Al-Risala May 2019

ذکر کثیر کیا ہے

Al-Risala May 2019 — Maulana Wahiduddin Khan

Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.

Contents (37 chapters)
  1. الرسالہ - May 2019
  2. معرفت حق
  3. خدا کی معرفت
  4. افضل ایمان
  5. حبّ شدید صرف اللہ سے
  6. حمد خداوندی
  7. توحید کا مقام
  8. ذکر کثیر کیا ہے
  9. سجدہ ذریعۂ قربت
  10. انسان کے لیے سبق
  11. شکر کا آئٹم
  12. ایمان بالغیب
  13. ایمان باللہ
  14. اقشعرار کیا ہے
  15. اسمِ اعظم
  16. جنت، جنت
  17. جنت کس کے لیے
  18. خالق اور مخلوق
  19. خدا اور انسان
  20. خدا کا وجود
  21. انسان کی تخلیق
  22. ایمان کا ذائقہ
  23. خدا کی پہچان
  24. خدا کی دریافت
  25. عجز کا اصول
  26. خوف کی نفسیات
  27. حکمت کا سر چشمہ
  28. فوق الفطری حکم
  29. عارف انسان
  30. معرفت کا سفر
  31. مومن کون
  32. مسخر کائنات
  33. پرزنس آف گاڈ
  34. تخلیق میں تنوع
  35. ربانی شخصیت
  36. اللہ کا تخلیقی منصوبہ
  37. زندہ شخصیت

ذکر کثیر کیا ہے

قرآن کی کئی آیتوں میں کہا گیا ہے کہ اللہ کا ذکر کثیر کرو۔ مثلا یَا أَیُّہَا الَّذِینَ آمَنُوا اذْکُرُوا اللَّہَ ذِکْرًا کَثِیرًا (33:41)۔ یعنی اے ایمان والو، اللہ کو بہت زیادہ یاد کرو۔ اللہ کے ذکر کثیرکا مطلب یہ نہیں ہے کہ زبان سے بار بار اللہ اللہ دہراؤ، یا بار بار زبان سے اس طرح کے الفاظ بولو کہ الحمد للہ، سبحان اللہ، ماشاءاللہ، وغیرہ۔original + quote

اللہ کے ذکر کثیر کا مطلب مخصوص الفاظ کی تکرار نہیں ہے۔ بلکہ اس کا مطلب معنوی اعتبار سے اللہ بار بار عارفانہ رسپانس (realized response) دینا ہے۔ یہ معرفت کا ایک کلمہ ہے، نہ کہ حروف تہجی کے کچھ کلمات کی لفظی تکرار۔ ایک حدیث سے اس مفہوم کی تائید ہوتی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اہلیہ ، عائشہ آپ کے بارے میں فرماتی ہیں:کَانَ النَّبِیُّ صَلَّى اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَذْکُرُ اللہَ عَلَى کُلِّ أَحْیَانِہِ(صحیح مسلم، حدیث نمبر 373)۔یعنی نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہر وقت اللہ کو یاد کرتے تھے۔اس کا مطلب یہ ہے کہ ہر موقع (occasion) پر آپ کو اللہ کی یاد آئے۔ ہر تجربہ آپ کے لیے ایک پوائنٹ آف ریفرینس بن جائے، جس کو لے کر آپ اللہ کو بار بار یاد کرتے رہیں۔ ذکر اللہ کی معرفت کی بنیاد پر زبان سے جاری ہونے والا ایک کلمہ ہے، وہ الفاظ کی تکرارنہیں ۔original + quote

مثلاً آپ رات کو بستر پر گئے، اور آپ کو نیند آگئی ۔ اس وقت آپ کو یہ یاد آیا کہ اللہ نے نیند کی صورت میں کیسی عجیب نعمت عطا کی ہے کہ دن بھر کی تکان کے بعد انسان سوجاتا ہے، اور پھر وہ صبح کو تازہ دم ہوکر اٹھتا ہے۔ اسی طرح رات کے وقت آپ کو اندھیرے کا تجربہ ہوا ، پھر صبح ہوئی ، اور دوبارہ روشن سورج نکل آیا۔ اس وقت آپ کو یاد آیا کہ اللہ نے سورج کی شکل میں کتنی بڑی نعمت انسان کو دی ہے۔ ذکر کثیر در اصل ذہنی ارتقا (intellectual development) کا نتیجہ ہے۔ اگر آپ کا ذہن ایک عارفانہ ذہن (realized mind) ہوتو زندگی کا ہر تجربہ آپ کو اللہ کی یاد دلائے گا، اور آپ اللہ کا اعتراف مختلف عارفانہ ذہن کے ساتھ کرتے رہیں گے۔ یہی ہے اللہ کا ذکر کثیر۔