Al-Risala May 2018

حالاتِ حاضرہ

Al-Risala May 2018 — Maulana Wahiduddin Khan

Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.

Contents (33 chapters)
  1. الرسالہ - May 2018
  2. روزہ برائے ترک
  3. رزق پلس
  4. تذکیر بالقرآن
  5. حجت کا دور
  6. دعوت کیا ہے
  7. امت کارول
  8. نبیوں کا ماڈل
  9. رُجز کو چھوڑو
  10. احسن القصص کا اعادہ
  11. دور قدیم، دور جدید
  12. دعا کی حقیقت
  13. تکریمِ بنی آدم
  14. رحمت خداوندی
  15. اسلامی روحانیت
  16. الرسالہ مشن
  17. دین کے دو درجے
  18. موت کا واقعہ
  19. امن ایک اقدام
  20. محبت انسانی
  21. عذاب سے نجات
  22. انبیاء کا نمونہ
  23. دعوت حق کا استقبال
  24. عظمت رفتہ کی بازیابی
  25. فضیلتِ رسول
  26. دین اکابر
  27. جذباتی اشو
  28. عہد شباب
  29. طالب علمی کا دور
  30. مشتبہ اظہار رائے
  31. حالاتِ حاضرہ
  32. دشمن میں دوست
  33. خبرنامہ اسلامی مرکز — 259

حالاتِ حاضرہ

عام طور پر دیکھا گیا ہے کہ کوئی شخص اگر حالات حاضرہ کے موضوع پر کلام کرتا ہے تو تقریبا ہمیشہ ایسا ہوتا ہے کہ وہ منفی انداز میں کلام کرتا ہے، وہ حالات حاضرہ پر منفی تنقید کرتا ہے، وہ حالات حاضرہ میں ظلم کی نشاندہی کرتا ہے، اور بطور خود کسی کو اس کا ذمہ دار ٹھہراتا ہے اور پھر اس کے خلاف بولنا اور لکھنا شروع کردیتا ہے ۔ یہی معاملہ تقریر کا بھی ہے اور تحریر کا بھی۔

اس کا سبب کیا ہے۔ اس کا سبب چیزوں کے بارے میں غلط معیار سے سوچنا ہے۔ مقررین یا محررین کا حال یہ ہے کہ وہ اپنے ذہن کے مطابق، چیزوں کو جانچنے کا ایک معیار (yardstick) بنا لیتے ہیں۔یہ معیار ہمیشہ آئڈیل پر مبنی ہوتا ہے۔ جب وہ اپنے اس آئڈیل معیار پر چیزوں کو جانچتے ہیں تو پاتے ہیں کہ ہر چیز ان کی معیار سے کم ہے۔ اس ذاتی تجربے کی بنا پر وہ منفی بن جاتے ہیں، اور چیزوں کے بارے میں منفی رائے دینا شروع کردیتے ہیں۔ بطور خود وہ اس کو تنقید (criticism) سمجھتے ہیں۔یہ رواج ہمیشہ خود ناقد کی غلط فکری پر مبنی ہوتا ہے۔ اجتماعی حالات کبھی آئڈیل نہیں ہوسکتے۔ چوں کہ ہر آدمی کو آزادی ملی ہوئی ہے، اس لیے ہر آدمی اپنی آزادی کو اپنی سوچ کے مطابق استعمال کرتا ہے۔ آزادی کا یہ استعمال دوسروں کی سوچ سے ٹکراتا ہے۔ جب ہر آدمی اپنی آزادی پر چلے تو لازماً ایسا ہوگا کہ ایک صورت حال جو ایک شخص کو درست معلوم ہو، وہ دوسرے کو غلط نظر آئے ۔

یہ فطرت کا نظام ہے۔ اس نظام کے سوا کوئی اور نظام اس دنیا میں ممکن نہیں۔ اس لیے لوگوں کو چاہیے کہ وہ آئڈیلسٹ (idealist) نہ بنیں، بلکہ وہ پریگمیٹک (pragmatic) بنیں۔ وہ یہ نہ دیکھیں کہ کیا ہونا چاہیے، بلکہ وہ یہ دیکھیں کہ عملاً کیا ہوسکتا ہے۔مذکورہ رواج کی بنا پر ایسا ہوا ہے کہ ہر آدمی منفی سوچ میں مبتلا ہے۔ ہر آدمی دوسروں کے خلاف شکایت لیے ہوئے ہے۔ لیکن اگر لوگ حقیقت پسند بنیں، اور چیزوں کو آئڈیل معیار پر نہ جانچیں، بلکہ پریگمیٹک معیار پر جانچیں تو اس منفی صورتِ حال کا خاتمہ ہوجائے گا۔