Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
باہمی تعاون کا نظام
قرآن کی ایک آیت کا ترجمہ یہ ہے: مستقبل میں ہم ان کو اپنی نشانیاں دکھائیں گے آفاق میں بھی اور خود ان کے اندر بھی۔ یہاں تک کہ ان پر ظاہر ہوجائے کہ یہ حق ہے۔ اور کیا یہ بات کافی نہیں کہ تیرا رب ہر چیز کا گواہ ہے۔ (41:53)original + quote
قرآن کی اس آیت میں سنریہمکا لفظ ہے۔ اس میں متکلم کا صیغہ استعمال ہوا ہے۔یعنی ہم دکھائیں گے۔ لیکن یہ اسلوب کی بات ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ اپنے کچھ بندوں کو کھڑا کرے گا، وہ زمین و آسمان میں تحقیق کریں گے۔ پھر وہ تحقیق کے ذریعے ایسی علمی حقیقتیں دریافت کریں گے جوعقلی بنیاد (rational ground) پر اسلام کی صداقت کو ثابت شدہ بنانے والے ہوں۔original + quote
فطرت کے قانون کے مطابق زندگی کا نظام باہمی وابستگی (interdependence) یا باہمی تعاون کے اصول پر قائم ہے۔ اس دنیا میںدینی واقعات بھی اسی اصول پرظاہر ہوتے ہیں۔ اس حقیقت کو حدیث میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: اللہ اس دین کی تائید فاجر انسان (سیکولر انسان) کے ذریعے بھی کرے گا۔(صحیح البخاری، حدیث نمبر3062)جس واقعہ کو قرآن میں متکلم کے صیغہ میں بیان کیا گیا تھا، اس کو حدیث میں غائب کے صیغہ میں بیان کیا گیا ہے۔ اس سے تفہیمِ قرآن میں حدیث کا رول معلوم ہوتا ہے۔ حدیث قرآن کے اجمال کو مفصل کرتی ہے۔ حدیث قرآن کے اصولی بیان کو تعین کی زبان میں واضح کرتی ہے۔ تمام ترقیاں ، خواہ وہ دینی ہوں یا سیکولر، وہ ہمیشہ اسی باہمی وابستگی کے اصول پر انجام پاتی ہیں۔ مثلاً اسلام نے جمہوریت کا آغاز کیا لیکن اس کی تکمیل فرانس میں ہوئی۔ اسلام نے مذہبی رکاوٹوں کو ختم کرنے کا آغاز کیا لیکن اس کی تکمیل جدید تہذیب کے ذریعے ہوئی۔ اسلام نے انسانی غلامی کے خاتمے کا آغاز کیا لیکن اس کی تکمیل امریکا میں ہوئی۔ اسلام نے سائنسی دور کا آغاز کیا لیکن اس کی تکمیل مغربی دنیا میں ہوئی، وغیرہ۔ آغاز کے بعد تکمیل کا یہ کام تاریخی عمل (historical process)کے ذریعے انجام تک پہنچا۔original + quote