Al-Risala May 2011

بسترِ مرگ سے

Al-Risala May 2011 — Maulana Wahiduddin Khan

Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.

Contents (31 chapters)
  1. الرسالہ - May 2011
  2. نماز کے فائدے
  3. اسباب کا پردہ
  4. فیہ ذکرکم
  5. قرآن سارے انسانوں تک
  6. اولاد کی حیثیت
  7. جغرافی اتفاق یا خدائی فیصلہ
  8. بامقصد انسان
  9. خصوصی رحمت کا معاملہ
  10. جنت کی طلب
  11. قرآن کتابِ دعوت
  12. وضو اور قرآن
  13. محرومی کے بعد بھی
  14. وطن سے محبت
  15. تخریبی سیاست
  16. ذہنی ارتقا کا ذریعہ
  17. تفسیری روایات
  18. کنڈیشننگ کوتوڑنا
  19. معرفت کا اسٹیج
  20. قرآن اور بائبل کا فرق
  21. بسترِ مرگ سے
  22. سب کچھ سے بے کچھ کی طرف
  23. غلو کی ایک مثال
  24. شاہ ہمدان کامشن
  25. اصول پسندی یا شخصیت پرستی
  26. زندگی کا ایک اصول
  27. عذر کے باوجود
  28. ایک سبق آموز واقعہ
  29. اپنے پوٹینشیل کو ایکچول بنائیے
  30. سوال وجواب
  31. خبر نامہ اسلامی مرکز — 210

بسترِ مرگ سے

’’امام ابو یوسف (وفات:798 ء) بسترِ مرگ پر ہیں۔ شدید بیمار ہیں اور اِس حالت میں ایک شاگرد عیادت کے لیے جاتا ہے اور جاکر حال پوچھتا ہے، توحال تو مختصراً بتادیا، پھر فوراً اُس شاگرد سے پوچھتے ہیں کہ بتاؤ حج میں رمیِ جمرات سوار ہو کر افضل ہے کہ پیدل افضل ہے۔ شاگرد کہتے ہیں کہ میں نے کہا کہ حضرت، پیدل کرنا افضل ہوگا، کیوں کہ پیدل کرنے میں مشقت زیادہ ہے۔ فرمایا کہ نہیں، کہا اچھا پھر سوار ہو کر کرنا افضل ہوگا۔ فرمایا کہ نہیں، بلکہ پہلے دن کی جمرہ عقبہ کی رمی سوار ہو کر کرنا افضل ہے۔ کیوں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ رمی سوار ہو کر کی تھی، اور باقی دنوں میں پیدل چل کر(رمی) کرنا افضل ہے، کیوں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے (یہ رمی) پیدل چل کر کی تھی۔ یہ مسئلہ اُس کو بتا دیا۔ فرماتے ہیں کہ یہ مسئلہ سن کر جب میں باہر نکلا، چند قدم چلا تھا تو گھر سے لوگوں کے رونے کی آواز آ ئی۔ پتہ چلا کہ روح پرواز کرگئی۔‘‘unverified

ایک مشہور عالم نے علماء کے ایک جلسے میں تقریر کی۔ انھوں نے نہایت جوش کے ساتھ مذکورہ واقعہ بیان کیا، جو اُن کے نزدیک طلب علم کا ثبوت تھا۔ لیکن اگر خالص قرآن اورحدیث اور اسوۂ صحابہ کی روشنی میں دیکھا جائے تو اُس وقت کہنے والے کو طلب آخرت کی بات کہنا چاہیے تھا۔ جب کوئی شخص بستر مرگ پر ہو تو اُس وقت یہ موقع نہیں رہتا کہ آدمی جزئی مسائل میں اپنا دماغ لگائے۔ اُس وقت اس کو صرف موت یاد آنی چاہیے اور ملنے والوں کو آخرت کی یاد دلانی چاہیے۔original + quote

بستر مرگ پر ایک مومن کی کیا کیفیت ہونی چاہیے، اس کا اندازہ صحابی ٔ رسول حضرت ابو ہریرہ کے واقعے سے ہوتا ہے۔ مسلم بن بشیر کہتے ہیں کہ ابو ہریرہ اپنے مرضِ موت میں روئے۔ اُن سے پوچھاگیا کہ کیا چیز آپ کو رلا رہی ہے۔ انھوں نے کہا کہ میں تمھاری اِس دنیا کے لیے نہیں روتا، بلکہ میں تو اِس لیے روتا ہوں کہ میرا سفر لمبا ہے اور زادِ راہ کم ہے۔ میںنے ایک ایسے ٹیلے پر صبح کی ہے جو جنت یا جہنم کی طرف اتر رہا ہے۔ مجھے نہیں معلوم کہ مجھے اِن دونوں میں سے کس طرف چلایا جائے گا (أصبحتُ فی صعود مہبطۃ علی جنۃ ونار، فلا أدری إلی أیہما یسلک بی) ۔original + quote