئی اس کا بھی روادارنہ تھا کہ اس سے ملاقات اور سلام کلام کا تعلق رکھے۔ p. 243

پھر وہ وقت آیا کہ اس کے حالات بدل گئے۔وہ اپنی بستی کا سب سے زیادہ خوش حال آدمی بن گیا۔اب اس کے پرانے دوست اوررشتہ دار اس کے پاس آنے لگے۔وہ اس کو یقین دلاتے کہ ہم تو ہمیشہ تمہارے خیر خواہ تھے۔مگر آدمی پر ان لوگوں کی باتوں کا کوئی اثر نہ ہوا۔اس نے ان میں سے کسی کی طرف کوئی توجہ نہ دی۔البتہ ایک شخص جو ہر حال میں اس کا ساتھی بنارہا۔اس کو اس نے بہت بڑے پیمانہ پر نوازا۔اس کو اس نے اپنا سب سے قریبی ساتھی اورمشیرکا ربنالیا۔ p. 243

یہی معاملہ اللہ تعالیٰ کے یہاں بھی ہے۔اللہ تعالیٰ کے یہاں قابل قدر وہ ہے جوناموافق حالات میں قابل قدر ہونے کا ثبوت دے۔جو دعوت حق کو اس وقت پہچانے جب کہ دعوت حق ماحول میں اجنبی بنی ہوئی ہو۔جو دین خداوندی کے ساتھ ایسے حالات میں اپنے کو وابستہ کرے جب کہ دین ظاہربینوں کو بے قیمت نظر آتا ہو۔ p. 243

اللہ تعالیٰ دلوں کو دیکھتا ہے نہ کہ جسموں کو۔اللہ کے یہاں حقیقت کی قدر ہے نہ کہ ظاہری دکھاوے کی۔اللہ کو وہ بندے پسند ہیں جو اس وقت جھک گئے ہوں جب کہ اس کی قوتیں ابھی غیب میں چھپی ہوئی ہیں۔اللہ کو وہ بندے درکار ہیں جن کی بصیرت کی نگاہیں کھلی ہوئی ہوں۔اللہ کو وہ بندے درکار نہیں جن کے اندھے پن کا یہ حال ہوکہ وہ پیشانی کی آنکھ سے دکھائی دینے والی چیزوں کے سواکسی اورچیز کو دیکھ ہی نہ سکیں۔ p. 244original + quote

حقیقت یہ ہے کہ نہ دینے والے دور میں دئے جانے کا فیصلہ ہوتا ہے۔پہچاننے والا وہ قرار پاتا ہے جس نے نہ پہچاننے والے حالات میں پہچاننے کا ثبوت دیاہو۔انعام کا مستحق وہ ہے جس نے اس وقت ساتھ دیاہو جب کہ لوگوں نے اس کو غیر اہم سمجھ کر اسے نظر اندازکردیاتھا۔ p. 244

پانے کے باوجود محروم p. 244

چارلی چپلن (1889-1977)فلمی دنیا کا ایک مشہور ترین آدمی تھا۔وہ فلموں میں ہنسانے کا کردار ادا کرتا تھا۔اس نے 52سالہ فلمی زندگی میں بے شمار دولت کمائی۔چارلی چپلن ایک انگریز تھا۔اس نے امریکامیں فلمی ترقی حاصل کی اورپھر سوئزرلینڈ میں اس نے 137ایکڑ زمین خرید کر وہاں اپنے لیے ایک شاندار مکان بنایا۔جب وہ مراتو اس کی ملکیت میں دس ملین پونڈ موجود تھے۔اس کو بڑے بڑے انعامات اورخطابات سے نوازاگیا۔ p. 244

کہا جاتا ہے کہ چارلی چپلن کو دنیا کے ہر حصہ میں مقبولیت حاصل ہوئی۔اس کی تقریباً 80فلمیں ایسی ہیں جو مسلسل کہیں نہ کہیں دکھائی جاتی ہیں۔حتیٰ کہ 1914-17میں اپنی ابتدائی زندگی میں اس نے جن فلموں میں کام کیاتھا وہ فلمیں بھی ابھی تک تاجرانہ حیثیت سے کامیاب ہیں۔یہ ابتدائی فلمیں بھی آج محض تاریخی یادگار کے طور پر نہیں دکھائی جاتیں بلکہ جدید تفریح کے معیار سے ان کو دیکھا جاتا ہے۔چارلی چپلن موجودہ زمانہ کا واحد فلمی کردار ہے جواب بھی اتنے شوق سے دیکھا جاتا ہے۔اندازہ کیا گیا ہے کہ دنیا بھر میں 300ملین ایسے لوگ ہیں جنھوں نے چارلی چپلن کی80فلموں میں سے ایک ایک فلم کو دیکھا ہے۔ p. 244

چارلی چپلن کی ابتدائی زندگی نہایت غربت میں گزری تھی۔چنانچہ بعد کو کثیر دولت کا مالک ہونے کے باوجود اس کو ہمیشہ یہ ڈر لگا رہتا تھاکہ کہیں وہ دوبارہ مفلس نہ ہوجائے۔ اس نے ایک کے بعد ایک چار شادیاں کیں۔آخر عمر میں وہ بالکل ناکارہ ہوگیا۔ اس کی زندگی وہیل چیر(پہیہ دار کرسی)پر گزرتی تھی۔اس کی نگاہ بے حد کمزورہوگئی تھی۔اس کے بولنے اورسننے کی طاقتیں جواب دے گئی تھیں۔حقیقی چارلی چپلن بستر پر ناکارہ پڑاتھا۔ مگر فلمی چارلی چپلن بدستور سینما ہائوسو ں میں لوگوں کی تفریح کا مرکز بنا ہواتھا۔ p. 245

چارلی چپلن کے متعلق کہاجاتا ہے کہ ’’اس نے کسی بھی دوسرے انسان کے مقابلہ میں لوگوں کو زیادہ خوشی دی اورزیادہ ہنسایا‘‘مگر اس کا اپنا انجام یہ ہواکہ وہ آخر عمر میں اپنے بڑھاپے کو بے بسی کے ساتھ دیکھا کرتا تھا اوراس کا ہنسنا اس سے رخصت ہوچکا تھا۔ 25دسمبر 1977کو چار بجے صبح اس وقت اس کا انتقال ہوگیا جب کہ صرف چند گھنٹے بعد اس کا خاندان کرسمس کی سالانہ تقریبات منانے کی تیاریاں کر رہا تھا۔ p. 245original + quote

چارلی چپلن کے ایک سوانح نگار ڈینس گیفرڈ(Denis Gifford)نے اس کے انجام کی بابت یہ الفاظ لکھے ہیں  p. 245other source

وہ جب کام کرتا تھا تو وہ محض فلم سے کچھ زیادہ کی تخلیق کرتا تھا۔ہنسی اورمحبت کے ساتھ جینا ،خواب اورامیدیں۔مگر ہمیشہ خوشیوں پر خاتمہ کہاں تھا،اگر بالآخر وہ کل کی سڑک پر قدم رکھنے سے زیادہ کچھ نہ ہو(آر۔ڈی جون 1978)۔ p. 245original + quote

چارلی چپلن کی موت کے بعد ایک مبصر نے اس کی بابت حسب ذیل الفاظ لکھے تھے: p. 245

Chaplin's life has been filled to the brim with what most lives consist of yearning after...wealth and fame and creative play and beautiful women...but he does not know how to enjoy any of the four. p. 246

Max Eastman in Ladies Home Journal. p. 246

چارلی چپلن کی زندگی ان چیزوں سے آخری کنارے تک بھری ہوئی تھی جس کی دوسرے اکثر لوگ صرف تمنا کرتے ہیں — دولت ،شہرت ،تخلیقی اداکاری اورخوبصورت عورتیں۔مگر اس کو نہیں معلوم تھا کہ ان چاروں میں کسی ایک سے بھی وہ کس طرح لطف اندوز ہو۔ p. 246

چارلی چپلن کی یہ کہانی تمام انسانوں کی کہانی ہے۔اس فرق کے ساتھ کہ کچھ لوگ چارلی چپلن کی طرح پاکر محروم رہتے ہیں۔اوردوسرے لوگ پائے بغیر محروم۔حقیقت یہ ہے کہ اس دنیا میں پانے والا بھی اتنا ہی محروم ہے جتنا نہ پانے والا۔مگر بہت کم لوگ ہیںجو اس سب سے بڑی حقیقت کو جانتے ہوں۔ p. 246

امریکاکی ایک نوجوان عورت نے خود کشی کرلی۔اس کی جیب میں ہاتھ سے لکھا ہواایک پرچہ تھا۔اس میں درج تھامجھے خوشی کی تلاش تھی۔اس کے لیے میںنے نشہ کا استعمال کیا۔میں جنسی آوارگی کی حدتک گئی۔مگر مجھے کہیں خوشی نہیں ملی۔اب میں مایوس ہوکر اپنے آپ کو ختم کررہی ہوں۔ p. 246original + quote

اکثرآزاد خیال مردوں اورعورتوں کا یہی حال ہے۔وہ خوشی کی تلاش میں سب کچھ کر ڈالتے ہیں۔مگر آخر میں انہیںمعلوم ہوتا ہے کہ یہاں ان کی تلاش کا جواب موجود نہیں۔اس کے بعد کچھ مایوسانہ زندگی گزار کر طبعی موت مرتے ہیں اورکچھ لوگ جھنجھلاہٹ میں آکر خودکشی کرلیتے ہیں۔ p. 247

کتنے بے خبرہیں وہ لوگ جو اپنے کو جاننے والا سمجھتے ہیں۔کیسے ناکام ہیں وہ لوگ جن کانام کامیاب انسانوں کی فہرست میں سب سے آگے لکھا ہواہے۔ p. 247

امتحان گاہ p. 247

قرآن و حدیث میں زندگی کا یہ تصور دیا گیا ہے کہ موجودہ دنیا میں کسی کو جو کچھ ملتا ہے وہ صرف بطور آزمائش ملتا ہے۔وہ اس کا حق نہیں ہوتا۔آدمی ان چیزوں سے صرف ایک مقررہ مدت تک فائدہ اٹھاتا ہے اس کے بعد موت آتی ہے اوراس کے ساز و سامان سے اسے جداکر دیتی ہے۔موت سے پہلے یہ چیزیں ہر ایک کو ملتی ہیں مگر موت کے بعد صرف اس کو ملیں گی جو آزمائش میں پورا اترے۔اس کو ایک مثال سے سمجھئے۔ p. 247

ایک طالب علم امتحان کے کمرہ میں ہے۔وہ اپنا تعلیمی امتحان دے رہا ہے۔اس وقت بظاہر وہ ایک مکان میں ہے۔اس کے پاس میزاورکرسی اوردوسرے ضروری سامان ہیں۔اس کے خدمت گار بھی وہاں موجودہیں۔ p. 247

بظاہر دیکھنے والوں کو وہ صاحب مِلک آدمی نظر آتا ہے۔مگر یہ سب کچھ محض وقتی ہے۔ جیسے ہی وقت پوراہونے کا الارم بجتا ہے۔اچانک معلوم ہوتا ہے کہ یہاں اس کا کچھ بھی نہ تھا۔ہر چیز جو وہاں اس کے پاس تھی اس سے واپس لے لی جاتی ہے۔اوروہ بلاتاخیر امتحان گھر کے باہر نکال دیاجاتا ہے۔ p. 248

یہی معاملہ وسیع ترمعنوں میں دنیا کابھی ہے۔یہ دنیا انسان کے لیے ایک خدائی امتحان گاہ ہے۔یہاں ہر آدمی صرف اس لیے ہے کہ وہ اپنا امتحان دے۔ خدا نے ہرآدمی کے لیے مدت مقرر کر رکھی ہے۔جیسے ہی یہ مدت پوری ہوتی ہے۔فوراًموت کا فرشتہ آتا ہے اورآدمی کو جبراً اس دنیا سے نکال کر خدا کے سامنے حاضر کردیتا ہے تاکہ ہر آدمی کو اس کے عمل کے مطابق اس کا بدلہ دیا جائے۔ p. 248

موت کا لمحہ امتحان کی مدت ختم ہونے کا لمحہ ہے۔جب یہ لمحہ آتا ہے تو آدمی جان لیتا ہے کہ ان چیزوںمیں سے اس کا کچھ نہ تھا جس کو وہ اپنا سمجھے ہوئے تھا۔جس مکان کو اس نے بنایا تھا وہ اس سے جدا کر دیا جاتاہے۔جس جائیداد کو وہ اپنی چیز سمجھتا تھا وہ اس سے چھین لی جاتی ہے۔جن آدمیوں کو وہ اپنے آدمی سمجھتا تھا وہ اس سے بچھڑجاتے ہیں۔ p. 248

یہ لمحہ ہر آدمی پر آنے والا ہے۔خوش قسمت ہے وہ جو اس کے آنے سے پہلے اس کو جان لے جو آنے سے پہلے اس کی تیاری کرلے۔ p. 248

قانون کی حد p. 248

26اگست 1978کو دہلی میں بھیانک جرم کا ایک واقعہ ہوا۔ایک فوجی افسر ایم ایم چوپڑاکے دو بچے سنجے (15)اورگیتا(17) انتہائی بے قصور طور پر مارڈالے گئے۔نوجوان بہن بھائیوں کے اس قتل پر ملک کا ضمیر جاگ اٹھا۔مجرمین کی تلاش شروع ہوئی۔بالآخر قتل کے دونوں مجرمین جبیر سنگھ عرف بلا (25) اورکلجیت سنگھ عرف رنگا(23)ایک ٹرین میں سفر کرتے ہوئے آگرہ اسٹیشن پر پکڑلیے گئے۔اس کے بعد دونوں پر قتل کا مقدمہ چلا۔لمبی عدالتی کارروائی کے بعد دونوں کو پھانسی دینے کا فیصلہ ہوا۔مختلف قانونی مراحل سے گزرکر بالآخر دونوں کو 31جنوری 1982کو دہلی کے تہاڑ جیل میں پھانسی دے دی گئی۔ p. 249

ایڈیشنل سیشن جج ایم۔کے چاولانے پانچ صفحات کے فیصلہ میں دونوں کے لیے موت کا حکم دیتے ہوئے لکھا: p. 249

The ends of justice would be met only if the two accused were put to eternal sleep, thereby allowing others to live in peace. p. 249

انصاف کے مقاصد صرف اسی طرح حاصل ہوسکتے ہیں کہ دونوں مجرم ہمیشہ کی نیند سلادیے جائیں تاکہ دوسروں کو امن کے ساتھ جینے کا موقع ملے (ہندستان ٹائمس، 1 فروری1982)۔ p. 249other source

جج کے یہ الفاظ انسانی قانون کی حدکو بہت اچھی طرح بتاتے ہیں۔انسانی قانون کے بس میں صرف یہ ہے کہ وہ مجرم اورسماج کو ایک دوسرے سے جدا کر دے۔وہ مجرم کو اس کے جرم کی حقیقی سزانہیں دے سکتا۔ایک شخص جب کسی معصوم جان کو ناحق ذبح کردے تویہ اتنا بڑا جرم ہے کہ موجودہ محدوددنیا کی کوئی سزااس کے جرم کے برابر نہیں ہوسکتی۔دنیا کا جج بس اتنا ہی کر سکتا ہے کہ جس شخص کے اندر اس قسم کا مجرمانہ ذہن دیکھے اس کوآئندہ کے لیے سماج سے ہٹادے۔ p. 249

موجودہ دنیا کی یہ محدودیت تقاضا کرتی ہے کہ اس کے بعد ایک اورلامحدود دنیا آئے جہاں یہ کمی پوری ہو۔جہاں کے جج کے امکان میں صرف یہ نہ ہو کہ وہ ظالم اورمظلوم میں جدائی کردے بلکہ وہ ظالم کو اس کے ظلم کی ایسی سزادے سکے جو انصاف کے تقاضے کو پورا کرنے والی ہو۔ p. 250

دلیل اورشخصیت p. 250

قرآن میں حضرت موسیٰؑ اورفرعون کا قصہ مختلف مقامات پر تفصیل سے بیان ہوا ہے۔فرعون نے جب مصر کے جادوگروں کو بلایا اورحضرت موسیٰ سے ان کا مقابلہ ہواتو یہ واقعہ پیش آیا کہ جادو گروں نے اپنی رسیاں اورلاٹھیاں میدان میں ڈالیں۔وہ جادو کے زور سے سانپ کی مانند چلتی ہوئی نظر آنے لگیں۔اس وقت حضرت موسیٰ نے خدا کے حکم سے اپنا عصا ڈالا تو وہ تمام سانپوں سے بڑا سانپ بن کر میدان میں دوڑنے لگا۔اس نے جادوگروں کے جادو کو نگل لیا۔وہ جدھر جدھر گیا۔جادو گروں کی رسیاں اورلاٹھیاں بس رسیاں اور لاٹھیاں بن کر رہ گئیں۔ p. 250Qur'an

