Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
کتاب اور حکمت
قرآن میں متعدد مقامات پر بتایا گیا ہے کہ اللہ نے اپنے رسول کو دو چیزیں دے کر بھیجا ہے— کتاب اور حکمت(البقرۃ،2:129، آل عمران،3:164، النساء،4:113، الاحزاب، 33:34، الجمعۃ، 62:2، وغیرہ)۔کتاب سے مراد ہے اللہ کی آخری کتابِ ہدایت قرآن ہے، اور حکمت سے مراد یہ ہے کہ اس کتاب کو بطور مشن لے کر اٹھنے کی صورت میں جو حالات پیدا ہوں گے، ان کو کس طرح حکمت کے ساتھ مینج کرتے ہوئے آخری منزل تک پہنچایا جائے۔original + quote
رسول اللہ کی 23 سالہ زندگی اس بات کا عملی نمونہ ہے۔ اس پیغمبرانہ وزڈم کا ایک اصول حضرت عائشہ نے ان الفاظ میں بیان کیا مَا خُیِّرَ النَّبِیُّ صَلَّى اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بَیْنَ أَمْرَیْنِ إِلَّا اخْتَارَ أَیْسَرَہُمَا(صحیح البخاری، حدیث نمبر 6786)۔ یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جب بھی دو معاملے کے درمیان اختیار دیا گیا، تو آپ نے آسان تر کا انتخاب کیا۔original + quote
غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ یہاں ایسر سے مراد پرامن، یعنی غیر نزاعی طریقہ ہے۔ اجتماعی زندگی میں ڈیلنگ کے عملاً دو طریقے ہیں— نزاعی اور غیر نزاعی (non-confrontational method)۔ پیغمبر اسلام کا طریقہ نزاعی طریقہ نہیں تھا۔ بلکہ مکمل طور پر غیر نزاعی طریقہ تھا۔ غیر نزاعی طریقے کا فائدہ یہ ہے کہ فوراً اسٹارٹنگ پوائنٹ مل جائے، اور مشن کسی رکاوٹ کا شکار ہوئے بغیر اسموتھ (smooth)انداز میں اپنے راستے پر چلتا رہے۔
اس طریق کا ر کو دوسرے انداز میں اس طرح کہہ سکتے ہیں کہ راستے کی رکاوٹ سے ٹکراؤ کرنے کے بجائے اس کو مینج کرکے اپنا راستہ نکالنا۔ مثلاً کعبہ کے بت بظاہر داعیٔ توحید کے لیے ایک رکاوٹ تھے، مگر آپ نے اس رکاوٹ کو مینج کیا۔ آپ نے کعبہ کے پاس جمع ہونے والے بت پرستوں کے مجمع کو اپنے لیے آڈینس(audience) بنا لیا، اور اس طرح سارے عرب میں نہایت پیس فل انداز میں توحید کی دعوت کو پھیلا دیا۔ اسی طریقے کا نام حکمت ہے۔