Al-Risala November 2015

کلامِ الٰہی کی تبلیغ

Al-Risala November 2015 — Maulana Wahiduddin Khan

Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.

Contents (10 chapters)
  1. الرسالہ - November 2015
  2. کلامِ الٰہی کی تبلیغ
  3. آخرت کی تلافی
  4. کریڈٹ لینے کا مزاج
  5. خطبۂ حجۃ الوداع
  6. توحید— انسانیت کی منزل
  7. مخالفین مذہب کا استدلال
  8. شادی کا مسئلہ
  9. سوال وجواب
  10. خبرنامہ اسلامی مرکز — \239

کلامِ الٰہی کی تبلیغ

قرآن کی سورہ نمبر9 میں ایک حکم ان الفاظ میں آیا ہے: وَإِنْ أَحَدٌ مِنَ الْمُشْرِکِینَ اسْتَجَارَکَ فَأَجِرْہُ حَتَّى یَسْمَعَ کَلَامَ اللَّہِ ثُمَّ أَبْلِغْہُ مَأْمَنَہُ ذَلِکَ بِأَنَّہُمْ قَوْمٌ لَا یَعْلَمُونَ (التوبۃ: 6)یعنی اور اگر مشرکین میں سے کوئی شخص تم سے پناہ مانگے تو تم اس کو پنا ہ دو، تاکہ وہ اﷲ کا کلام سنے، پھر اس کو اس کے امان کی جگہ پہنچا دو۔ یہ اس لئے کہ وہ لوگ علم نہیں رکھتے۔original + quote

قرآن کی اس آیت میں جو بات کہی گئی ہے وہ محدود طور پرصرف پر مستأمِن (asylum seeker) کے بارے میں نہیں ہے، بلکہ وہ ایک عام دعوتی حکم کے معنی میں ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ مسلم بستی کو ایک ایسی بستی ہونا چاہیے، جہاں کلام اللہ (word of God) کی تبلیغ کا ماحول ہو۔ جہاں کا ہر گھر عملاً ایک دعوتی گھر ہو، جہاں کی ہرمسجد ایک دعوتی مسجد ہو، جہاں کا ہر مدرسہ ایک دعوتی مدسہ ہو، جہاں کی ہر مجلس ایک دعوتی مجلس ہو۔ جب ایسا ہو گا ،اسی وقت یہ ممکن ہو سکتا ہے کہ وہاں آنے والا کوئی انسان اللہ کی بات کو سنے ۔

یہ ایک فطری حقیقت ہے۔ کوئی تجارتی بستی ہو تو وہاں ہر طرف تجارت کی آواز سنائی دے گی۔ یہی معاملہ اہل ایمان کی کسی بستی کا ہے۔ اہل ایمان کی بستی اگر زندہ بستی ہو تووہ ہر اعتبار سے دعوت حق کی ایک بستی ہوگی۔ اہل ایمان کی بستی کو ایک ایسی بستی ہونا چاہیے، جہاں آنے والا کوئی شخص اپنے آپ حق سے متعارف ہونے لگے۔ جس طرح تجارتی بستی میں ہر طرف تجارت کی آواز گونجتی ہے، اسی طرح اہل ایمان کی بستی وہ ہے جہاں ہر طرف حق کی آواز سنائی دیتی ہو۔

اہل ایمان کی کوئی بستی دعوتی بستی اس وقت ہوسکتی ہے، جب کہ وہاں رہنے والے افراد کے دلوں میں دعوتی ذمہ داری کا احساس موجود ہو۔ اسی کےساتھ ان کے دلوں میں عام انسان کے لیے خیر خواہی کا جذبہ پایا جاتا ہو۔ یہ دونوں باتیں اگر موجود ہوں تو اہل ایمان کی بستی اپنے آپ دعوتی بستی بن جائے گی۔ایسی بستی کا ہر فرد گویاایک داعی ہوگا، اور وہاں آنے والا ہر فرد گویا ایک مدعو۔