یہ دیکھ کر جادوگروں نے سمجھ لیا کہ حضرت موسیٰ کا معاملہ کوئی جادوکا معاملہ نہیں ہے بلکہ وہ خدا کا معاملہ ہے۔حضرت موسیٰ کے مظاہرے میں جادوگروں کو خدا کی معرفت حاصل ہوگئی۔انھوں نے اسی وقت اپنے ایمان کا اعلان کردیا۔یہ فرعون کی کھلی ہوئی شکست تھی۔اس نے غصہ میں آکر جادو گروں کے لیے مصر کی سخت ترین سزا کا اعلان کردیا۔وہ یہ کہ جادوگروں کے ہاتھ اورپائوں کو مخالف سمتوں سے کاٹ کر انہیںتڑپایا جائے اورپھر انہیںکھجور کے تنوں پر لٹکا کر سولی دے دی جائے۔ p. 250

اس سز اکو سن کر جادوگروں کی زبان سے نکلا ___ہم تجھ کو ان دلائل پر ترجیح نہ دیں گے جو ہمارے پاس آئے ہیں:لَنْ نُؤْثِرَكَ عَلَى مَا جَاءَنَا مِنَ الْبَيِّنَاتِ (20:72)۔ p. 250original + quote

جادوگروں کے سامنے ایک طرف عظیم شخصیت تھی اوردوسری طرف کھلی ہوئی دلیل شخصیت اوردلیل کے اس مقابلہ میں انھوں نے وہی کیا جو ایک سچے انسان کو کرنا چاہیے۔ انھوں نے شخصیت کو نظر انداز کردیا اوردلیل کو لے لیا۔ p. 251

جب آدمی کے سامنے ایسی دلیل آجائے جو بات کو اس طرح ثابت شدہ بنا دے کہ وہ اس کی تردید کے لیے کوئی جوابی دلیل پیش کرنے سے عاجز رہے تو اس پر لازم ہوجاتا ہے کہ وہ دلیل کو لے لے اور اس کے خلاف شخصیتوں کو چھوڑ دے۔دلیل کا اس طرح ظہور دراصل خدا کا ظہور ہے۔جو لوگ دلیل کے مقابلہ میں شخصیت کو ترجیح دیں انھوں نے گویا خدا کے مقابلہ میں غیر خداکو ترجیح دی۔ایسے لوگوں کے لیے زمین وآسمان کے اندر کوئی جگہ نہیں۔یہ غیر خداکو اپنا بنانا ہے۔پھر خدا کی دنیا میںجو لوگ غیر خدا کو اپنا خدا بنائیں وہ کیسے یہاں کامیاب ہوسکتے ہیں۔ p. 251

کائنات کا دستر خوان p. 251

قرآن میں ہے کہ — اللہ آسمان وزمین کا نور ہے (24:35)۔اس کامطلب یہ ہے کہ دنیا تمام کی تمام خدائی صفات کا مظہر ہے۔حساس قلب کو یہاں کی ہر چیز میں خدا کی جھلکیاں نظر آتی ہیں۔کائنات اپنے پورے وجود کے ساتھ رزق خداوندی کا دستر خوان ہے۔ p. 251original + quote

خدا پر ایمان اگر کسی آدمی کو وہ حساسیت دے دے جو خدا پر سچے ایمان سے پیدا ہوتی ہے تو کائنات میں فی الواقع اس کو ہر طرف خدا کا نور دکھائی دے گا۔ہواکے لطیف جھونکے جب اس کے جسم کو چھوئیں گے تو اس کو ایسا محسوس ہوگا کہ لمس خداوندی کا کوئی حصہ اسے مل رہا ہے۔دریائوں کی روانی میں اس کو رحمت حق کا جوش ابلتا ہوا نظر آئے گا۔ چڑیوں کے چہچہے جب اس کے کان میں رس گھولیں تو اس کے دل کے تاروں پر زمزمۂ خداوندی کے نغمے جاگ اٹھیں گے۔پھولوں کی مہک جب اس کے مشام جان کو معطر کرے گی تو وہ اس کے لیے خدائی خوشبو میں نہانے کے ہم معنی بن جائے گی۔ p. 251

ساری کائنات مومن کے لیے رزق روحانی کا دستر خوان ہے ،ویسے جیسے جنت اس کے لیے رزق مادی کا دستر خوان ہوگی۔موجودہ دنیا کی تمام چیزوں کو اس طرح بنایا گیا ہے کہ ان کو دیکھ کر انسان عبرت حاصل کرے،ان کے ذریعہ وہ ان ربانی کیفیات کو پالے جوان کے اندر ان لوگوں کے لیے رکھ دی گئی ہیں جو اللہ سے ڈرنے والے ہوں۔ p. 252

ڈھاک ایک معمولی درخت ہے۔مگر اس کے اورپر بے حد حسین پھول اُگتے ہیں۔ موسم خزاں کے پت جھڑکے بعد اس کا درخت بظاہر ایک سوکھی لکڑی کی مانند ،اس سے بھی زیادہ ایک سوکھی زمین پر کھڑا ہوتا ہے۔اس کے بعد ایک خاموش انقلاب آتا ہے۔حیرت انگیز طورپر نہایت خوش رنگ پھول اس کی شاخوں میں کھل اٹھتے ہیں۔سوکھی لکڑی کا ایک ڈھانچہ لطیف اوررنگین پھولوں سے ڈھک جاتا ہے۔ایسا معلوم ہوتا ہے گویا ایک محروم اوربے قیمت وجود کے لیے خدانے خصوصی طورپر اپنی خوب صورت چھتری بھیج دی ہے۔ p. 252

ایسا اس لیے ہوتا ہے کہ کوئی بندہ خدا اس کو دیکھ کر کہے—’’اےخدا !میں بھی ایک ڈھاک ہوں،تو چاہے تو میرے اوپر حسین پھول کھلادے۔میں ایک ٹھنٹھ ہو ں ،تو چاہے تو مجھ کو سر سبزوشاداب کردے۔میں ایک بے معنی وجود ہوں ،تو چاہے تو میری زندگی کو معنویت سے بھر دے۔میں جہنم کے کنارے کھڑاہوں تو چاہے تو مجھ کو جنت میں داخل کردے‘‘۔ p. 252

صرف ’’کرنا ‘‘کافی نہیں p. 252

بالٹی کے پیندے میں سوراخ ہو اور اوپر سے آپ اس میں پانی ڈالیں تو سارا پانی بہہ کر نکلتا رہے گااوربالٹی کے اپنے حصہ میں کچھ نہیں آئے گا۔ایسا معاملہ انسان کا بھی ہے۔آدمی کا وہی عمل حقیقۃً عمل ہے جو خود اس کو کچھ دے رہا ہو۔اگر آدمی بظاہر سرگرمیاں دکھارہا ہواور اس کا اپنا وجود کچھ پانے سے محروم ہوتو اس کی سرگرمیوں کی کوئی حقیقت نہیں۔عمل وہی عمل ہے جس کے دوران آدمی کے ذہن میں شعور کی چنگاری پڑے۔اس کے دل میں سوزوتڑپ کا کوئی لاوا ابلے۔اس کی روح کے اندر کوئی کیفیاتی ہل چل پیدا ہو۔ اس کے اندرون میں کوئی ایسا حادثہ گزرے جو برتر حقیقتوں کی کوئی کھڑکی اس کے لیے کھول دے۔یہی یافت کسی عمل کی کامیابی کا اصل معیار ہے۔وہی عمل عمل ہے جو آدمی کو اس قسم کے تحفے دے رہا ہو۔جس عمل سے آدمی کو یہ چیزیں نہ ملیں وہ ایسا ہے جیسے سوراخ دار بالٹی میں پانی گرانا۔ p. 252

دیکھنے کی چیز یہ نہیں ہے کہ آپ کیا کررہے ہیں۔دیکھنے کی چیز یہ ہے کہ آپ کیا ہو رہے ہیں۔اگر آپ کی ’’مصر وفیات ‘‘بہت بڑھی ہوئی ہوں،اگر بتانے کے لیے آپ کے پاس بہت سے کارنامے ہوں مگر آپ کی اندرونی ہستی خالی ہو،آپ خود کچھ نہ ہورہے ہوں تو آپ کی مصرفیات محض بے فائدہ سرگرمیاں (idle business)ہیں۔اس کے سوا اورکچھ نہیں۔ ہوائیںہوں مگر ان سے آکسیجن نہ ملے۔پانی ہو مگراس سے سیرابی حاصل نہ ہو۔غذا ہو مگر اس سے آدمی کو قوت نہ ملے۔سورج ہومگر وہ روشنی نہ دے رہا ہوتو ایسا ہونا ہونا نہیں ہے بلکہ نہ ہونے کی بد ترین شکل ہے۔اسی طرح جو عمل آدمی کی اپنی غذانہ بن رہا ہو وہ عمل نہیں صرف بے عملی ہے، بلکہ اس سے بھی زیادہ بے معنی کوئی چیز۔ p. 253

پتھرکے اوپر آپ پانی ڈالیں تو وہ بظاہر پانی سے بھیگ جائے گا۔اس کے چاروں طرف پانی پانی نظر آئے گا۔مگر پتھر پانی کے مزہ اورتراوٹ کو نہیں جانتا ،اس نے پانی کی اِس دوسری حیثیت کا تجربہ نہیںکیا۔اس کے برعکس ایک زندہ آدمی جب پیاس کے وقت پانی پیتاہے تو اس کی رگیں ترہو جاتی ہیں ،وہ پانی کی حقیقت کا ایک ’’اندرونی تجربہ ‘‘کرتا ہے۔اس مثال سے سمجھا جاسکتا ہے کہ کرنا کیا ہے اور ہونا کیا۔کرنا یہ ہے کہ آدمی کچھ مقر رہ اعمال کو بس رسمی طور پر دہرالے۔آدمی کی زبان کچھ الفاظ بولے مگر وہ الفاظ اس کے دل کی دھڑکن نہ بن رہے ہوں۔آدمی اپنے ہاتھ پائوں سے کچھ عمل کرے مگر اس کا عمل اس کی روح کو نہ چھوئے۔اس کی حرکات و سکنات اس کے دل ودماغ میں ارتعاش نہ پیدا کریں۔اس کے برعکس ہونا یہ ہے کہ آدمی کا عمل اس کے لیے روحانی تجربہ بن رہا ہو۔اس کی اندرونی ہستی کو باربار کیفی غذائیں مل رہی ہوں۔اس کا جسمانی عمل اس کے غیر جسمانی وجود میں ہل چل پیدا کررہا ہو۔وہی کرنا کرنا ہے جس کے درمیان آدمی خود بھی کچھ ہور ہا ہو۔جوکرنا ہونا نہ بنے ،حقیقت کے اعتبار سے اس کی کوئی قیمت نہیں۔وہ گویا ایک ایسا پتھر ہے جو بظاہر پانی سے بھیگ رہا ہے مگر وہ پانی کا مزہ نہیں پاتا۔ p. 253

الفا ظ کم ہوجاتے ہیں p. 253

مسٹر لزلی برائون شمالی انگلستان کے ایک ٹرک ڈائیور ہیں۔وہ اولاد سے محروم تھے۔ ان کی بیوی کے جسمانی نظام میں بعض حیاتیاتی فرق کی وجہ سے دونوں کا مادۂ حیات رحم مادر میں یک جا نہیں ہوتا تھا۔وہ اولاد کی طرف سے مایوس ہوچکے تھے کہ عین وقت پر سائنس نے ان کی مدد کی۔لندن کے ڈاکٹر پیٹرک اسٹپٹو جوبر سہا برس سے اس میدان میں تجربہ کررہے تھے۔ انھوں نے اپنی لیبارٹری میں لزلی برائون کا مادۂ تولید(sperm ) نکالا اورمسز برائون کے جسم سے ایک بیضہ لیا۔دونوں کو انھوں نے ایک خصوصی قسم کے ٹیسٹ ٹیوب میں رکھا۔قدرتی قانون کے تحت وہ دونوں مل کر زرخیز ہوگئے۔چار روز کے بعد ڈاکٹر نے اس کو مصنوعی طور پر رحم مادر میں پہنچا دیا۔اب رحم مادر میں اس ’’بچہ ‘‘کی پرورش ہونے لگی۔ تجربہ کامیاب رہا۔جولائی1978میں تاریخ کا پہلا ’’test tube baby‘‘وجود میں آگیا۔اس پورے عمل کی تصویر لی جاتی رہی اورپیدائش کے بعد اس کو مکمل طورپر ٹیلی وژن پر دکھا یاگیا۔ p. 253

ٹیوب بے بی (لوئس برائون ) کے باپ سے اس پورے واقعہ پر تبصرہ کرنے کے لیے کہا گیا تو اس نے کہا ’’بیوٹی فل ‘‘یعنی بے حد حسین۔اس ایک لفظ کے سوا وہ کچھ اور نہ کہہ سکا۔ p. 253other source

غم کی گھٹنا خوشی سے زیادہ بڑی گھٹنا ہوتی ہے۔انڈین نیوی کے ایک افسر کی اہلیہ مسز اوما چوپڑہ کو 26اگست 1978 کو جب معلوم ہواکہ ان کے دونوں بچے گیتا (17سال) اور سنجے(15سال) کو نئی دہلی میں وحشیانہ طور پر کسی نے قتل کردیا ہے تو اس کے بعد ان کا یہ حال ہواکہ سات گھنٹے تک وہ ایک لفظ نہ بول سکیں۔ p. 254

حقیقت یہ ہے کہ تاثرجتنا شدید ہو الفاظ اتنا ہی کم ہوجاتے ہیں۔بے حد خوشی ہو تب بھی آدمی زیادہ بول نہیں پاتا اوربے حد غم ہوتب بھی زیادہ بولنا آدمی کے لیے ممکن نہیں رہتا۔جو لوگ دین وملت کے’’غم ‘‘ میں ہر روز الفاظ کے دریا بہاتے رہتے ہیں وہ صرف اس بات کا ثبوت دے رہے ہیں کہ دین وملت کے غم میں وہ سب سے پیچھے ہیں۔جو شخص درد وغم میں مبتلا ہو اس کو تو چپ لگ جاتی ہے نہ یہ کہ وہ لفظی اکھاڑوں میں لسانی پہلوانی کے کرتب دکھانے لگے۔ p. 254

حقیقت یہ ہے کہ لوگوں نے خدا کو نہ اس کے منعم کے روپ میں پایا ہے اورنہ منتقم کے روپ میں۔اگر وہ دونوں میں سے کسی روپ میں بھی خدا کوپالیتے تویہ صورت باقی نہ رہتی کہ ہر آدمی ایسے الفاظ کا بھنڈار بنا ہوا ہے جو کسی طرح ختم ہونے میں نہیں آتے۔ p. 254

امتحان p. 254

حضرت ابراہیم کو خواب میں دکھا یا گیا کہ آپ اپنے بیٹے کو ذبح کررہے ہیں۔حضرت ابراہیم خواب کے مطابق بیٹے کو ذبح کرنے کے لیے تیار ہوگئے۔مگر جیسے ہی آپ نے بیٹے کے گلے پر چھری رکھی ،آواز آئی کہ بس تم نے خواب کو پوراکر دکھا یا۔اس کے بعد آپ کو خصوصی طور پر ایک مینڈھا فراہم کیا گیا اورآپ نے بیٹے کے بدلے اسی مینڈھے کو ذبح کیا۔ p. 254

یہ واقعہ بتاتا ہے کہ — اکثر ایسا ہوتا ہے کہ قربانی مانگی جاتی ہے مگر قربانی لی نہیں جاتی۔ گلے پر چھری رکھی جاتی ہے مگر قبل اس کے کہ چھری آدمی کا گلا کاٹے ،چھری کو گلے سے ہٹا دیا جاتا ہے۔ p. 255

اس دنیا میں ہر آدمی کا اصل امتحان نفسیاتی امتحان ہے نہ کہ جسمانی امتحان۔خدا انسان کی آمادگی کو دیکھتا ہے نہ کہ کر ڈالنے کو۔خدا کبھی کسی کو غیر ضروری مشقت میں نہیں ڈالتا۔مگر مشقت سے نجات اس کو ملتی ہے جو اپنے آپ کو مشقت کے حوالے کرنے کا واقعی ثبوت دے دے۔ p. 255

