Al-Risala September 2018

اسلام کے نام پر غیر اسلام

Al-Risala September 2018 — Maulana Wahiduddin Khan

Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.

Contents (32 chapters)
  1. الرسالہ - September 2018
  2. دین کا نقطۂ آغاز
  3. احسن العمل کون
  4. زندگی کا تصور
  5. عارفانہ صحبت کیا ہے
  6. اقفالِ قلب
  7. اللہ اکبر، اللہ اکبر
  8. شاکلہ کیا ہے
  9. عظمتِ خداوندی
  10. تخلیق کے دو ادوار
  11. انسان کا دماغ
  12. حاکم کی خیرخواہی
  13. اسلام کے نام پر غیر اسلام
  14. الاضحی، پیغمبر ابراہیم کا منصوبہ
  15. مصلح، متکلم، داعی
  16. اِدّعا کا دور ختم
  17. امن کا راستہ
  18. عقل سے محرومی
  19. عورت کی تخلیق
  20. ازدواجی زندگی
  21. نیت پر حملہ
  22. آدابِ تنقید
  23. پازیٹیو تھنکنگ، پازیٹیوزم
  24. پریکٹکل وزڈم
  25. بے باکی یا دانش مندی
  26. بہت دن کم رہا
  27. بڑا آدمی کون
  28. آنکھوں کے بغیر
  29. باس از آلویز رائٹ
  30. سیکولرزم کیا ہے
  31. ایک سوال
  32. خبرنامہ اسلامی مر کز- 263

اسلام کے نام پر غیر اسلام

امت کے دورِ زوال کے بارے میں ایک روایت حدیث کی مختلف کتابوں میں آئی ہے۔ ایک روایت کے الفاظ یہ ہیں: إِنَّ أَوَّلَ مَا یُکْفَأُ - قَالَ زَیْدٌ:یَعْنِی فی الْإِسْلَامَ - کَمَا یُکْفَأُ الْإِنَاءُ یَعْنِی الْخَمْرَ . فَقِیلَ:کَیْفَ یَا رَسُولَ اللَّہِ وَقَدْ بَیَّنَ اللَّہُ فِیہَا مَا بَیَّنَ؟ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ صَلَّى اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ:یُسَمُّونَہَا بِغَیْرِ اسْمِہَا فَیَسْتَحِلُّونَہَا(سنن الدارمی، حدیث نمبر 2145)۔ یعنی بے شک ( اسلام میں)پہلا (بگاڑ) اوندھاکرنے کی صورت آئے گا ، جیسے برتن اوندھا کیا جاتا ہے، (اور وہ شراب ہوگی)۔ پوچھا گیا کہ ایسا کس طرح ہوگا، حالاں کہ اللہ نے (دین میں )اس کو بیان کردیا جیسا کہ بیان کردیا ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا: لوگ اس کا نام بدل کر کچھ اور نام رکھ دیں گے، پھر وہ اس کو جائز کرلیں گے۔original + quote

اس حدیثِ رسول میں خمر (شراب ) کا لفظ علامتی معنوں میں آٰیا ہے۔ یعنی دورِ زوال میں امت کے اندر خواہش پرستی کا دور آجائے گا۔ لوگ دین پر چلنے کے بجائے، اپنی خواہشات پر چلنے لگیں گے۔ اگر کوئی چیز بظاہر ممنوع (prohibited) ہوگی، تو لوگ نام بدل کر اس کا اسلامی نام رکھ لیں گے، اور پھر وہ اس کو جائز کرلیں گے۔ مثلا قوم پرستی کا نام اسلامی حمیت، شادی کی مسرفانہ دھوم کا نام مسنون نکاح،کلچرل رواج کا نام دینی شناخت، وغیرہ۔

موجودہ زمانے میں اس بگاڑ کی ایک عام صورت وہ ہے ، جس کا تعلق دعوت و تبلیغ سے ہے۔ موجودہ زمانے میںمسلمانوں کی شکست خوردہ نفسیات کونہایت منظم (organized)انداز میں ایکسپلائٹ کیا جاتا ہے، اور اس کا نام رکھ دیا جاتا ہے دعوت و تبلیغ۔ کچھ لوگ جن کے اندر قوت کلام ہوتی ہے، اور جو مارکٹنگ (marketing)کا فن جانتے ہیں، وہ اس قسم کے مناظرہ (debate) کو ایک باقاعدہ پروفیشن کے طور پر اختیار کرلیتے ہیں، اور لوگوں کو یقین دلاتے ہیں کہ وہ دعوت و تبلیغ کا کام کررہے ہیں۔