Al-Risala May 2020

فائنل کال

Al-Risala May 2020 — Maulana Wahiduddin Khan

Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.

Contents (41 chapters)
  1. الرسالہ - May 2020
  2. فاسٹنگ شاک
  3. لاک ڈاؤن، ایک بلیسنگ
  4. تعمیر شخصیت
  5. صحیح آغاز
  6. زندگی ایک انتظار ہے
  7. زندگی کا سفر
  8. موت کے دروازے پر
  9. بڑھاپے کی عمر
  10. فطرت کا نظام
  11. بڑھاپا، رمائنڈر کا زمانہ
  12. فائنل کال
  13. بڑھاپا، ایک نشانِ راہ
  14. طاقت ، بے طاقتی
  15. بڑھاپے کا پلس پوائنٹ
  16. رخصت کا اصول
  17. بڑھاپے کا دور
  18. بڑھاپے کا تجربہ
  19. بڑھاپے سے سبق لینا
  20. بہت دن کم رہا
  21. غفلت کا سبب
  22. حقیقتِ اعلی کی دریافت
  23. مطلوب رول
  24. زندگی ایک موقع
  25. موت کاانتظار
  26. موت کا تجربہ
  27. حسرت کا دن
  28. کامل بے بسی
  29. پوائنٹ آف نو رِٹرن
  30. سب سے زیادہ جاننے کی بات
  31. حقیقت میں جینا
  32. عالمی لائبریری
  33. موت کی خبر
  34. ری پلاننگ کا موقع
  35. زندگی کا مسئلہ
  36. جنت کااستحقاق
  37. حصائدِ لسان
  38. ایک خط
  39. زحمت میں رحمت
  40. قابلِ تقلید طریقہ: رمضان کا کریٹیو استعمال
  41. ورچول ملاقات

فائنل کال

بڑھاپا کسی آدمی کے لیے فائنل الارم ہوتا ہے۔ بڑھاپے کا مطلب یہ ہے کہ کاؤنٹ ڈاؤن اپنی آخری گنتی پر پہنچ چکا۔ آدمی جب بڑھاپے کی عمر میں پہنچتا ہے تو اس کے سارے اعضا کمزور ہوجاتے ہیں۔یہ گویا پیشگی اعلان ہے کہ اب تمھارا آخری وقت آگیا۔ اب اپنی تیاری کو تیز کردو۔ اس حقیقت کو فارسی شاعر سعدی شیرازی (1210-1291ء) نے ان الفاظ میں ادا کیاہے :original + quote

کوس رحلت بکوفت دست اجل ای دو چشمم وداع سر بکنید

موت انسانی زندگی کا خاتمہ نہیں۔ وہ اس بات کا اعلان ہے کہ کون شخص دنیا میں کامیاب رہا، اور کون شخص ناکام۔ انسان کی کامیابی کا راز یہ ہے کہ وہ موت کے بعد کی زندگی میں مشغول رہے۔ اس امید کے ساتھ کہ اس کو اگلے دورِ حیات میں کامیابی حاصل ہو جائے۔ اس کے برعکس، جس انسان نے خود کو اگلے دورِ حیات میں کامیابی کے ساتھ داخل نہیں کیا تھا۔ اس کے لیے موت اس بات کا اعلان ہے کہ اس کو ابدی کوڑا خانے میں ڈال دیا جائے گا۔ اس سلسلے میں ایک حدیثِ رسول ان الفاظ میں آئی ہے:أَکْثِرُوا ذِکْرَ ہَادِمِ اللَّذَّاتِ ،یَعْنِی الْمَوْتَ (سنن ابن ماجہ، حدیث نمبر 4258)۔ یعنی موت کو بہت زیادہ یاد کرو، جولذتوں کو ڈھا دینے والی ہے۔ اس حدیث میں موت کی حقیقت کو بتایا گیا ہے۔ موت اس بات کا اعلان ہے کہ موجودہ دنیا میں آدمی کی زندگی ختم ہوگئی، اور اگلا دورِ حیات اس کے لیے شروع ہوگیا۔original + quote

اگر آدمی اس انداز پر سوچے تو وہ کبھی عارضی دنیا کو اپنا فوکس نہیں بنائے گا، بلکہ وہ ہمیشہ اس کوشش میں رہے گا کہ بعد کو آنے والی ابدی زندگی کی بھر پور تیاری کرتا رہے۔جس شخص نے موجودہ دنیا میں اپنے اندر جنتی شخصیت کی تعمیر کی، وہ کامیاب رہا، اور جو شخص جنت کو اپنا نشانۂ حیات بنانے میں ناکام رہا۔ وہی وہ شخص ہے، جو آخر ت میں ابدی طور پر اس حسرت میں رہے گا کہ مَیں حاصل شدہ وقت کو حقیقی مقصد حیات کے لیے استعمال نہ کرسکا۔