جو لوگ قربانی کے راستہ سے بھاگتے ہیں وہ صرف اس بات کا ثبوت دے رہے ہیں کہ وہ خدائے رحمان ورحیم پر یقین نہیں رکھتے۔خدا تمام مہربانوںسے زیادہ مہربان ہے۔وہ اپنے بندوں پر اس سے زیادہ شفیق ہے جتنا کوئی باپ اپنے عزیز بیٹے کے لیے شفیق ہوتا ہے۔ایسی حالت میں قربانی کے راستہ سے بھاگنا خدا کے خلاف بے اعتمادی کا اظہار ہے۔حالاں کہ خدا جتنا لیتا ہے اس سے بہت زیادہ دیتا ہے۔ حضرت ابراہیمؑ نے خدا کو صرف ایک بیٹا پیش کیا تھا اور خدا نے ان کو سارے عالم کی امامت دیدی۔ p. 255original + quote

انسان کو چاہیے کہ وہ کسی تحفظ کے بغیر خدا کے راستہ پر چل پڑے۔وہ قربانی کے مواقع پر ہرگز اپنی طرف سے کوئی کمی نہ کرے۔اسی کے ساتھ وہ یقین رکھے کہ شفیق باپ سے بھی زیادہ مہربان اور طاقت ور خدا ہر آن اس کو دیکھ رہا ہے۔خدا آدمی کا امتحان ضرور لیتا ہے مگر قبل اس کے کہ آدمی ہلاکت میں پڑے وہ ہاتھ بڑھا کر اسے اٹھا لیتا ہے۔ p. 255

کیسا عجیب ہے وہ بیٹا جو باپ کی پکار پریقین نہ کرے۔کیسا عجیب ہے وہ بندہ جو خدا کے بارے میں اپناا عتماد کھودے۔ p. 255

کوئی فرق نہیں p. 256

ایک آدمی ایک درخت کے نیچے آرام کررہا تھا۔اس کا ایک دوست ادھر سے گزرا۔اس نے پکار کر کہا ’’میرے بھائی ،تم کیوں نہیں جاتے کہ کچھ لکڑیاں کاٹ کر لائو‘‘۔ p. 256

’’کس لیے ‘‘سوئے ہوئے آدمی نے پوچھا۔ p. 256

’’تاکہ تم ان لکڑیوں کو بیچ کر پیسہ حاصل کرواوراپنے لیے ایک گدھا خریدو اورپھر لکڑی کو گدھے پر لا دکر گھر گھر بیچو۔اس طرح ایک وقت آئے گا تم اورنفع کما کر ایک ٹرک خرید لوگے۔پھر تم اورترقی کروگے اورتمہارے یہاں آرہ کی مشین اوربہت سے ٹرک ہوجائیں گے ‘‘۔ p. 256other source

’’یہ سب کس لیے ‘‘سونے والے نے دوبارہ پوچھا۔ p. 256

’’تم لکھ پتی ہوجائو گے اورآرام سے رہو گے ‘‘۔ p. 257

’’پھر تمہارا کیا خیال ہے ،اب میں کیا کر رہا ہوں ‘‘۔ p. 257

یہ ایک واقعہ ہے کہ جو آرام ایک آدمی کو ٹھی بنا کر حاصل کرنا چاہتا ہے وہی آرام ایک آدمی درخت کے سایہ میں بھی حاصل کررہا ہے۔دیکھنے والوں کے نزدیک ضرور دونوں میں فرق ہے۔مگر خود آرام کرنے والے کے لیے دونوں میںکوئی فرق نہیں۔بلکہ درخت کے نیچے سونے والا جس سکون میں ہے وہ کوٹھی والے کو شاید میسر نہیں۔ p. 257

ایک تاجر ایک بار مجھے اپنا نیا مکان دکھانے کے لیے لے گئے۔کافی بڑا دومنزلہ مکان تھا۔گھر کے ہر چھوٹے بڑے کے لیے الگ الگ کمرے اوراس کے ساتھ تمام ضروری سہولتیں مہیا تھیں۔سارے گھر میں قیمتی قالین بچھے ہوئے ،تمام دروازے اور کھڑکیاں خوبصورت پردوں سے ڈھکی ہوئی۔ہر کمرہ میں اعلیٰ درجہ کا فرنیچر ایسا معلوم ہوتا تھا گویا پورا گھر جدید سامانوں کی ایک نمائش گاہ ہے۔ p. 257

مگر مجھے ایسا محسوس ہوا جیسے میںایک خوبصورت قید خانہ میں بند کردیاگیا ہوں۔یہ مکان ایک کھلی جگہ پرتھا وہ قدرت کی ہر چیز سے خالی اورقسم قسم کی مصنوعی چیزوں سے بھر اہوا تھا۔ہر طرف بجلی کی روشنی کا اعلیٰ انتظام تھا مگر سورج کی روشنی کو اجازت نہ تھی کہ وہ بند مکان میں داخل ہو۔ہر کمرہ میں ایرکنڈیشنر لگا ہوا تھا مگر قدرتی ہوا کا کہیں گزرنہ تھا۔انسانی آرٹ کے نمونے دیوار پر تھے مگر قدرت کے آرٹ کو دیکھنے کے لیے وہاں کوئی کھڑکی کھلی ہوئی نہ تھی۔کمرہ میں میوزک کا انتظام تھا مگر باہر کے درخت پر چہچہانے والی چڑیوں کی آواز سننے کے تمام راستے بند تھے— جدید تمدن نے انسان کو قدرت سے کتنا دور کردیا ہے۔ p. 257

پچپن سال کے بعد p. 258

طبیہ کالج (قرول باغ،دہلی ) نے ایک باررات کی کلاسیں شروع کی تھیںتاکہ ملازمت پیشہ لوگ اس میں داخلہ لے کر طبی کورس کریں اوراپنے خالی اوقات میں پریکٹس کرسکیں۔انہیں داخلہ لینے والوں میں سے ایک مسٹر رمیش دتہ تھے۔وہ اکائونٹ آفس میں کام کرتے تھے اوراسی کے ساتھ رات کے کلاس میںشریک ہوکر بی آئی ایم ایس (B.I.M.S)کا کورس کررہے تھے۔1955 کا واقعہ ہے ،ان کے استاد ڈاکٹر انوار احمد صاحب نے ایک بار ان سے پوچھا:دتہ جی ،آپ تو ایک اچھی ملازمت میں ہیں۔پھر آپ بی آئی ایم ایس کا کورس کیوں کررہے ہیں۔انھوں نے جواب دیا: p. 258unverified

’’نوکر ی پچپن سال کی ہے اورزندگی سو سال کی۔پھر نوکری سے ریٹائر ہونے کے بعد کیا کروں گا‘‘۔کہنے والے نے زندگی کی جو تقسیم موجود ہ دنیا کے اعتبار سے کی ہے وہی تقسیم وسیع تر معنوں میںدنیا اورآخرت کے اعتبار سے بھی ہے۔دنیا میںانسان کی عمر کو اگر پچپن سال سمجھیں اورآخرت کی طویل تر زندگی کو علامتی طورپر ’’سو سال ‘‘سمجھیں تو معلوم ہوگا کہ ہر آدمی وسیع تر معنوں میںاسی سوال سے دوچار ہے۔تاہم ہر آدمی کو صرف اپنے ’’55‘‘سال کی فکر ہے ،کسی کو اپنے ’’سو سال ‘‘کے بارے میں کوئی پریشانی نہیں۔ p. 258original + quote

دنیا کی ’’55سالہ ‘‘ زندگی کے لیے ہر آدمی سرگرم ہے۔ہر آدمی اپنی ساری طاقت خرچ کرکے اس کی تعمیر میں لگا ہوا ہے۔اس معاملہ میںہر آدمی اتنا زیادہ سنجیدہ ہے کہ وہ فوراً اس کے نشیب وفراز کو سمجھ لیتا ہے۔وہ اس کے کسی موقع کو کھونا کسی حال میں گوارانہیں کرتا۔ p. 258

دوسری طرف ’’سو سالہ ‘‘زندگی جو موت کے بعد شروع ہوتی ہے ،اس کی کسی کو پروا نہیں۔اس معاملہ میں آدمی نہ کچھ سوچنے کی ضرورت محسوس کرتا اور نہ کچھ کرنے کی۔یہاں کوئی یہ کہنے والا نہیں ملتا کہ — موت سے پہلے کی زندگی تو صرف ’’55سال‘‘ کی ہے اورموت کے بعد کی زندگی ’’سو سال‘‘ کی۔پھر اگر ابھی سے میں نے تیاری نہ کی تو موت کے بعد کی ’’سو سالہ زندگی ‘‘میںمیں کیاکروں گا۔کیسا عجیب ہے وہ انسان جو تھوڑی زندگی کے لیے تو بہت زیادہ کر رہا ہے مگر زیادہ زندگی کے لیے کچھ بھی کرنے کے لیے تیار نہیں (26جنوری 1984)۔ p. 258original + quote

غالباً یہی صورت حال ہے جس کی طرف حدیث میں ان الفاظ میں اشارہ کیا گیا ہے — میں نے جہنم سے زیادہ سخت چیز نہیں دیکھی جس سے بھاگنے والا سو گیا ہو۔اورمیں نے جنت سے زیادہ قیمتی چیز نہیں دیکھی جس کا چاہنے والا سوگیا ہو (سنن الترمذی، حدیث نمبر2601 )۔ p. 259original + quote

خدا کی عبادت p. 259

پرستش کیا ہے p. 259

نیلما دیوی (Nilima Devi)ہندستان کی ایک رقاصہ ہے۔وہ رقص کو ایک خدائی آرٹ (Divine art ) سمجھتی ہے۔وہ اپنے فن میں اتنا ڈوبی ہوئی ہے کہ وہ محسوس کرتی ہے کہ وہ رقص کی صورت میں جو کچھ ظاہر کرنا چاہتی ہے وہ ان کو ظاہر نہیں کرپاتی۔جسمانی حرکات کی محدودیت اس کی راہ میں رکاوٹ بن جاتی ہے۔ایک انٹرویو (ہندستان ٹائمس 30 دسمبر 1983)میں اس نے کہا کہ رقص وہاں سے شروع ہوتا ہے جہاں جسمانی حرکات ختم ہوجاتی ہیں : p. 259original + quote

The dance starts where the gymnastics end. p. 259

نیلما دیوی کا کہنا ہے کہ وہ رقص کا کام بطور پیشہ کے نہیں کرتی۔یہ میرے لیے ایک طریق زندگی ہے۔انٹرویو لینے والے کے الفاظ میں ،جب وہ رقص نہیں کرتی تو وہ اپنے آپ کو خالی محسوس کرتی ہے۔ایسے لمحات میں اس کے پاس کوئی نقطۂ ارتکاز نہیں ہوتا جس میں وہ اپنی زندگی کو مرتکز کرسکے : p. 260other source

She says when she is not dancing, she feels empty. There is no focal point in her life at such moments. p. 260

رقاصہ نے جس چیز کو طریق زندگی ( Way of life)کہا ،اسی کا دوسر انام پرستش ہے۔اوپر کے اقتباس سے معلوم ہوتا ہے کہ فن کی پرستش ایک رقاصہ کے اندر پیدا ہوجائے تو وہ اس کے اندر گہرے جذبات پیدا کر دیتی ہے— وہ رقص کو اس کے لیے زندگی بنا دیتی ہے۔اس کے اندرجذبات کا ایسا طوفان برپا ہوتا ہے جس کے اظہار سے وہ اپنے کو عاجز محسوس کرنے لگے۔اس کو محسوس ہوتا ہے کہ اپنے رقص کے ذریعہ وہ کچھ کہہ سکی ہے وہ اس سے بہت کم ہے جو وہ کہنا چاہتی ہے۔اس کے بغیر اس کی زندگی خالی ہوجاتی ہے ۔ اس سے الگ ہوکر وہ محسوس کرتی ہے کہ اس کے لیے کوئی ایسا مرکزی نقطہ باقی نہیں رہا جہاں وہ اپنے وجود کو سمیٹ سکے۔ p. 260

خدا کی پرستش کا معاملہ بھی ایسا ہی ہے۔وہ ایک خدائی رقص ہے۔جب کوئی بندہ اپنے رب کو پاتا ہے تو یہ اس کے لیے اتنا عظیم واقعہ ہوتا ہے کہ وہ رقص کر اٹھتا ہے۔اس کا وہی حال ہوجاتا ہے جو مذکورہ مثال میں فن کے پرستار کا نظر آتا ہے— خدا اس کے تمام وجود کا مرکزی نقطہ بن جاتا ہے۔خدا سے الگ اس کی اپنی کوئی زندگی نہیں ہوتی۔خدا کے بارے میں اس کے اندر ایسے گہرے جذبات اٹھتے ہیں جن کو بیان کرنے کے لیے وہ الفاظ نہ پاسکے۔ p. 260

اللہ سے ڈرنے والے p. 260

دنیا میں تین قسم کے آدمی ہوتے ہیں۔ ایک وہ جو اللہ کے ڈر سے خالی ہوں۔ایسے لوگ خواہ زبان سے اللہ کا نام لیتے ہوں ،مگر ان کے سینہ میں اللہ کے ڈر کاکوئی خانہ نہیں ہوتا۔وہ اس طرح رہتے ہیں جیسے کہ وہ آزاد ہیں کہ جو چاہیں کریں۔ان کے سامنے سارا سوال بس دنیا کے نفع نقصان کا ہوتا ہے۔جس کا م میں نفع نظر آئے اس کی طرف دوڑنا اور جس کام میں نقصان کا اندیشہ ہو اس سے رک جانا،یہ ان کا مذہب ہوتا ہے۔کسی چیز کا اصولی طورپر برحق ثابت ہوجانا ان کے نزدیک کوئی اہمیت نہیں رکھتا۔وہ ہمیشہ ’’دلیل ‘‘ کے بجائے ’’مفاد‘‘کو اصل اہمیت دیتے ہیں۔کوئی کام کرتے ہوئے وہ کبھی یہ نہیں سوچتے کہ اس معاملہ میں اللہ کی مرضی کیا ہے یا یہ کہ وہ اللہ کے سامنے کیوں کربری الذمہ ہوسکتے ہیں۔وہ وہاں جھک جاتے ہیں جہاں ان کا نفس جھکنے کے لیے کہے۔اور وہاں اکڑ جاتے ہیںجہاں ان کا نفس اکڑنے کی ترغیب دے۔وہ اللہ سے بے خوف زندگی گزارتے رہتے ہیں۔یہاں تک کہ اس دنیا سے چلے جاتے ہیںتاکہ اللہ کی عدالت میں حساب دینے کے لیے کھڑے کردیے جائیں۔ p. 261

دوسری قسم ان لوگوں کی ہے جن کے دل میں حرام وحلال کا لحاظ رہتا ہے۔ان کوخیال آتا رہتا ہے کہ مرنے کے بعد اللہ کے یہاں حساب کتاب کے لیے حاضر ہونا ہے۔عام حالات میںوہ اللہ سے ڈر کر زندگی گزارتے ہیں۔روز مرہ کی زندگی میں کسی کو ان سے حق تلفی اوربے اخلاقی کا تجربہ نہیں ہوتا۔تاہم وہ اپنی نفسیاتی پیچیدگیوں سے اٹھے ہوئے نہیں ہوتے۔ان کا خوفِ خدا اتنا مکمل نہیں ہوتا کہ وہ ان کے نفس کے اندر چھپے ہوئے جذبات کا احاطہ کرلے۔عام حالات میں وہ خدا ترس زندگی گزارتے ہیں۔مگر جب کوئی غیر معمولی حالت پیش آئے تو اچانک وہ دوسری قسم کے انسان بن جاتے ہیں۔کبھی کسی کی محبت کا لحاظ، کبھی کسی کے خلاف نفرت کا جذبہ ،کبھی اپنی عزت کا سوال ان کے اوپر اس طرح غالب آتا ہے کہ ان کا خوف خدا اس کے نیچے دب کر رہ جاتا ہے۔یہ عمل چونکہ اکثر غیرشعوری طورپر ہوتا ہے اس لیے بہت کم ایسا ہوتا ہے کہ وہ اپنے اوپر نفس کے اس حملہ سے آگاہ ہو ں اوراپنے آپ کو تھامے ہوئے اپنے کو متقیانہ روش پر قائم رکھیں۔معمول کے حالات میں خدا ترسی کی زندگی گزارنے والا غیر معمولی حالات میںوہی کچھ کر گزرتا ہے جو پہلی قسم کے لوگ اپنی عام زندگی میں کرتے رہتے ہیں۔ p. 261

