Al-Risala May 2011

محرومی کے بعد بھی

Al-Risala May 2011 — Maulana Wahiduddin Khan

Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.

Contents (31 chapters)
  1. الرسالہ - May 2011
  2. نماز کے فائدے
  3. اسباب کا پردہ
  4. فیہ ذکرکم
  5. قرآن سارے انسانوں تک
  6. اولاد کی حیثیت
  7. جغرافی اتفاق یا خدائی فیصلہ
  8. بامقصد انسان
  9. خصوصی رحمت کا معاملہ
  10. جنت کی طلب
  11. قرآن کتابِ دعوت
  12. وضو اور قرآن
  13. محرومی کے بعد بھی
  14. وطن سے محبت
  15. تخریبی سیاست
  16. ذہنی ارتقا کا ذریعہ
  17. تفسیری روایات
  18. کنڈیشننگ کوتوڑنا
  19. معرفت کا اسٹیج
  20. قرآن اور بائبل کا فرق
  21. بسترِ مرگ سے
  22. سب کچھ سے بے کچھ کی طرف
  23. غلو کی ایک مثال
  24. شاہ ہمدان کامشن
  25. اصول پسندی یا شخصیت پرستی
  26. زندگی کا ایک اصول
  27. عذر کے باوجود
  28. ایک سبق آموز واقعہ
  29. اپنے پوٹینشیل کو ایکچول بنائیے
  30. سوال وجواب
  31. خبر نامہ اسلامی مرکز — 210

محرومی کے بعد بھی

632 ء میں مدینہ میں پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی۔ یہ ایک بے حد نازک لمحہ تھا۔ وہ صحابہ کے لیے ایک سخت صدمہ کی حیثیت رکھتا تھا۔ اُس وقت صحابی رسول ابو بکر صدیق نے ایک نمونہ قائم کیا۔ وہ رسول اللہ کے حجرہ میں آئے۔ انھوںنے آپ کے چہرے سے چادر اٹھا کر آپ کو دیکھا اور پھر کہا: من کان یعبدُ محمداً فإن محمداً قد مات۔ ومن کان یعبد اللہ فان اللہ حی لا یموت( صحیح البخاری، رقم الحدیث: 3667 ) یعنی جو شخص محمد کی عبادت کرتا تھا تو محمد پر موت آچکی۔ اور جو شخص اللہ کی عبادت کرتا تھا تو اللہ زندہ ہے، اس پر کبھی موت آنے والی نہیں۔original + quote

یہ ایک صحابی ٔ رسول کی مثال ہے جو اس قسم کے ہر واقعہ کے لیے ایک نمونہ کی حیثیت رکھتی ہے۔ مثلاً ایک شخص کو اپنے بیٹے سے بہت قلبی تعلق ہے۔ نوجوانی کی عمر میں بیٹے کی وفات ہوجاتی ہے۔ اس کا دل اس حادثہ سے بے قابو ہوجاتا ہے۔ ایسے شخص کو چاہئے کہ وہ صحابی رسول کی مثال کو اپنے لیے ایک نمونہ بنائے اور اپنے آپ سے کہے: اگر تم اپنے بیٹے کی پرستش کرتے تھے تو تم کو معلوم ہو کہ تمھارا بیٹا مرگیا۔ اور اگر تم اللہ کی پرستش کرنے والے ہو تو تم کو جاننا چاہیے کہ اللہ زندہ ہے، اُس پر کبھی موت آنے و الی نہیں۔

انسانوں کی دو قسمیں ہیں — خدا میں جینے والے اور غیرِ خدا میں جینے والے۔ جو شخص خدا کے سوا کسی اور چیز کو اپنا کنسرن (concern) بنائے ہوئے ہو، جو خدا کے سوا کسی اور چیز سے قلبی تعلق رکھتا ہو، وہ اُس چیز کے کھونے پر سخت پریشان ہوجائے گا۔ اُس کو ایسا محسوس ہوگا جیسے کہ اس کی دنیا ختم ہوگئی۔ اُس سے وہ چیز چھن گئی جس کے سہارے پر وہ جی رہا تھا۔ ایسے لوگ خدا کے منکر ہیں، خواہ وہ اقرارِ خدا کے الفاظ اپنی زبان سے بولتے ہوں۔ ایسے لوگوں کو آخرت میں خدا کا قرب حاصل ہونے والا نہیں۔

اِس کے برعکس، وہ انسان ہے جو خدا وند ِ ذو الجلال میں جیتا ہو، جس نے خدا کو اپنا سب کچھ بنا رکھا ہو، جس کی سوچ اور جس کے جذبات صرف ایک خدا سے وابستہ ہوگئے ہوں۔ ایسا انسان جب کسی چیز کو کھوتا ہے تو وہ خدا کو اور زیادہ یاد کرنے لگتا ہے۔ ہر محرومی اُس کے لیے خدا کے ساتھ مزید تعلق کا سبب بن جاتی ہے۔