Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
ذکر ایک تفکیری عمل
قرآن میںامر کی زبان میں جو احکام دیے گئے ہیں، اُن میں سے ایک حکم وہ ہے جس کے لیے ذکر ِ کثیر کے الفاظ آئے ہیں۔ یہ حکم قرآن کی مختلف آیتوں میں ہے۔ اُن میں سے ایک آیت یہ ہے: یٰأیّہا الذین آمنوا اذکروا اللہ ذِکراً کثیراً (الأحزاب:41 ) یعنی اے ایمان والو، خدا کا بہت زیادہ ذکر کرو۔original + quote
ذکر کے لفظی معنیٰ ہیں— یاد کرنا(to remember) ۔ یاد ایک معنوی حقیقت ہے، نہ کہ صرف ایک لفظی حقیقت۔ یہ ایک واقعہ ہے کہ انسان جب کسی کو یاد کرتا ہے تو وہ اس کو الفاظ کے وسیلے سے یاد کرتاہے۔ مثلاً جب زید کو یاد کرنا ہو تو پہلے آدمی کے ذہن میں زید کا لفظ آئے گا۔ مگر یاد کے معاملے میں لفظ کی حیثیت صرف اضافی (relative) ہے، نہ کہ حقیقی (real) ۔ اِسی طرح، جب آپ زید کو یاد کریں تو آپ کے ذہن میںایک انسان کا تصور آئے گا۔ اور جب آپ خداوند ِ ذوالجلال کو یادکریں تو فطری طورپر آپ کے ذہن میں اُس عظیم ہستی کا تصور آئے گا جو سارے زمین وآسمان کا خالق اور مالک ہے، جس کے آلاء (الأعراف:74 ) اتنے زیادہ ہیں جن کا احاطہ نہیں کیا جاسکتا۔ اِس طرح، ذکر میں اپنے آپ تفکر اور تدبر اور تعقل کا مفہوم شامل ہو جاتا ہے۔original + quote
حدیث کی مختلف کتابوں میںحضرت عائشہ کی یہ روایت آئی ہے کہ: کان رسول اللّہ صلی اللّہ علیہ وسلم یذکر اللہَ علیٰ کل أحیانہ (صحیح البخاری، کتاب الأذان، باب: ہل یَتَتبّعُ المؤذّن) یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہر موقع (occasion) پر اللہ کو یاد کرتے تھے۔ اِس روایت کے مطابق، ذکر ِکثیر یہ ہے کہ ہر تجربہ اور مشاہدہ آدمی کے اندر خدا کی سوچ پیدا کردے، اس کے اندر خدا رخی سوچ (God-oriented thinking) پیدا ہوجائے۔ پورا عالمِ کون (nature) اس کے لیے خدا کی یاد دلانے والا بن جائے۔یہ ذکر ِ کثیر کسی قسم کے تکرارِ الفاظ کا نام نہیں۔ ذکر ِکثیر کا فطری طریقہ یہ ہے کہ آدمی اپنے ذہن کو اتنا زیادہ بیدار کرے کہ زندگی کے مختلف حالات کے درمیان وہ ہر چیز میں خدا کی یاد کا تجربہ کرنے لگے، ہر چیز اس کے لیے یادِ الٰہی کا ذریعہ بن جائے۔original + quote