Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
آخرت میں بے جگہ
دانش مند آدمی ہمیشہ مستقبل کا انجام دیکھ کر اپنے عمل کا منصوبہ بناتا ہے۔ اس معنی میں ایک فارسی شاعر کا شعر ہے کہ آدمی ایسا کام کیوں کرے، جس کا نتیجہ بعد کو شرمندگی کی صورت میں نکلے:original + quote
کجا کار کند عاقل کہ بعد آید پشیمانی
ایک مرتبہ میری بات ایک کمپنی کے مینیجر سے ہورہی تھی۔ میں نے کہا کہ زندگی میں کامیابی کے لیے محنت سب سے زیادہ ضروری ہے۔ مینیجر نے کہا کہ یہ پرانے زمانے کا اصول ہے۔ موجودہ زمانہ ایک نیا زمانہ ہے۔ موجودہ زمانے میں کامیابی کے لیے آدمی کے اندر پروفیشنل مہارت (professional expertise) ضروری ہے۔ مینیجر کی اس بات کو لے کر میں سوچنے لگا تو مجھے ایک بہت بڑی حقیقت دریافت ہوئی۔ میں نے سوچا کہ موجودہ دنیا میں کچھ چیزیں اہمیت رکھتی ہیں۔ لیکن آخرت کا دور ایک مختلف دور ہوگا۔ جو لوگ آخرت کے دور میں اس طرح داخل ہوں کہ انھوں نے اپنے آپ کو وہاں کے تقاضوں کے مطابق تیار نہ کیا ہو تو وہ وہاں کامل طور پر بے جگہ ہوجائیں گے۔ ان کو آخرت کے دور حیات میں حسرت کے سوا کچھ اور حاصل نہ ہوگا۔
مثلا جو لوگ برتری کی تقریر کرنے کے ماہر ہوں، وہ لوگ آخرت کی دنیا میں بے زبان (speechless) ہوجائیں گے۔ کیوں کہ وہاں صرف ایک ہی زبان کی قیمت ہوگی، اور وہ ہے تواضع (modesty) کی زبان۔جو لوگ غیر خدا کی بڑائی میں جیتے ہوں، وہ آخرت کے دور میں بالکل بے قیمت ہوجائیں گے۔ کیوں کہ آخرت کے دور میں صرف ان لوگوں کو مقام ملے گا، جو خدا کی بڑائی میں جینے والے ہوں۔ جو لوگ نفرت (hate)کے الفاظ بولنے کے ماہر ہوں، وہ آخرت کے دور میں اپنی قیمت کھودیں گے۔ کیوں کہ آخرت میں محبت انسانی کا کلچر ہوگا، نہ کہ نفرت انسانی کا کلچر۔اس فرق کا نتیجہ یہ ہوگا کہ آج کی دنیا میں جو لوگ بڑے دکھائی دیتے ہیں، وہ کل آنے والی دنیا کے دور حیات میں آخری حد تک چھوٹے دکھا ئی دینے لگیں گے۔