Al-Risala May 2018

دعوت کیا ہے

Al-Risala May 2018 — Maulana Wahiduddin Khan

Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.

Contents (33 chapters)
  1. الرسالہ - May 2018
  2. روزہ برائے ترک
  3. رزق پلس
  4. تذکیر بالقرآن
  5. حجت کا دور
  6. دعوت کیا ہے
  7. امت کارول
  8. نبیوں کا ماڈل
  9. رُجز کو چھوڑو
  10. احسن القصص کا اعادہ
  11. دور قدیم، دور جدید
  12. دعا کی حقیقت
  13. تکریمِ بنی آدم
  14. رحمت خداوندی
  15. اسلامی روحانیت
  16. الرسالہ مشن
  17. دین کے دو درجے
  18. موت کا واقعہ
  19. امن ایک اقدام
  20. محبت انسانی
  21. عذاب سے نجات
  22. انبیاء کا نمونہ
  23. دعوت حق کا استقبال
  24. عظمت رفتہ کی بازیابی
  25. فضیلتِ رسول
  26. دین اکابر
  27. جذباتی اشو
  28. عہد شباب
  29. طالب علمی کا دور
  30. مشتبہ اظہار رائے
  31. حالاتِ حاضرہ
  32. دشمن میں دوست
  33. خبرنامہ اسلامی مرکز — 259

دعوت کیا ہے

دعوت کا مطلب بظاہر یہ ہے کہ قرآن و حدیث میں جو سچائی بیان کی گئی ہے، اس کو دوسروں تک پہنچانا۔ مگر پہنچانے کا مطلب صرف پہنچانا نہیں ہے، بلکہ یہ ہے کہ جو بات کہی جائے، وہ مخاطب کے ذہن کو ایڈریس کرنے والی ہو۔ جیسا کہ قرآن میں آیا ہے : وَقُلْ لَہُمْ فِی أَنْفُسِہِمْ قَوْلًا بَلِیغًا (4:63)۔ یعنی ان کو اس طرح بات کہو جو ان کے دلوں میں اتر جائے۔ اس طرح دعوت میں ایک اور عنصر شامل ہوجاتا ہے، اور وہ ہے مدعو کے ذہن کی رعایت۔original + quote

اگر آپ دعوت کا کام اس طرح کریں کہ قرآن و حدیث میں جو بات کہی گئی ہے، خود اپنے ذہن کے مطابق، اس کی شرح کردیں تو یہ حقیقی معنوں میں دعوت کا کام نہیں ہوگا۔ کوئی کلام اس وقت دعوت بنتا ہے، جب کہ آپ اپنی دعوت میں دو تقاضوں کو پورا کریں۔ ایک یہ کہ آپ قرآن و سنت کا مطالعہ غیرمتاثر ذہن کے ساتھ کریں، اور اس کا مدعا بے کم و کاست انداز میں جاننے کی کوشش کریں، اور پھر اس کو تقریر یا تحریر کے ذریعہ مخاطب کے سامنے بیان کریں۔

مگر مطلوب دعوت کے لیے صرف اتنا کافی نہیں ہے۔ مطلوب دعوت وہ ہے، جس میں داعی غیر جذباتی انداز میں مدعو کے ذہن کو سمجھنے کی کوشش کرے، اور پھر مدعو کے ذہن کو ایڈریس کرنے والے انداز میں خیر خواہانہ طور پر اس کو اپنا مخاطب بنائے۔دعوت اپنی ظاہری صورت کے اعتبار سے دوسری تحریکوں کی طرح ایک تحریک ہے۔ مگر دعوت اور دوسری تحریکوں میں ایک بنیادی فرق ہے۔ وہ یہ کہ دوسری تحریکیں عام طور پر ردعمل کے ذہن کے تحت چلائی جاتی ہیں۔ یعنی سماج میں کوئی چیز نظر آئی جو دیکھنے والوں کےلیے بظاہر غلط تھی۔ اس پر دیکھنے والوں نے اپنے ردعمل کا اظہار کیا، اور یہ ردعمل دھیرے دھیرے ایک تحریک بن گیا۔ اس اعتبار سے دیکھیے تو تمام تحریکیں عملاً ردعمل کی تحریکیں ہوتی ہیں۔ لیکن دعوت کی تحریک کسی بھی درجے میں ردعمل کی تحریک نہیں ہے۔ دعوت داعی کی طرف سے نصح (well-wishing )کا اظہار ہے، اور بس۔