Al-Risala October 2016

تدبر کلچر

Al-Risala October 2016 — Maulana Wahiduddin Khan

Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.

Contents (18 chapters)
  1. الرسالہ - October 2016
  2. تدبر کلچر
  3. قرآن کا موضوع
  4. دو قسم کی آزمائشیں
  5. پیغمبر اور اس کی تاریخ
  6. جنگ کے تین دور
  7. اسلام: زیرو وائلنس کلچر
  8. ایکسپٹنس آف ریالٹی
  9. فیصلہ کی بنیاد
  10. اسلام اور محبت انسانی
  11. اسلام کا رول ماڈل
  12. پیرویٔ اسلام، تنفیذِ اسلام
  13. ترکِ رُجز
  14. دعوت، ڈیبیٹ
  15. آخرت میں بے جگہ
  16. زندگی کے تجربات
  17. توسط اور اعتدال
  18. خبر نامہ اسلامی مرکز— 245

تدبر کلچر

قرآن کی سورہ نمبر 38 کی آیت (نمبر29) ہے: کِتَابٌ أَنْزَلْنَاہُ إِلَیْکَ مُبَارَکٌ لِیَدَّبَّرُوا آیَاتِہِ وَلِیَتَذَکَّرَ أُولُو الْأَلْبَابِ۔یعنی یہ ایک بابرکت کتاب ہے جو ہم نے تمھاری طرف اتاری ہے، تاکہ لوگ اس کی آیتوں پر غور کریں اور تاکہ عقل والے اس سے نصیحت حاصل کریں ۔original + quote

قرآن، کتابِ تدبر ہے۔ قرآن کی بیشتر آیتوں میں یہ بات کہی گئی ہے کہ خدا کی کتاب میں تدبر کرو، زمین و آسمان میں تدبر کرو، کائنات میں پھیلی ہوئی آیتوں (signs) میں تدبر کرو۔ جو لوگ ایسا نہ کریں، ان کے بارے میں قرآن میں سخت تنبیہہ آئی ہے،مثلا فرمایا:لَہُمْ قُلُوبٌ لَا یَفْقَہُونَ بِہَا وَلَہُمْ أَعْیُنٌ لَا یُبْصِرُونَ بِہَا وَلَہُمْ آذَانٌ لَا یَسْمَعُونَ بِہَا أُولَئِکَ کَالْأَنْعَامِ بَلْ ہُمْ أَضَلُّ أُولَئِکَ ہُمُ الْغَافِلُونَ (7:179) یعنی ان کے دل ہیں جن سے وہ سمجھتے نہیں ، ان کی آنکھیں ہیں جن سے وہ دیکھتے نہیں ، ان کے کان ہیں جن سے وہ سنتے نہیں ۔ وہ ایسے ہیں جیسے چوپائے، بلکہ ان سے بھی زیادہ بےراہ۔ یہی لوگ ہیں غافل۔original + quote

تدبر(contemplation) کیا ہے۔ اصل یہ ہے کہ خدا کی کتاب میں اور خدا کی تخلیق میں حکمت کے پہلو چھپے ہوئے ہیں، غور کرکے حکمت کے ان پہلوؤںکو دریافت کرنا، اور اس کے مطابق اپنی شخصیت کی تعمیر کرنا، یہ تدبر کی تعلیم کا خلاصہ ہے۔تدبر اور تفکر کی اہمیت ا تنی زیادہ ہے کہ اس کے بغیر آدمی، حیوان کی مانند بن جاتا ہے۔انسان وہی ہے جس کے اندر تدبر کی صفت موجود ہو۔

تدبر کرکے معانی کی دریافت کرناکیا ہے۔ اس کوقرآن میں ایک مادی تمثیل کی صورت میں بیان کیا گیا ہے۔ تمثیل یہ ہے:وَأَوْحَى رَبُّکَ إِلَى النَّحْلِ أَنِ اتَّخِذِی مِنَ الْجِبَالِ بُیُوتًا وَمِنَ الشَّجَرِ وَمِمَّا یَعْرِشُونَ۔ ثُمَّ کُلِی مِنْ کُلِّ الثَّمَرَاتِ فَاسْلُکِی سُبُلَ رَبِّکِ ذُلُلًا یَخْرُجُ مِنْ بُطُونِہَا شَرَابٌ مُخْتَلِفٌ أَلْوَانُہُ فِیہِ شِفَاءٌ لِلنَّاسِ إِنَّ فِی ذَلِکَ لَآیَةً لِقَوْمٍ یَتَفَکَّرُونَ (16:68-69)یعنی اور تمھارے رب نے شہد کی مکھی پر وحی کیا کہ پہاڑوں اور درختوں اور جہاں ٹٹیاں باندھتے ہیں ان میں گھر بنا۔ پھر ہر قسم کے پھلوں کا رس چوس اور اپنے رب کی ہموار کی ہوئی راہوں پر چل۔ اس کے پیٹ سے پینے کی چیز نکلتی ہے، اس کے رنگ مختلف ہیں ، اس میں لوگوں کے لئے شفا ہے۔ بےشک اس میں نشانی ہے ان لوگوں کے لئے جو غور کرتے ہیں ۔original + quote