تیسرا انسان وہ ہے جو پورے معنوں میںاللہ سے ڈرنے والا ہو۔جو اللہ کو پہچاننے کے ساتھ خود اپنے کو بھی پوری طرح پہچان چکا ہو۔ایسا شخص صرف عام حالات ہی میں اللہ سے نہیں ڈرتا بلکہ غیر معمولی حالات میںبھی اللہ کا خوف اس کا نگراں بنا رہتا ہے۔کسی کی محبت جب اس کو بے خوفی کے راستہ پر لے جانا چاہتی ہے تو وہ فوراً اس کو دیکھ لیتا ہے۔ کسی سے چھپی ہوئی نفرت جب اس کے نفس میں تیرتی ہے اور اس کو بے انصافی پر اکساتی ہے تو وہ چونک پڑتا ہے اوراس سے باخبر ہوکر اس کے خلاف کھڑاہوجاتا ہے۔ ذاتی عزت ووقار کا سوال جب اس کے اندر داخل ہوکر اس کو کسی حق کے اعتراف سے روکتا ہے تو وہ بلا تا خیر اس کو جان لیتا ہے۔ اس طرح وہ اپنی تمام خامیوں سے آگاہ ہوکر اپنی اصلاح کرتا رہتا ہے۔اس کا مسلسل احتساب اس کو ایسے مقام پر پہنچادیتا ہے۔جہاں وہ اپنے آپ کو انتہائی بے لاگ نظر سے دیکھ سکے۔بالفاظ دیگر،وہ اپنے کو اس حقیقی نظر سے دیکھنے لگتا ہے جس نظر سے اس کا خدا اس کو دیکھ رہا ہے۔ p. 261

دین داری p. 261

دینداری اصل میں اپنی ذات کی سطح پر دیندار بننے کا نام ہے۔اپنی انا کو کچلنا اوراپنے اندرون میں خدا کو بسانا وہ چیز ہے جو اسلام کا اصل مطلوب ہے۔جب آدمی اپنے آپ میں جینے کے بجائے خدا میں جینے لگے۔جب دنیا کے بجائے آخرت اس کا مقصود بن جائے جب پانے سے زیادہ کھونا اس کو محبوب نظر آتا ہوتو اس نے دین کو پایا ، اس نے اپنے خدا کے ساتھ اپنا تعلق قائم کیا۔ p. 261

آدمی اکثر حالات میں باہر باہر جیتا ہے اس لیے وہ ایسے دین کو بہت جلد قبول کرلیتا ہے جو اس کو اپنے سے باہر کی زندگی میں کوئی مشغلہ دیتا ہو۔ p. 262

جو دین لائوڈ اسپیکر کی سطح پر چیخ پکارکا پروگرام دے ،جس دین میں آدمی کو جلسے اورجلوس کی سطح پر کارنامے دکھانے کا موقع ملتا ہو۔جس دین میں سیروسیاحت کی چاشنی موجود ہو۔جس دین میں حکمرانوں سے نوک جھونک کرنے کا جواز ہاتھ آتا ہو۔جو دین بحث ومناظرہ کی دلچسپیاں فراہم کرتا ہو۔جس دین میں شامیانہ سجانے اورکھانے پینے کی دھوم مچانے کے مواقع ملتے ہوں۔جس دین میں دوسروں کو گولی کا نشانہ بنا کر اس کی تڑپتی ہوئی لاش دیکھنے کا منظر نصیب ہوتا ہو۔جس دین میں دوسروںکے پیسہ پر مفت کی لیڈری قائم کرنے کے مواقع ہاتھ آتے ہوں — دین کی یہ تمام صورتیں دین کو اپنے سے باہر پانے کی صورتیں ہیں۔ اس لیے وہ لوگ بہت جلد ایسے دین کی طرف دوڑپڑتے جو اپنے آپ کوبچائے ہوئے ہوں اوراپنے سے باہر دین کا ثبوت دے کر دیندار بننا چاہتے ہوں۔ p. 262

دین اپنے اندر سفر کرنے کانام ہے۔دین اپنے آپ کو انا نیت کے تخت سے اتارنا ہے۔دین خود اپنے اندر جھانکنے کا نام ہے نہ کہ دوسروں کا ماہر بننے کا۔درخت اپنے آپ میں جینا ہے ،اسی طرح مومن اپنے آپ میں جیتا ہے۔درخت اسی وقت درخت بنتا ہے جب کہ اسکی جڑیں زرخیززمین میں قائم ہوجائیں۔اسی طرح مومن ایک روحانی درخت ہے جو خداکی زمین میں اگتا ہے۔وہ زمین و آسمان سے ایمانی رزق لے کر بڑھتا رہتا ہے ، یہاں تک کہ وہ خداکی دنیا تک پہنچ جاتا ہے جس کانام جنت ہے۔ p. 262

محسوس پرستی p. 262

قرآن میں خدا کے مقبول بندوں کے بارے میں ارشاد ہواکہ وہ غیب پر ایمان رکھتے ہیں:يُؤْمِنُونَ بِالْغَيْبِ (2:3)اور غیر مقبول بندوں کے بارے میں کہا گیا ہے کہ وہ صرف دنیا کے ظاہر کوجانتے ہیں:يَعْلَمُونَ ظَاهِرًا مِنَ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا(30:7)۔ p. 262original + quote

اس سے یہ سمجھا جاسکتا ہے کہ شرک کیا ہے اور توحید کیا۔اگر لفظ بدل کر کہیں تو یوں کہہ سکتے ہیں کہ — شرک نام ہے حقائق کو محسوسات کی سطح پر پہچاننے کا ،اورتوحید نام ہے حقائق کو معنویت کی سطح پر پہچاننے کا۔مشرک انسان صرف ان خدائوں کو جانتا ہے جو محسوس طورپر اس کو اپنی آنکھوں سے نظر آتے ہیں۔اس کے برعکس موحد انسان اس خدا کو جان لیتا ہے جو صرف تصور کی آنکھ سے دیکھا جاسکتا ہے۔ موحد مومن بالغیب ہوتا ہے اورمشرک مومن بالشہود۔ p. 263

غیر مومن دکھائی دینے والی چیزوں میں جیتا ہے اورمومن نہ دکھائی دینے والی چیزوں میں۔غیر مومن کی یافت عضو یاتی یافت ہوتی ہے اورمومن کی یافت ذہنی یافت۔غیر مومن کی پہنچ صرف ان چیزوں تک ہوتی ہے جن کو دیکھ کرجانا جاتا ہے اورمومن کی پہنچ ان چیزوں تک ہوجاتی ہے جن کو صرف سوچ کر جانا جاسکتا ہے۔ p. 263

تاریخ کے ہر دور میں یہی انسان کی سب سے بڑی گمراہی رہی ہے۔پیغمبرلوگوں کو خدا کی طرف بلاتے تھے مگر خدا چونکہ دکھائی نہیں دیتا اس لیے بہت کم لوگ ایسے نکلے جو خدا کی طرف متوجہ ہوسکیں۔ بیشتر لوگوں نے انہیںمحسوس چیزوں کو اپنا مرکز تو جہ بنالیا جن کو وہ اپنی آنکھوں سے دیکھ سکتے تھے۔روشن ستاروں کی پرستش سے لے کر دریائوں اورپہاڑوں کی پرستش تک ہر جگہ یہی ذہنیت کارفرمارہی ہے۔ پیغمبروں کی دعوت کو نہ ماننے کی سب سے بڑی وجہ ہردور میں یہ تھی کہ ان کے مخالفین صرف محسوس خدائوں سے آشنا تھے ،اس لیے پیغمبروں کی زبان سے غیر محسوس خداکی پکارکو سن کر وہ متاثرنہ ہوسکے۔ p. 263

بزرگوں اورممتاز شخصیتوں کی پرستش کی نفیسات بھی یہی ہے۔خدا چونکہ آنکھوں سے دکھائی نہیں دیتا اس لیے لوگ خدا کی عظمت کو پکڑ نہیں پاتے۔بزرگ اورممتاز شخصیتیں دکھائی دیتی ہیں اس لیے لوگ ان کی عظمت کو پکڑلیتے ہیں اوران کی پرستش کرنے لگتے ہیں۔بزرگ پرستی نام ہے محسوس پرستی کا، اگرچہ بہت کم لوگ ہیں جو اس حقیقت کو جانتے ہوں۔ p. 263

محبت کا نذرانہ p. 263

آدمی اپنی فطرت اوراپنے حالات کے لحاظ سے ایک ایسی مخلوق ہے جو ہمیشہ خارجی سہاراچاہتا ہے۔ایک ایسی ہستی جو اس کی کمیوں کی تلافی کرے۔اورجو اس کے لیے اعتماد ویقین کی بنیاد ہو۔کسی کو اس حیثیت سے زندگی میں شامل کرنا اس کو اپنا معبود بنانا ہے۔ جب آدمی کسی ہستی کو اپنا معبود بناتا ہے تو اس کے بعد لازمی طور پر ایسا ہوتا ہے کہ آدمی کی محبت اورعقیدت کے جذبات اس کے لیے خاص ہوجاتے ہیں۔آدمی عین اپنی فطرت کے لحاظ سے مجبور ہے کہ وہ کسی سے حبّ شدید کرے اورجس سے کوئی شخص حبّ شدید کرے وہی اس کا معبود ہے۔ p. 264

موجودہ دنیا میں چو ںکہ خد انظر نہیں آتا اس لیے ظاہر پرست انسان عام طورپر نظر آنے والی ہستیوں میں سے کسی ہستی کو وہ مقام دے دیتا ہے جو دراصل خداکو دینا چاہیے۔یہ ہستیاں اکثر وہ سردار یاپیشواہوتے ہیں جن کو آدمی ’’بڑا‘‘سمجھ لیتا ہے۔اورپھر وہ دھیرے دھیرے لوگوں کی توجہات کا مرکز بن جاتے ہیں۔لوگ ان کے اس طرح گرویدہ ہوجاتے ہیں جیسا گرویدہ انہیںصرف خدا کا ہونا چاہیے۔آدمی کی فطرت کا خلا جو حقیقۃ ً اس لیے تھا کہ اس کو خدا سے پرکیا جائے وہاں وہ کسی غیر خداکو بٹھا لیتاہے(البقرہ،2:165)۔ p. 264original + quote

مذہبی احساس جب اپنے اعلیٰ ترین اسٹیج کو پہنچتا ہے تو وہ محبت میں ڈھل جاتا ہے۔خدا ہرقسم کی خوبیوںکا اعلیٰ ترین مجموعہ ہے۔انسان جتنی بھی چیزوں کا مالک ہے وہ سب کی سب خداکاعطیہ ہیں۔کائنات کا گہرامشاہدہ ایک ایسے خالق کا تعارف کراتا ہے ، جو حیرت ناک حد تک حسن وکمال کی خصوصیات رکھنے والا ہے۔ p. 264

یہ ہے خدااور کوئی آدمی جب ایسے خدا کو پالیتا ہے تو وہ بالکل فطری طورپر اس کی عقیدت ومحبت میں سرشار ہوجاتا ہے۔ p. 264

انسان کے پاس کسی کو دینے کے لیے جو سب سے بڑی چیز ہے وہ محبت ہے۔ایسی حالت میں یہ ممکن نہیں کہ کوئی شخص خدا جیسی باکمال ہستی کو پائے اوراس کی خدمت میں محبت سے کم تردرجہ کی کوئی چیز پیش کرے۔محبت سے کم کوئی چیز نہ تو خدا قبول کرتااورنہ کسی انسان کے لیے جائز ہے کہ وہ خدا کے حضور میں محبت سے کم کسی چیز کا نذرانہ پیش کرے۔ p. 264

خد اکی نصرت p. 265

محمد ابن اسحاق نے اپنی سیرت میں مکی دور کا یہ واقعہ نقل کیا ہے کہ قریش نے نضر بن حارث اورعقبہ بن ابی معیط کو مدینہ بھیجا۔وہاں وہ یہود کے علماء سے ملے اوران سے پوچھا کہ ہم کو محمد کے بارے میں بتائو کہ ہم ان کو کیا سمجھیں۔علماء یہود نے کہا کہ ان سے تم اصحاب کہف اورذوالقرنین کا حال پوچھو۔ اگر وہ بتا دیں تو وہ نبی مرسل ہیں اور اگر نہ بتا سکیں تو وہ متقول ہیں۔ p. 265other source

یہ لوگ مکہ واپس آئے اوررسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ آپ ان چیزوں کے بارے میں ہمیں بتائیں۔آپ نے فرمایا کہ تم نے جو سوال کیا ہے اس کا جواب میں تم کو کل دوںگا:أُخْبِرُكُمْ غَدًا بِمَا سَأَلْتُمْ عَنْهُ۔آ پ نے یہ جملہ کہا مگر ان شا ء اللہ نہ فرمایا۔آپ کو خیال تھاکہ کل کے دن جبریل آئیں گے تو میں ان سے پوچھ کر بتاددں گا۔مگر انشاء اللہ نہ کہنے کی وجہ سے اگلے دن وحی نہ آئی۔یہاں تک کہ پندرہ دن تک وحی رکی رہی۔ p. 265original + quote

وحی نہ آنے کی وجہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اگلے دن جواب نہ دے سکے۔یہ مکہ کے مشرکین کے لیے سنہرا موقع تھا۔انھوں نے لوگوں سے کہنا شروع کیاکہ محمد نے وعدہ کیاتھا مگر وہ اپنے وعدہ کو پورانہ کرسکے۔دن پر دن گزرتے رہے اورآپ کی طرف سے کوئی جواب نہ آیا۔مکہ کے مشرکین نے اس کو خوب استعمال کیا۔انھوں نے لوگوں سے کہا کہ اب ثابت ہوگیا کہ یہ پیغمبر نہیں ہیں۔اگر وہ پیغمبر ہوتے تو ضرور اپنے وعدہ کے مطابق جواب دیتے۔ p. 265original + quote

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے رات دن سخت بے چینی میں گزررہے تھے۔ایک ایک لمحہ پہاڑ ہورہا تھا۔بظاہر یہ سراسر آپ کے خلاف بات تھی مگر اللہ تعالیٰ نے اس کو زبردست طور پر آپ کے موافق بنادیا۔وہ یہ کہ پندرہ دن وحی رکنے کی وجہ سے قریش نے سارے شہر میں اتنا پروپیگنڈا کیا کہ ایک ایک آدمی اس معاملہ سے باخبر ہوگیا۔ہر آدمی کو اشتیاق ہوگیا کہ وہ جانے کہ اس کی بابت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کیا کہتے ہیں۔گویامکہ والوں نے بہت بڑے پیمانے پر سننے کی فضا بنا دی۔ چنانچہ پندرہ دن کے بعد جب سورہ کہف اتری اور اس میںاصحاب کہف اورذوالقرنین کا قصہ تفصیل سے بیان ہوا تو سارے لوگ اس کو سننے کے لیے دوڑپڑے۔سورہ کہف کے اترتے ہی وہ سارے شہر میں ایک ایک آدمی کی زبان پر تھی۔جو تبلیغ مہینوں میں ہوتی وہ صرف ایک دن میں ہوگئی — اگر اللہ چاہے تو وہ اپنے کسی بندے کی غلطی کو بھی صحت کے خانہ میں ڈال دے۔وہ اس کے ناموافق حالات کو موافق حالات میں تبدیل کر دے(البدایہ و النھایہ، جلد3، صفحہ69)۔ p. 265unverified

دل کا سکون p. 266

آج کی دنیا ترقی یافتہ دنیا کہی جاتی ہے۔مگر یہ تمام ترقیاں صرف’’چیزوں ‘‘کی ہوئی ہیں۔جہاں تک ’’انسان ‘‘کا تعلق ہے ،وہ بدستو غیر ترقی یافتہ حالت میں پڑاہوا ہے۔انسان پیچھے ہے اور چیزیں آگے۔ p. 266

سب سے بڑی چیز جو انسان چاہتا ہے وہ سکون ہے۔مگر آج کسی کو سکون حاصل نہیں۔جدید مادی ترقیوں نے صرف یہ کیا ہے کہ انسان سے اس کا سکون چھین لیا ہے۔یہ ترقیاں انسان کوسکون دینے میں سراسرناکام ثابت ہوئی ہیں۔ p. 266

