Al-Risala October 2020

ہوم اسکول

Al-Risala October 2020 — Maulana Wahiduddin Khan

Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.

Contents (28 chapters)
  1. الرسالہ - October 2020
  2. افضل ایمان
  3. اعلیٰ حمد
  4. توبہ کی اہمیت
  5. ہوم اسکول
  6. قتل خویش
  7. بااصول انسان
  8. رسول سے تعلق
  9. اوَّلیات، تفردات
  10. نبی منتظَر
  11. عیب خوانی، قصیدہ خوانی
  12. تزئین ِشیطان
  13. پیرویٔ اسلام، تنفیذِ اسلام
  14. دجال کون
  15. اسلامی جہاد
  16. تعلیم، قدیم اور جدید
  17. اسپرٹ آف انکوائری
  18. دین کی عصری تفہیم
  19. ایک واقعہ
  20. عورت کا مقام
  21. فیس بک ایک اسٹڈی کلب
  22. مواقع اویل کرنا
  23. مسائل نہیں
  24. شکایت نہیں
  25. سازش کا مسئلہ
  26. ضمیر، ایگو
  27. ایک سینئر سیٹیزن کی زبانی
  28. خبرنامہ اسلامی مرکز- 273

ہوم اسکول

حیدرآباد کی ایک فیملی کا واقعہ ہے۔وہ روایتی معنوں میں ایک مذہبی فیملی تھی۔ مگر ان کے گھر میں مذہب کا چرچا نہیں ہوا کرتا تھا، بلکہ اکثر اوقات ان کے گھر میں شکایت کی باتیں ہوا کرتی تھیں، جیسا کہ بیشتر گھروں میں ہوتا ہے۔ اس کے بعد یہ ہوا کہ ان کو ایک سینئر عالم دین نے مشورہ دیا کہ آپ شکایتی ذہن فوراًختم کردیجیے، اور اپنے گھر کو ہوم اسکول بنا لیجیے۔ جہاں پر آپ اپنی بیوی بچوں سمیت انگریزی زبان سیکھیے، اور مثبت طرز فکر کی کتابیں پڑھیے۔

انھوں نے ایسا ہی کیا۔ کچھ دنوں کے بعد ٹیلیفون پر انھوں نے اپنے حالات بتائے۔ انھوں نے کہا کہ اب یہ ہوگیا ہے کہ ہمارے گھر میں ہر ایک کی زندگی بامعنی (meaningful) زندگی ہوگئی ہے۔ گھر کا ہرفرد (والدین اور بچے) اپنا اپنا رول سمجھنے لگا ہے۔ اس سے پہلے ایسا نہیں تھا۔ اس تعلق سے ایک تجربہ یہ ہوا کہ میں نے ایک اردو کتاب کو انگریزی میں سمجھنا چاہا تو اپنے بچوں سے اس کا ترجمہ کروایا۔بچوں نے پوری لگن کے ساتھ اس کا ترجمہ کیا۔ اس طرح مجھے انگریزی میں ترجمہ مل گیا، اور بچوں نے خدا کا منصوبۂ تخلیق سمجھ لیا۔ میری بیوی کہتی ہے کہ میری نظر میں کہیں ایسا نہیں ہے کہ گھر کے بچے بھی اپنے رول کو سمجھیں۔ والدین کو ہمیشہ یہ شکایت رہتی ہے کہ بچے ان کی بات نہیں مانتے ۔ مگر اس نئی شروعات سے بچوں میں ایک نیا رجحان دیکھنے کو ملا ہے، اپنے رول کو سمجھنے کا رجحان۔original + quote

اب ان کے گھر میں منفی باتوں اور شکایتی باتوں کا ماحول ختم ہو گیا ہے۔ اس کے بجائے مثبت موضوعات اور خدا کی معرفت کا چرچا ہونے لگا ہے۔ اس طرح ان کے گھر کا ماحول بدل گیا۔ بچوں نے نئے ماحول میں اپنے آپ کو ایڈجسٹ کرلیا۔ اس طرح ان لوگوں کی معلومات میں اضافہ ہوا، اور نفسیاتی طور پر تعمیری سوچ ان کے اندر آئی۔ یہ اپنی حقیقت کے اعتبار سے قرآن کی اِس آیت کی توسیعی تطبیق ہے:وَاجْعَلُوا بُیُوتَکُمْ قِبْلَةً وَأَقِیمُوا الصَّلَاةَ(10:87)۔ یعنی اور اپنے ان گھروں کو قبلہ بناؤ اور نماز قائم کرو۔original + quote