Al-Risala November 2014

عمر بن عبد العزیز

Al-Risala November 2014 — Maulana Wahiduddin Khan

Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.

Contents (31 chapters)
  1. الرسالہ - November 2014
  2. اِزدیادِ ایمان
  3. کشمیر بیداری
  4. تسخیری عبادت، عارفانہ عبادت
  5. جنت اور انسان
  6. ایک حدیث
  7. وِلاء — بَراء
  8. سبیل ُ اللہ سے انحراف
  9. جہاد وقتال
  10. قرآن سے تعلق
  11. دنیا، آخرت
  12. عمر بن عبد العزیز
  13. دعوت کا ایک موقع
  14. مغرب کا ایجنڈا
  15. دورِ جدید کا مسئلہ
  16. صحبت ِ رسول
  17. فقدانِ شخصیت، فقدانِ معرفت
  18. پیغمبرانہ ماڈل، تاریخی ماڈل
  19. امن پر مبنی ایمپائر
  20. مساوات
  21. صبر کیا ہے
  22. کامل انسان
  23. مسلمانوں کے قومی تقاضے
  24. دعوت الی اللہ
  25. مذہبی انتہا پسندی
  26. سارا جہاں ہمارا
  27. پروموشن کی خبر
  28. ذہنی ارتقا
  29. تلوار بطور تمثیل
  30. شکایت بے جا
  31. خبرنامہ اسلامی مرکز— 229

عمر بن عبد العزیز

عمر بن عبدالعزیز (وفات: 720ء) کی پیدائش مدینہ میں ہوئی۔ مگر خلیفہ کی حیثیت سے وہ شام کے شہر دمشق میں رہے جواس وقت اسلام کادار الخلافہ تھا۔ آپ کی وفات شام کے ایک اورشہر حلب میں ہوئی۔ شام کا ملک جن اسلامی شخصیتوں کی یاد دلاتا ہے ان میں سے ایک ممتاز نام عمر بن عبد العزیز کا ہے۔ جو پانچویں خلیفۂ راشد کہے جاتے ہیں۔

صحابۂ کرام کے بعد پوری اسلامی تاریخ میں عمر بن عبد العزیز واحد شخص ہیں جو صحابہ کے مزاج سے کامل مناسبت رکھتے تھے۔ عمر بن عبدالعزیز کا مشہور واقعہ ہے کہ جراح بن عبد اللہ (عامل خراسان) نے ان سے کہا کہ لوگ کثرت سے مسلمان ہورہے ہیں اس پر ہمیں پابندی لگانا چاہیے ورنہ حکومت کی آمدنی میں بہت زیادہ کمی ہوجائے گی۔کیوں کہ اسلام قبول کرتے ہی آدمی کے اوپر سے جزیہ معاف ہوجاتا ہے۔ عمر بن عبدالعزیز نے جواب دیا: اللہ نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو داعی بنا کر بھیجا ہے، نہ کہ ٹیکس وصول کرنے والا(إن اللّہ إنما بعث محمداً صلى اللہ علیہ وسلم داعیاً، ولم یبعثہ جابیاً) البدایة والنہایة9/213-original + quote

عمر بن عبدالعزیز کے اس قول میں جو ’’شعورِ دعوت‘‘ ہے وہ مجھے صحابہ کے بعد کسی بھی دوسرے شخص کے یہاں نظر نہیں آتا۔

عمر بن عبدالعزیز کا زمانہ پہلی صدی ہجری کا آخری زمانہ ہے۔ اس زمانہ میں ہر طرف فتوحات کا چرچا تھا۔ پوری ملت پر سیاسی اور غزواتی طرز فکر چھایا ہوا تھا۔ ایسے حالات میں دعوت کی اہمیت کو سمجھنے کے لیے وہ ذہن درکار تھا جو دور کے خلاف سوچ سکے۔ جو حالات سے اوپر اٹھ کر غیر متاثر انداز میں اپنا ذہن بنانے کی صلاحیت رکھتا ہو۔عمر بن عبد العزیز کا مذکورہ قول اس بات کا ثبوت ہے کہ ان کے اندر یہ نادر ترین صفت بدرجہ اتم موجود تھی۔ انھوں نے دَور کے خلاف سوچا۔ وہ عملاً ’’دورتلوار‘‘ میں تھے، مگر انھوں نے ذہنی سفر کے ذریعہ اپنے آپ کو ’’دوردعوت‘‘ میں پہنچا یا۔