Al-Risala November 2018

حدیث ِ جبریل کا پیغام

Al-Risala November 2018 — Maulana Wahiduddin Khan

Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.

Contents (35 chapters)
  1. الرسالہ - November 2018
  2. اسلام کا رول
  3. ایک تقابل
  4. بڑھاپے کا دور
  5. دین اور تاریخ
  6. خدا موجود ہے
  7. سائنسی تحقیقات
  8. اولاد ایک فتنہ
  9. کنڈیشننگ کا مسئلہ
  10. دورِ امن کی طرف
  11. دورِ زوال کی ایک علامت
  12. دعوت کا اصول
  13. تزکیہ اور دعوت
  14. درسِ قرآن
  15. کفالت کا انتظام
  16. دعا، شعور دعا
  17. حدیث ِ جبریل کا پیغام
  18. دین کے تقاضے
  19. خدا کی پہچان
  20. عصری اسلوب، غیر عصری اسلوب
  21. ما کان و ما یکون
  22. مشرق سے مغرب کی طرف
  23. مذہبی انتہا پسندی
  24. ظالم اور مظلوم کا معاملہ
  25. باقی ماندہ پر پلاننگ
  26. دو قسم کے مسئلے
  27. صحیح طرزِ فکر
  28. سلیقہ ٔ حیات
  29. ہر انسان کا معاملہ
  30. منصوبہ بند کام
  31. چپ کا راز
  32. انٹلکچول پارٹنر
  33. ترقی کا سفر
  34. آزادی کا دور
  35. ایک نصیحت

حدیث ِ جبریل کا پیغام

حدیث کی کتابوں میں ایک حدیث، حدیث جبریل کے نام سے مشہور ہے۔ ،معروف سعودی عالم ابن عثیمین نے تحقیق کر کے بتایا ہے کہ حدیث جبریل کا واقعہ مدینہ میں پیش آیا تھا۔ واقعات بتاتے ہیں کہ وہ زمانہ اہل اسلام کے لیے ہر اعتبار سے مظلومیت کا زمانہ تھا۔ جن چیزوں کو آج مظلومیت کا نام دیا جاتا ہے، وہ سب وہاں پورے معنوں میں موجود تھے، مگر آپ حدیث رسول کےمطابق دیکھیے تو اس میں مظلومیت کا کوئی ادنیٰ اشارہ آپ کو نہیں ملے گا۔original + quote

اس حدیث میں اسلام، ایمان، احسان، اور علامات قیامت کا ذکر ہے، لیکن مظلومیت کا اشارے کے درجے میں بھی کوئی ذکر نہیں۔ حالاں کہ حدیث میں رسول اللہ کی زبان سےیہ الفاظ ہیں : ذَاکَ جِبْرِیلُ أَتَاکُمْ یُعَلِّمُکُمْ أَمْرَ دِینِکُمْ(سنن الترمذی، حدیث نمبر2610)۔ یعنی وہ جبریل تھے، جوآئےتاکہ تم کو تمھارے دین کی تعلیم دیں ۔original + quote

اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ مظلومیت کی بات امر ِدین میں سے نہیں ہے۔ اس کا تعلق قومی شکایت سے ہوسکتا ہے، لیکن خدا اور رسول کے دین سے اس کا کوئی تعلق نہیں۔ موجودہ زمانے میں مفروضہ مظلومیت کے حوالے سے مسلمان اپنے مفروضہ ظالموں کے خلاف جو بددعائیں کرتے ہیں، ان کا بھی دین سے کوئی تعلق نہیں ہے۔original + quote

اسی طرح موجودہ زمانے کے مسلمانوں کا حال دیکھتے ہوئے یہ کہا جاسکتا ہے کہ براہ راست طور پر جبریل کی شرکت سے جو اجتماع مدینہ میں ہوا تھا، اس میں سب سے زیادہ اہمیت کے ساتھ خلافت کے موضوع پر تذکرہ ہونا چاہیے تھا۔ لیکن آپ حدیث جبریل کو بار بار پڑھیے، آپ حیرت انگیز طور پر یہ دیکھیں گے کہ اس حدیث میں اشارہ اور کنایہ کے انداز میں بھی خلافت کے مسئلے کا کوئی ذکر نہیں۔ اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ خلافت کا معاملہ مسلمانوں کی اپنی ایجاد ہے، نہ کہ دینِ اسلام کا کوئی حکم یا تقاضا۔