Al-Risala May 2008

سوچ کا فرق

Al-Risala May 2008 — Maulana Wahiduddin Khan

Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.

Contents (17 chapters)
  1. الرسالہ - May 2008
  2. نماز اور تعمیر ِحیات
  3. قیامت کا زلزلہ
  4. یاد دِہانی کی موت
  5. معرفت یا معلومات
  6. ٹی وی کے ذریعہ
  7. اسلام کی سیاسی تعبیر
  8. مدر ٹریسا
  9. مواقع کی دنیا
  10. موت سے بے خبری کیوں
  11. کامیاب زندگی کا راز
  12. سوچ کا فرق
  13. مسئلے کا حل
  14. امتیازی صلاحیت
  15. اعتراف یا سرکشی
  16. سوال و جواب
  17. خبرنامہ اسلامی مرکز— 184

سوچ کا فرق

ایک مسلم نوجوان مجھ سے ملے۔ وہ ایک بڑے دینی مدرسے میں تعلیم حاصل کررہے تھے۔ انھوں نے غم زدہ لہجے میں مجھ سے کہا کہ میرے لیے دعا کیجئے۔ میرے والد کا انتقال ہوگیا ہے۔ اب میں مجبور ہوں کہ تعلیم کو ادھورا چھوڑ کر گھر واپس جاؤں، کیوں کہ والد کے بعد میرے سوا کوئی اور گھر کو سنبھالنے والا نہیں۔

میں نے سنا تو اچانک میری زبان سے نکلا— اگر آپ بھی مرجائیں تو۔ میرا یہ جملہ مذکورہ طالبِ علم کے لیے ایک فکری بھونچال ثابت ہوا۔ اِس کو سن کر ان کی سوچ کا رُخ اچانک بدل گیا۔ وہ چند منٹ چپ رہے اور پھر انھوں نے کہا کہ اب میں گھر نہیں جاؤں گا۔ اب میں گھر کے معاملے کو خدا کے حوالے کرتے ہوئے بدستور اپنے اِس تعلیمی ادارے میں رہوں گا، اور پہلے سے بھی زیادہ محنت کے ساتھ اپنی تعلیم کومکمل کروں گا۔ اِس کے بعد وہ خاموشی کے ساتھ واپس چلے گئے۔

تقریباً دس سال کے بعد دوبارہ اُن سے ملاقات ہوئی تو وہ بہت خوش تھے۔ انھوں نے کہا کہ آپ کے ایک جملے نے میری زندگی بدل دی۔ اُس کے بعد میںنے اپنی تعلیم میں بہت زیادہ محنت کرنا شروع کردیا۔ میں نے عربی کے ساتھ انگریزی بھی سیکھی۔ انڈیا میں تعلیم سے فارغ ہوکر میں باہر کے ایک ملک میں چلا گیا۔ وہاں میں نے کافی پیسہ کمایا۔ میںنے اپنے آبائی گھر کو دوبارہ تعمیر کروایا، بھائیوں کو پڑھایا، اور بہنوں کی شادی کی۔ اللہ نے میرے تمام کاموں کو درست کردیا۔

اِس واقعے سے اندازہ ہوتا ہے کہ زندگی میں سوچ کی اہمیت کتنی زیادہ ہے۔ ہر آدمی کی زندگی میں بُحرانی واقعات پیش آتے ہیں۔ ایسے موقع پر ضرورت ہوتی ہے کہ آدمی کے اندر پختہ سوچ ہو۔ وہ کرائسس مینج مینٹ (crisis management) کی صلاحیت رکھتا ہو۔ وہ بحران کے موقع پر منفی سوچ (negativ thinking) کا شکار نہ ہو، بلکہ وہ مثبت سوچ (positive thinking) کا ثبوت دے سکے۔ ایسے ہی لوگ زندگی میں کامیاب ہوتے ہیں۔ کامیابی دراصل صحیح طرزِ فکر کے نتیجے کا دوسرا نام ہے۔