Al-Risala October 2012

بھولا ہوا سبق

Al-Risala October 2012 — Maulana Wahiduddin Khan

Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.

Contents (28 chapters)
  1. الرسالہ - October 2012
  2. ذہنی ارتقا کی اہمیت
  3. صداقت کی پہچان
  4. عقل کا مسئلہ
  5. گاڈ پارٹکل کیا ہے
  6. مثبت شخصیت، منفی شخصیت
  7. حیوانی باربرداری، مشینی باربرداری
  8. قرآن کی تلاوت، قرآن کی دعوت
  9. ضمیر کی آزادی
  10. اہلِ ایمان کا غلبہ
  11. حق کو باطل ثابت کرنا
  12. ایک عمومی فتنہ
  13. موت کی یاد: ایک صحت مند عمل
  14. سماجی قبولیت یا نفاذِ قانون
  15. یہ بے خبرانسان
  16. ایک عبرت ناک واقعہ
  17. شیطان کی سنت
  18. ناقابلِ معافی جُرم
  19. اسلام کے نام پر غیر اسلام
  20. جائز فضول خرچی
  21. مواقع کی بربادی
  22. اِحیاءِ سنت
  23. بھولا ہوا سبق
  24. کامیابی کا راز
  25. سُستی کی شکایت
  26. حقیقت پسندی
  27. سوال
  28. خبرنامہ اسلامی مرکز 218—

بھولا ہوا سبق

اموی خلیفہ سلیمان بن عبدالملک (وفات: 717 ء) کے بارے میں کہاجاتا ہے کہ خلیفہ بنائے جانے سے پہلے اپنا زیادہ وقت دمشق کی مسجد میں گزارتا تھا اور قرآن پڑھتا رہتاتھا۔ چناں چہ اس کو فاختۂ مسجد(حمامۃ المسجد) کہاجاتا تھا۔ جس دن اس کے پیش رو خلیفہ کی وفات ہوئی، اُس دن بھی وہ حسب معمول مسجد میں تھا اور وہاں قرآن پڑھ رہا تھا۔ اُس وقت سلطنت کا ایک ذمہ دار آدمی مسجد میں سلیمان بن عبد الملک کے پاس آیا اور اس کو یہ خبر دی کہ آج سے آپ خلیفہ ہیں۔ اس کے بعد فوراً سلیمان بن عبد الملک اٹھا اور قرآن کو مسجد کے طاق پر رکھا اور کہا: ہذا فراق بینی وبینک (آج سے میرے اور تمھارے درمیان جدائی ہے)۔unverified

عجیب بات ہے کہ یہ انفرادی واقعہ بعد کو پوری امتِ مسلمہ کے لیے ایک عمومی واقعہ بن گیا۔ رسول اور اصحابِ رسول کے زمانے میں اہلِ ایمان کا سب سے بڑا مشن دعوت الی اللہ تھا۔

بعد کو جب مسلمانوں کی سلطنت قائم ہوگئی اور ان کا ایمپائر بن گیا تو تقریباً پوری امت نے دعوت الی اللہ کو خیر باد کہہ دیا اور سیاسی اقتدار کو انھوںنے اپنی زندگی کا واحد کنسرن (supreme concern) بنا لیا۔

تقریباً ہزار سال بعد اٹھارھویں صدی کے آخر میں، مسلمانوں کا سیاسی ایمپائر عملاً ختم ہوگیا، مگر دوبارہ وہی حال ہوا کہ مسلمان دعوت الی اللہ کو اپنا مشن نہ بنا سکے۔ اب اُن کا واحد کنسرن یہ بن گیا کہ مفروضہ دشمنوں یا مفروضہ غاصبوں سے لڑ کر دوبارہ وہ اپنے سیاسی عہد کو واپس لائیں۔

یہ مسلم تاریخ کا خلاصہ ہے۔ مسلم تاریخ اب اکیسویں صدی میں داخل ہوچکی ہے، لیکن اب بھی یہی حال ہے کہ دعوت الی اللہ مسلمانوں یا مسلم رہنماؤں کا مشن نہیں۔ یہی بلاشبہ موجودہ زمانے کے مسلمانوں کا سب سے بڑا مسئلہ ہے۔ اُن کو دوبارہ دعوت الی اللہ کو اپنا مشن بنانا ہوگا۔ اگر انھوں نے ایسا نہیں کیا تو اُن کے لیے دنیا کی کامیابی بھی مشتبہ ہے اور آخرت کی کامیابی بھی مشتبہ۔