Al-Risala May 2008

ٹی وی کے ذریعہ

Al-Risala May 2008 — Maulana Wahiduddin Khan

Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.

Contents (17 chapters)
  1. الرسالہ - May 2008
  2. نماز اور تعمیر ِحیات
  3. قیامت کا زلزلہ
  4. یاد دِہانی کی موت
  5. معرفت یا معلومات
  6. ٹی وی کے ذریعہ
  7. اسلام کی سیاسی تعبیر
  8. مدر ٹریسا
  9. مواقع کی دنیا
  10. موت سے بے خبری کیوں
  11. کامیاب زندگی کا راز
  12. سوچ کا فرق
  13. مسئلے کا حل
  14. امتیازی صلاحیت
  15. اعتراف یا سرکشی
  16. سوال و جواب
  17. خبرنامہ اسلامی مرکز— 184

ٹی وی کے ذریعہ

ہمارا مشن تقریباً نصف صدی سے پر نٹ میڈیا اور الیکٹرانک میڈیا، دونوں ذریعے سے اپنا مثبت دعوتی کام مسلسل انجام دے رہا ہے۔ اب خدا کے فضل سے اُس میںایک نئے باب کا اضافہ ہوا ہے۔ وہ اضافہ یہ ہے کہ انڈیا کے ایک مقبول ٹی وی چینل میں روزانہ صبح کے وقت ایک پروگرام آرہا ہے۔ یہ پروگرام 18 مارچ 2008 سے شروع ہوا ہے۔ اِس کے تحت، سب ٹی وی SAB TV (نئی دہلی) میںصبح کی نشریات کے تحت، راقم الحروف کی ایک مختصر تقریر روزانہ کی بنیاد پر آرہی ہے۔ اِس کا وقت صبح سات بج کر پچپن منٹ ہے۔ یہ وہ وقت ہے جس کو ٹی وی کی اصطلاح میں پرائم ٹائم (prime time) کہاجاتا ہے۔

18 مارچ کی تقریر کا موضوع تھا— خدا کا تخلیقی پلان (creation plan of God) ۔ اُس میں کہا گیا کہ انگلینڈ کے ایک صاحب کار میں سفر کررہے تھے ۔ اُن کے اپنے ملک کے ٹریفک رول کے مطابق، بائیں چلو (left- hand drive) کا اصول تھا، مگر وہ اِس دوسرے ملک میں بھی ’’بائیں چلو‘‘ کے اصول پر اپنی گاڑی دوڑارہے تھے۔ وہاں کی ٹریفک پولس نے ان کو روکا۔ کار کا نمبر دیکھ کر پولس مین سمجھ گیا کہ یہ آدمی کس ملک سے آرہا ہے۔ اُس نے مذکورہ شخص سے کہا— جناب، آپ اِس وقت ایک ایسے ملک میں ہیں، جہاں دائیں چلو کا اصول ہے، نہ کہ آپ کے ملک کے مطابق، بائیں چلو کا اصول۔unverified

پانچ منٹ کی اِس تقریر میںبتایا گیا کہ یہی معاملہ زیادہ بڑے پیمانے پر خدا کے تخلیقی پلان کا ہے۔ خدا نے انسان کو پیدا کیا ہے۔ انسان پر لازم ہے کہ وہ اِس دنیا میں خدا کے حکموں پر چلے۔ جو لوگ ایسا نہ کریں، وہ خدا کی دنیا میں خدا کی منشا کے خلاف عمل کررہے ہیں۔ ایسے لوگ قیامت کے دن سخت سزا کے مستحق قرار پائیں گے۔ کائنات کا مطالعہ بتاتا ہے کہ یہ پورے معنوں میں ایک بامعنیٰ کائنات ہے۔ ایسی ایک با معنیٰ کائنات، بے معنی انجام پر ختم نہیں ہوسکتی۔ ضرور ہے کہ اِس دنیا کا ایک تخلیقی منصوبہ ہو، اور اس تخلیقی منصوبے کے مطابق، دنیا کا خالق اس کے بارے میں ایک منصفانہ فیصلہ کرے۔original + quote