Al-Risala October 2012

کامیابی کا راز

Al-Risala October 2012 — Maulana Wahiduddin Khan

Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.

Contents (28 chapters)
  1. الرسالہ - October 2012
  2. ذہنی ارتقا کی اہمیت
  3. صداقت کی پہچان
  4. عقل کا مسئلہ
  5. گاڈ پارٹکل کیا ہے
  6. مثبت شخصیت، منفی شخصیت
  7. حیوانی باربرداری، مشینی باربرداری
  8. قرآن کی تلاوت، قرآن کی دعوت
  9. ضمیر کی آزادی
  10. اہلِ ایمان کا غلبہ
  11. حق کو باطل ثابت کرنا
  12. ایک عمومی فتنہ
  13. موت کی یاد: ایک صحت مند عمل
  14. سماجی قبولیت یا نفاذِ قانون
  15. یہ بے خبرانسان
  16. ایک عبرت ناک واقعہ
  17. شیطان کی سنت
  18. ناقابلِ معافی جُرم
  19. اسلام کے نام پر غیر اسلام
  20. جائز فضول خرچی
  21. مواقع کی بربادی
  22. اِحیاءِ سنت
  23. بھولا ہوا سبق
  24. کامیابی کا راز
  25. سُستی کی شکایت
  26. حقیقت پسندی
  27. سوال
  28. خبرنامہ اسلامی مرکز 218—

کامیابی کا راز

7 مئی 2012 کا واقعہ ہے- میں ایک بیرونی سفر سے واپس آیا- دہلی ائرپورٹ پر ایک نوجوان نے مجھ کو وھیل چیر پر بٹھا کر باہر پہنچایا- جب ہم لوگ ائرپورٹ کے باہر گیٹ پر پہنچے تو میرے ایک ساتھی نے اپنی جیب سے ایک نوٹ نکالا اور اُس نوجوان کو دینے لگے- نوجوان نے نوٹ لینے سے انکار کیا- اس نے کہا کہ مجھ کو تو آپ کا آشیرواد چاہئے- میرا امتحان (exam) ہونے والا ہے، میں اس میں پاس ہوجاؤں- میں نے اُس کے سرپر ہاتھ رکھا اوراس کے لئے دعا کی- وہ خوش ہو کر واپس چلا گیا-

اِس چھوٹے سے واقعے میں بہت بڑا سبق ہے- حقیقت یہ ہے کہ کسی دوسرےکا دیا ہوا مال، خواہ وہ کم ہو یا زیادہ، کسی کو کامیاب نہیں بناتا- کامیابی کا راز خود اپنی محنت ہے- یہی بات ایک حدیث رسول میں اِن الفاظ میں آئی ہے: ما أکل أحدطعاماً قطُّ خیراً مِن أن یأکل من عمل یدہ (صحیح البخاری، رقم الحدیث:1941) یعنی کسی آدمی نے کبھی اِس سے اچھا کھانا نہیں کھایا کہ وہ اپنے ہاتھ کی کمائی کھائے-original + quote

عطیہ کے طورپر ملا ہوا مال آدمی کی ایک ضرورت کو پورا کرسکتا ہے، لیکن اِس طرح کا مال آدمی کی شخصیت کے ارتقا کا ذریعہ نہیں بن سکتا- ایسامال آدمی کے لیے ایزی منی (easy money) کی حیثیت رکھتا ہے، اور ایزی منی کبھی کسی کے لیے ترقی کا ذریعہ نہیں بنی-

اپنی محنت سے کمایا ہوا مال آدمی کے اندر اعلی اخلاقی صفات پیدا کرتا ہے- مثلاً خود اعتمادی، عملی تجربہ، ذہنی ارتقا، ہارڈ ورک (hardwork)اور سنجیدگی، وغیرہ- مزید یہ کہ آدمی جب اپنی محنت سے کھاتا ہے تو وہ مال کی اہمیت کو سمجھتا ہے- اس کی وجہ سے اس کے اندر سادگی کا مزاج پیدا ہوتا ہے- وہ اسراف سے بچ جاتا ہے- اس کے اندر یہ ذہن بنتا ہے کہ جس مال کو میں نے محنت کرکے کمایا ہے، اُس مال کو مجھے صرف مفید کام میں خرچ کرنا چاہیے- اِسی طرح وہ اپنے ذاتی تجربات کی بنا پر دوسروںکے دکھ درد کو زیادہ بہتر طورپر سمجھنے کے قابل ہوجاتا ہے، وغیرہ-