Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
کنڈیشننگ کوتوڑنا
ہر عورت اور مرد اپنے ماحول کا اثر قبول کرتا ہے۔ اِس اعتبار سے ہر عورت اور مرد لازمی طورپر متاثر ذہن (conditioned mind) کا کیس بن جاتا ہے، اِس غیر فطری تاثر کو ختم کرنا، یعنی کنڈیشنڈ مائنڈ کی ڈی کنڈیشننگ (de-conditioning) کرنا لازمی طورپر ضروری ہے۔ ڈی کنڈیشننگ کے اِس عمل کو ذہن کی تشکیلِ نو (re-engineering of mind) کہاجاسکتا ہے۔
تزکیہ کے مقصد کو حاصل کرنے کے لیے ہر جگہ بہت سی سرگرمیاںجاری ہیں، لیکن بے شمار سرگرمیوں کے باوجود تزکیہ کا مقصد حاصل نہیں ہوتا۔ اِس کا سبب کیا ہے، اس کا سبب یہ ہے کہ یہ تمام سرگرمیاں لوگوں کی ڈی کنڈیشننگ کے بغیر انجام دی جارہی ہیں، گویا کہ تمام لوگ ایک ایسے سفر میں مشغول ہیں جس کا آغاز ہی نہیں کیا گیا۔ حقیقت یہ ہے کہ ڈی کنڈیشننگ کے بعد ہی کوئی شخص تیار ذہن (prepared mind) بنتا ہے، اور جب تک کوئی شخص تیار ذہن نہ ہو، وہ چیزوں کو متاثر ذہن کے ساتھ لیتا ہے، وہ چیزوں کو بے آمیز ذہن کے ساتھ لینے کے قابل نہیں ہوتا۔
اصل یہ ہے کہ ہر انسان جب پیدا ہوتا ہے تو وہ صحیح فطرت پر پیدا ہوتا ہے، لیکن ماحول کی کنڈیشننگ کے نتیجے میں اس کی فطرت پر پردے پڑنے لگتے ہیں، ٹھیک اُسی طرح جس طرح پیاز کے اوپر تہہ بہ تہہ چھلکا۔ ڈی کنڈیشننگ تمثیل کے طورپر یہ ہے کہ پیاز کے اوپر کے چھلکے ایک ایک کرکے ہٹا دئے جائیں، یہاں تک کہ اندر کا مغز سامنے آجائے۔ اِس اعتبار سے پیاز گویا ڈی کنڈیشننگ کے عمل کی ایک مادّی تمثیل (material example) ہے۔
تزکیہ کے مقصد کے تحت کی جانے والی سرگرمیاں اُس وقت تک بے فائدہ ہیں جب تک اُس کے ساتھ لوگوں کے ذہن کی ڈی کنڈیشننگ نہ کی جائے۔ سب سے بڑی چیز جس کی ڈی کنڈیشننگ کرنا ہے، وہ ہے منفی سوچ (negative thinking) کو ختم کرنا۔ تزکیہ اپنی حقیقت کے اعتبار سے اِسی ڈی کنڈیشننگ کا اسلامی نام ہے۔