Al-Risala October 2019

روحانی ترقی

Al-Risala October 2019 — Maulana Wahiduddin Khan

Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.

Contents (22 chapters)
  1. الرسالہ - October 2019
  2. قرآن کا نزول
  3. تواصی بالحق،تواصی بالصبر
  4. اولاد کے لیے بہتر عطیہ
  5. ایک پروفیسر کا واقعہ
  6. دعوتی سیاحت
  7. جاننے والوں کا نہ جاننا
  8. مبنی بر مواقع پلاننگ
  9. زندہ قوم، زوال یافتہ قوم
  10. حقیقت پسندانہ سوچ
  11. روحانی ترقی
  12. مثبت اثر لینا
  13. مینج کرنا سیکھیے
  14. رحمت، سیف
  15. بین اقوامی رواج
  16. پیغمبرانہ ماڈل سے انحراف
  17. کنڈیشنڈ سوچ
  18. احتجاج کوئی پالیسی نہیں
  19. الفاظ، الفاظ، الفاظ
  20. آج کا نوجوان
  21. کامیابی اپنے ہاتھ میں
  22. خبرنامہ اسلامی مرکز- 269

روحانی ترقی

اسلام کا اصل نشانہ روحانی ترقی ہے۔انسان کی روحانیت جاگے، انسان کے اندر چھپی ہوئی ربانیت بیدار ہو، یہ اسلام کا اصل مقصود ہے۔ قرآن میں اس کو تطہیر اور تزکیہ (التوبة، 9:103) کہاگیا ہے۔original + quote

اصل یہ ہے کہ ہر انسان پیدائش سے فطرتِ صحیح لے کر پیداہوتا ہے۔ اس اعتبار سے ہر انسان اپنی ابتدائی شخصیت کے اعتبار سے پاک صاف ہی ہوتاہے۔ مگر دنیا میں زندگی گزارتے ہوئے اس پر خارجی غبار چھا جاتےہیں۔ اس خارجی غبار سے پاک کرنا اور اپنے آپ کو دوبارہ اپنی فطری حالت پر لے جانا، یہی تطہیر اور تزکیہ ہے۔تطہیر اور تزکیہ کا یہ عمل آدمی کو خود کرنا پڑتاہے۔ ایک چھوٹا بچہ اپنے آپ ہی طاہر اور پاک ہوتاہے۔ مگر اس کی یہ حالت کسی ذاتی کوشش کی بنا پر نہیں ہوتی، بلکہ فطرت کی تخلیق کی بناپر ہوتی ہے۔ بڑا ہونے کے بعد جب آدمی اپنے آپ کو روحانی اعتبار سے طاہر اور پاک صاف بناتا ہے تو یہ اس کا اپنا عمل ہوتا ہے۔ یہ شعوری طورپر خود اپنے ارادہ اور اپنی کوشش سے اپنے آپ کو روحانی ترقی کے درجہ تک پہنچانا ہے۔ یہی خود حاصل کردہ روحانی ترقی وہ اصل چیز ہے جو اسلام میں مطلوب ہے۔ اسی کو قرآن میں قلب سلیم کہا گیاہے (الشعراء، 26:89)۔original + quote

حدیث میں ہے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کرتے ہوئے کہا: اللَّہُمَّ اجْعَلْ فِی قَلْبِی نُورًا(صحیح البخاری، حدیث نمبر6316)۔ یعنی اے اللہ، میرے دل میں نور ڈال دے۔ اسی طرح آپ نے ایک شخص کے بارےمیںیہ دعا کی: اللَّہُمَّ اغْفِرْ ذَنْبَہُ وَطَہِّرْ قَلْبَہُ(مسند احمد، حدیث نمبر 22211)۔یعنی اے اللہ، اس کے گناہ کو بخش دے،اور اس کے قلب کو پاک کردے۔ اسی طرح موطا امام مالک میں حضرت لقمان کا ایک قول اس طرح نقل کیاگیا ہے کہ اللہ دل کو حکمت کے نور سے اسی طرح زندہ کرتاہے جس طرح وہ مردہ زمین کو بارش سے زندہ کرتا ہے (إِنَّ اللہَ یُحْیِی الْقُلُوبَ بِنُورِ الْحِکْمَةِ. کَمَا یُحْیِی الْأَرْضَ الْمَیْتَةَ بِوَابِلِ السَّمَاءِ)موطا امام مالک ،اثر نمبر 2117۔original + quote

یہی روحانی ترقی ہے، اور روحانی ترقی ہی اسلام کا اصل مقصود ہے۔ جو آدمی روحانی ترقی سے محروم ہو وہ یقینی طورپر اسلام سے بھی محروم ہوگا۔