موجودہ دنیا میں ایک عجیب تضاد نظر آتا ہے۔یہاں سامانِ سکون ہے مگر سکون نہیں یہاں قہقہوں کا شور ہے مگر دل کا چین نہیں۔یہاں خوشی کے اسباب کے ڈھیر لگے ہوئے ہیںمگر حقیقی خوشی کہیں دکھائی نہیں دیتی۔ p. 266

اس کی وجہ کیا ہے۔اس کی وجہ بالکل سادہ ہے۔ہم روح جیسی برتر چیز کومادہ جیسی کمتر چیز کے ذریعہ خوش کرنا چاہتے ہیں۔اور ایسا ہونا کبھی اس دنیا میں ممکن نہیں۔جو لین آف ناروچ (1342-1416)نے صحیح کہا ہے کہ ہماری روح کبھی ان چیزوں میںسکون نہیں پاسکتی جو خود اس سے نیچی ہوں: p. 266original + quote

Our soul may never rest in things that are beneath itself. p. 267

انسان اشرف المخلوقات ہے۔وہ ہماری معلوم دنیا کی سب سے برتر مخلوق ہے۔اس کائنات میں انسان کے اوپر صرف ایک ہی ذات ہے اوروہ خود خالق ہے۔یہی واقعہ یہ ثابت کرنے کے لیے کافی ہے کہ انسان کے لیے سکون اورراحت کا واحد ذریعہ صرف یہ ہے کہ وہ اپنے خالق کو پالے۔اس سے کمتر کوئی چیز اس کے لیے سکون اورراحت کا سبب نہیں بن سکتی۔ p. 267

یہی حقیقت ہے جو قرآن میں ان لفظوں میں بیان کی گئی ہے : p. 267

الَّذِينَ آمَنُوا وَتَطْمَئِنُّ قُلُوبُهُمْ بِذِكْرِ اللَّهِ أَلَا بِذِكْرِ اللَّهِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوبُ(13:28)۔ p. 267Qur'an

جو لوگ ایمان لائے اوران کے دلوں کو اللہ کی یادسے اطمینان ملتا ہے۔جان لو،اللہ کی یاد ہی سے دلوں کو اطمینان ہوتا ہے ۔ p. 267original + quote

شکر کی اہمیت p. 268

چارلس رشٹر (1900-1985)ایک امریکی سائنس داں ہیں۔وہ زلزلہ کے ماہرین میں سمجھے جاتے ہیں۔انھوں نے ایک مخصوص پیمانہ دریافت کیا ہے جو آج دنیا بھر میں زلزلہ کی پیدا کردہ طاقت کو ناپنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔اس کو رکٹر پیمانہ (Richter Scale) کہتے ہیں۔ p. 268

چارلس رکٹر نے کیلی فورنیا کے انسٹی ٹیوٹ آف ٹکنالوجی میں نصف صدی تک زلزلہ کا مطالعہ کیا ہے۔انھوں نے کہا ان سے اکثر پوچھا جاتا ہے کہ زلزلہ کے خطرہ سے بچنے کے لیے آدمی کو کہاں بھاگنا چاہیے۔کیلی فورنیا میں ا س کا جواب بالکل سادہ ہے ،وہ یہ کہ کہیں نہیں۔امریکاکی 48ریاستوں میں زلزلہ کا سب سے کم خطرہ فلوریڈا اورساحلی ٹکساس میںہے۔مگر پھر میں سوال کروں گاکہ طوفان کے بارے میں ان کا کیا خیال ہے۔حقیقت یہ کہ ہر علاقہ کے اپنے کچھ خطرات ہیں۔اس لیے واحد بدل یہ ہے کہ آدمی کسی دوسرے مقام پر چلا جائے اورکسی دوسرے خطرہ کو گواراکرے(ہندستان ٹائمس، 7اکتوبر1980)۔ p. 268

آدمی کا یہ مزاج ہے کہ جو کچھ اس کو ملا ہوا ہے اس پر وہ مطمئن نہیں ہوتا اور جو کچھ نہیں ملا ہے اس کے پیچھے دوڑتا ہے۔اسی مزاج کا یہ نتیجہ ہے کہ ہر آدمی غیر مطمئن زندگی گزارتا ہے۔کوئی بظاہر خوش نصیب آدمی جس کو لوگ قابل رشک سمجھتے ہیں وہ بھی اندر سے اتنا ہی غیر مطمئن ہوتا ہے جتنا وہ لوگ جو اِس کو رشک کی نظروں سے دیکھ رہے ہیں۔ہر شخص کو کوئی نہ کوئی نعمت ملی ہوئی ہے۔مگر جس کے اندر شکر کی نفسیات نہیں ہوتی وہ غیر حاصل شدہ نعمت کی طرف متوجہ رہتا ہے اورجو نعمت بروقت اسے حاصل ہے اس کو حقیر سمجھتا ہے۔ ایسے آدمی کے اندر اپنے خداکے لیے شکر کا جذبہ نہیں ابھرتا۔وہ عین اسی چیز سے محروم رہ جاتا ہے جس کو اسے سب سے زیادہ اپنے سینہ کے اندر پرورش کرنا چاہیے۔ p. 268

موجودہ دنیا کو خد انے اس طرح بنایا ہے کہ یہاں مکمل راحت کسی کے لیے نہیں۔ ایک جغرافیہ کا آدمی وہاں کے مسائل سے گھبراکر دوسرے جغرافیہ میں چلا جائے تو اس کو دوسرے جغرافیہ میں پہنچ کر معلوم ہوگا کہ یہاں بھی مسائل ہیں۔ اسی طرح اگر کم آمدنی والے کے مسائل ہیں تو زیادہ آمدنی والے کے بھی مسائل ہیں۔اگر بے زور آدمی کے مسائل ہیں تو ان کے بھی مسائل ہیں جن کو زور و قوت حاصل ہے۔ امتحان کی اس دنیا میں کسی آدمی کو مسائل سے فرصت نہیں۔آدمی کو چاہیے کہ وہ جن مسائل کے درمیان ہے ان کو گوارا کرتے ہوئے اپنا سفر جاری رکھے۔اس کی توجہات کا مرکز خداکی رضا حاصل کرنا ہونہ کہ مسائل سے پاک زندگی کا مالک بننا ،کیونکہ وہ تو آخرت سے پہلے ممکن ہی نہیں۔ p. 268

خدا کی یاد p. 269

اخبار ہند ستان ٹائمس کے ایڈیٹر نے ایک فیلڈاسٹڈی (15مئی 1982)کے ذریعہ ہندستانی لوگوں کا مزاج معلوم کیا۔وہ اپنے مطالعہ کے بعد اس نتیجہ پر پہنچے کہ ہندستانیوں کا حال یہ ہے کہ جب کوئی مصیبت پڑتی ہے تو خداان کے یہاں سب سے اوپر ہوتا ہے۔ جب ہر چیز ٹھیک ہوتو پیسہ سب سے اوپر آجاتا ہے اورخداکو دوسرے درجہ میں پہنچادیتا ہے : p. 269

When a catastrophe strike, God is tops. When all is tranquil, money manages to push God down to the second place. p. 269

یہ بات نہ صرف ہندستانیوں کے لیے صحیح ہے بلکہ وہ عام انسانوں کے لیے بھی بڑی حدتک درست ہے۔انسان کا حال یہ ہے کہ تکلیف اوربے بسی کے لمحات میں وہ سب سے زیادہ خدا کو یاد کرتا ہے۔اس وقت اس کی ساری توجہ خداکی طرف لگ جاتی ہے۔مگر جب حالات اچھے ہوں اورکوئی پریشانی سامنے نہ ہوتو وہ اپنے مادی مفادات کو اپنی تمام توجہ کا مرکز بنالیتا ہے۔ p. 269

مگر اس قسم کی خدا پرستی خدا پرستی نہیں۔وہ صرف آدمی کے اس جرم کو بتاتی ہے کہ وہ اپنے رب کو بھولا ہواتھا۔وہ وقت جب کہ اسے خداکو یاد کرنا چاہیے تھا اس وقت اس نے خدا کو یاد نہیں کیا۔یہاں تک کہ خدانے اس کی حقیقت اس پر کھول دی۔اس کی آنکھ سے غفلت کا پردہ ہٹ گیا۔جب ایسا ہواتو وہ گھبراکر خداکو پکارنے لگا۔ p. 269

انسان ایک آزاد اوربااختیار مخلوق ہے۔اس سے آزادا نہ خداپرستی مطلوب ہے نہ کہ مجبورانہ۔ انسان کا یاد کرنا وہ یاد کرنا ہے جب کہ اس نے راحت کے لمحات میں خداکو یاد کیاہو۔راحت کے وقت خداکو بھلائے رکھنا اورجب مصبیت آئے تو خدا کی طرف دوڑنا ایک ایسا عمل ہے جس کی خداکے یہاں کوئی قیمت نہیں۔ p. 270

پھر یہ واقعہ بتاتا ہے کہ جو لوگ دولت کو سب سے بڑادرجہ دئے ہوئے ہیں وہ جھوٹے معبود کو اپنامعبود بنائے ہوئے ہیں۔جو چیز مصیبت کے وقت آدمی کا سہارانہ بنے،جس کو آدمی خود نازک لمحات میں بھول جائے وہ کسی کامعبود کس طرح ہوسکتی ہے۔ p. 270

مومن کا ذہن p. 270

ایک روز کا واقعہ ہے۔میں انگریزی اخبار پڑھ رہا تھا۔اچانک مجھ پر ایک عجیب تجربہ گزرا۔مجھ کو محسوس ہواکہ کاغذ پر چھپے ہوئے انگریزی زبان کے الفاظ کو میں اردو زبان میں سمجھ رہا ہوں۔میری آنکھ اگرچہ ان کو انگریزی زبان میں پڑھ رہی ہے مگر میراذہن ان کو اردو زبان میں لے رہا ہے۔ p. 270

یہی ہر شخص کا معاملہ ہے ،خواہ وہ اردوکا آدمی ہویاکسی دوسری زبان کا۔آدمی کسی بات کو ہمیشہ اپنی مادری زبان میں سمجھتاہے۔کان یاآنکھ کے راستہ سے بظاہر آدمی کے اندر ٹیبل کالفظ داخل ہوتا ہے۔مگر اردو کا ایک آدمی ٹیبل کو صرف اس وقت سمجھ پاتا ہے جب کہ اس کا ذہن اس کو میز میں تبدیل کرلے۔اسی طرح انگریزی کا ایک آدمی جب میز کا لفظ سنتا ہے تو وہ اس کو صرف اس وقت سمجھتا ہے جب کہ اس کاذہن اس کو ٹیبل کی صورت میں ڈھال لے۔انسانی ذہن کے اندر ایک اجنبی زبان کا لفظ داخل ہوتا ہے۔اس کے بعد ایک حیرت ناک واقعہ ہوتا ہے۔ذہن اس کوایک انتہائی پیچیدہ نظام سے گزار کر پراسرار طورپر اس کو اپنی مادری زبان میں تبدیل کرلیتا ہے۔ p. 270

یہ واقعہ تمثیل کے انداز میں بتاتا ہے کہ مومن کا معاملہ اس دنیا میں کیا ہے۔مومن اس دنیا میں اس طرح رہتا ہے کہ ہر چیز جو اس کے اندر داخل ہوتی ہے وہ فی الفور خدائی حقیقت میں تبدیل ہوجاتی ہے۔باہر جو چیز ایک مادی واقعہ ہے وہ مومن کے ذہنی سانچہ میں آکر روحانی واقعہ بن جاتی ہے۔ایک معاملہ جو باہر بظاہر انسانی معاملہ تھا وہ مومن کے ذہن میں داخل ہوتے ہی خدائی معاملہ میں تبدیل ہو جاتا ہے۔ ایک دنیوی چیز مومن کے ذہن میں پہنچ کر اخروی چیز کی صورت اختیار کرلیتی ہے۔مومن کا ذہن ایک انتہائی پیچیدہ کارخانہ ہے جو ہر واقعہ کو ربانی واقعہ میں تبدیل کردیتا ہے۔ p. 271

اس خدائی کا رخانہ میں ہروقت ایک عظیم عمل جاری رہتا ہے۔اس کے اندر ’’خام مال‘‘داخل ہوتا ہے اوروہ ’’تیارمال‘‘بن کر باہر آتا ہے۔ایک بظاہر بے معنی چیز اس سے گزرکر ایک انتہائی بامعنی چیزکی صورت میں ڈھل جاتی ہے۔وہ شخص مومن ہے جس کا وجود اس قسم کا ایک ربانی کارخانہ بن جائے۔ p. 271

خدائی کارخانہ p. 271

سورج گویا قدرت کا ایک کارخانہ ہے جو مادہ کو روشنی میں تبدیل کرتا ہے۔گائے ایک زندہ کارخانہ ہے جس میں گھا س داخل ہوتی ہے اورگوشت اوردودھ میں تبدیل ہوجاتی ہے اسی طرح درخت قدرت کا ایک کارخانہ ہے جس میں مٹی اورپانی اورگیس داخل ہوتے ہیں اور وہ پھول اورپھل میں تبدیل ہوجاتے ہیں۔ p. 271

یہ عمل جو سورج اوردرخت اورجانور میںکامیابی کے ساتھ ہورہا ہے ،یہی عمل انسان سے بھی اس کے خالق کو مطلوب ہے۔فرق یہ ہے کہ کائنات کی دوسری چیزوں میں تبدیلی کا عمل قانون قدرت کے تحت مجبورانہ طورپر انجام پاتاہے۔اورانسان میں تبدیلی کا یہ عمل خود انسان کے اپنے ارادہ کے تحت اختیارا نہ طورپر انجام دیاجاتا ہے۔دوسری چیزوں میں تبدیلی مادی اعتبار سے ہورہی ہے اورانسان کے اندر خدائی اعتبار سے۔ p. 271

انسان سے اس کے پیداکرنے والے کو یہ مطلوب ہے کہ خارجی دنیا کے مشاہدات کو دلائل خداوندی میں تبدیل کرے۔جو چیز اس کے اندر صرف بطور ’’معلومات ‘‘داخل ہوئی تھی اس کو اپنے ذہن میں ’’معرفت ‘‘کی صورت دے سکے۔اس کو جب دنیا میں کوئی کامیابی حاصل ہوتو اس کووہ تمام تر خدا کے خانہ میں ڈال دے۔اس کو جب کوئی ناکامی ہوتو اس کے ذریعہ وہ عجز انسانی کی حقیقت کو دریافت کرے۔اس کو جب کسی سے شکایت ہوتو اس کا اندرونی نظام اس کو معافی اوردرگذرکی صورت میں تبدیل کردے۔وغیرہ p. 272

جو زمین اپنی مٹی کو درخت کی صورت میں تبدیل کرے اس کو زخیز زمین کہا جاتا ہے۔اورجو زمین اپنی مٹی کو درخت کی صورت میں تبدیل نہ کرسکے وہ بنجر زمین کہلاتی ہے۔یہی معاملہ انسانوں کا بھی ہے جو انسان اپنے اندرونی نظام کو اس طرح بیدار کرے کہ وہ خام چیزوں کو اعلیٰ چیزوں میں تبدیل کرنے لگے وہ مومن ہے جس انسان کا اندرونی کارخانہ ایسا کرنے میں ناکام رہے وہ کافر ہے۔ p. 272

زرخیز زمین اوربنجر زمین میں جو فرق ہے وہی فرق مومن اورغیرمومن کے درمیان پایا جاتا ہے۔زرخیز زمین کے حصہ میں شادابی آتی ہے اوربنجر زمین صرف اجاڑ پڑی رہتی ہے۔اسی طرح مومن انسان کے لیے خداکے یہاں ہمیشہ کی جنت ہے اورغیر مومن انسان کے لیے خداکے یہاں ہمیشہ کی جہنم۔ p. 272

صبر کا بدلہ p. 272

قرآن میں صبرکی بے حد تاکید کی گئی ہے ارشاد ہواہے کہ اگر کوئی شخص تمہارے اوپر زیادتی کرے اورتم صبر نہ کرسکوتو اس کے ساتھ تم اتنا ہی کرسکتے ہوجتنا اس نے تمہارے ساتھ کیا ہے۔مگر یہ صرف رخصت کی بات ہے۔ورنہ اعلیٰ درجہ تو یہ ہے کہ تم معاف کردو اور انتقام کے بجائے اصلاح کا انداز اختیار کرو۔اگر تم ایسا کروگے تو تمہارااجر اللہ کے ذمہ ہو جائے گا اورتم کوکو ئی نقصان نہ ہوگا:فَمَنْ عَفَا وَأَصْلَحَ فَأَجْرُهُ عَلَى اللَّهِ (42:40)۔ p. 272original + quote

