Al-Risala May 2020

مطلوب رول

Al-Risala May 2020 — Maulana Wahiduddin Khan

Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.

Contents (41 chapters)
  1. الرسالہ - May 2020
  2. فاسٹنگ شاک
  3. لاک ڈاؤن، ایک بلیسنگ
  4. تعمیر شخصیت
  5. صحیح آغاز
  6. زندگی ایک انتظار ہے
  7. زندگی کا سفر
  8. موت کے دروازے پر
  9. بڑھاپے کی عمر
  10. فطرت کا نظام
  11. بڑھاپا، رمائنڈر کا زمانہ
  12. فائنل کال
  13. بڑھاپا، ایک نشانِ راہ
  14. طاقت ، بے طاقتی
  15. بڑھاپے کا پلس پوائنٹ
  16. رخصت کا اصول
  17. بڑھاپے کا دور
  18. بڑھاپے کا تجربہ
  19. بڑھاپے سے سبق لینا
  20. بہت دن کم رہا
  21. غفلت کا سبب
  22. حقیقتِ اعلی کی دریافت
  23. مطلوب رول
  24. زندگی ایک موقع
  25. موت کاانتظار
  26. موت کا تجربہ
  27. حسرت کا دن
  28. کامل بے بسی
  29. پوائنٹ آف نو رِٹرن
  30. سب سے زیادہ جاننے کی بات
  31. حقیقت میں جینا
  32. عالمی لائبریری
  33. موت کی خبر
  34. ری پلاننگ کا موقع
  35. زندگی کا مسئلہ
  36. جنت کااستحقاق
  37. حصائدِ لسان
  38. ایک خط
  39. زحمت میں رحمت
  40. قابلِ تقلید طریقہ: رمضان کا کریٹیو استعمال
  41. ورچول ملاقات

مطلوب رول

مکیش ہندی سنیما کے ایک نہایت مشہور پلےبیک سنگر تھے۔ ان کو وائس آف ملینیم (Voice of the Millennium) اور ٹریجڈی کنگ (Tragedy King) کہاجاتا ہے۔ وہ دہلی میں 1923 ء کو پیداہوئے۔ 53 سال کی عمر میں 1976 میں ان کی موت ہوگئی، جب کہ وہ اپنے کیریر میں عروج پر تھے۔ ان کی موت امریکا کے ڈیٹیرائٹ (مشی گن) میں ہوئی۔ وہ وہاں ایک پروگرام میں اپنا پرفارمنس دینے کے لیے گئے تھے۔ جس دن اس کی موت واقع ہوئی، اس دن وہ صبح کو جلدی اٹھے، نہایا،اس کے بعد سینے میں درد محسوس ہواتو اس کو فوراً ہاسپٹل لے جایا گیا، جہاں ڈاکٹروں نے اعلان کیا کہ ہارٹ اٹیک سے مکیش کا انتقال ہوچکا ہے۔

ہر انسان جو اس دنیا میں پیدا ہوتا ہے، وہ خالق کے پیدا کرنے سے پیدا ہوتا ہے۔ خالق ہر انسان کو مختلف قسم کی صلاحیتیں دے کر دنیا میں بھیجتا ہے۔ ہر انسان کو اس دنیا میں کوئی پرفارمنس دینا ہے۔ ہر انسان امکانی (potential)طور پر ویل اکوئپڈ(well equipped) انسان کی حیثیت سے پیدا ہوتا ہے، تاکہ وہ اپنےامکانات کو جانے، اور اس کے مطابق، اپنا مطلوب رول اعلیٰ درجے میں ادا کرسکے۔ ہر انسان پر لازماً موت آتی ہے۔ موت کے بعد ہر انسان اپنے خالق کے پاس بھیج دیا جاتا ہے۔ وہاں اس سے پوچھا جائے گا کہ تم نے اپنا مطلوب رول ادا کیا یا نہیں۔

ہر عورت اور مرد کو اسی سوچ کے ساتھ دنیا میں زندگی گزارنا ہے۔ ہر عورت اور مرد کو اپنے بارے میں یہ دریافت کرنا ہے کہ وہ کون سا رول ادا کرنے کے لیے اس دنیا میں بھیجا گیا ہے، اور کیا وہ اس رول کو دنیا میں ادا کررہا ہے یا نہیں۔ یہی ہر انسان کا امتحان ہے۔ جو اس امتحان میں پورا اترے، وہ کامیاب ہے، اور جو اس امتحان میں پورا نہ اترے، وہ ناکام ہے۔ مکیش کوٹریجڈی کنگ کہا جاتا ہے۔ غالباً مکیش کا رول یہ تھا کہ وہ انسان کو بتائے کہ اس دنیا میں انسان کس طرح ٹریجڈی میں اپرچنٹی (opportunity) کو دریافت کرے، وہ کس طرح اپنی ناکامی کو کامیابی میں کنورٹ کرے۔