Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
جنت کا معاملہ
علامہ ابن القیم کا ایک قول ہے:فإِنَّہُ لَا نَعِیمَ لَہُ وَلَا لَذَّةَ، وَلَا ابْتِہَاجَ، وَلَا کَمَالَ، إِلَّا بِمَعْرِفَةِ اللَّہِ وَمَحَبَّتِہِ، وَالطُّمَأْنِینَةِ بِذِکْرِہِ، وَالْفَرَحِ وَالِابْتِہَاجِ بِقُرْبِہِ، وَالشَّوْقِ إِلَى لِقَائِہِ، فَہَذِہِ جَنَّتُہُ الْعَاجِلَةُ، کَمَا أَنَّہُ لَا نَعِیمَ لَہُ فِی الْآخِرَةِ، وَلَا فَوْزَ إِلَّا بِجِوَارِہِ فِی دَارِ النَّعِیمِ فِی الْجَنَّةِ الْآجِلَةِ، فَلَہُ جَنَّتَانِ لَا یَدْخُلُ الثَّانِیَةَ مِنْہُمَا إِنْ لَمْ یَدْخُلِ الْأُولَى۔وَسَمِعْتُ شَیْخَ الْإِسْلَامِ ابْنَ تَیْمِیَّةَ قَدَّسَ اللَّہُ رُوحَہُ یَقُولُ: إِنَّ فِی الدُّنْیَا جَنَّةً مَنْ لَمْ یَدْخُلْہَا لَمْ یَدْخُلْ جَنَّةَ الْآخِرَةِ(مدارج السالکین،جلد 1، صفحہ 452)۔ میر ا سوال یہ ہے کہ کیا جو لوگ جنۃ العاجلہ ، یعنی دنیا کی جنت کو پائے، اس کے لیے یقینی ہے کہ وہ آخرت کی جنت بھی پائے گا۔(حافظ سید اقبال احمد عمری، عمر آباد، تامل ناڈو)original + quote
میرے نزدیک یہ ایک مشکل سوال ہے۔ اس لیے کہ اگرچہ بظاہر ایک درست بات معلوم ہوتی ہے، لیکن دوسری طرف دیکھا جائے تو اس معاملے کی ایک مختلف تصویر سامنےآتی ہے، اور وہ یہ کہ جنت کے معاملے میں شک کا معاملہ شاید کبھی ختم نہیں ہوگا، جب تک کہ انسان جنت میں عملاً داخل نہ ہوجائے۔ کیوں کہ ایک حدیث ِ رسول ہےکہ تم میں سے کسی کو ہر گز اس کا عمل نجات نہیں دلا سکتا( لَنْ یُنَجِّیَ أَحَدًا مِنْکُمْ عَمَلُہ)۔ لوگوں نے کہا: آپ بھی نہیں، اے خداکے رسول۔ آپ نے کہا: میں بھی نہیں، مگر یہ کہ اللہ نے مجھے اپنی رحمت سے ڈھانک لیا ہے، تو خود کوسیدھے راستے پر رکھو، میانہ روی اختیار کرو، صبح و شام کی عبادت کرو، اور رات کے کچھ حصے میں۔ میانہ روی اختیار کرو، میانہ روی۔ تم مراد کو پہنچ جاؤگے (صحیح البخاری، حدیث نمبر 6463) ۔original + quote
یہ معاملہ ایک بے حد نازک معاملہ ہے، چنانچہ میں نے اپنی ایک کتاب میں اس طرح لکھا ہے: یہ محبت اور خوف کا ایک ایسا مقام ہے، جس میں آدمی جس سے ڈرتا ہے، اسی کی طرف بھاگتا ہے، جس سے چھننے کا خطرہ محسوس کرتا ہے، اسی سے پانے کی بھی امید رکھتا ہے۔ یہ ایک ایسا اضطراب ہے، جو سراپااطمینان ہے، اور ایسا اطمینان ہے، جو سراپا اضطراب ہے۔