دنیا کی زندگی میں بار بارایسا ہوتا ہے کہ ایک شخص کودوسرے شخص سے تکلیف پہنچتی ہے۔کبھی ایک آدمی دوسرے کو ایک قول دیتا ہے مگر بعد کو وہ اسے پورانہیں کرتا۔ کبھی کوئی شخص اپنے کو مضبوط پوزیشن میں پاکر کمزور فریق کے ساتھ ناانصافی کرتا ہے۔کبھی کوئی شکایت پیش آنے کی بنا پر ایک شخص دوسرے شخص کو مٹانے اوربرباد کرنے پر تل جاتا ہے۔کبھی کوئی شخص موقع سے فائدہ اٹھاتا ہے اوراپنے ساتھی کو اس کا ایک جائز حق دینے پر تیار نہیں ہوتا۔کبھی کسی کی ترقی دیکھ کر آدمی کے اندر حسد پیدا ہوتا ہے اور وہ ناحق اپنے بھائی کی بربادی کے درپے ہوجاتا ہے۔ p. 273

اب اکثر ایسا ہوتا ہے کہ جو شخص مظلوم ہے اس کے دل میں ظالم کے خلاف آگ بھڑک اٹھتی ہے۔وہ اس کی زیادتیوں کو بھولنے اوراس کو معاف کرنے پر آمادہ نہیں ہوتا۔اس میں شک نہیں کہ ایسے مواقع پر دل کے زخم کو بھلا دینا انتہائی مشکل کام ہے۔لیکن اگر آدمی ایسا کرے کہ معاملہ کو اللہ کے اوپر ڈال دے ،وہ اللہ کی خاطر اس کو برداشت کرلے تو اس کا یہ عمل کبھی رائیگاں نہیںجائے گا۔جو چیز وہ انسانوں سے نہ پاسکا اس کو وہ خداسے پاکر رہے گا۔ p. 273

ایک شخص جب کسی کو ایک قول دیتا ہے تو گویا وہ اس کو ایک بینک چیک دے رہا ہے جو عمل کے وقت کیش کیا جاسکے۔مگر جب عمل کے وقت وہ اپنے قول سے پھر جاتا ہے تو گویا اس نے کاغذی چیک تو لکھ دیا مگر جب کھاتہ سے اس کی رقم لینے کا وقت آیا تو اس نے ادائیگی سے انکار کردیا۔ایسا تجربہ کسی انسان کے لیے تلخ ترین تجربہ ہے۔لیکن اگروہ صبر کرلے تو خداکاوعدہ ہے کہ وہ اپنی طرف سے ا س کا بدلہ دے گا جو چیک انسانی بینک میں کیش نہ ہو سکا وہ خدائی بینک میں کیش ہوگا ،خواہ دنیا میں ہو یاآخرت میں۔ p. 273

جنت والے p. 273

قرآن میں بتایا گیا ہے کہ — اہل ایمان کو جس جنت میں داخل کیا جائے گااس کی معرفت انہیںاسی دنیا میں کرائی جاچکی ہوگی:وَيُدْخِلُهُمُ الْجَنَّةَ عَرَّفَهَا لَهُمْ (47:6)۔دوسری جگہ ارشاد ہواہے کہ — جنت کا رزق اس رزق کے مشابہ ہوگا جس کی توفیق انہیںدنیا کی زندگی میں ملی تھیوَأُتُوا بِهِ مُتَشَابِهًا (2:25)۔حدیث میں کہا گیا ہے کہ جنت دوزخ دراصل انسان ہی کے اعمال ہیں جو آدمی کی طرف لوٹائے جاتے ہیں:إِنَّمَا هِيَ أَعْمَالُكُمْ تُرَدُّ إِلَيْكُمْ (حلیۃ الاولیاء و طبقات الاصفیاء، جلد5، صفحہ 125)۔ p. 273quoted source

اس سے معلوم ہوتاہے کہ جنت میں داخلہ کا آغاز اِسی دنیا سے ہوجاتا ہے۔جنتی انسان اپنی جنت کو اسی دنیا میں پالیتا ہے۔گویا کہ جنت کا ایک مثنیٰ اسی دنیا میں ہے اور آخرت کی جنت میںوہی شخص جائے گاجس نے دنیا میںجنت کے اس مثنیٰ کو پالیا ہو۔ جنت کا یہ دنیوی مثنیٰ گویا نقد انعام ہے جو اصل انعام سے پہلے اس کی ایک ابتدائی علامت کے طور پر دے دیاجاتاہے۔ p. 274

یہ جنتی کون ہے۔یہ وہ شخص ہے جس نے دنیا میں ان کیفیات کا تجربہ کیا ہوجو آخرت میں اس کو جنت کا مستحق بنانے والی ہیں۔جس کے رونگٹے کھڑے ہوکر اس کو خدائی محاسبہ کا احساس دلا چکے ہوں۔ جس کے قلب پر ٹکڑے کردینے والی تجلیات کے نزول نے اس کو قربت خداوندی سے آشنا کیا ہو۔ جس نے بغض وانتقام کے جذبات کو اپنے اندر کچل کر عفوخداوندی کا مشاہدہ کیا ہو۔جس نے اپنے ندامت کے آنسوئوں میں وہ منظر دیکھا ہو جب کہ ایک مہربان آقا اپنے خادم کے اعتراف قصور پر اس سے درگزر فرماتا ہے۔جس پر یہ لمحہ گزراہو کہ ایک شخص پر قابو پانے کے باوجود وہ اس کو اس لیے چھوڑدے کہ اس کا خدابھی اس دن اسے چھوڑدے جب کہ وہ اس سے زیادہ عجز کی حالت میں ہوگا۔جو ایک امر حق کے آگے اس طرح گرپڑے جیسے لوگ آخرت میں خدا کو دیکھ کر ڈھ پڑیں گے۔ p. 274

حقیقت یہ ہے کہ مومن جنت کا ایک پھول ہے۔وہ موجودہ دنیا میں آنے والی دنیا کا ایک ابتدائی شگوفہ ہے۔مومن پر وہ سارے تجربات اسی دنیا میں گزرجاتے ہیں جو دوسروں پر موت کے بعد گزرنے والے ہیں۔آدمی کی زندگی میں مختلف قسم کے جو حالات پیش آتے ہیں انہیں میں ہر آدمی کی جنت اورجہنم چھپی ہوئی ہوتی ہے۔ان حالات میں شیطانی رد عمل پیش کرکے کوئی شخص جہنم کا مستحق ہو جاتا ہے اورملکوتی رد عمل پیش کرکے کوئی شخص جنت کا۔ p. 274

اپنا احتساب p. 274

کھیت میں جب فصل بوئی جاتی ہے تو فصل کے ساتھ طرح طرح کے گھاس پھوس بھی اگتے ہیں۔ گیہوں کے ہر پودے کے ساتھ ایک خود روگھاس بھی نکلتی ہے اورسرسوں کے ہر درخت کے ساتھ ایک خودرو پودابھی بڑھنا شروع ہوتا ہے۔یہ اپنے آپ نکلنے والے گھاس پھوس فصل کو بہت نقصان پہنچاتے ہیں ،وہ کھیت کے پانی اورکھاد میں حصہ دار بن جاتے ہیں۔وہ اصلی فصل کو بھر پورطور پر بڑھنے نہیں دیتے۔ p. 274

کسان اگر ان خودروپودوں کو بڑھنے کے لیے چھوڑدے تو وہ ساری فصل کو خراب کردیں۔کھیت میں دانہ ڈال کر کسان نے جو امیدیں قائم کی ہیں وہ کبھی پوری نہ ہوں۔اس لیے کسان یہ کرتا ہے کہ وہ کھیت میںنرائی (weeding)کا عمل کرتا ہے۔وہ ایک ایک خودروپودے کو نکالتا ہے تاکہ کھیت کو ان سے صاف کردے اورفصل کو بڑھنے کا پورا موقع ملے۔ہر کسان جانتا ہے کہ کھیت میں دانہ ڈالنا ہی کافی نہیں۔اس کے ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ فصل کے ساتھ اگنے والی دوسری گھاسوں کو چن چن کر نکال دیا جائے ،ورنہ کھیت سے مطلوبہ فصل حاصل نہیں ہوسکتی۔ p. 275

یہ نرائی کا عمل جو کھیت میں کیا جاتا ہے یہی انسانی زندگی میںبھی مطلوب ہے اوراس کا دینی نام محاسبہ ہے۔انسان کا معاملہ بھی یہی ہے کہ اس کو جب کوئی خوبی کی چیز حاصل ہوتی ہے تو اسی کے ساتھ ایک ’’خودرو گھاس ‘‘بھی اس کے اندر سے اگنا شروع ہوتی ہے۔اس خودرو گھاس کو جاننا اوراس کو اپنے اندر سے نکال پھینکنا انتہائی ضروری ہے۔ ورنہ آدمی کا انجام وہی ہوگا جو بغیرنلائی کیے ہوئے کھیت کا۔ p. 275

کسی کو اسباب و وسائل ہاتھ آجائیں تو اس کے اندر بے جاخوداعتماد ی کا جذبہ ابھرتا ہے۔اقتدار مل جائے تو گھمنڈ پیدا ہوتا ہے۔اسی طرح دولت کے ساتھ بخل ،علم کے ساتھ فخر ،مقبولیت کے ساتھ ریا اور سماجی عزت کے ساتھ نمائش کی نفسیات پیدا ہوجاتی ہیں۔یہ تمام چیزیں گویا خود روگھاس ہیں جو کسی آدمی کی خوبیوںکو کھاجانے والی ہیں۔ہر آدمی کو چاہیے کہ وہ اس اعتبار سے اپنا نگراں بن جائے اورجب بھی اپنے اندر کوئی ’’خودرو گھاس‘‘اگتے ہوئے دیکھے تو اس کو اکھاڑکر پھینک دے۔جو شخص اپنے اوپر محاسبہ کا عمل نہ کرے گاوہ یقینی طورپر اس دنیامیں برباد ہوجائے گا۔وہ ایسا کھیت ہوگاجس کی فصل تباہ ہوگئی ،وہ ایسا باغ ہوگا جس کی ساری بہار خزاں میں تبدیل ہوگئی۔ p. 275

ثواب p. 275

جن لوگوں کو اللہ نے پیسہ دیا ہے وہ عام طور ایسا کرتے ہیں کہ اپنے ملازموں اورماتحت کارکنوں کی تو صرف واجبی تنخواہ یا اجرت دیتے ہیں۔دوسری طرف کانفرنس یاریلیف فنڈ یا مشہور اداروں کو بڑی بڑی رقمیں دے کر خوش ہوتے ہیں۔اگر ان سے پوچھئے کہ آپ ایسا کیوں کرتے ہیں تو وہ کہیں گے کہ ملازم یا کارکن کو جو رقم دی جاتی ہے تو وہ ان کے کام کی اجرت ہوتی ہے۔اس پر ہم کو ثواب نہیں ملے گا۔انھوں نے ہماری خدمت کی اورہم نے ان کو معاوضہ دے دیا۔اس پر ثواب کیسا۔یہ تو دونوں طرف سے معاملہ برابر ہوگیا۔اس کے برعکس اداروں اورملی کاموں میں رقم دی جاتی ہے ان کے متعلق یقینی ہے کہ ان پر ثواب ملے گا۔ p. 275

مگر اس کی تہہ میں اصل بات کچھ اور ہے یہ جواب محض اصل بات پر پردہ ڈالنے کی ایک کوشش ہے۔اصل یہ ہے کہ ہر آدمی کے دل میں چھپی خواہش موجود ہے کہ وہ جو کچھ دے اس کا معاوضہ اس کو اسی دنیا میںملے۔غریب آدمی یہ معاوضہ پیسہ کی صورت میں چاہتا ہے۔مگر جن لوگوں کے پاس کافی پیسہ آجاتا ہے ان کو جس معاوضہ کی تمنا ہوتی ہے وہ سماجی حیثیت (social status)ہے۔یہی وہ چھپی ہوئی خواہش ہے جو اس قسم کے لوگوں کے انفاق کا رخ بڑی بڑی قابل ذکر مدوں کی طرف کردیتی ہے۔ p. 276

ظاہر ہے کہ غریب ملازم یا کارکن یہ معاوضہ دینے کی طاقت نہیں رکھتا۔اس کے پاس نہ اخبار ہوتا ہے نہ اسٹیج۔اس کے پاس اونچی بلڈنگوں والے ادارے ہیں اورنہ استقبال کرنے والا حلقہ۔مگر ایک شخص جب کسی مشہور ادارہ یاکسی ’’عظیم الشان‘‘ملی مہم میں رقم دیتا ہے تو اس کو امید رہتی ہے کہ اس کو شان دار معاوضہ ملے گا۔جلسوں کی صدارت ، عوامی مواقع پر نمایاں نشست ،اداروں میں پر زوراستقبال ،سماجی حیثیت میں اضافہ ، اخباروں میںنام چھپنا اوربڑے بڑے لوگوں کی صف میں جگہ ملنا ،وغیرہ۔ p. 276

ثواب کا تعلق نیت سے ہے نہ کہ قابل تذکرہ مدوںسے۔ثواب حقیقتہً اس عمل میں ہے جو صرف اللہ کی رضا کے لیے کیا گیا ہو۔ثواب یہ ہے کہ اللہ کی خاطر ایسی مدوں میں دیا جا ئے جو لوگوں کو دکھائی نہیں دیتیں۔ان مواقع پر خرچ کیا جائے جہاں ہر قسم کے دوسرے محرکات حذف ہوجاتے ہیں۔جس انفاق کافائدہ اسی دنیا میں وصول کرلیا گیا ہواس کا فائدہ کسی کو آخرت میں ملے گاتو کیوں ملے گا۔ p. 276

لوگ دکھائی دینے والے مقامات پر انفاق کررہے ہیں حالاں کہ خداان کے انفاق کو قبول کرنے کے لیے اس مقام پر کھڑاہواہے جو ظاہر پرست انسانوں کودکھائی نہیں دیتا۔ p. 276

نمائشی حق پرستی p. 276

کبھی ایسا ہوتا ہے کہ پتھر کے اوپر کچھ مٹی جم جاتی ہے۔اس مٹی کے اوپر سبزہ اگ آتا ہے۔بظاہر دیکھنے میں ایسا معلوم ہوتا ہے جیسے وہ کوئی کھیت ہو۔لیکن اگر زور کی بارش ہوجائے تو مٹی سمیت سارا سبزہ بہہ جاتا ہے اوراس کے بعد صرف پتھر کی صاف چٹان باقی رہ جاتی ہے جو ہر قسم کی ہریالی اورنباتات سے بالکل خالی ہوتی ہے۔ p. 277

یہی معاملہ اکثر انسانوں کا ہے۔وہ دیکھنے میں بظاہر بالکل ٹھیک معلوم ہوتے ہیں۔ظاہری طور طریق میں بہت ’’شاداب ‘‘نظر آتے ہیں۔مگر حالات کا ایک جھٹکاان کی ساری شادابی اورہریالی کو ختم کردیتا ہے۔اس کے بعد ان کی شخصیت ایک سوکھے پتھر کی مانند ہوکر رہ جاتی ہے۔ p. 277

ایک شخص جو بات چیت میں شرافت اورمعقولیت کی تصویر بنا ہواتھا وہ عملی تجربہ کے وقت اچانک ایک نامعقول انسان بن جاتا ہے۔ایک شخص جو انصاف اورانسانیت کے موضوع پر تقریر کررہا تھا وہ عمل کے موقع پر بے انصافی کا طریقہ اختیار کرلیتا ہے۔ایک شخص جو مسجد کے رکوع اورسجدہ میں تواضع کا مظاہر ہ کررہا تھا وہ مسجد کے باہر انسانوں کے ساتھ معاملہ کرنے میں گھمنڈ اورخود پسندی کا مجسمہ بن جاتا ہے۔ایک شخص جو دوسروں کو عالی ظرفی اورحقوق رسی کی تلقین کررہا ہے جب اس کا اپنا وقت آتا ہے تو وہ بغض ،حسد اورظلم کے راستہ پر چلنے لگتا ہے۔ p. 277

یہ دنیا امتحان کی دنیا ہے۔یہاں ہر آدمی کی آزمائش ہورہی ہے۔یہ آزمائش معمول کے حالات میں نہیں ہوتی بلکہ غیرمعمولی حالات میں ہوتی ہے۔مگر عجیب بات ہے کہ آدمی عین اس وقت ناکام ہوجاتا ہے جب کہ اس کو سب سے زیادہ کامیابی کا ثبوت دینا چاہیے۔ p. 277

