Al-Risala September 2016

اسلام کا عالمی پیغام

Al-Risala September 2016 — Maulana Wahiduddin Khan

Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.

Contents (43 chapters)
  1. الرسالہ - September 2016
  2. عید الاضحی
  3. ایمان کی درستگی
  4. اہل جنت کی صفت
  5. اللہ کی رحمت
  6. اتباع رسول
  7. پوشیدہ جنت
  8. خدا کا عقیدہ
  9. ذہنی ارتقاء
  10. دورِ آخر کی اصلاح
  11. دین کا تسلسل
  12. حکمت کا سرا
  13. اسلام کی معرفت
  14. انسان کی تلاش
  15. ترجمۂ قرآن کی اشاعت
  16. دعویٰ کی زبان
  17. خیر کا قانون
  18. سکنڈ چانس
  19. دعوت کا معیار
  20. پر امن دعوت
  21. اسلام کا عالمی پیغام
  22. بے آمیز دعوت کی ذمہ داری
  23. حالات کی زبان
  24. خدائی منصوبہ
  25. اختلاف ایک رحمت
  26. پرسکون زندگی کا راز
  27. سنی ہوئی بات کی تحقیق
  28. سازش کا نظریہ
  29. سازش بے اثر
  30. باہمی تعاون کا نظام
  31. عورت اور مرد کا فرق
  32. مثبت سوچ کی ضرورت
  33. مادر وطن
  34. موت کا شعوری ادراک نہیں
  35. کائناتی نشانیاں
  36. فیصلہ تک پہنچنا
  37. نئی منصوبہ بندی
  38. مبنی بر معرفت کلام
  39. انتظار کیجیے
  40. حکمت
  41. ہر صورتِ حال بہتر
  42. ٹکنالوجی کا کمال
  43. سوال

اسلام کا عالمی پیغام

قرآن کی پہلی آیت میں یہ بتایا گیا ہے کہ اللہ رب العالمین(الفاتحہ1:) ہے۔ یعنی اللہ یکساں طور پر تمام انسانوں کا رب ہے۔ وہ صرف مسلم قوم کا رب نہیں۔ قرآن کو آپ پڑھیں تو آپ کو ملے گا کہ قرآن کا خطاب ایک عالمی خطاب ہے۔ چناں چہ قرآن میں آپ کو ملے گا کہ أیہا الناس، أیہاالإنسان ، یا بنی آدم جیسے الفاظ استعمال کیے گیے ہیں۔original + quote

کسی امت میں یہ نفسیات اس وقت پیدا ہوتی ہے، جب کہ اس کے اندر اسلام کا تصور گھٹ کر قومی مذہب کا تصور بن جائے۔ اس وقت امت کے اندر یہ ذہن بن جاتا ہے کہ ہم مسلم ہیں ، اور بقیہ لوگ کافر ہیں۔ اس وقت حق وباطل کا معیار یہ بن جاتا ہے کہ آدمی قومی اعتبار سے کس گروہ سے وابستہ ہے۔ ایک گروہ سے وابستگی دین دار ہونے کی علامت ہوتی ہے، اور دوسرے گروہ سے وابستگی بے دینی کی علامت۔ ایسا اس وقت ہوتا ہے جب کہ دین ایک قومی کلچر بن جائے، نہ کہ خداوند عالم کا بھیجا ہوا دین۔

جب کسی قوم پر زوال کا یہ وقت آتا ہے تو اس وقت سب سے بڑا نقصان یہ ہوتا ہے کہ اسلام کا آفاقی تصور ختم ہوجاتا ہے۔ اب لوگوں کے اندر یہ جذبہ نہیں ہوتا کہ وہ اسلام کو تمام انسانوں تک پہنچائیں۔ بلکہ اس وقت لوگوں کے چھوٹے چھوٹے گروہ بن جاتے ہیں۔ ہر گروہ اپنے تصورِدین کی حفاظت میں لگ جاتا ہے۔ ہر گروہ اپنے گروہی مسلک کو حق سمجھتا ہے۔ اس طرح مذہبی تعصب کی وہ برائی پیدا ہوتی ہے جس کے بعد لوگوں کا حال یہ ہوتا ہے کہ ان کے درمیان دین کا نام موجود ہوتا ہے، لیکن دین کی حقیقت غائب ہوجاتی ہے۔

جب زوال کا یہ دور آتا ہے تو ظاہری چیزوں کی دھوم بڑھ جاتی ہے۔ لوگ ظاہری چیزوں کی دھوم دیکھ کر سمجھنے لگتے ہیں کہ دین زندہ ہے۔ حالاں کہ اسپرٹ کے اعتبار سے دین کا کوئی وجود نہیں ہوتا، جب کہ اسپرٹ ہی دین کی اصل حقیقت ہے۔