Al-Risala September 2019

فتنہ ٔعام

Al-Risala September 2019 — Maulana Wahiduddin Khan

Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.

Contents (27 chapters)
  1. الرسالہ - September 2019
  2. خدا کا منصوبۂ تخلیق
  3. جنت کیا ہے
  4. جنت کا رول
  5. جنت کس کے لیے
  6. نجاتِ آخرت
  7. جنت ، ایک انعام
  8. جنت اور انسان
  9. جنت کی دریافت
  10. جہاد فی اللہ
  11. روحانی ترقی
  12. جنت کا سماج
  13. حسنِ رفاقت کی دنیا
  14. اہلِ جنت
  15. حزن فری جنت
  16. جنت کی زندگی
  17. طالبِ جنت
  18. جنت کا استحقاق
  19. اصحابِ اعراف
  20. انسان کا انجام
  21. پر امید آیات و احادیث
  22. امید کا پیغام
  23. فتنہ ٔعام
  24. انسان کی دریافت
  25. یہ تضاد کیوں
  26. اہلِ جنت کے درجات
  27. انتخابِ ڈائری 1985

فتنہ ٔعام

ایک حدیث رسول ان الفاظ میں آئی ہےسَتَکُونُ فِتَنٌ، القَاعِدُ فِیہَا خَیْرٌ مِنَ القَائِمِ، وَالقَائِمُ خَیْرٌ مِنَ المَاشِی، وَالمَاشِی فِیہَا خَیْرٌ مِنَ السَّاعِی، مَنْ تَشَرَّفَ لَہَا تَسْتَشْرِفْہُ، فَمَنْ وَجَدَ مَلْجَأً أَوْ مَعَاذًا، فَلْیَعُذْ بِہِ (صحیح البخاری، حدیث نمبر 7082)۔ یعنی عنقریب فتنے ہوں گے۔ اس میں بیٹھنے والا، کھڑے رہنے والے سے بہتر ہوگا، اور کھڑا رہنے والا، چلنے والے سے بہتر ہوگا، اور چلنے والا کوشش کرنے والے سے بہتر ہوگا، جو اس کی طرف جھانکے گا، وہ اس میں واقع ہو جائے گا، تو جو بھی کوئی پناگاہ یا بچنے کی جگہ پائے، تو وہ اس میں پناہ لے لے۔original + quote

اس حدیث میں ایک عمومی فتنہ کا ذکر ہے۔ اس سے مراد غالباً وہ دور ہے، جب کہ ٹکنالوجی کی دریافت کے نتیجے میں مواقع (opportunities) بہت زیادہ بڑھ جائیں گی۔ ہر آدمی کو دکھائی دے گا کہ وہ بھی ان سب چیزوں کو پاسکتا ہے، جو بظاہر دوسرا آدمی پائے ہوئے ہے۔ مال کے اعتبار سے، سیاسی عہدے کے اعتبار سے، مادی فائدے کے اعتبار سے امکانات اتنے زیادہ بڑھ جائیں گے کہ اس کی رسائی ہر آدمی تک ہو جائے گی۔ گھر کے معاملے میں، اپنی فیملی کے معاملے میں، اپنے بچوں کے معاملے میں ،ہر آدمی بڑی بڑی ترقی کا خواب دیکھنے لگے گا۔ یہ فتنہ ہر آدمی کو مادہ پرست بنا دے گا۔ ہر آدمی پر ایک ہی شوق غالب ہوگا کہ وہ اور اس کی فیملی زیادہ سے زیادہ دنیوی ترقی حاصل کرے۔original + quote

مادی ترقی کی دوڑ اس زمانے میں اتنا زیادہ عام ہوجائے گی کہ دوسری چیز آدمی کو نظر ہی نہیں آئے گی۔ دنیا پرستی کا کلچر مکمل طور پر آخرت پسندی کے اوپر غالب آجائے گا۔ آدمی کو نظر آئے گا کہ جنت جب مجھ کو اسی دنیا میں مل رہی ہے، تو میں جنت کو پانے کے لیے آخرت کا انتظار کیوں کروں۔ کوئی آدمی اگر خود دنیا کی ترقی حاصل نہ کرسکا، تو وہ اپنی اولاد کو ترقی کی اس دوڑ میں ہمہ تن شامل کردے گا۔