Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
روحانی ترقی
اسلام کا اصل نشانہ روحانی ترقی ہے۔انسان کی روحانیت جاگے، انسان کے اندر چھپی ہوئی ربانیت بیدار ہو، یہ اسلام کا اصل مقصود ہے۔ قرآن میں اس کو تطہیر اور تزکیہ (التوبة، 9:103) کہاگیا ہے۔original + quote
اصل یہ ہے کہ ہر انسان پیدائش سے فطرتِ صحیح لے کر پیداہوتا ہے۔ اس اعتبار سے ہر انسان اپنی ابتدائی شخصیت کے اعتبار سے پاک صاف ہی ہوتاہے۔ مگر دنیا میں زندگی گزارتے ہوئے اس پر خارجی غبار چھا جاتےہیں۔ اس خارجی غبار سے پاک کرنا اور اپنے آپ کو دوبارہ اپنی فطری حالت پر لے جانا، یہی تطہیر اور تزکیہ ہے۔تطہیر اور تزکیہ کا یہ عمل آدمی کو خود کرنا پڑتاہے۔ ایک چھوٹا بچہ اپنے آپ ہی طاہر اور پاک ہوتاہے۔ مگر اس کی یہ حالت کسی ذاتی کوشش کی بنا پر نہیں ہوتی، بلکہ فطرت کی تخلیق کی بناپر ہوتی ہے۔ بڑا ہونے کے بعد جب آدمی اپنے آپ کو روحانی اعتبار سے طاہر اور پاک صاف بناتا ہے تو یہ اس کا اپنا عمل ہوتا ہے۔ یہ شعوری طورپر خود اپنے ارادہ اور اپنی کوشش سے اپنے آپ کو روحانی ترقی کے درجہ تک پہنچانا ہے۔ یہی خود حاصل کردہ روحانی ترقی وہ اصل چیز ہے جو اسلام میں مطلوب ہے۔ اسی کو قرآن میں قلب سلیم کہا گیاہے (الشعراء، 26:89)۔original + quote
حدیث میں ہے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کرتے ہوئے کہا: اللَّہُمَّ اجْعَلْ فِی قَلْبِی نُورًا(صحیح البخاری، حدیث نمبر6316)۔ یعنی اے اللہ، میرے دل میں نور ڈال دے۔ اسی طرح آپ نے ایک شخص کے بارےمیںیہ دعا کی: اللَّہُمَّ اغْفِرْ ذَنْبَہُ وَطَہِّرْ قَلْبَہُ(مسند احمد، حدیث نمبر 22211)۔یعنی اے اللہ، اس کے گناہ کو بخش دے،اور اس کے قلب کو پاک کردے۔ اسی طرح موطا امام مالک میں حضرت لقمان کا ایک قول اس طرح نقل کیاگیا ہے کہ اللہ دل کو حکمت کے نور سے اسی طرح زندہ کرتاہے جس طرح وہ مردہ زمین کو بارش سے زندہ کرتا ہے (إِنَّ اللہَ یُحْیِی الْقُلُوبَ بِنُورِ الْحِکْمَةِ. کَمَا یُحْیِی الْأَرْضَ الْمَیْتَةَ بِوَابِلِ السَّمَاءِ)موطا امام مالک ،اثر نمبر 2117۔original + quote
یہی روحانی ترقی ہے، اور روحانی ترقی ہی اسلام کا اصل مقصود ہے۔ جو آدمی روحانی ترقی سے محروم ہو وہ یقینی طورپر اسلام سے بھی محروم ہوگا۔