Al-Risala May 2017

گاندھی کا آدرش

Al-Risala May 2017 — Maulana Wahiduddin Khan

Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.

Contents (32 chapters)
  1. الرسالہ - May 2017
  2. کائناتی نشانیاں
  3. ایمان بالغیب
  4. انسان کا المیہ
  5. جنت کیا ہے
  6. حفاظت دین
  7. خدائی منصوبہ
  8. ہدایت ربانی
  9. لمبی عمر
  10. ہار جیت کا دن
  11. اسلام مکمل ضابطۂ حیات ؟
  12. حکم اللہ کا
  13. دورِ زوال
  14. انسانی تاریخ
  15. علوم کی معرفت
  16. اسلام کی عالمی اشاعت
  17. اسلامی جہاد
  18. غزوۂ ہند
  19. عرب جاہلیت
  20. جدال احسن، جدال غیر احسن
  21. اجتہاد کا مسئلہ
  22. جزئیات، کلیات
  23. خدا کا دین
  24. خوارج کا کیس
  25. خالی از معنی کلام
  26. خالص ایمان
  27. خوف اور حکمت
  28. دانش مندانہ طریقہ
  29. گاندھی کا آدرش
  30. مصیبت یا تحریک عمل
  31. سوال و جواب
  32. خبرنامہ اسلامی مرکز — 251

گاندھی کا آدرش

(مہاتما گاندھی کے ڈیڑھ سو سالہ تقریب کی مناسبت سے سیواگرام آشرم، واردھا کے لیے صدر اسلامی مرکز نےیہ پیغام دیا ہے)

مہاتما گاندھی کو انڈیا کے لوگ اپنا آدرش مانتے ہیں۔ یہ آدرش کس معنی میں ہے۔ دو لفظ میں وہ یہ ہے — سادہ زندگی، اونچی سوچ (simple living, high thinking)۔

مہاتما گاندھی کی سادہ زندگی کو سارے لوگ جانتے ہیں۔ مثلاً وہ دھوتی پہنتے تھے۔ لیکن ان کی دھوتی بہت زیادہ سادہ ہوتی تھی۔ دھوتی کی اسٹنڈرڈ لمبائی 4.5 میٹر ہوتی ہے۔ لیکن مہاتما گاندھی اس کے آدھے سائز کی دھوتی پہنتے تھے۔ اسی طرح مہاتما گاندھی کا طریقہ ہر معاملے میں سادہ ہوتا تھا۔ مہاتما گاندھی نے انڈیا کے لوگوں کے لیے جو لائف اسٹائل چھوڑا ہے ، وہ آخری حد تک سادہ تھا۔

مہاتما گاندھی کی زندگی کا دوسرا اصول یہ تھا کہ ری ایکشن کو اوائڈ کرتے ہوئے امن کا طریقہ اختیار کرنا۔ مہاتما گاندھی ساؤتھ افریقہ میں قانون کی پریکٹس کرتے تھے۔1893 میں ان کو ساؤتھ افریقہ کے Pietermaritzburgریلوے اسٹیشن پر ٹھنڈی رات میں جبراً ٹرین سے باہر نکال دیا گیا، جب کہ ان کے پاس فرسٹ کلاس کا ٹکٹ تھا۔ یہ اس وقت ہوا جب کہ ساؤتھ افریقہ میں برٹش رول قائم تھا۔1915 میں مہاتما گاندھی ساؤتھ افریقہ چھوڑ کر انڈیا آئے۔ اس کے بعد یہاںبرٹش رول کے خلاف آزادی کی تحریک شروع کی۔ لیکن انھوں نےاپنی تحریک تمام تر اہنسا (non-violence) کی بنیاد پر چلائی۔ گویا کہ ساؤتھ افریقہ میں برٹش رول کے زمانے میں ان کے اوپر تشدد (violence)کیا گیا۔ لیکن انڈیا میں انھوں نے برٹش رول کے خلاف جو تحریک چلائی وہ مکمل طور پر اہنسا (non-violence)پر مبنی تھی۔ مہاتما گاندھی کا آدرش واد انھیں دو اصولوں پر مبنی تھا — سادگی اور اخلاقی بلندی۔ یہی مہاتما گاندھی کا پیغام ہے۔ ان کی روح پکار رہی ہے کہ اگر انڈیا میں ترقی کا دور لانا ہے تو ہم کو مہاتما گاندھی کے دو اصولوں کو اپنانا ہے۔ ایک یہ کہ ہم ذاتی زندگی میں مکمل طور پر سادگی کا طریقہ اختیار کریں، اور دوسرے یہ کہ ہم اپنی قومی جدو جہد میں جو بھی تحریک چلائیں وہ مکمل طور پر امن (peace) پر مبنی ہو۔ کسی حال میں ہم تشدد کا طریقہ اختیار نہ کریں۔

نئی دہلی، 28جنوری 2017 وحید الدین