لوگ باتوں میں حق پرستی کا ثبوت دے رہے ہیں حالانکہ حق پرستی وہ ہے جس کا ثبوت عمل سے دیا جائے۔لوگ دوستی کے وقت خوش اخلاق بنے رہتے ہیں حالانکہ خوش اخلاق وہ ہے جو بگاڑ کے وقت خوش اخلاق ثابت ہو۔لوگ خدا کے سامنے تواضع کی رسم ادا کر کے مطمئن ہیں حالانکہ کسی کا متواضع ہونا یہ ہے کہ وہ بندوں کے ساتھ معاملہ کرنے میں تواضع پر قائم رہے۔ p. 277

چٹان کی مٹی پر کی جانے والی کھیتی نمائشی ہے۔ایسی کھیتی کسی کسان کے کچھ کام آنے والی نہیں۔سیلاب کا ایک ہی ریلا اس کو جھوٹی کھیتی ثابت کردیتا ہے۔اسی طرح نمائشی حق پرستی بھی جھوٹی حق پرستی ہے جس کو قیامت کا سیلاب اس طرح باطل ثابت کردے گا کہ وہاں اس کے لیے کچھ نہ ہوگا جو اس کا سہارابنے۔ p. 277

زند ہ قبرستان p. 278

میں اسپتال کے اندر کھڑا تھا۔میرے سامنے طرح طرح کے مریض تھے۔ہر مریض درد والم کی تصویر بناہواتھا کسی کے ہاتھ میں تکلیف تھی اورکسی کے پائوں میں۔کسی کے پیٹ میں درد ہورہاتھا،کسی کی پیٹھ حادثہ کاشکار ہوگئی تھی۔اسپتال کی دنیا کا ہر آدمی مصیبت زدہ تھا۔یہاں کا ہر باشندہ انسانی عجز کانمونہ پیش کررہا تھا۔ p. 278

میں نے سوچا ’’جسم کی کوئی ایک بات بگڑ جاتی ہے تو آدمی کا یہ حال ہوجاتاہے۔پھر اس وقت آدمی کا کیاحال ہوگا جب کہ اس کی ساری بات بگڑ جائے گی۔جب انسان سے اس کی ہر وہ چیز چھن جائے گی جس کو وہ اپنی چیز سمجھ کر سرکشی کررہا تھا‘‘۔ p. 278

پہلے زمانہ میں آدمی عبرت کے لیے قبرستان جاتا تھا۔اب اس کو عبرت کے لیے اسپتال جانا چاہیے۔قبرستان میں ’’مصیبت زدہ ‘‘زمین کے نیچے ہوتا ہے۔اوراسپتال میں مصیبت زدہ زمین کے اوپر دکھائی دیتا ہے۔قبرستان میںعبرت کی چیز کو سوچ کر تصور میں لانا پڑتا ہے۔اور اسپتال میں عبرت کی چیز بالکل زندہ حالات میں آنکھ کے سامنے موجود ہوتی ہے۔ p. 278

اسپتال گویا زندہ قبرستان ہے۔اسپتال کی دنیا سراپا عبرت کی دنیا ہوتی ہے۔کوئی آدمی حادثہ کا شکار ہوکر یہاں آیا ہے۔کوئی سخت بیماری میں مبتلا ہے۔کسی کے جسم میں کوئی ضروری چیز کم ہوگئی ہے۔اس کا نتیجہ یہ ہے کہ کوئی شخص کراہ رہا ہے۔کوئی چیخ رہا ہے۔ غرض بے بسی وبے چارگی کے عبرت ناک مناظر ہیں جو اسپتال میں ہر طرف بکھرے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔ p. 278

یہ مناظراس لیے دکھائے جاتے ہیں کہ آدمی ان سے سبق لے۔وہ دوسروں کی تکلیف میں اپنی تکلیف کاعکس دیکھے۔وہ جزئی واقعہ میںکلی حقیقت کا مشاہدہ کرے۔وہ دنیا کے واقعہ میں آخرت کے واقعات کا احساس کرلے۔ p. 279

ایسے مناظر ہر آدمی کے سامنے آتے ہیں۔مگر بہت کم لوگ ہیں جو ان سے سبق لیتے ہوں۔اس کی وجہ یہ ہے کہ سبق لینے کے لیے غیر کی حالت کو اپنے اوپر طاری کرنا پڑتا ہے۔جو کچھ ابھی پیش نہیں آیا اس کا احساس اس طرح کرنا پڑتا ہے گویا کہ وہ پیش آچکا ہے۔یہ مستقبل کو حال کے اندر دیکھنا ہے اور کتنے لوگ ہیںجو مستقبل کو حال کے اندر دیکھنے والی نظر رکھتے ہوں۔ p. 279

اسم اعظم کیا ہے p. 279

ایک بزرگ سے ان کے شاگردوں نے پوچھا کہ اللہ کا اسم اعظم کیا ہے۔بزرگ نے فرمایا جب آدمی کا پیٹ غذ اسے خالی ہواوراس کا دل کینہ سے خالی ہوتو وہ اللہ کے ناموں میںسے جس نام سے بھی اپنے رب کو پکارے گاوہی اسم اعظم ہوگا(تذکرۃ الاولیاء)۔ گویا اسم اعظم کا تعلق ’’اسم ‘‘سے نہیں بلکہ کیفیت سے ہے۔اسم اعظم وہ ہے جو اعلیٰ کیفیات کے ساتھ زبان سے نکلے۔کیفیات کی عظمت کسی اسم کو اسم ِ اعظم بناتی ہے نہ کہ حروف تہجی کی عظمت۔ پیٹ خالی ہونا اس بات کی علامت ہے کہ آدمی مادیات کے غلبہ سے آزاد ہے اور دل میںکینہ نہ ہونا بتاتا ہے کہ آدمی اپنے سینہ میںکسی قسم کی نفسیاتی پیچیدگی لیے ہوئے نہیں ہے۔جب کوئی آدمی اپنے کو مادی رونقوں سے اور انسانی شکایتوں سے اوپر اٹھا لیتا ہے تو وہ خدا کے بہت قریب ہوجاتا ہے۔اس کو خدا کے خصوصی فیضان میں سے حصہ ملنے لگتا ہے۔ایسے وقت میں خدا کے صفاتی ناموں میں سے کوئی نام جب اس کی زبان پر آتا ہے تو وہ ربانی کیفیات میں نہا یا ہواہوتا ہے۔ان کیفیات کے ساتھ جو بہترنام آدمی کی زبان سے نکلے وہی اس کے لیے اسم اعظم ہے۔ p. 279original + quote

کچھ لوگ اسلام کے معاملہ کو پاک کلمات کا ایک پراسرار معاملہ سمجھتے ہیں۔ان کاخیال ہے کہ اسلام کے کچھ خاص عربی الفاظ ہیں جن میں طلسماتی اوصاف چھپے ہوئے ہیں۔اگر کوئی شخص ان پاک الفاظ کو یاد کرلے اورزبان سے ان کو ادا کرے تو ان کی صرف ادائیگی سے کراماتی نتائج ظاہر ہونا شروع ہوجائیں گے۔دنیا میں آل و اولاد میں برکت ہوگی اور آخرت میں جنتی محل بننے لگیں گے۔ان کے نزدیک ان بابرکت کلمات میں سب سے زیادہ اونچا ’’اسم اعظم‘‘ہے۔مگر یہ محض بے بنیاد خیال ہے جس کا کوئی ثبوت کتاب وسنت میں موجود نہیں۔ p. 279original + quote

اسم اعظم حقیقۃً حروف کے کسی مجموعہ کانام نہیں بلکہ کیفیات کے مجموعہ کانام ہے۔اللہ کو جب کوئی بندہ اس طرح یادکرتا ہے کہ وہ ہردوسری چیز سے اپنا رخ موڑ کر صرف اس کی طرف متوجہ ہوجاتا ہے۔وہ اللہ میں اپنے آپ کو اس طرح شامل کرتا ہے کہ انسانوں کے لیے اس کے دل میں خیرخواہی کے سواکوئی اورجذبہ باقی نہیں رہتا تو اس وقت اس کی زبان سے اللہ کے لیے جو کلمات نکلتے ہیں ،اسی کا نام اسم اعظم ہے۔اسی لیے قرآن میں کہا گیا ہے ترجمہ’’کہو کہ تم اللہ کہہ کر پکارویارحمٰن کہہ کر پکارو،جس نام سے بھی پکاروگے تو اس کے سب نام اچھے ہیں ‘‘(17:110)۔اللہ خالق بھی اور مالک بھی وہ رحیم بھی ہے اور اکبر بھی۔وہ سب کچھ ہے۔جس برتر نام سے بھی آدمی اس کو پکارے وہ اس کے لیے جائز ہوگا۔البتہ پکارنے والے کی زبان سے نکلنے والا ایک لفظ کبھی اس کے لیے ’’اسم اعظم‘‘بن جاتا ہے۔یہ پکارنے والے کی کیفیت پر ہوتا ہے۔اللہ کو اس کی صفتوں میں سے کسی صفت سے پکارنا کبھی سادہ اورعام حالت میں ہوتا ہے اورکبھی اس طرح ہوتا ہے کہ خدا کانام لیتے ہوئے آدمی کی شخصیت پھٹ پڑتی ہے۔خدا کا نام لینا اس کی روح میں برپا ہونے والے طوفان کی آواز ہوتا ہے۔اس طرح دل کے بھونچال کے ساتھ خداکانام لینا عام حالت میں اس کا نام لینے سے بالکل مختلف ہوتا ہے۔وہ اس کی زبان سے ادا ہونے والے اسم کو اسم اعظم بنا دیتا ہے۔بندہ جب اللہ کی عظمتوں کے احساس سے سر شار ہو اور اس کی سرشاری زبان پر لفظ کی صورت میں ڈھل جائے تویہی اللہ کو اسم اعظم کے ساتھ یاد کرنا ہے۔ p. 280original + quote

جھوٹی دھوم p. 280

ٹائمس آف انڈیا (30مئی 1985)میںہند ستانی شادیوں کے بارے میں ایک سبق آموز رپورٹ شائع ہوئی ہے۔اس کا عنوان ہے ہیلی کاپٹر بارات(Copter Barat)۔ p. 280

اس میں بتایا گیا ہے کہ سوائی مادھوپور کی مینا برادری میں خوش حالی کی علامت اب یہ بن گئی ہے کہ بارات دلہن کے گھر آئے تو ہیلی کاپٹر کے ذریعہ آئے ،خواہ دولہا کے گھر سے دلہن کے گھر تک کافاصلہ 10کلو میٹر ہی کیوں نہ ہو۔اس سے پہلے شادیوں میںجہیز اورتلک کی دھوم تھی۔اب اس سے آگے بڑھ کر بمبئی کی ایک فرم سے ہیلی کاپٹر کرایہ پر حاصل کیے جارہے ہیں۔ p. 280

شادیوں میں ہیلی کارپٹر کا استعمال کیوں کیا جارہا ہے ،اس کا جواب اخباری رپورٹر نے ان الفاظ میں دیا ہے : p. 280other source

The parents of the bride expect the barat to reach village with adequate pomp and show. p. 281

دلہن کے والدین امید کرتے ہیں کہ بارات ان کے گائوں میں دھوم دھام کے ساتھ آئے۔ p. 281

انسان سمجھتا ہے کہ اس کی سواری کسی دولہا یاکسی دلہن کے گھر اترنے والی ہے۔اس لیے وہ شان وشوکت کے ساتھ اپنی سواری لے جانے کا اہتمام کررہا ہے۔اگر انسان کو یہ معلوم ہوکہ اس کی سواری بالآخر جہاں پہنچنے والی ہے وہ مالک کائنات کی عدالت ہے تو انسان کی سوچ یکسر بدل جائے۔اس کو معلوم ہو کہ شان والی شادی اوربے شان والی شادی میںکوئی فرق نہیں۔ p. 281

کوئی شخص اپنی قتل گاہ کی طرف دھوم مچاتا ہوانہیں جاتا۔کوئی شخص ایک ایسی عدالت میں جشن کے ساتھ داخل نہیں ہوتا جہاں ایک بااختیار جج اس کے خلاف فیصلہ سنانے کے لیے بیٹھا ہواہو مگر اپنی آخری منزل کے بارے میں ہر آدمی اسی نادانی میں مبتلا ہے۔ p. 281

کامیاب انسان وہ ہے جس کی سواری خدا کے یہاں باعزت طورپر اتاری جائے اورناکام انسان وہ ہے جو خد اکے یہاں اس حال میں پہنچے کہ وہاں اس کی حیثیت ایک غیر مطلوب انسان کی ہو۔وہاں نہ کوئی اس کا استقبال کرنے والا ہواور نہ کوئی اس کی خبر گیری کرنے والا۔ p. 281

لطیف تجربات p. 282

الا صمعی عبدالملک بن قریب کا بیان ہے کہ میں نے بصرہ میں دیکھا کہ دو قبریں ہیں ِ، ان کے درمیان ایک لڑکی بیٹھی ہوئی رورہی ہے۔غم کی وجہ سے اس کا براحال ہورہا ہے۔ میں قریب ہوا تو میں نے سنا کہ وہ ان الفاظ میں دعا کر رہی ہے : p. 282original + quote

اللَّهُمَّ إِنَّكَ لَمْ تَزَلْ قَبْلَ كُلِّ شَيْءٍ، وَأَنْتَ الْكَائِنُ بَعْدَ كُلِّ شَيْءٍ، وَقَدْ خَلَقْتَ وَالِدَيَّ قَبْلِي وَخَلَقْتَنِي بَعْدَهُمَا مِنْهُمَا أَنِسْتَنِي بِقُرْبِهِمَا مَا شِئْتَ، ثُمَّ أَوْحَشْتَنِي مِنْهُمَا، إِذَا شِئْتَ، فَكُنْ لِي وَلهمَا مُؤْنِسًا، وَكُنْ لِي بَعْدَهُمَا حَافِظًا )ترتيب الأمالي الخميسية للشجري(1454۔یعنی،اے اللہ ،تو ہی سب سے پہلے ہے اورتو ہی سب سے بعد ہے۔تو ہر چیز کا پیدا کرنے والا ہے ،اے میرے رب تو نے ہی میرے ماں باپ کو مجھ سے پہلے پیدا کیا ،اس کے بعد ان دونوں سے مجھ کو پیدا کیا۔تو نے ان کے ساتھ مجھے سکون دیاجب تک تو نے چاہا اورپھر جب چاہا تو نے ان کو مجھ سے جدا کر دیا۔اے اللہ ،تو مجھ پر اور ان دونوں پر رحم فرما اوران کے بعد میری حفاظت فرما۔ p. 282original + quote

اصمعی کابیان ہے کہ اس لڑکی کے حسن کلام نے میری عقل کو مبہوت کردیا۔میں نے اس سے کہا کہ اے بیٹی اپنے کلام کو پھر ایک باردہرائو۔ یہ سن کر اس نے اپنا سراٹھایا اورمیری طرف دیکھ کر بولی اے شیخ ،خدا کی قسم میں تمہاری بیوی نہیں کہ تم مجھ سے اس قدر بے تکلف ہو۔تم کو اپنے گھر والوں سے بے تکلف ہونا چاہیے۔اصمعی کہتے ہیں خدا کی قسم میں یہ سن کر شرما گیا اوروہاں سے بھا گ آیا(ففررت واللہ عنھا حیاء منھا)۔ p. 282original + quote

ایک معمولی لڑکی کے لیے یہ کیسے ممکن ہواکہ وہ اتنے گہرے انداز میں دعا کر ے۔ اس کی وجہ وہ حادثہ تھا جو اس پر گزرا۔آدمی جب کسی جھٹکے سے دوچار ہوتا ہے تو اس کے اندر چھپے ہوئے لطیف جذبات جاگ اٹھتے ہیں۔وہ ایسی باتیں پالیتا ہے جو اس نے اس سے پہلے نہیں پائی تھی۔وہ ایسے الفاظ بولنے لگتا ہے جو اس سے پہلے کبھی اس کی زبان پر نہیں آئے تھے۔آدمی طبعی طور پر آسودگی کے حالات کو پسند کرتا ہے۔مگر آسودگی کسی آدمی کو صرف اس قیمت پر ملتی ہے کہ وہ ان ربانی تجربات سے محروم رہ جائے جواس کی فطرت کی گہرائیوں میں چھپے ہوئے تھے۔ p. 282

