Al-Risala May 2022

آغاز کے بغیر

Al-Risala May 2022 — Maulana Wahiduddin Khan

Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.

Contents (29 chapters)
  1. الرسالہ - May 2022
  2. عید الاضحی اسپرٹ
  3. عمرہ کا سبق
  4. رَمی جمار کا سبق
  5. حج بدل کا مسئلہ
  6. آیتِ امید
  7. خدا امید کا خزانہ
  8. آدم اور ابلیس کا سبق
  9. وقت کا ضیاع
  10. وقت کی اہمیت
  11. کمزور پوائنٹ
  12. اچھی اولاد
  13. دور کو جانیے
  14. دور ِ مواقع
  15. صبر کا فائدہ
  16. پولیٹکل ایکٹوزم، دعوہ ایکٹوزم
  17. دورِ جدید
  18. آج کا نوجوان
  19. اظہارِ آیات کا دور
  20. دورِ حاضر کی تفسیر
  21. واضح تقریر یا تحریر
  22. حکمت کا طریقہ
  23. —————
  24. ڈائری 1986
  25. آغاز کے بغیر
  26. اسلام کا فکری انقلاب دیگر ادیان پر آج بھی غالب ہے
  27. جنت کا شوق
  28. بیماری معرفت کا ذریعہ
  29. خبرنامہ اسلامی مرکز- 276

آغاز کے بغیر

اس دنیا کا ایک فطری قانون یہ ہے کہ یہاں ابتدائی تیاریوں کے بغیر آگے کا کام نہیں کیا جاسکتا۔ابتدائی تیاری کی حقیقت کو نوبل انعام یافتہ مشہورانگریزی ادیب اور مفکر جارج برنارڈشا (وفات1950ء) کے قول سے سمجھا جاسکتا ہے۔ اس نے سولہویں صدی کے انگریز مصنف اور شاعر ولیم شیکسپیئر سے اپنا مقابلہ کرتے ہوئے کہا ہے— میرا قد شیکسپیئر سےبہت چھوٹا ہے، مگر میں اس کے کندھے پر کھڑا ہوا ہوںoriginal + quote

"He was much taller than me, but I stand on his shoulders." (George Bernard Shaw, by Gilbert K. Chesterton, 1909 Edition)other source

برنارڈشا،ولیم شیکسپیئر (وفات1616ء)کے تقریباً ڈھائی سو سال بعد 1856ء میں پیدا ہوا۔ شیکسپیئر نے اپنے زمانہ میں انگریزی زبان کو جہاں پایا تھا، اس پر اس نے اپنی کوششوں سے مزید اضافہ کیا۔ حتیٰ کہ اس کو ترقی کے ایک نئے مرحلہ میں پہنچا دیا۔ شیکسپیئر کے بعد سیکڑوں اہل قلم پیدا ہوئے جو اس کو مزید آگے بڑھاتے رہے۔ یہاں تک کہ انگریزی زبان اس اعلیٰ ترقی یافتہ مرحلہ تک پہنچ گئی جہاں سے برنارڈشا کو موقع ملا کہ وہ اپنی قلمی سفر کا آغاز کر سکے۔

اگر پچھلے لوگوں نےبرنارڈشا کے لیےآغاز فراہم نہ کیا ہوتا تو برنارڈشا کے لیے ناممکن تھا کہ وہ ادبی ترقی کے اس بلند مقام پر پہنچے جہاں وہ اپنی کوششوں سے پہنچا۔یہی فطری اصول زندگی کے تمام معاملات میں جاری ہے۔جب قوم کے پچھلے لوگ ابتدائی منزلیں طے کر چکے ہوں، اسی وقت یہ ممکن ہوتا ہے کہ قوم کے بعد کے لوگ آگے کی منزلوں پر اپنا سفر جاری کریں۔

اگر پچھلے لوگوں نے اپنے حصہ کا کام نہ کیا ہوتو بعد والوں کو سب سے پہلےابتدائی تیاری کا کام کرنا پڑے گا۔ کیوں کہ قانونِ فطرت کے مطابق، سفر ہمیشہ وہاں سے شروع ہوتا ہے، جہاں سے آپ کو آغاز کرنا ہے، نہ کہ وہاں سے جہاں آپ پہنچنا چاہتے ہیں۔ جس مکان کی زمینی بنیادیں اوردیواریں ابھی تیار نہ ہوئی ہوں اس مکان کی چھت اور اوپری منزلیں کس چیز کے اوپر کھڑی کی جائیں گی۔