Al-Risala May 2018

محبت انسانی

Al-Risala May 2018 — Maulana Wahiduddin Khan

Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.

Contents (33 chapters)
  1. الرسالہ - May 2018
  2. روزہ برائے ترک
  3. رزق پلس
  4. تذکیر بالقرآن
  5. حجت کا دور
  6. دعوت کیا ہے
  7. امت کارول
  8. نبیوں کا ماڈل
  9. رُجز کو چھوڑو
  10. احسن القصص کا اعادہ
  11. دور قدیم، دور جدید
  12. دعا کی حقیقت
  13. تکریمِ بنی آدم
  14. رحمت خداوندی
  15. اسلامی روحانیت
  16. الرسالہ مشن
  17. دین کے دو درجے
  18. موت کا واقعہ
  19. امن ایک اقدام
  20. محبت انسانی
  21. عذاب سے نجات
  22. انبیاء کا نمونہ
  23. دعوت حق کا استقبال
  24. عظمت رفتہ کی بازیابی
  25. فضیلتِ رسول
  26. دین اکابر
  27. جذباتی اشو
  28. عہد شباب
  29. طالب علمی کا دور
  30. مشتبہ اظہار رائے
  31. حالاتِ حاضرہ
  32. دشمن میں دوست
  33. خبرنامہ اسلامی مرکز — 259

محبت انسانی

محبت انسانی کے بارے میں ایک حدیث رسول ان الفاظ میں آئی ہے:لَا یُؤْمِنُ أَحَدُکُمْ حَتَّى یُحِبَّ لِلنَّاسِ مَا یُحِبُّ لِنَفْسِہِ(مسند احمد، حدیث نمبر 13875) ۔ یعنی تم میں سے کوئی مومن نہیں ہوسکتا، یہاں تک کہ وہ دوسروں کے لیے وہی پسند نہ کرے جو اپنے لیے پسند کرتا ہو۔ اس بات کو فارسی شاعر شیخ سعدی (585-691ـھ) نے ان الفاظ میں بیان کیا ہے:ہر چہ بر خود مہ پسندی، بر دیگراں مہ پسند (جو چیز تم اپنے لیے پسند نہیں کرتے، اس کو تم دوسروں کے لیے بھی پسند نہ کرو)۔original + quote

ہر انسان سے محبت کرنا، محض ایک سماجی یا اخلاقی تقاضہ نہیں ہے، بلکہ وہ خود اپنی شخصیت کے ارتقا کی بات ہے۔ یہ انسان کا خود اپنا انٹرسٹ ہے کہ وہ دوسروں کے ساتھ بہتر سلوک کرے۔ جو آدمی ایسا نہ کرے، وہ اپنے آپ کو جنت میں داخلے کے لیے غیر مستحق ثابت کررہا ہے۔ قرآن میں جنت کے بارے میں ایک آیت ان الفاظ میں آئی ہے: لَا یَسْمَعُونَ فِیہَا لَغْوًا وَلَا تَأْثِیمًا إِلَّا قِیلًا سَلَامًا سَلَامًا (56:25-26)۔یعنی اس میں وہ کوئی لغو اور گناہ کی بات نہیں سنیں گے۔ مگر صرف سلام سلام کا بول۔ اس سے معلوم ہوا کہ جنت کی سوسائٹی ایک ایسی سوسائٹی ہوگی، جہاں ہر آدمی کے دل میں دوسرے کے لیے سلامتی ہوگی، جہاں ہر آدمی اعلیٰ اخلاق کی پابندی کرنے والا ہوگا، جہاں کوئی شخص ایسا کام نہیں کرے گا جس سے اس کے پڑوسی کو ذرا بھی کوئی تکلیف پہنچے۔ جنت ایسے انسانوں کا معاشرہ ہوگا، جہاں ہر شخص دوسرے انسان کا کامل معنوں میں دوست اور خیرخواہ ہوگا۔original + quote

اس کا مطلب یہ ہے کہ جنت کا عقیدہ ہر انسان کے لیے حسن اخلاق کو اس کے ذاتی انٹرسٹ کا معاملہ بنادیتا ہے۔ ہر آدمی اخلاق کے معاملے میں حد درجہ حساس ہوجاتا ہے۔ کیوں کہ اگر وہ اخلاق کے معاملے میں اعلیٰ معیار پر قائم نہ ہو تو وہ قانون قدرت کے مطابق، جنت میں داخلے کے لیے نااہل ہوجائے گا۔ جنت کو ماننے والا کوئی شخص اس کا تحمل نہیں کرسکتا کہ وہ اخلاق کے اعلیٰ معیار پر پورا نہ اترے۔