Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
جنت ، ایک انعام
ایک حدیث رسول ان الفاظ میں آئی ہے لَنْ یُدْخِلَ أَحَدًا عَمَلُہُ الجَنَّةَقَالُواوَلاَ أَنْتَ یَا رَسُولَ اللَّہِ؟ قَالَ:لاَ، وَلاَ أَنَا، إِلَّا أَنْ یَتَغَمَّدَنِی اللَّہُ بِفَضْلٍ وَرَحْمَةٍ، فَسَدِّدُوا وَقَارِبُوا (صحیح البخاری، حدیث نمبر 5673)۔ یعنی کسی آدمی کو اس کا عمل جنت میں ہرگز داخل نہیں کرے گا۔ لوگوں نے پوچھا آپ بھی نہیں ، اے خدا کے رسول؟ آپ نے کہا نہیں، میں بھی نہیں، سوائے اس کے کہ اللہ مجھے اپنے فضل اور رحمت سے ڈھانک لے۔ تو تم لوگ درستگی ، اوراعتدال کا طریقہ اختیار کرو۔original + quote
اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ جنت ایک ابدی نعمت ہے، جب کہ انسان کا ہر عمل محدود ہے، اور کوئی محدود عمل، لامحدود نعمت کا عوض(substitute) نہیں بن سکتا۔اس لیے جنت کسی انسان کوفضلِ خداوندی کے طور پر ملے گی ، یعنی جنت مالکِ کائنات کی طرف سے بطور انعا م ہوگی۔ اللہ رب العالمین جس انسان سے راضی ہوجائے، اس کو رضامندی کی علامت کے طور پر جنت دی جائے گی۔ جیسا کہ قرآن میں آیا ہےرَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمْ وَرَضُوا عَنْہُ ذَلِکَ لِمَنْ خَشِیَ رَبَّہُ (98:8)۔ یعنی اللہ ان سے راضی اور وہ اللہ سے راضی، یہ اس شخص کے لیے ہے جو اپنے رب سے ڈرے۔ قرآن میں اس رضامندی کی دو علامتیں بتائی گئی ہیں، محبت اور خشیت۔ محبت کے تعلق سے یہ آیت آئی ہے وَالَّذِینَ آمَنُوا أَشَدُّ حُبًّا لِلَّہِ(2:165)۔ یعنی اور جو ایمان والے ہیں، وہ سب سے زیادہ اللہ سے محبت رکھنے والے ہیں۔ اسی طرح یہ آیت ہےوَلَمْ یَخْشَ إِلَّا اللَّہَ(9:18)۔ یعنی اللہ کے سوا کسی سے نہ ڈرے۔original + quote
اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ اپنے جس بندے کو اس حال میں پائے کہ اس نے اپنے رب کی نعمتوں کا بہت زیادہ ادراک کیا ۔ یہاں تک کہ اس کے اندر اللہ کے لیے وہ چیز پیدا ہوگئی، جس کو انسانی زبان میں محبت کہا جاتا ہے۔ اسی طرح جس نے اللہ رب العالمین کو ا س طرح دریافت کیا کہ اس کو اللہ سے خشیت کے درجے میں تعلق پیدا ہوگیا۔ جس انسان کو اللہ رب العالمین، اس حال میں پائے ، اس کے لیے اللہ رب العالمین کی رحمت کا تقاضا ہوگا کہ اس کو ابدی جنت میں داخلہ دیا جائے۔