Al-Risala may 2015

تنکیس کا عمل

Al-Risala may 2015 — Maulana Wahiduddin Khan

Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.

Contents (38 chapters)
  1. الرسالہ - may 2015
  2. امانت کیا ہے
  3. قرآن، سنت ، اجتہاد
  4. دعا ایک دریافت
  5. دعوتی سیاحت
  6. مدعو داعی کے دروازے پر
  7. انسان کی تخلیق
  8. ایک قابل تقلیدمثال
  9. ہر آدمی ایک کیس ہے
  10. ہدایت کا راز
  11. حُب ّعاجلہ
  12. علم اسماء
  13. امتحان کی حکمت
  14. انسان کی کمزوری
  15. تخلیق کا مقصد
  16. تنکیس کا عمل
  17. دولت پرستی
  18. مغربی تہذیب، مؤید تہذیب
  19. انسان کی بے اختیاری
  20. جنت کی خصوصیت
  21. خبر، معرفت
  22. لا محدود امکانات
  23. مغفرت کی اصل توبہ
  24. معرفت کی تکمیل
  25. موت کا پیغام
  26. منافقانہ کلام
  27. مسلمان خیر ِ امت
  28. مسلسل فکری ارتقا
  29. تقدیر اور تدبیر
  30. شکر اور ناشکری
  31. نیا دور
  32. شعورِ مقصدیت
  33. گھر کا ماحول
  34. ادب، بے ادبی
  35. توسیع، استحکام
  36. امیدکی دنیا
  37. زندگی کی تعمیر
  38. خبر نامہ اسلامی مرکز— 233

تنکیس کا عمل

قرآن میں زندگی کی ایک حقیقت کو ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: وَمَنْ نُعَمِّرْہُ نُنَکِّسْہُ فِی الْخَلْقِ أَفَلَا یَعْقِلُونَ (36:68)یعنی اور ہم جس کو زیادہ عمر دیتے ہیں ، اس کو اس کی خلقت میں پیچھے لوٹا دیتے ہیں ، تو کیا وہ سمجھتے نہیں ۔تنکیس کا لفظی مطلب ہے پیچھے لوٹانا (to invert)۔original + quote

عضویاتی مطالعہ بتاتا ہے کہ انسان کو پیدائشی طور پر جو جسم دیا گیا ہے، وہ ایک انوکھے قسم کا جسم ہے۔ انسانی جسم کے اندر 78 آرگن (organs)ہوتے ہیں۔یہ آرگن مسلسل طور پر بے حد کوآرڈینیشن (coordination)کے ساتھ عمل کرتے ہیں۔ یہ عمل جسم کے اندر خودکار نظام (automatic system) کے تحت ہوتا ہے۔اسی فطری نظام کی بنا پر یہ ممکن ہوتا ہے کہ آدمی کاجسم مسلسل طور پر کام کرتا رہے۔

مگر ہر آدمی پیدا ہونے کے بعد بچپن اور جوانی کے مراحل سے گزرتے ہوئے آخرکار بڑھاپے کی عمر تک پہنچتا ہے۔بڑھاپے کی عمر میں یہ آرگن رفتہ رفتہ انسان کا ساتھ چھوڑنے لگتے ہیں، کوئی جزئی طور پر، کوئی کلی طور پر۔یہی وہ واپسی کا عمل ہے جو انسان کو بوڑھا اور آخرکار ناکارہ بنادیتا ہے۔

اس عمل کو قرآن میں تنکیس کہا گیا ہے۔ یعنی دیے ہوئے اعضا کو واپس لینا۔واپسی کا یہ عمل یہ ثابت کرتا ہے کہ ایک طاقت ور خالق ہے، وہ پہلےیہ اعضا انسان کو دیتا ہے، اور پھر اپنی مرضی کے مطابق ان کو واپس لے لیتا ہے۔یہ ایک حتمی عمل ہے، جس کو کوئی روکنے والا نہیں۔original + quote

انسانی جسم کے اندرہونے والایہ واقعہ اپنے اندر ایک عظیم سبق رکھتا ہے۔آدمی اگر اس عمل پر غور کرے تو وہ بیک وقت دو حقیقتوں کو دریافت کرے گا۔ایک طرف یہ حقیقت کہ یہاں ایک قادرِ مطلق (All Powerful) خدا ہے، اور دوسری طرف یہ حقیقت کہ وہ خود ایک عاجز مطلق (all powerless) مخلوق ہے۔ دینے والا دے تو اس کو ملے گا، اگر دینے والا نہ دےتو اس کو کچھ ملنے والا نہیں۔ یہی وہ دریافت ہے جس کو معرفت کہا جاتا ہے۔یہ دریافت انسان کو انسان بناتی ہے۔