Al-Risala November 2020

ڈارون کا اعتراف

Al-Risala November 2020 — Maulana Wahiduddin Khan

Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.

Contents (32 chapters)
  1. الرسالہ - November 2020
  2. برتر ہستی کا تصور
  3. اللہ کی رؤیت
  4. عقیدۂ خدا اور سائنس
  5. لامحدود کائنات، انسانی محدودیت
  6. خدا کا عقیدہ
  7. حقیقت کی تلاش
  8. فطرت کی پکار
  9. ڈارون کا اعتراف
  10. برتر ہستی کی تلاش
  11. ذہین وجود
  12. خلائی تہذیب
  13. ماورائے انسان ذہانت
  14. ایلین لائف
  15. کون کنٹرول کرے
  16. کویزار
  17. زیادہ عجیب، کمتر عجیب
  18. سائنس اور خدا
  19. حکمت ِ تخلیق
  20. علم کا سفر
  21. سائنس توحید کی طرف
  22. دریافت کی اہمیت
  23. بامعنی کائنات
  24. سب سے بڑا المیہ
  25. معبود کی طلب
  26. ایک داعی کی وفات
  27. خدا ترس شخصیت
  28. ایگو فری شخصیت
  29. جواہر لال نہرو کا واقعہ
  30. دعوتی عمل کی منصوبہ بندی
  31. نامعلوم دنیا کا سفر
  32. دعوت الی اللہ

ڈارون کا اعتراف

چارلس ڈارون (1809-1882) نے یہ نظریہ پیش کیا کہ انسان دوسرے حیوانات ہی کی ترقی یافتہ نسل ہے۔ یہ ایک بے حد عجیب نظریہ تھا۔ کیونکہ انسان انتہائی غیر معمولی حد تک دوسرے جانوروں سے مختلف ہے۔ پھر کیسے یہ ممکن ہوا کہ امیبا کا دماغ ترقی کرتے کرتے انسان کا دماغ بن جائے۔ یہ نظریہ اتنا بعید از قیاس تھا کہ ڈارون خود اپنے اس نظریے کے بارےمیں حیرانی میں مبتلا ہوگیا۔ اس نے اپنی ڈائری (Darwin's Diary, April 1881) میں لکھاہے:original + quote

Can the mind of man, which has, as I fully believe, been developed from a mind as low as that possessed by the lowest animal, be trusted when it draws such a grand conclusion?...I cannot pretend to throw the least light on such abstruse problems.

(www.pbs.org/wgbh/evolution/darwin/diary/1881.html. accessed on 01.04.2020)other source

انسان کا دماغ جس کے متعلق میرا کامل عقیدہ ہے کہ وہ اس معمولی دماغ سے ترقی کرکے بناہے جو انتہائی ادنیٰ حیوانات کو حاصل ہوتا ہے۔ کیا ایسے دماغ پر اس وقت بھروسہ کیا جاسکتا ہے، جب کہ وہ اتنے بڑے بڑے نتائج کررہا ہو۔ میں یہ دکھانے کی جھوٹی کوشش نہیں کروں گا کہ میں اس قسم کے مشکل مسائل پر کچھ بھی روشنی ڈال سکتا ہوں۔

حقیقت یہ ہے کہ زندگی اور کائنات کی تشریح کا مسئلہ ناقابلِ قیاس حد تک بڑا مسئلہ ہے۔ کوئی انسان اپنی محدود عمر اور محدود صلاحیت کے ساتھ اس کی تشریح کا اہل نہیں ہوسکتا۔ یہی وجہ ہے کہ جو شخص بھی اس کی تشریح کرنے بیٹھتا ہے وہ ہمیشہ احساسِ عجز کا شکار رہتاہے۔ خواہ اپنی زبان سے وہ اس کا اقرار کرے یا نہ کرے۔یہ واقعہ اس کا ثبوت ہے کہ زندگی اور کائنات کی حقیقت بتانے کے لیے انسانی دماغ سے برتر ایک دماغ درکار ہے۔ یہ کام صرف خدا کرسکتا ہے، اور خدا نے پیغمبروں کے واسطے سے اس کو انجام دیا ہے۔ یہ ایک قرینہ ہے جو پیغمبرانہ ہدایت کی ضرورت اور واقعیت کو ثابت کرتاہے۔