Al-Risala November 2017

سگریٹ نوشی کی عادت

Al-Risala November 2017 — Maulana Wahiduddin Khan

Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.

Contents (39 chapters)
  1. الرسالہ - November 2017
  2. سفرنامہ کلچر
  3. ساری زمین مسجد
  4. امن کا معاملہ
  5. اللہ کی معرفت
  6. اللہ کی توفیق
  7. دوڑو جنت کی طرف
  8. داعی کی اسپرٹ
  9. رُجز سے اعراض
  10. سجدہ دورِ آخر میں
  11. دل کی بیماری
  12. دین ایک ، شریعت مختلف
  13. اکڑ کی چال
  14. مومن کی صفت
  15. شتم رسول
  16. عقل کا فقدان
  17. درجات کی بلندی
  18. اختلاف کے باوجود اعتراف
  19. دعوت اور ظلم
  20. روشن ہدایت
  21. حقیقی اہمیت
  22. سماجی آداب
  23. دین میں عقل کا استعمال
  24. مدح، تنقید
  25. القاب کلچر
  26. الأئمۃالمضلون
  27. نصیحت پذیری
  28. کامیاب زندگی
  29. زوال کیا ہے
  30. عورت کا درجہ
  31. اسلامی انقلاب میں عمومی تائید
  32. بزدلی یا حکمت
  33. عمل معیار ہے
  34. بیمار ی سے تطہیر
  35. شدت پسندی نہیں
  36. تشدد کا سبب عدم قناعت
  37. سگریٹ نوشی کی عادت
  38. صلاحیت کا اندازہ
  39. خبرنامہ اسلامی مرکز — 255

سگریٹ نوشی کی عادت

پاکستان کے سابق فوجی حکمراں جنرل ایوب خان (1907-1974)کو سگریٹ نوشی کی عادت تھی۔ روز صبح ان کا بٹلر سگریٹ کی پیکٹ ٹرے میں رکھ کران کے بیڈ روم میں پہنچادیتا، اور وہ اپنے صبح کا آغاز سگریٹ سے کرتے تھے۔ ایک مرتبہ وہ مشرقی پاکستان کے دورے پر تھے۔وہاں ان کا بنگالی بٹلر ایک دن ان کو صبح کے وقت سگریٹ دینا بھول گیا۔ یہ دیکھ کر جنرل ایوب خاںکو شدید غصہ آیا۔ وہ اس بنگالی بٹلر کوسختی سےڈاٹنے لگے۔ جب جنرل ایوب خان خاموش ہوئے تو بنگالی بٹلر نے انھیں ادب سے کہا کہ کمانڈر میں قوت برداشت ہونی چاہیے تاکہ وہ فوج کو چلائے ۔ آپ کے عدم برداشت سے مجھے پاکستانی فوج اور اس ملک کا مستقل خراب دکھائی دے رہاہے۔ بٹلر کی بات ایوب خان کے دل پر لگی، انھوں نے اسی وقت سگریٹ پیناچھوڑدیا، اس کے بعدپھر کبھی سگریٹ نہیں پیا۔ (ماہنامہ انذار، مئی 2017، صفحہ 28)

عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ سگریٹ پینے کی عادت ہوجائے تو اس کو چھوڑنا بہت مشکل ہوجاتا ہے۔ مگر تاریخ میں اس طرح کے واقعات ہیں کہ ایک شخص جو سگریٹ نوشی کا عادی تھا، اس کو کسی موقعہ پر سخت جھٹکا لگا، اور پھر اسی وقت اس نے سگریٹ پینا چھوڑ دیا، اور پھر کبھی نہیں پیا۔ اس طرح کی عادتیں یا تو فوراً چھوٹتی ہیں، یا کبھی نہیں چھوٹتی ۔

تجربہ ہے کہ کوئی عادت تدریجی طور پر نہیں چھوٹتی ہے۔ وہ اچانک فیصلہ کے تحت چھوٹتی ہے۔ جو لوگ کسی عادت کو تدریجی طور پر چھوڑنا چاہیں، وہ اپنی عادت کو کبھی چھوڑ نہیں پاتے۔ کیوں کہ تدریجی طریقے میں طاقت ور ارادہ (strong will power) کبھی پیدا نہیں ہوتا۔ طاقتور ارادہ ہمیشہ کسی سخت جھٹکے کے بعد پیدا ہوتا ہے۔ طاقتور ارادہ اچانک پیدا ہوتا ہے، نہ کہ تدریجی طور پر۔ آپ کوکوئی بڑا کام کرنا ہے تو طاقتور ارادہ پیدا کیجیے، اس کے بعد بڑا کام کرنا آپ کے لیے آسان ہوجائے گا۔ یہی اس معاملے میں واحد طریقۂ کار ہے۔