قرآن کی اس آیت میں ایک مادی مثال کی صورت میں تدبر کی حقیقت کو بتایا گیا ہے۔شہد کی مکھی کا کام یہ ہے کہ وہ پھولوں سے اس کا نِکٹر، اکسٹریکٹ (extract) کرے،اور پھر ان کو جمع کرکے شہد بنائے۔ شہد کی مکھی جو اپنے چھتے سے نکلتی ہے تو اس کو بظاہر غیر شہد کےطویل جنگل کے درمیان لمبا سفر کرنا پڑتا ہے۔وہ نہایت ہنر مندی کے ساتھ ایسا کرتی ہے کہ دوسری تمام چیزوں کو نظر انداز کرکے پھول کے پاس پہنچتی ہے۔ پھول کے اندر بہت کم مقدار میں ایک میٹھا رس موجود ہوتا ہے، جس کو نِکٹر (nectar) کہتے ہیں۔ وہ ہر پھول سے صرف اس کے نِکٹر کو لیتی ہے، اور اس کے بعد اپنے چھتے کی طرف چلی جاتی ہے۔original + quote

یہی تدبر ہے۔ انسان کو جس دنیا میں جینا پڑتا ہے، وہ گویا ایک عالمی جنگل ہے، اس جنگل میں ہر جگہ حکمت و معرفت کا نِکٹر (nectar) چھپا ہوا ہے، تدبر کی صفت آدمی کو اس قابل بناتی ہے کہ وہ دنیا کے جنگل میں ڈسٹریکٹ (distract) نہ ہو۔ وہ غور و فکر کرکے حکمت و معرفت کے چھپے ہوئے نکٹر کو دریافت کرے، اور اس کے ذریعے اپنے آپ کو وہ انسان بنائے، جس کو صاحبِ معرفت انسان (realized person) کہا جاتا ہے۔جو آدمی تدبر کی اس صلاحیت سے خالی ہو، اس کے لئے یہ دنیا جھاڑ جھنکارکی مانند ہو گی۔تدبر کی صفت انسان کو انسان بناتی ہے، اور تدبر سے محرومی انسان کو حیوان بنادیتی ہے۔موجودہ زمانے کا وہ ظاہرہ جس کو جدید تہذیب (modern civilization) کہا جاتا ہے۔ اس تہذیب کے بے شمار اجزا ہیں۔بظاہر یہ بھی ایک وسیع جنگل کی مانند ہے۔ جن لوگوں کے اندر تدبر کی صلاحیت نہ ہو، وہ اس تہذیب کو ایک جنگل کی صورت میں دیکھیں گے۔ اور جن لوگوں کے اندر حقیقی معنوں میں تدبر کی صلاحیت ہو،وہ شہد کی مکھی کی مانندتہذیب کے اس جنگل میں حکمت کا نِکٹر دریافت کرلیں گے، اور پھران کو دکھائی دے گا کہ جدید تہذیب اپنی حقیقت کے اعتبار سے خالق کی ایک نعمت ہے، وہ دینِ حق کے لئےایک عظیم مؤید (supporter) کی حیثیت رکھتی ہے۔

جن لوگوں کے اندر تدبر کی صلاحیت نہ ہو، ان کو دکھائی دے گا کہ یہ تہذیب برائی کا ایک جنگل ہے۔ اس میں الحاد (atheism)ہے، اس میں برہنگی (nudity) ہے، اس میں انارکی (anarchy)ہے، اس میں کرپشن (corruption) ہے، اس میں اکسپلائٹیشن (exploitation) ہے، اس میں لادینی کلچر ہے، وغیرہ۔ یہ کہہ کر وہ اس تہذیب کے دشمن ہو جائیں گے۔ لیکن جن لوگوں کا ذہن بیدار ہو، جن کو تدبر کی صلاحیت ملی ہو، وہ غور و فکر کرکے اس تہذیب میں چھپے ہوئےحکمت و معرفت کے نِکٹر کو دریافت کریں گے۔ اور پھر ان کو نظر آئے گا کہ یہ تہذیب ایک خدائی نصرت ہے، جس کے ظہور کے لئے اللہ نے مغرب کے سیکولر لوگوں کو استعمال کیا ۔unverified

اصحابِ تدبر کو نظر آئے گا کہ اس تہذیب کے ذریعے سائنس وجود میں آئی، اور سائنسی دریافتوں کی بنا پر خدا کی کتاب کے بہت سے اشارے قابلِ فہم بن گئے، اس تہذیب کے ذریعے یہ ہوا کہ فکری آزادی انسان کا ناقابلِ تنسیخ حق (right) قرار پایا، اس تہذیب کے ذریعے پہلی بار پرنٹنگ پریس اور کمیونی کیشن کا دور آیا، جس نے دین کی تبلیغ کے لئے عالمی امکانات کھول دیے، اس تہذیب کے ذریعے پہلی بار تمام قوموں نے متفقہ طور پر امن (peace) کو ایک یونیورسل اصول (universal norm) کی حیثیت دے دی،اس تہذیب کی وجہ سے پہلی بار دنیا میں کھلا پن (openness) کا دور آیا جس نے ہمیشہ کے لئے مذہبی جبر (religious persecution ) کا خاتمہ کردیا۔

تدبر دین کا خلاصہ ہے، تدبر حکمت کے خزانوں کو کھولتا ہے، تدبر انسان کے ذہنی ارتقا (intellectual development) کا سب سے بڑا ذریعہ ہے۔ تدبر کے ذریعے آدمی اس قابل بنتا ہے کہ وہ جھاڑ جھنکار کے جنگل کو باغ کی صورت میں دیکھے۔ وہ منفی واقعات کو مثبت تجربے میں تبدیل کرسکے، وہ غیب میں چھپی ہوئی معرفت کو دریافت کرلے۔ تدبر انسان کی سب سے بڑی خصوصیت ہے۔ تدبر کے ساتھ انسان، انسان ہے، اور تدبر کے بغیر وہ انسان کی صورت میں صرف حیوان ۔