Al-Risala September 2015

ایک اجتماعی اصول

Al-Risala September 2015 — Maulana Wahiduddin Khan

Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.

Contents (41 chapters)
  1. الرسالہ - September 2015
  2. قرأتِ فاتحہ، روحِ فاتحہ
  3. نعمت کی تحدیث
  4. محبت کا معاملہ
  5. انسان کی تخلیق
  6. غم کے بجائے دعا
  7. تاریخ کا نیا دور
  8. نبی امی
  9. و اما السائل فلا تنہر
  10. آخرت پر ایمان
  11. خدا کا عقیدہ
  12. عاجلانہ اقدام، صابرانہ منصوبہ بندی
  13. نصیحت کا صحیح طریقہ
  14. آیڈیالوجی کی طاقت
  15. دعوت کا اسلوب
  16. دین میں استقامت
  17. دورِ فتنہ
  18. اعتدال کا مطلب
  19. ایک اجتماعی اصول
  20. فساد کی برائی
  21. علمِ معرفت
  22. ایمان اور عمل
  23. ایک سنت ِ رسول
  24. امتیاز ابلیس کی سنت ہے
  25. جنت کی دنیا
  26. اجتہاد کا معاملہ
  27. قتل سب سے بڑی برائی
  28. ذاتی کمال، بصیرِ زمانہ
  29. قدرت کا نظام
  30. سب سے بڑا المیہ
  31. حکمتِ حیات
  32. حقیقی اطمینان
  33. دو دنیائیں
  34. انتہا پسندی
  35. معافی، رائے بدلنا
  36. کلام کا طریقہ
  37. افادہ اور استفادہ
  38. ہر صورتِ حال بہتر
  39. ہر آدمی ایک کیس ہے
  40. اپنی تعمیر آپ
  41. خبرنامہ اسلامی مرکز — 237

ایک اجتماعی اصول

قرآن کی سورہ نمبر 4میں ایک اجتماعی حکم کو بیان کیا گیاہے۔اس آیت کا ترجمہ یہ ہے: جب ان کو کوئی بات امن یا خوف کی پہنچتی ہے تو وہ اس کو پھیلا دیتے ہیں ۔ اور اگر وہ اس کو رسول تک یا اپنے ذمہ دار اصحاب تک پہنچا تے تو ان میں سے جو لوگ تحقیق کرنے والے ہیں ، وہ اس کی حقیقت جان لیتے۔ اور اگر تم پر اﷲ کا فضل اور اس کی رحمت نہ ہوتی تو تھوڑے لوگوں کے سوا تم سب شیطان کے پیچھے لگ جاتے۔ (النساء: 83)unverified

اس آیت کا ابتدائی مفہوم یہ ہے کہ جنگ اور امن کے حالات کا تعلق حکومت کے ذمہ داروں سے ہوتا ہے، اس لیے اس نوعیت کی کوئی بات ہوتو لوگوں کو چاہیے کہ اس کو حکومت کے ذمہ داروں تک پہنچائیں، تاکہ وہ اس کے بارے میں صحیح کارروائی کر سکیں۔

قرآن کی اس آیت سے ایک اصول معلوم ہوتا ہے۔ وہ یہ کہ کسی شخص کو کسی معاملے سے متعلق کوئی بات کہنا ہوتو اس کو چاہیے کہ وہ بات کو اس سے کہے جس کا اس معاملے سے تعلق ہے۔ متعلق اشخاص سے بات کہنا سماج میں اصلاح پیدا کرتا ہے۔ اور بات کو غیر متعلق اشخاص سے کہنا سماج میں فساد پھیلانے کا سبب بنتا ہے۔original + quote

خاص طور پر جب کوئی منفی بات یا شکایت کی بات ہو تو ایسی بات کو غیر متعلق اشخاص سے بیان کرنانہایت بری عادت ہے۔ کسی آدمی کے پاس اگر ایسی کوئی بات ہے تو اس کو چاہیے کہ وہ اس کو اپنے دل میں رکھے اور سب سے پہلے متعلق شخص سے مل کر اس کی وضاحت معلوم کرے۔ یہی طریقہ صحیح اسلامی طریقہ ہے۔

سماج میں اکثر خرابیاں بات سے پیدا ہوتی ہیں۔ لوگو ں کا عام مزاج یہ ہے کہ جب ان کو کوئی بری بات معلوم ہو تو وہ فورا اس کا چرچا شروع کردیتے ہیں۔ یہ چرچا عام طور پر غیر متعلق اشخاص کے درمیان کیا جاتا ہے۔ متعلق شخص سے سنجیدہ انداز میں گفتگو کرنا ہی اس معاملے میں واحد صحیح طریقہ ہے۔