Al-Risala May 2022

آج کا نوجوان

Al-Risala May 2022 — Maulana Wahiduddin Khan

Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.

Contents (29 chapters)
  1. الرسالہ - May 2022
  2. عید الاضحی اسپرٹ
  3. عمرہ کا سبق
  4. رَمی جمار کا سبق
  5. حج بدل کا مسئلہ
  6. آیتِ امید
  7. خدا امید کا خزانہ
  8. آدم اور ابلیس کا سبق
  9. وقت کا ضیاع
  10. وقت کی اہمیت
  11. کمزور پوائنٹ
  12. اچھی اولاد
  13. دور کو جانیے
  14. دور ِ مواقع
  15. صبر کا فائدہ
  16. پولیٹکل ایکٹوزم، دعوہ ایکٹوزم
  17. دورِ جدید
  18. آج کا نوجوان
  19. اظہارِ آیات کا دور
  20. دورِ حاضر کی تفسیر
  21. واضح تقریر یا تحریر
  22. حکمت کا طریقہ
  23. —————
  24. ڈائری 1986
  25. آغاز کے بغیر
  26. اسلام کا فکری انقلاب دیگر ادیان پر آج بھی غالب ہے
  27. جنت کا شوق
  28. بیماری معرفت کا ذریعہ
  29. خبرنامہ اسلامی مرکز- 276

آج کا نوجوان

موجودہ زمانے کو ایج آف ریزن (age of reason) کہاجاتا ہے۔مگر آج کےمسلم نوجوان دین کے بارے میںکنفیوزن میں جیتے ہیں۔ اس کا سبب یہ ہے کہ ان کےذہن میں مذہب کے بارے میں جدید دور کی نسبت سے سوالات اٹھتے ہیں۔ ان کےسوالوں کے جوابات روایتی انداز میں فراہم کیے جاتے ہیں،یعنی وہ جوابات "یہ کرو، اور وہ نہ کرو (do's and don'ts)" کے اصول پر مبنی ہوتے ہیں۔اس طرح کے جواب سے ان نوجوانوں کا ذہن ایڈریس نہیں ہوتا۔ یہی وہ چیز ہے جس نے آج کے نوجوانوں کوعملاً مذہب سے دور کردیا ہے۔ اور دن بدن مذہب سے دوری اختیار کرنے والے افراد کی تعداد میں اضافہ ہو تا جا رہا ہے۔

قرآن میں کہا گیا ہے  وَقُلْ لَہُمْ فِی أَنْفُسِہِمْ قَوْلًا بَلِیغًا (4:63)۔ یعنی اور ان سے ایسی بات کہو جو ان کے دلوں میں اتر جائے۔ قرآن کی اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ بات ایسے اسلوب میںکہو جس سے مخاطب کا ذہن ایڈریس ہو۔اس قرآنی ہدایت کے مطابق ظاہری اعتبار سے دعوت کے مختلف اسلوب ہوسکتے ہیں۔ اسلوب ہمیشہ مخاطب کے اعتبار سے متعین ہوگا۔ پہلے مخاطب کا مطالعہ کیا جائے گا، اور پھر اس کے ذہن کے اعتبار سے ایسا اسلوب اختیار کیا جائے گا جواس کے ذہن کو اپیل کرنے والا ہو۔ داعی کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے آپ کو اس اعتبار سے تیار کرے کہ وہ مدعو کو وقت کے اسلوب میں خدا کا پیغام پہنچا سکے، جس سے اس کا ذہن ایڈریس ہو۔جس دعوتی کلام میں یہ صفت نہ ہو، وہ گویا ایسی دعوت ہے، جس میں دعوتی تقاضے موجود نہیں ۔original + quote

ماڈرن مائنڈ کو ایڈریس کرنے کے لیے ضروری ہے کہ جو بات کہی جائے، وہ عقل پر مبنی (reason-based) ہو۔ یعنی ایسا اسلوب اختیار کرنا ، جو لوگوں کے لیے عقلی سطح پر دین کو قابل فہم بنائے۔ یہ زمانہ عقلی تفہیم و تبیین کا زمانہ ہے۔ کوئی اور اسلوب آج کے انسان کے لیے مؤثر نہیں ہوسکتا۔ عقلی دلائل کی روشنی میںباتوں کو سمجھانے کا طریقہ کیا ہوتا ہے، اسکی تفصیل کے لیے راقم الحروف کی کتاب اظہارِ دین کا مطالعہ کیا جاسکتا ہے۔