دعا p. 283

’’میرے لیے بائیسکل خریددیجیے ‘‘ایک غریب خاندان کے لڑکے نے اپنے باپ سے کہا۔باپ کے لیے بائیسکل خریدنا مشکل تھا۔اس نے ٹال دیا۔لڑکا باربار کہتا رہا اور باپ باربار منع کرتا رہا۔آخر کار ایک روز باپ نے ڈانٹ کرکہا ’’میں نے کہہ دیاکہ میں بائیسکل نہیں خریدوں گا۔آئندہ مجھ سے اس قسم کی بات مت کرنا‘‘۔ p. 283

یہ سن کر لڑکے کی آنکھ میں آنسوآگئے۔وہ کچھ دیر تک چپ رہا۔اس کے بعد روتے ہوئے بولا ’’آپ ہی تو ہمارے باپ ہیں۔پھر آپ سے نہ کہیں تو اورکس سے کہیں ‘‘اس جملہ نے باپ کو تڑپا دیا۔اچانک اس کا انداز بدل گیا۔اس نے کہا ’’اچھا بیٹے ،اطمینا ن رکھو۔ میں تم کو ضرور بائیسکل دوں گا ‘‘یہ کہتے ہوئے باپ کی آنکھوں میں بھی آنسو آگئے۔اگلے دن اس نے پیسہ کا انتظام کرکے بیٹے کے لیے نئی بائیسکل خریددی۔ p. 283original + quote

لڑکے نے بظاہر ایک لفظ کہاتھا۔مگر یہ ایسا لفظ تھا جس کی قیمت اس کی اپنی زندگی تھی۔جس میں اس کی پوری ہستی شامل ہوگئی تھی۔اس لفظ کا مطلب یہ تھا کہ اس نے اپنے آپ کو اپنے سرپرست کے آگے بالکل خالی کردیا ہے۔یہ لفظ بول کر اس نے اپنے آپ کو ایک ایسے نقطہ پر کھڑاکر دیا جہاں اس کی درخواست اس کے سرپرست کے لیے بھی اتنا ہی بڑا مسئلہ بن گئی جتنا وہ خود اس کے اپنے لیے تھی۔ p. 283

یہ انسانی واقعہ خدائی واقعہ کی تمثیل ہے۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ کون سی دعا ہے جو لوٹائی نہیں جاتی۔یہ وہ دعا ہے جس میں بندہ اپنی پوری ہستی کو انڈیل دیتا ہے۔جب بندے کی آنکھ سے عجز کا وہ قطرہ ٹپک پڑتا ہے جس کا تحمل زمین وآسمان بھی نہ کرسکیں۔جب بندہ اپنے آپ کو اپنے رب کے ساتھ اتنا زیادہ شامل کردیتا ہے کہ ’’بیٹا‘‘اور’’باپ‘‘دونوں ایک ترازو پر آجاتے ہیں۔ p. 283

یہ وہ لمحہ ہے جب کہ دعا محض زبان سے نکلا ہوا ایک لفظ نہیں ہوتی، بلکہ وہ ایک شخصیت کے پھٹنے کی آواز ہوتی ہے۔اس وقت خدا کی رحمتیں اپنے بندے پر ٹوٹ پڑتی ہیں۔بندگی اور خدائی دونوں ایک دوسرے سے راضی ہوجاتے ہیں۔قادرمطلق عاجز مطلق کو اپنی آغوش میں لے لیتا ہے۔ p. 284

خدا ئی اخلاقیات p. 284

کائنات کی شاہراہ p. 284

انسان ایک کامل دنیا کے اندر غیر کامل وجود ہے۔ستارے اورسیارے ،ہوااورپانی ، درخت اورجانور سب ویسے ہی ہیں جیساکہ انہیںہونا چاہیے۔وہ فطرت کی مقرر شاہراہ سے نہیں ہٹتے۔اس کے برعکس انسان فطرت کی شاہراہ سے ہٹ جاتا ہے۔انسان ویسا بنتا ہے جیسا اسے نہیں بننا چاہیے۔انسان وہ کرتا ہے جو اسے نہیں کرنا چاہیے۔ p. 284

انسان کا یہ تضاد سوال بھی ہے اوراسی کے اندر اس کاجواب بھی۔اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ انسان کے تمام مسائل کاسبب یہ ہے کہ وہ کائنات کی شاہراہ سے ہٹ گیا ہے۔اور اس کے تمام مسائل کاحل یہ ہے کہ وہ کائنات کی شاہراہ کو دوبارہ اختیار کرلے۔ p. 284

فطرت کی جو شاہراہ بقیہ چیزوں کے لیے اس بات کی ضمانت ہے کہ وہ ان کو ایک معیاری دنیا میں ڈھال دے ،وہی شاہراہ یقینی طورپر اس بات کی بھی ضمانت ہے کہ وہ انسانی معاشرہ کو معیاری معاشرہ میں تبدیل کرسکے۔ p. 285

ہماری غیر معیاری دنیا کے باہر جب ایک وسیع ترمعیاری دنیا موجود ہے تو یقینی طور پر ہمارے لیے پہلا صحیح ترین انتخاب یہی ہوسکتا ہے کہ ہم اس دنیا کو سمجھیں اوراس کے اصولوں کواپنی زندگی پر منطبق کریں۔ p. 285

کائنات کے مطالعہ سے جو واضح ترین بات سامنے آتی ہے، وہ یہ کہپوری مادّی کائنات ایک متعین قانون فطرت میںجکڑی ہوئی ہے۔وہ کسی حال میں اس سے جدا نہیں ہوتی۔ہائیڈروجن اورآکسیجن کے مالیکیول سے پانی بننے کا جو اصول ہے وہ ہمیشہ یکساں رہتا ہے۔مختلف عناصر کے امتزاج سے کیمیائی مرکبات ہمیشہ ایک ہی لگے بندھے اصول کے تحت بنتے ہیں۔معدنیات کا پگھلنا اورپانی کا بھاپ بننا ہمیشہ ایک ہی معلوم قانون فطرت کے مطابق وقوع میں آتے ہیں۔یہی انسان سے بھی مطلوب ہے۔ انسان کے کردار کو اس حدتک معلوم اورمتعین ہونا چاہیے کہ اس کی پیشین گوئی کی جا سکے۔ انسان کا کردار قابل پیشین گوئی کردار ہونا چاہیے ،نہ یہ کہ خواہشات کے تحت وہ کبھی ایک قسم کے کردار کا مظاہرہ کرے اورکبھی دوسرے قسم کے کردار کا— اخلاقیات کا ایک ہی صحیح معیار ہے۔انسان کے لیے بھی اوربقیہ کائنات کے لیے بھی۔ p. 285

حسن سلوک p. 285

سماج میں جو لوگ بے سہارا ہوگئے ہوں ان کا سہارا بننا بہت بڑی عبادت ہے۔ ماں باپ آخری عمر کو پہنچ جائیں۔ایک بچہ یتیم ہوگیا ہو۔ایک شخص اپنے وطن سے دور سفر کی حالت میں کسی مشکل میں پھنس جائے۔اس طرح کی دوسری صورتیں جب کہ آدمی کی ضروریات تمام تر دوسروں کے اوپر منحصر ہوجاتی ہیں ،اس وقت کسی کی مدد کرنا ،ایسے نازک وقتوں میں کسی کے کام آنا اللہ تعالیٰ کو بہت پسند ہے اور اس کا بہت ثواب ہے۔ اس کی اہمیت قرآن سے بھی ثابت ہے اور حدیث سے بھی۔ p. 285unverified

اس طرح کے عمل کی اتنی افضلیت کیوں ہے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ انسان کی عاجزانہ حیثیت کا عملی اقرار ہے۔ہرانسان خدا کے سامنے کا مل طورپر عاجز ہے۔ہر آدمی کو خدا کے دئے سے ملتا ہے اور اسی کے چھیننے سے چھن جاتا ہے۔اسی کی معرفت کانام ایمان ہے اور اسی کو مراسم عبودیت کی شکل میں ادا کرنے کانام پرستش ہے۔ p. 286

لیکن آدمی اپنے ایمان اوراپنی عبادت میںسچا ہے یا نہیں ،اس کی صحیح جانچ اس وقت ہوتی ہے جب کہ ایک کمزور اوربے سہارا انسان سے اس کا سابقہ پڑے۔ایسے ہر موقع پر گویا ایک شخص ہمارے سامنے اسی حالت عجز میں لایا جاتا ہے جس حالت عجز میں خود ہم کو خدا کے سامنے پیش ہونا ہے۔اپنے جس احتیاج کی بنا پر ہم کسی خدا سے اپنے لیے مدد کے طلب گارہیں اسی احتیاج میں مبتلا ایک شخص ہمارے سامنے کردیاجاتا ہے تاکہ ہم کسی استحقاق اوردبائو کے بغیر اس کے ساتھ اچھا سلوک کرکے خدا سے کہیں کہ خدا یاتو بھی ہمارے ساتھ بہتری کا معاملہ فرماجب کہ تیرے اوپر نہ ہماراکوئی حق ہے اورنہ کوئی دبائو۔ p. 286

عاجز انسان کے ساتھ حسن سلوک دراصل خداکے سامنے اپنی حیثیت عجز کا اقرار ہے۔یہ اپنی دعا کو خداکے آگے عمل کی صورت میںدہرانا ہے۔یہ خدا کے سامنے اپنی بےیارومددگار حیثیت کی دریافت ہے ایک مومن جب کسی ایسے آدمی کو دیکھتا ہے تو اس کے روپ میں وہ خود اپنے آپ کو خداکے مقابلہ میں دیکھنے لگتا ہے۔ p. 286

یہ ادراک اس کو تڑپا دیتا ہے۔وہ چاہنے لگتا ہے اس بے سہاراآدمی کو وہ سب کچھ دے دے جو اس کے پاس ہے تاکہ وہ اپنے خداسے وہ سب کچھ پاسکے جو خدا کے پاس ہے۔دوسرے کی مدد کرنا گویا خداسے یہ دعا کرنا ہے کہ خدایا تو بھی اسی طرح میری مدد کر۔ p. 286

سرسبز درخت p. 286

درخت جب بلند ہوکر فضا میں اپنی شاخیں پھیلاتا ہے اورایک ہرے بھرے وجود کی صورت میں زمین پر کھڑا ہوجاتا ہے تو وہ دیکھنے والوں کی نظر میں کتنا حسین ہوتا ہے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ وہ اپنی ذات میں ایک کامل وجود ہے۔اس نے وہ سب کچھ پالیا ہے جو اسے پانا تھا ،اس نے کائنات میں اپنے لیے وہ جگہ حاصل کرلی ہے جو اسے درکار تھی۔ p. 287

اس کے برعکس انسان کو دیکھیے تو انسان ایک محروم اورناکام وجود نظر آتا ہے۔یہاں پائے ہوئے لوگ بھی اندر سے خالی ہیں۔کامیاب لوگ بھی مستقل طورپر ناکامی کے احساس سے دوچار ہیں۔انسان اس کائنات کی اعلیٰ ترین مخلوق ہے۔وہ دوسری تمام چیزوں سے برتر اوصاف اپنے اندر رکھتا ہے۔ایسی حالت میں اس کا دوسری انواع سے پیچھے ہونا کس قدر عجیب ہے۔ p. 287

ایک درخت کا دوسرے درخت سے کوئی ٹکرائو نہیں ،جب کہ ایک انسان دوسرے انسان سے لڑتا ہے۔جس درخت سے جس پھل کی امید کی جاتی ہے وہ ہمیشہ اپنی شاخ پر وہی نکالتا ہے۔جب کہ انسان کا حال یہ ہے کہ اس سے جو امید کی جائے اس پر وہ پورانہیں اترتا۔درخت اپنے دشمن کوبھی سایہ دیتا ہے اور اپنے دوست کوبھی۔جب کہ انسان اپنے دوست کے لیے کچھ ثابت ہوتا ہے اورغیر دوست کے لیے کچھ۔ p. 287

اس فرق کاکوئی پراسرار سبب نہیں۔اس کا سبب دونوں کے مطالعہ سے بہ آسانی معلوم کیا جاسکتا ہے۔اس کا سبب یہ ہے کہ درخت اوردوسری چیزیں اپنے خالق کے نقشہ پر قائم ہیں۔اس کے برعکس انسان اپنے خالق کے نقشہ پر قائم نہیں۔ p. 287

یہ کائنات ایک مرکزی اورمجموعی نقشہ کے مطابق بنی ہے۔یہاں امن وسکون اس مرکزی اورمجموعی نقشہ سے مطابقت کے ذریعہ ہی حاصل کیاجاسکتا ہے۔یہاں کامیابی کائناتی منصوبہ سے ہم آہنگی کی قیمت ہے اورناکامی اس سے ہم آہنگ نہ ہونے کی قیمت۔ p. 287

خداکی طرف سے جو پیغمبر آتے ہیں وہ دراصل اسی خلا کو پرکرنے کے لیے آتے ہیں۔پیغمبروں کی تعلیمات یہ بتاتی ہیں کہ انسان کس طرح اپنے آپ کو کائنات کی مجموعی اسکیم سے ہم آہنگ کرے۔وہ کس اسلوب حیات کو اختیار کرسے کہ وہ بھی خداکی دنیا میں ایک ’’ہرابھرادرخت ‘‘بن کر کھڑاہوسکے۔ p. 288

چڑیا اورانسان p. 288

سالم علی (1896-1987)چڑیوں کے مطالعہ کے بہت بڑے ماہر ہیں۔ابھی وہ صرف دس سال کے تھے کہ انہیںچڑیوں کے مطالعہ سے دلچسپی ہوگئی۔انھوں نے اپنی زندگی کا بڑاحصہ اس طرح گذارا ہے کہ ہاتھ میں دور بین ہے۔ایک کندھے سے کیمرہ لٹک رہا ہے اورچڑیوں کے مشاہدہ اورمطالعہ میں مصروف ہیں۔کہاجاتا ہے کہ انھوں نے اس سلسلے میںجو اہرلال نہرو سے بھی زیادہ سفر کیے۔حتیٰ کہ لوگ انہیںچڑیاوالا (Birdman) کہنے لگے۔اس فن میں مہارت کی وجہ سے ان کو بہت سے ملکی اورغیر ملکی انعامات مل چکے ہیں۔ p. 288

ہندستان میں دو ہزارسے زیادہ اقسام کی چڑیاں پائی جاتی ہیں۔سالم علی نے ان کا مطالعہ کرکے بہت سی کتابیں لکھی ہیں۔ان کی ایک کتاب کانام (The Handbook of Indian Birds)ہے۔ یہ کتاب انھوں نے 20سال کے مطالعہ کے بعد لکھی۔ p. 288

ایک اخبار کانمائندہ بمبئی میں ان کے مکان پر ان سے ملا۔اس نے سالم علی کو نہایت شریف اورمہذب انسان پایا۔اس کا خیال ہے کہ سالم علی میں یہ غیرمعمولی شرافت چڑیوں کے مطالعہ سے آئی ہے۔اس نے اپنی رپورٹ (ٹائمس آف انڈیا،25ستمبر1983)میں لکھا کہ انسان کو زیادہ انسانیت والا بنانے کے لیے غالباً یہ تجویز کیاجانا چاہیے کہ چڑیوں کے مطالعہ کوداخل نصاب کردیا جائے: p. 288original + quote

Perhaps a course in birdwatching should be recommended to make men more human. p. 289

دنیا میں بے شمار قسم کی چڑیاں اورجانور پائے جاتے ہیں۔قدیم زمانہ کا انسان ان کے بارے میں بہت کم جانتا تھا۔مگر موجودہ زمانہ میں زمین پر پائے جانے والے مختلف جانوروں کا وسیع مطالعہ کیا گیا ہے اوران سے متعلق معلومات جمع کی گئی ہیں۔جانوروں کے طرززندگی سے انسان کو باخبر کرنے کے لیے آج کل مختلف ذریعہ اختیار کیے گئے ہیں۔جانور کے کھلے پارک اورچڑیاگر قائم کرنے کا مقصد یہ بھی ہے۔حتیٰ کہ اب بہت سی یونیورسٹیوں میں جنگلی جانوروں کی زندگی کے مضامین باقاعدہ نصاب میں شامل کیے گئے ہیں۔جانوروں میں انسان کے لیے بہتر نمونے موجود ہیں۔ہرجانور نہایت صحیح فطری زندگی گذارتا ہے۔جب کہ انسان باربار فطرت کے راستہ سے ہٹ جاتا ہے۔انسان اگر جانوروں کی تقلید کرے تو یہی اس کی نجات کے لیے کافی ہوجائے۔ p. 289