Al-Risala May 2005

بامقصد زندگی

Al-Risala May 2005 — Maulana Wahiduddin Khan

Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.

Contents (25 chapters)
  1. الرسالہ - May 2005
  2. بامقصد زندگی
  3. مستقبل کا انتظار
  4. رزق خدا کے ہاتھ میں
  5. ایک کے بدلہ میں دَس
  6. بچاؤ کی تدبیر
  7. آسان تدبیر
  8. لڑے بغیر مقابلہ
  9. محنت کا کرشمہ
  10. انسان کا کم تر اندازہ نہ کیجئے
  11. صلاحیت کا استعمال
  12. کام کی تلاش
  13. غیر فطری محبت
  14. مستقبل پر نظر
  15. تیسرا انتخاب
  16. کامیاب ازدواجی زندگی
  17. گھریلو جھگڑے
  18. تعلیم کی طرف
  19. یہ بدعت ہے
  20. ناشکری کا فتنہ
  21. یہ نمبر موجود نہیں
  22. ایک ملاقات
  23. ٹیلی فون سے خطاب
  24. ایک خط
  25. خبر نامہ اسلامی مرکز ۱۶۹

بامقصد زندگی

انسان دو قسم کے ہوتے ہیں۔ ایک وہ انسان جو سوچ سمجھ کر اپنی زندگی کا ایک واضح مقصد متعین کرے ۔ دوسرا انسان وہ ہے جس کے سامنے کوئی واضح مقصد نہ ہو۔ وہ حالات یا خواہشات کے تحت کبھی ایک کام کرے، اور کبھی دوسرا کام کرنے میں لگ جائے۔ پہلی قسم کے لوگ ہمیشہ کامیاب ہوتے ہیں اور دوسری قسم کے لوگ ہمیشہ ناکام۔

حقیقت یہ ہے کہ یہ فرق کوئی سادہ فرق نہیں۔ ان سے دو الگ الگ قسم کی زندگیاں بنتی ہیں۔ جو آدمی اس طرح زندگی گذارے کہ اُس کے سامنے ایک واضح نشانہ ہو، اس کا حال یہ ہوگا کہ وہی نشانہ اُس کی تمام توجہات کا مرکز بن جائے گا۔ وہ اُسی کے لیے سوچے گا ۔ اُس کے تمام جذبات اُسی کے ساتھ جڑ جائیں گے۔ وہ اپنے وقت کا ایک ایک لمحہ اسی ایک کام میںصرف کرے گا۔ وہ اپنی ساری پونجی اسی راہ میں لگا دے گا۔ اسی مقصد کے تحت وہ کسی سے کٹے گا اور کسی کے ساتھ جڑ جائے گا۔ اسی کے مطابق، وہ کسی کو اپنا دوست بنائے گا اور کسی کو اپنا دشمن سمجھ لے گا۔ وہ اسی کے ساتھ اپنی شام کرے گا اور اسی کے ساتھ اس کی صبح طلوع ہوگی۔

اس قسم کی زندگی کا انجام پیشگی طورپر معلوم ہے، اور وہ انجام یہ ہے کہ ایسا شخص یقینی طورپر کامیاب ہوکر رہتا ہے۔ اپنی نادانی کے سوا کوئی بھی دوسری چیز اس کو ناکام کرنے والی نہیں۔

اس کے برعکس معاملہ اس انسان کا ہے جس کے سامنے زندگی کا کوئی واضح مقصد نہ ہو۔ ایسا انسان سمت کے شعور (sense of direction) سے محروم رہے گا۔ اس کی سوچ اور اس کا عمل دونوں مختلف راہوں میں بکھرے رہیں گے۔ وہ اپنی پونجی کو بے فائدہ طورپر اِدھر اُدھر ضائع کرتا رہے گا۔ وہ اپنی طاقت کو مختلف میدانوں میں بکھیر کر خود ہی اپنے آپ کو کمزور بنا لے گا۔ ایسے آدمی کا انجام یقینی طورپر تباہی ہے۔ وہ ناکامی کی زندگی گذارے گا اور آخر کار ناکام حالت میں مرجائے گا۔بامقصد زندگی کا نام کامیاب زندگی ہے، اور بے مقصد زندگی کا نام ناکام زندگی ۔