Al-Risala October 2012

اسلام کے نام پر غیر اسلام

Al-Risala October 2012 — Maulana Wahiduddin Khan

Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.

Contents (28 chapters)
  1. الرسالہ - October 2012
  2. ذہنی ارتقا کی اہمیت
  3. صداقت کی پہچان
  4. عقل کا مسئلہ
  5. گاڈ پارٹکل کیا ہے
  6. مثبت شخصیت، منفی شخصیت
  7. حیوانی باربرداری، مشینی باربرداری
  8. قرآن کی تلاوت، قرآن کی دعوت
  9. ضمیر کی آزادی
  10. اہلِ ایمان کا غلبہ
  11. حق کو باطل ثابت کرنا
  12. ایک عمومی فتنہ
  13. موت کی یاد: ایک صحت مند عمل
  14. سماجی قبولیت یا نفاذِ قانون
  15. یہ بے خبرانسان
  16. ایک عبرت ناک واقعہ
  17. شیطان کی سنت
  18. ناقابلِ معافی جُرم
  19. اسلام کے نام پر غیر اسلام
  20. جائز فضول خرچی
  21. مواقع کی بربادی
  22. اِحیاءِ سنت
  23. بھولا ہوا سبق
  24. کامیابی کا راز
  25. سُستی کی شکایت
  26. حقیقت پسندی
  27. سوال
  28. خبرنامہ اسلامی مرکز 218—

اسلام کے نام پر غیر اسلام

مارچ 2012 کا واقعہ ہے۔ ایک انتہا پسند ہندو لیڈر انڈیا کے ایک شہر میں پہنچے۔ وہاں ان کی تقریر ہوئی۔ انھوں نے اپنی تقریر میں کہا کہ مکہ کاکعبہ اصل میں بتوں کا مندر تھا۔ مسلمانوں نے قبضہ کرکے اُس کو اپنی مسجد بنا لیا۔ اِس تقریر پر وہاں کے مسلمان مشتعل ہوگئے۔ انھوں نے وہاں جلوس نکالا، پُر جوش نعرے لگائے۔ اِس کے نتیجے میں وہاں ہندو مسلم فساد ہوگیا۔ مقامی لوگوں کو جان ومال کا کافی نقصان برداشت کرنا پڑا۔

مسلمانوں کا یہ رد عمل سرتاسر ایک قومی رد عمل تھا، اُس کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں۔ اِن مسلمانوں کے اندر اگر صحیح ذہن ہوتا تو وہ سوچتے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب 610 عیسوی میں توحید کا مشن شروع کیا تو اُس وقت عملاً ایسا تھا کہ کعبہ میں کئی سو کی تعداد میں بت رکھے ہوئے تھے، مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اِس پر مشتعل نہیں ہوئے، بلکہ پُرامن انداز میں آپ لوگوں کو توحید کی دعوت دیتے رہے۔ ایسی حالت میں مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ اِس طرح کی بے بنیاد تقریر پر مشتعل نہ ہوں، بلکہ اُسے نظر انداز کردیں، وہ اِس واقعہ کو ایک موقع (opportunity) کے طورپر استعمال کرتے ہوئے لوگوں کو اسلام کا پیغام پہنچائیں، جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا۔

یہ ایک مثال ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ موجودہ مسلمان کس طرح پیغمبر کے نام پر غیرپیغمبرانہ روش کا ارتکاب کررہے ہیں۔ وہ اسلام کے نام پر ایسی تحریکیں چلاتے ہیں جن کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں، ایسے مسلمانوں کو جاننا چاہیے کہ معاملہ اِسی دنیا میں ختم نہیں ہوجائے گا۔ آخرت میں اُن سے سوال کیا جائے گا کہ تم نے ایسا دین کہاں سے ایجاد کرلیا جس کو اللہ نے اپنے پیغمبر کے ذریعے بھیجا نہیں تھا —اِس طرح کی غوغائی سیاست بلا شبہہ اسلام کے خلاف ہے، اُس کوکبھی خدا کی نصرت ملنے والی نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ موجودہ زمانے میں اِس قسم کے ہنگامے ہر جگہ صرف مسلمانوں کے حالات کو بگاڑنے کا سبب بن رہے ہیں، نہ کہ حالات کو درست کرنے کاسبب۔