Al-Risala May 2018

دور قدیم، دور جدید

Al-Risala May 2018 — Maulana Wahiduddin Khan

Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.

Contents (33 chapters)
  1. الرسالہ - May 2018
  2. روزہ برائے ترک
  3. رزق پلس
  4. تذکیر بالقرآن
  5. حجت کا دور
  6. دعوت کیا ہے
  7. امت کارول
  8. نبیوں کا ماڈل
  9. رُجز کو چھوڑو
  10. احسن القصص کا اعادہ
  11. دور قدیم، دور جدید
  12. دعا کی حقیقت
  13. تکریمِ بنی آدم
  14. رحمت خداوندی
  15. اسلامی روحانیت
  16. الرسالہ مشن
  17. دین کے دو درجے
  18. موت کا واقعہ
  19. امن ایک اقدام
  20. محبت انسانی
  21. عذاب سے نجات
  22. انبیاء کا نمونہ
  23. دعوت حق کا استقبال
  24. عظمت رفتہ کی بازیابی
  25. فضیلتِ رسول
  26. دین اکابر
  27. جذباتی اشو
  28. عہد شباب
  29. طالب علمی کا دور
  30. مشتبہ اظہار رائے
  31. حالاتِ حاضرہ
  32. دشمن میں دوست
  33. خبرنامہ اسلامی مرکز — 259

دور قدیم، دور جدید

دور قدیم اور دور جدید اصلاً یہ ہے کہ دور قدیم مبنی بر عقیدہ علم پر قائم تھا،اور دور جدید مبنی بر دریافت علم پر قائم ہے۔ سائنس اسی کا نام ہے کہ علوم فطرت کے مطالعے سے جو چیز دریافت ہو ، اس کو مان لیا جائے، اور جو چیز فطرت کے مطالعے سے دریافت نہ ہو، اس کو انتظار کے خانے میں ڈال دیا جائے۔ گلیلیو کے زمانے میں جو نزاع تھی، وہ یہی تھی کہ ٹیلسکوپ (telescope) کے مطالعے سے یہ دریافت ہوا تھا کہ زمین سورج کے گرد گھوم رہی ہے۔ یعنی ہیلیو سینٹرک تھیَری (heliocentric theory)، نہ کہ جیو سینٹرک تھیَری (geocentric theory) ۔ مسیحی طبقہ اپنے روایتی عقیدہ کے مطابق اس کے خلاف ہوگیا۔ اس لیے دونوں کے درمیان متشددانہ نزاع قائم ہوگئی۔ اب مسیحی طبقہ نے سائنسی دریافت کو مان لیاہے، اس لیے اب یہ نزاع بھی ختم ہوگئی۔

سائنس کا علم، نہ موافق مذہب علم ہے اور نہ مخالف مذہب علم۔ سائنسی علم در اصل موافق فطرت (pro-nature knowledge) کا نام ہے۔ سائنس سے نزاع کرنا، ایک غیر ضروری کام ہے۔ کیوں کہ سائنس کا موقف کسی نزاع سے متعین نہیں ہوگا، بلکہ صرف اس حقیقت سے متعین ہوگا کہ فطرت کے مطالعے سے کیا بات درست ثابت ہوئی ہے۔اہل اسلام کے لیے اس معاملے میں یہ سبق ہے کہ وہ مسیحی گروہ کی غلطی کو نہ دہرائیں۔ سائنسی دریافتوں کو وہ مذہبی عقیدہ سے نہ جانچیں۔ بلکہ اس کی واقعیت کو فطرت کے دریافت شدہ قانون کی روشنی میں جانچ کر دیکھیں۔

اس سلسلے میں دوسری بات یہ ہے کہ وہ مغربی سائنس اور مغربی کلچر میں فرق کریں۔ مغربی سائنس مبنی بر دریافت علم کا نام ہے۔ اس کے برعکس، مغربی کلچر مغربی سوسائٹی کا حصہ ہے۔ وہ ایک سماجی ظاہرہ ہے، نہ کہ کوئی علمی طور پر دریافت شدہ حقیقت۔ سائنس کا تعلق حدیث کے مطابق، بصیرت زمانہ سے ہے۔ حدیث کے الفاظ یہ ہیں:على العاقل أن یکون بصیراً بزمانہ (صحیح ابن حبان، حدیث نمبر 361)۔ یعنی مومن عاقل پر ضروری ہے کہ وہ اپنے زمانے سے باخبر ہو۔original + quote